PDA

View Full Version : شب برأت



نجم الحسن
06-24-2013, 09:20 AM
شب برات پر تين کام بڑی دھوم دھام سے کئے جاتے ہيں1-حلوہ پکانا 2 -آتش بازی 3 -مردوں کی روحوں کا حاضر ہونابعض لوگوں کا خيال ہے کہ اس رات حلوہ پکانا سنت ہے - اس سے متعلق شيخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کتاب ما ثبت فی السنۃ : 214 ” بيان فضائل شعبان “ کے ضمن ميں رقطمراز ہيں عوام ميں مشہور ہے کہ اس رات سيدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہيد ہوئے تھے اور اسی رات کو حضور صلی اللہ عليہ وسلم کے دندان مبارک شہيد ہوئے تھے-تو آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے اس شب حلوہ تناول فرمايا تھا - بالکل لغو اور بے اصل ہے - کيونکہ غزوہ احد تو بالاتفاق مؤرخين شوال 2 ہجری کو واقع ہوا تھا - لہذايہ عقيدہ رکھنا کہ آج حلوہ ہی واجب اور ضروری ہے - بدعت ہے - البتہ يہ سمجھ کرحلوہ اور مطلقاً ميٹھی چيز نبی کريم صلي اللہ عليہ وسلم کو محبوب تھی حلوہ پکا ليا جائے تو کوئی حرج نہيں -” کان النبي صلي الله عليه وسلم يحب الحلوۃ والعسل “نبي صلی اللہ عليہ وسلم حلوہ اور شہد پسند فرماتے تھے - اسی طرح بعض لوگ مسور کی دال ، چنے کيی دال پکانے کا اہتمام کرتے ہيں -يہ بھی حلوہ کی طرح بدعت ہوگی - بس صحيح بات يہ ہے کہ حسب معمول کھانا پکانا چاہئيے - شب برات کو تہوار نہيں بنانا چاہئے - کيونکہ اسلامی تہوار دو ہيں عيدالفطر ، عيدالاضحیعلامہ عبدالحئی حنفی لکھنوی نے آثار مرفوعہ : 108, 109 ميں ستائيس رجب المرجب اور پندرہ شعبان ) شب برات ( کو بدعات ميں شامل کيا ہے - کيونکہ يہ اسلامي تہوار نہيں ہيں -)ومنها صلوۃ ليلة السابع والعشرين من رجب ومنها صلوۃليلة النصف من شعبان((شب برات کے حلوہ سے متعلق مولانا عبدالحئی حنفی کا فتوی ہے کہ اس بارہ ميں کوئی نص اثبات يا نفی کی صورت ميں وارد نہيں حکم شرعي يہ ہے کہ اگر پابندی رسم ضروری سمجھے گا تو کراہت لازمی ہوگی ورنہ کوئی حرج نہيں -) فتاوی عبدالحئی مترجم : 110 (آتشبازیملت اسلاميہ کا ايک طبقہ اس رات آتش بازی و چراغاں ميںجساسراف و تبذير کا مظاہرہ کرتاہے-ايک طرف اس سےقوم کو بار بار جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے دوسری طرف شرعاً يہ افعال مذموم و قبيح ہيں -محدث شيخ عبدالحق رحمہ اللہ دہلوی ” ما ثبت فی السنۃ “ ميں فرماتے ہيںکہ ہندوستان کيا اکثر شہروںميں جو اس وقت بلا ضرورت کثرت سے چراغاں کرتے ہيں اور آتش بازی اور ديگر لہو و لعب ميں مشغول ہوتے ہيں-يہرسم بد سوائے ہندوستان کےاور ملکوں ميں نہيں ہے-اصلميں يہ رسم بد ان لوگوں کی ہے جو آتش پرست تھے - اسلام لانے کے بعد يہ لوگ اپنی رسوم جاہليت پر قائم رہے - ان کی ديکھا ديکھي دوسرے مسلمان بھياس بلائے عظيم ميں مبتلا ہوگئے-تحفۃ الاحوذی ميں ہے سب سے پہلے چراغاں و آتشبازی کا مظاہرہ کرنے والے برامکہ آتش پرست تھے - جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے ملمع سازی کر کے ان رسوم کو