PDA

View Full Version : شریفوں کاپاکستانی بجٹ یا آہنی پنجرہ



سید انور محمود
06-18-2013, 08:22 PM
تاریخ: 18جون 2013
از طرف: سید انور محمود

شریفوں کاپاکستانی بجٹ یا آہنی پنجرہ


پاکستان کے ہر محلے میں مرغی کا گوشت بیچنے والے کی دوکان کے باہر ایک بڑا سا مضبوط آہنی پنجرہ رکھا ہوتا ہے۔ اس میں سینکڑوں بیمار اور صحت مند مرغیاں ایک دوسرے سے لگ کر بیٹھی رہتی ہیں۔ وہ اتنی تھکی اور سہمی ہوئی ہوتی ہیں کہ پھڑ پھڑاہٹ تو کجا کُڑک کُڑک کی آواز بھی نہیں آتی۔ ہر پانچ دس منٹ بعد پنجرے کا چھوٹا سا دروازہ کھلتا ہے ۔ ایک ہاتھ اندر جاتا ہے، پنجرے میں تیس سیکنڈ کے لیے اجتماعی سی پھڑ پھڑاہٹ اور خوفزدہ سی کُڑک کُڑک سنائی دیتی ہے مگرایک اور مرغی کم ہوجاتی ہے اور اس کی خوفزدہ چیخیں سن کر باقی مرغیاں پھر ڈری سہمی ایک دوسرے سے لگ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ مجھے آج کا پاکستان اسی طرح کا ایک آہنی پنجرہ محسوس ہوتا ہے۔ جس میں ایک اور مرغی کم ہونے پر ذرا سی احتجاجی پھڑ پھڑاہٹ اور کُڑک کُڑک ہوتی ہے اور باقی رہ جانے والی مرغیاں شکر ادا کرتی ہیں کہ اس دفعہ وہ بچ گئیں۔ ہر دس منٹ بعد پنجرے کے تنگ دروازے میں داخل ہونے والے پُر اعتماد قاتل ہاتھ کو خوب معلوم ہے کہ سینکڑوں میں سے کوئی ایک مرغی بھی اپنی نوکیلی چونچ سے کام لینا نہیں جانتی۔

ذوالفقا رعلی بھٹو سے زیادہ نواز شریف نہ کبھی مقبول ہوئے اور نہ ہوسکتے ہیں، بھٹو صاحب بھی روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر اقتدار میں آئے تھے مگر اُن کی پارٹی کی چار مرتبہ حکومت رہی اور عوام کو غریب سے غریب تر کرتی رہی۔ نواز شریف بھی پریشان حال پاکستانیوں کے مسائل کا رونا روکرتیسری مرتبہ اقتدار میں آئے ہیں۔ 11 مئی کو دہشت گردی کے خوف کے باوجود لوگ گھروں سے نکلے اور نواز شریف کو کامیاب کیا، میاں صاحب کی خواہش تھی کہ انکو قومی اسمبلی میں اتنی اکثریت ملے کہ وہ کسی اورسیاسی پارٹی کے محتاج نہ ہوں، ایسا بھی ہوگیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے وہ اقتدار میں آگے۔ آپنے نواز شریف کےجلسوں میں جاکر یا ٹی وی پر وہ خوبصورت مناظر تو لازمی دیکھے ہونگے جس میں نواز شریف زرداری کو مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور امن و امان کے مسلئے پر کوس رہے ہوتے تھے۔ عوام سے بڑی معصومیت سے معلوم کرتے تھے آپکے علاقے میں بجلی کتنے گھنٹے نہیں آتی ہے، پھر عوام کو یاد دلاتے کہ مہنگائی نے غریب آدمی کی تو کمر توڑ دی ہے اور اسکے بعد کراچی سے خیبر تک کی بدامنی پر روتے۔ چلیئے مان لیتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ اور امن امان کے مسلئے حل کرنے میں وقت لگے گا مگر بجٹ میں غریب آدمی کی ٹوٹی ہوئی کمر پر جو لات ماری گی ہےکیا یہ ضروری تھی۔

گذشتہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی کو غربت کی لکیر سے نیچے پہنچادیا ہے، اور حالیہ بجٹ نے پاکستانی عوام پر جو مہنگائی کا بم گرایا ہےاُ س نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ جسطرح گذشتہ حکومت کے دور میں عام لوگ یہ کہنے لگے تھے کہ اس سے اچھی حکومت تو مشرف کی تھی، اگر مسلم لیگ نون کی حکومت اس طرح کی کڑوی گولیاں عوام کو کھانے پر مجبور کرئے گی تو جلدہی لوگ یہ کہتے نظر آینگے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اس سے بہتر تھی ۔ سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ ایک عام آدمی کو وزیر خزانہ کی لمبی چوڑی تقریر، اُس میں کھربوں کے ذکر سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ gst اور imf کوجانتا ہے۔ اُس کی دلچسپی کا اصل محور اپنے خاندان کی کفالت ہوتا ہے جو وہ اپنی آمدنی سے کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لیے روٹی اورکپڑئے آسانی سے مہیا کرسکے، اُس کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔ وہ نہ گرمی دیکھتا ہے نہ سردی بس وہ اسی لگن میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرسکے۔ ایک عام پاکستانی کا یہ سوچنا تھا کہ شاید نواز شریف نے اپنے گذشتہ ماضی سے ضرورسیکھا ہوگا مگر شاید سرمایہ دارطبقہ سے تعلق رکھنے والے نواز شریف کو تو یہ معلوم ہی نہیں کہ غربت کیا ہوتی ہے۔

