PDA

View Full Version : رمضان اور روزه‎



نجم الحسن
06-19-2013, 01:33 PM
یں مدد ملے۔روزے کی مشکلات اور علاجتعارفنماز اور زکوٰۃ کے بعد روزہ تیسری اہم عبادت ہے ۔ رمضان فرض روزوں کا مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے لیے فجر سے مغرب تک کھانے پینے اور مخصوص جنسی عمل سے اجتناب برتنا لازم ہے البتہ مسافر، بیمار یا حیضمیں مبتلا خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ روزہ صرف امتِ محمدی پر ہی نہیں بلکہ ماضی کی امتوں پر بھی فرض تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی بگڑی ہوئی شکل میں عیسائیوں ، یہودیوں حتیٰکہ ہندوؤں کے یہاں بھی اب تک موجود ہے۔قرآنی آیتاے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزہ فرض کر دیاگیا جس طرح ان لوگوں پر فرض کر دیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔)البقرہ ۱۸۳:۲(روزہ کے فضائل-صحیح احادیث کی روشنی میں۱۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1776)۲۔سہلرضی اللہ عنہنبی صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے روزے دار ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیثنمبر 1778)۳۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا انسان کے ہر عمل کا بدلہ ہے، مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں اور روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو نہ شور مچائے اور نہ فحش باتیں کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار آدمی ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد )صلی اللہ علیہ وسلم( کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے روزہ دار کو دو خوشیاںحاصل ہوتی ہیں، جب افطارکرتا ہے۔ تو خوش ہوتا ہےاور جب اپنے رب سے ملے گا تو روزہ کے سبب سے خوش ہوگا۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1786(۴۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب کوئی بھول کر کھائے یا پئیے تو اپنا روزہ پورا کرے اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1812(۵۔نعمان بن ابی عیاش ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے، کہ بیشک جو شخص اللہ کیراہ میں ایک دن بھی روزہ رکھے اللہ اس کو دوزخ سے ستر برس کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے۔)صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 104 (۶۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ اپنے رب سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہر عمل کے لیے کفارہ ہوتا ہے اور روزہ میرے لیے ہے اور میںہی اس کا بدلہ دیتا ہوں اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے۔) صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2384 (۷۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کے ہر عمل میں سے نیک عمل کو دس گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔اللہ نے فرمایا سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرےلئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ رکھنے والا میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے سے رکا رہتا ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لئے دوخوشیاں ہیں ایک اسے افطاری کے وقت خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب عزوجل سے ملاقات کےوقت حاصل ہوگی اور روزہرکھنے والے کے منہ کیبو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ )خوشبودار( ہے۔) صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 213(۹۔ابن عمرنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسلام )کا قصر پانچ ستونوں( پر بنایا گیا ہے،اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز پڑھنا، زکوۃ دینا، حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 7(7(۱۰۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضانمیں ایمان اور ثواب کا کام سمجھ کر قیام کرےتو اس کے اگلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 36(۱۱۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں اس کو کروں تو جنت میں داخل ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کی عبادت کر اور کسی کو اس کا شریک نہ بنا اور فرض نماز قائم کر اور فرض زکوۃ اداء کر اور رمضان کے روزے رکھ۔ تو اس اعرابی نے کہا کہقسم اس ذات پاک کی جسکے قبضہ میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی نہ کروں گا جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کو کوئی جنتی دیکھنا اچھا معلومہو تو وہ اس شخص کو دیکھے۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1313(۱۲۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتےہیں، فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے اور خاص طور پر رمضان میں جب جبرائیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور جبرائیل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے اور قرآن کا دور کرتے، نبی علیہ السلام بھلائی پہنچانے میں ٹھنڈی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 5(۱۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔) صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1781(۱۴۔ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور رمضان سےرمضان تک اپنے درمیان سرزد ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے۔) صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 552 (روزے کا مقصد: روزوں کا بنیادی مقصد تقویٰ کا حصول ہے ۔ تقویٰ درحقیقت اللہ کے خوف ، اس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش ، اس کی رضا کے لئے ہر طرحکی مشقت اور آزمائش کے لیے کمر بستہ رہنےسے عبارت ہے ۔ خدا کا تقرب اسی صورت میں مل سکتا ہے جب بندۂ اس سے رک جائے جس سے رب نے منع کیا اور وہ کرنے کے لئے کمربستہ ہوجائے جس کا اس نے حکم دیا ہے ۔ عملکی دنیا میں دیکھا جائے تو یہ کوئی دو اور دو چار کا فارمولا نہیں کہ ادھر بندے نے بندگی کا اقرار کیا اور ادھر وہ ولی صفت اور باعمل مسلمان بن گیا۔ خدا کے احکامات کی بجاآوری کےلیے سخت محنت، ٹریننگ اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے ۔ عربی میں صوم کا مطلب ہے کسی چیز سے رک جانا اور اسے ترک کر دینا۔ صائم )روزے دار( کی اصطلاح عرب معاشرے میں ان گھوڑ وں کے لئے بھی استعمال ہوتی تھی جنہیں جنگ کی تربیت دینے کی خاطر بھوکا پیاسا رکھا جاتاتھا۔ روزہ اسی تربیت کا حصہ ہے جس کے ذریعے بندہ چند جائز اعمالکو بھی خدا کے حکم پر چھوڑ کر اس کی فرمانبرداری کی عادت پیدا کرتا اور گنا ہوں کی دنیا سے کنارہ کشی اختیارکرنے کی تربیت حاصل کرتا ہے ۔روزے کا فلسفہ: دین کا بنیادی مقصد اپنے رب کو راضی کرنا اور اس کی عبادت و اطاعت ہے ۔ رب کی اطاعت میں دو دشمن حائل ہوتے ہیں ۔ ایک دشمن تو داخلی ہے جو انسان کا اپنا نفس ہے جبکہ دوسرا دشمن خارجی ہے جو شیطان ہے ۔ رمضان چونکہ تربیت کا مہینہ ہے اس لیے خارجی دشمن یعنی شیطان کو تو دراندازی کرنے سے روک دیا جاتا ہے ۔ دوسری جانب نفس کی تربیت کر کے اسے ہر قسم کے حالات میں خدا کی اطاعت وبندگی کے لئے تیا ر کیا جاتا ہے ۔ نفس کی مثال ایک سرکش گھوڑ ے کی مانند ہے جو اپنے سوار کو اپنی مرضی سے بے مقصد بھگانا اور موقع ملنے پر پٹخ دینا چاہتا ہے ۔ لیکن جب اسی سرکش گھوڑ ے کی تربیت کر دی جاتی اور اسےاچھی طرح سدھا دیا جاتا ہے تو اب یہ سوار کے اشاروں پہ ناچتا، اس کے احکامات کی تعمیل کرتا اور اس کے لیے سراپا نفع بخش بن جاتا ہے ۔ گو کہ کچھ لوگ اس سرکش گھوڑ ے کو گولی مار کر ختم کر دینا بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں روز روز کی جھنجھٹ نہیں ۔ لیکن اسلام میں رہبانیت نہیں اور انسان کی اصل طاقت اس منہ زور گھوڑ ے کو رام کرنے میں ہے ناکہ اس کو مار ڈالنے میں ۔ روزہ بھوک اور پیاس کے ذریعے نفس کے سرکش تقاضوں کو کمزور کر کے خدا کیاطاعت کے لیے تیار کرتا ہے ۔ جو تقاضے انسان کومتواتر گناہ پر مجبور کرتےہیں ان میں جنس کے تقاضے ، پیٹ کی بھوک اور حلق کی پیاس سرِفہرست ہیں ۔ ان تقاضوں کی افراط انسان کو بے شمار گنا ہوں پر اکساتی اور لاتعداد اخلاقی بیماریوں کاسبب بنتی ہے ۔ روزہ ان تقاضوں کو نکیل ڈالتا، ان کو قابو میں رکھتا اور انسان کو ان کے شر سے محفوظ رہنے کی تربیت دیتا ہے ۔ انسانی نفس کا ایک اور منفی پہلویہ ہے کہ وہ جلد بازواقع ہوا ہے ۔ روزہ اس جلدبازی کے تقاضے کو قابو کر کے صبر کی تربیت بھی دیتا ہے#بروفيسر عقيل صاحب#