PDA

View Full Version : فرعون کی افزائش نسل



نذر حافی
06-25-2013, 01:18 AM
بسم اللہ الرحمن الرحیم فرعون کی افزائش نسل نذر حافی nazarhaffi@yahoo.com "فرعون آج بھی افزائش نسل کررہاہے"یہ جملہ آج سے دس سال پہلے سنتے ہی ہم سب کلاس فیلوچونک اٹھے تھے۔کلاس ختم ہوئی تو اسی جملے کو موضوع بحث بنائے ہم لوگ ایک نزدیکی کنٹین پر آبیٹھے۔ کنٹین پر بہت زیادہ ہجوم تھا۔لوگ جلدی جلدی آتے ،کچھ بیٹھتے اور کھانا کھاتے جبکہ کچھ کھڑے کھڑے سموسے ،پکوڑے اور سینڈوچ وغیرہ کھاتے اور بھاگم بھاگ کنٹین سے باہر چلے جاتے۔ ہم لوگ ایک نکڑ والی ٹیبل کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئے۔گفتگو دوبارہ شروع ہوئی تو درمیان میں ایک دوست نے "شی" کرکے سب کو خاموش کرادیا۔کہنے لگا اس اخبار فروش کو دیکھتے رہویہ بہت مشکوک آدمی ہے۔یہ اخبار بیچنے کے بجائے اخبار لہراتا ہوا اندر آتاہے اور تین چار منٹوں میں واپس چلاجاتاہے۔اب کی بار ہم نے غیر محسوس انداز میں کنکھیوں سے اسے دیکھنا شروع کردیا۔ پرانے سلیپر پہنے گندے اور میلے بدبودار کپڑوں میں ملبوس بغل میں اخبار کا بنڈل دبائے وہ کوئی ۴۰ سالہ جوان آدمی تھا۔اس نے جلدی سے کنٹین کا چکر لگایا اور ایک مرتبہ پھر باہر نکل گیا۔ہم سب چوکس ہوگئے کہ شاید کوئی مسئلہ ہے۔یہ شخص کوئی بم وغیرہ تو یہاں نہیں رکھنا چاہتایا۔۔۔ہم سب کی انکھوں میں خوف اتر آیا ۔ایک ایسا خوف کہ دوسرے لوگوں کے لئے جس کااندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہم نے فرعون کی افزائش نسل کا موضوع وہیں پہ چھوڑ کر وہاں سے بھاگنے کی ٹھان لی۔ابھی ہم لوگ اٹھنے ہی والے تھے کہ وہ شخص پھر اسی رفتار سے دھیمے دھیمے اندر داخل ہوا اور ہم نے بھی غیر محسوس طریقے سے اسے دیکھنا شروع کردیا۔ اب کی بار ہم یہ دیکھ کر بہت افسردہ ہوگئے کہ وہ شخص کنٹین کی میزوں پرروٹی کے بچے کچھے ٹکڑے جلدی جلدی کھاکر بھاگ جاتا تھا تاکہ کنٹین والا اسے کچھ نہ کہے۔ فرعون کی افزائش نسل کی بات ایک مرتبہ پھر وہیں رہ گئی اور ہم اداس دلوں اور نم آنکھوں کے ساتھ کنٹین سے باہر نکل آئے۔ راستے میں ایک دوست بولا کہ بھوک کے ستائے ہوئے اس آدمی کے بیوی بچے بھی ہونگے۔اب اگر ایسا آدمی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کسی کی جیب کاٹے،خود کش دھماکے پر اتر آئے یا ۔۔۔ تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے ایک کمرشل پلازے میں کچھ لوگوں کو "چور"چور" کہہ کر ایک آدمی کی پٹائی کرتے دیکھا،لوگوں نے ہلکی پھلکی پٹائی کے بعد اس کی تلاشی لی۔"چور" کی میلی کچیلی جیکٹ سے ایک خشک روٹی کا ٹکڑا برآمد ہوا۔ایک شخص بولا کہ یہ میرے ہوٹل سے چرا کر لایا ہے۔یہ اس طرح روٹیاں اکٹھی کر کے بیچناچاہتاہے لیکن چور نے قسم کھاکر کہا کہ وہ دودن سے بھوکا ہے اس نے یہ روٹی کھانے کے لئے چرائی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے نادرا کے دفتروں کے باہر بے چارےغریبوں کو جون اور جولائی کی تڑخا دینے والی دھوپ میں جھلستے ہوئے دیکھا جن کے پاس ڈبل اور ٹرپل فیس نہیں تھی۔اس کے علاوہ گزشتہ چند سالوں میں مجھے ایسے بہت سارے سرکاری سکولوں کو دیکھنے کا موقع ملا ،جن میں کبھی استاد آتے ہی نہیں اور تنخواہیں لیتے ہیں ،اسی طرح ۔۔۔ گزشتہ دنوں ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے میں"تعلیم و تربیت" کے عنوان سے ایک سیمینار کے دوران میری ملاقات اپنے اس قدیمی دوست سے ہوگئی جس کا دعوی تھاکہ فرعون آج بھی افزائش نسل کررہاہے۔ میرا یہ دوست خاندانی طور پر زمیندارہے۔میں نے پوچھا تمہاری زمینوں کا کیا حال ہے ،اس نے کہا کہ اب زمینیں بھی فرعون کی اولاد نے ہتھیا لی ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کیسے ؟اس نے کہا لوڈشیڈنگ کے باعث موٹر تو چلتی نہیں کہ ٹیوب ویل سے پانی نکالے اور مہینے کے بعد ۴۵سے ۵۰ ہزار روپےکا"بِل" اجاتاہے۔اگر یہ بِل ادا نہ کیا جائے تو اگلے مہینے موٹر کاکنکشن کاٹ دیا جاتاہے۔نیاکنکشن لگونے کے لئے لاکھوں روپے چاہیے۔یہ کہہ کر وہ مسکرایا اور بولا پہلے تو زمیندار لوگ مویشی بیچ کر "بِل" ادا کرتے تھے اور اب تو مویشی بھی اتنے نہیں رہے کہ سرکار کا پیٹ بھر سکیں۔ میں نے پوچھا پھر۔۔۔اس نے کہا کہ پھر یہ کہ اب تیزی سے زمینیں بنجر اور غیر آباد ہورہی ہیں۔صنعت و کاشتکاری کا بھرکس نکل گیا ہے اور ملکی معیشت صرف چند خاندانوں کی مٹھی میں بند ہوکر رہ گئی ہے۔ میں نے کہا کیا نئی حکومت کوئی حل نکالے گے ،اس نے کہا میرے بھائی جس ملک میں قدرتی ذخائر کی بھر مار ہو لیکن اس پر فرعونوں کی حکومت ہو وہ ملک کیا ترقی کرے گا۔ ماضی کا فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا،آج کافرعون پاکستانیوں کے بچوں کو قتل کررہاہے۔کچھ بچے تعلیم حاصل نہیں کرپاتے اور جہالت کی موت مارے جاتے ہیں،کچھ کو دہشت گرد بنایاجاتاہے اور کچھ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لئے رکا اور پھر بولا کہ ملت پاکستان کے بچے بھوک ،افلاس ،جہالت،پسماندگی اور دہشت گردی کے شکار ہورہے ہیں جبکہ فرعونوں کے بچے رنگ رلیاں بنا رہے ہیں۔ پاکستانیوں کی نسل مہنگائی ،بے روزگاری اور جہالت و دہشت گردی کے ہاتھوں مٹ رہی ہے اور فرعونوں کی افزائش نسل ہورہی ہے۔ میں نے یہ سنا تو دس سال بعد بے ساختہ میری زبان سے یہ جملہ نکلا کہ ہاں میرے بھائی جہاں پر فرعونوں کی افزائش نسل ہورہی ہو وہاں پر زمینیں سیراب اور لوگ خوشحال نہیں ہوا کرتے۔