اسلام ميں داخل کرديا - لوگوں کے ساتھ رکوع و سجود کرتے ليکن مقصود آگ کی پوجا تھا - شريعت ميں ضرورت سے زيادہ کسی جگہ کو بھی روشن کرنا جائز نہيں ہے-قرآن مجيد ميں ہے : ) بنی اسرائيل : 27 (” اور بے جا خرچ نہ کرو - تحقيق بے جا خرچ کرنے والے شيطان کے بھائی ہيں اور شيطان اپنے رب کا ناشکر گزار ہے -“ اس آيت ميں لفظ ” تبذير “ استعمال فرمايا ہے - تبذير اور اسراف ميں فرق ہے -حلال مقام پر حد اعتدال سے زيادہ خرچ کرنا اسراف ہے اور ناجائز و حرام مقام پر خرچ کرنے کا نام تبذير ہے - اس جگہ پر ايک پيسہ بھی خرچ کرے توحرام ہو گا اور شيطان کا بھائی ٹھہرے گا -شب برات کے موقع پر دن کوحلوہ اور رات کو چراغاں و آتش بازی کا مظاہرہ دين حق کے ساتھ مذاق ہے- اسی طرح پہلی قوموں نے اپنے دين کوکھيل تماشا بنايا تو اللہ تعالی کے عذاب ميں مبتلا ہوئيں-ان سے ہميں عبرت حاصل کرنی چاہئے وگرنہ ہم سے بھی اللہ کا عذاب دور نہيں - ارشاد خداوندی ہے :)) وذر الذين اتخذوا دينهم لعبا ولهوا وغرتهم الحيوۃ الدنيا(( )الانعام : 70 (اور چھوڑ دو ) اے محمد صلي اللہ عليہ وسلم ( ان لوگوں کوجنہوں نے اپنے دين کو کھيل تماشا بنا رکھا ہے اور ان کی دنياوی زندگی نے دھوکہ ميں ڈال رکھا ہے -مردوں کی روحوں کا آنابعض لوگوں کا خيال ہے کہ ميت کی روح چاليس دن تک گھر آتی ہيں مومنين کی روحيں جمعرات اور شب برات کو آتی ہے- حالانکہ مردے برزخی زندگی سے وابستہ ہيں- عالم برزخ کا عالمِ دنيا سے کوئی تعلق نہيں ہے - ارشاد خداوندي ہے ))ومن وراءهم برزخ الي يوم يبعثون (() مومنون:100 ( ان ) مردوں ( کے ورے ايک پردہ ہے جو قيامت تک رہے گا-بعض لوگ روح کے آنے کا مغالطہ آيت تنزل الملائکۃ والروح سے ديتے ہيں - اس روح سے مراد مردوں کی روحوں کا اترنا نہيں ہے بلکہ اس روح سے مراد جبرائيل عليہ السلام ہيں - دوسری آيت ميں بھی جبرئيل عليہ السلام روحسے تعبير کيا گيا ہے -1 اذ ايدتک بروح القدس ) المائدہ : 110 (2 قل نزله روح القدس من ربک ) النحل : 102 (3 نزل به الروح الامين ) الشعراء: 193 (4 تعرج الملائكة والروح ) المعارج : 4 (5 يقوم الروح والملائكة صفا ) النباء: 38 (مندرجہ بالا آيات ميں بھی روح سے مراد جبرائيل عليہ السلام ہيں- مردوں کی روح مراد نہيں ہے - اس سے مردوں کی روح مراد لينا تحريف فی القرآن ہےفقہاء کا فتوی))من قال ارواح المشائخ حاضرة تعليم يكفر(( ) مرقاۃ شرح مشکوۃ، فتاوي قاضي خاں(جو کہے کہ اولياءو بزرگوں کی روحيں حاضر و ناظر ہيں وہ کافر ہو جاتا ہے - نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم کے زمانہميں بھی شب برات آئی ، صحابہ رضوان اللہ عليہم اجمعين کا زمانہ بھی گزر گيا - تابعين و ائمہ اربعہ کا زمانہ بھی گزر گيا ، ليکن کسی سے بھی شب برات کا حلوہ ، آتش بازی ، مردوں سے متعلق ایسا عقیدہ وغيرہ ثابت نہيں - لہذا مسلمانوں کو بدعات سے اجتناب کرنا چاہئےاور سنت صحيحہ کو مشعل راہ بنانا چاہئے جو راہ نجات ہےاللہ تعالی بدعات سے محفوظ فرمائے- آميننجم الحسن