اسحاق ڈار صاب جوہمارئے ماضی کے ناکام وزیر خزانہ رہے ہیں اور imf کو اعداد و شمار میں دھوکا دے چکے ہیں مسلم لیگ نون میں اندھوں میں کانے راجہ ہیں جو معاشیات سے واقف ہیں اسلیے حالیہ وزیر خزانہ بھی وہ ہی ہیں۔ اپنی بہت ہی خوبصورت اور میٹھی آواز میں انہوں نے بجٹ کا اعلان کیا۔ عام آدمی کی امید کے برخلاف وہ ایسے ایسے اعلانات فرمارہے تھے کہ لوگ پریشان تھے۔ آٹا مہنگا، چینی مہنگی، دال مہنگی، پیٹرول مہنگا، گیس مہنگی، لازمی ہے سبزی بھی مہنگی ہوجائے گی اوربسوں کے کرائے بھی بڑھ جاینگے۔ یہ بجٹ جو اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہےاور جس کے لیے کہا گیا تھا کہ یہ عوام دوست اور غریب دوست ہوگا، افسوس یہ نہ عوام دوست ہے اور نہ ہی غریب دوست، یہ سیدھا سیدھا عوام دشمن بجٹ ہے۔ بجٹ میں ٹیکس تو بہت سارئے لگائے گے ہیں لیکن عام آدمی کےلیے کسی بھی طرح کی کوئی مراعات نہیں ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے کہا گیا کہ اگلے سال بڑھے گی لیکن جب سرکاری ملازمین نے شور مچایا تو وزیر خزانہ نے 10 فیصد اضافے کے اعلان کے ساتھ اپنی بات کا مطلب ہی بدل دیا اور فرمایاکہ میرا مطلب جولائی سے تھا۔ اس ایک بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ابھی وہ اور کتنی باتوں کے مطلب بدلینگے۔

میں نے یہاں جوبھی لکھا ہے وہ ایک عام فہم اندازمیں ہے، اسلیے ایک عام فہم زبان میں نواز شریف صاحب سے کہنا چاہونگا کہ عام آدمی کو اس سے غرض نہیں کہ سترارب روپے کے لیپ ٹاپ کس کس کو دیے جاینگے، بلٹ ٹرین کب چلے گی یا کراچی میں میٹرو بس کب چلائی جائے گی۔ عام آدمی کوصرف اور صرف اپنی بنیادی ضروریات سے غرض ہے اس لیے پہلے وہ پوری ہونے دیں۔ابھی وقت ہے قومی اسمبلی میں بجٹ بل زیربحث ہے، اُس کوعوام دشمن کے بجائے عوام دوست بجٹ بنانے کی کوشش کریں اور اگر ایسا نہ ہوا تو جو لوگ دہشت گردی کے خوف کے باوجود آپکے لیے11 مئی کو اپنے گھروں سے نکلےتھے کہیں ایسا نہ ہو وہ بہت جلد دوبارہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور آپکو واپس آپکے گھر روانہ کردیں۔ دوبارہ عرض ہے کہ مجھے آج کا پاکستان اسی طرح کا ایک آہنی پنجرہ محسوس ہوتا ہے، جس میں ایک اور مرغی کم ہونے پر ذرا سی احتجاجی پھڑ پھڑاہٹ اور کُڑک کُڑک ہوتی ہے اور باقی رہ جانے والی مرغیاں شکر ادا کرتی ہیں کہ اس دفعہ وہ بچ گئیں۔ پُر اعتماد قاتل ہاتھ کو خوب معلوم ہے کہ سینکڑوں میں سے کوئی ایک مرغی بھی اپنی نوکیلی چونچ سے کام لینا نہیں جانتی۔ لیکن آپ اپنے وزیر خزانہ کی پراعتمادی پر عام آدمی اور غریب آدمی سے یہ توقع مت کریے گا کہ وہ احتجاج نہیں کرے گا۔ عام آدمی جب احتجاج کرتا ہے تو پھر اسکے مقابل کوئی نہیں ٹھیر پاتا ہے۔ دو شریفوں یعنی اسحاق ڈار اور نواز شریف کے اس عوام دشمن بجٹ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔


گھر آکے بہت روئے ماں باپ اکیلے میں
مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں