PDA

View Full Version : بياد: عطاء الله شاه بخاري رحمه الله



نجم الحسن
06-19-2013, 05:34 PM
ایک طرف توپوں کے دہانے ایک طرف تقریرزنداں میں بھی ساتھ رہی آزادی کی توقیرخوشبو بن کر پھیلی تیرے خوابوں کی تعبیرٹوٹ گئی زنجیرتجھ سے پہلے عام کہاں تھی دار و رسن کی باتچاروں جانب چھائی ہوئی تھی محکومی کی راتاپنے بھی تھے ظلم پہ مائل بیگانوں کے ساتآگے بڑھ کر تونے بدل دی ہم سب کی تقدیرٹوٹ گئی زنجیرگلی گلی میں تیرے چرچے نگر نگر کہرامبول کے میٹھی بولی تو نے کیاتھا جگ کو رامجب تک قائم ہے یہ دنیا رہے گا تیرا نامکون مٹا سکتا ہے تیری عظمت کی تحریرٹوٹ گئی زنجیرہنسی ہنسی میں تونے کھولے اہلِ ستم کے رازمرتے دم تک تو نے اٹھائے سچائی کے نازکہیں دبائے سے دبتی ہے شعلہ صفت آوازچیر گئی ظلمت کا سینہ لفظوں کی شمشیرٹوٹ گئی زنجیرتیرے خوشہ چیں ہوئے ہیں آج بڑے دھنوانتونے اپنی آن نہ بیچی کیسی ہے تیری شانبات پہ اپنی مٹ جو جائے وہی ہے بس انسانشاہ تجھے کہتی ہے دنیا تو تھا ایک فقیرٹوٹ گئی زنجی