سقراط
06-26-2013, 02:49 PM
واہ بھائی کیا دلچسپ تحریر پیش کی ہے کتنے خوب انداز میں آپ نے فرعون کی نسل کو بے نقاب کیا ہے

ہ شخص کنٹین کی میزوں پرروٹی کے بچے کچھے ٹکڑے جلدی جلدی کھاکر بھاگ جاتا تھا تاکہ کنٹین والا اسے کچھ نہ کہے۔ فرعون کی افزائش نسل کی بات ایک مرتبہ پھر وہیں رہ گئی اور ہم اداس دلوں اور نم آنکھوں کے ساتھ کنٹین سے باہر نکل آئے۔ راستے میں ایک دوست بولا کہ بھوک کے ستائے ہوئے اس آدمی کے بیوی بچے بھی ہونگے۔اب اگر ایسا آدمی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کسی کی جیب کاٹے،خود کش دھماکے پر اتر آئے یا ۔۔۔ تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔




صنعت و کاشتکاری کا بھرکس نکل گیا ہے اور ملکی معیشت صرف چند خاندانوں کی مٹھی میں بند ہوکر رہ گئی ہے۔ میں نے کہا کیا نئی حکومت کوئی حل نکالے گے ،اس نے کہا میرے بھائی جس ملک میں قدرتی ذخائر کی بھر مار ہو لیکن اس پر فرعونوں کی حکومت ہو وہ ملک کیا ترقی کرے گا۔ ماضی کا فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا،آج کافرعون پاکستانیوں کے بچوں کو قتل کررہاہے۔کچھ بچے تعلیم حاصل نہیں کرپاتے اور جہالت کی موت مارے جاتے ہیں،کچھ کو دہشت گرد بنایاجاتاہے اور کچھ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لئے رکا اور پھر بولا کہ ملت پاکستان کے بچے بھوک ،افلاس ،جہالت،پسماندگی اور دہشت گردی کے شکار ہورہے ہیں جبکہ فرعونوں کے بچے رنگ رلیاں بنا رہے ہیں۔ پاکستانیوں کی نسل مہنگائی ،بے روزگاری اور جہالت و دہشت گردی کے ہاتھوں مٹ رہی ہے اور فرعونوں کی افزائش نسل ہورہی ہے۔ میں نے یہ سنا تو دس سال بعد بے ساختہ میری زبان سے یہ جملہ نکلا کہ ہاں میرے بھائی جہاں پر فرعونوں کی افزائش نسل ہورہی ہو وہاں پر زمینیں سیراب اور لوگ خوشحال نہیں ہوا کرتے۔