PDA

View Full Version : پاکستانی پیدوار اور حکومتی اخراجات



انجم رشید
06-30-2013, 07:55 PM
السلام علیکم ۔
یہ پڑھیں اور دیکھیں کہ پاکستان میں کیا کیا نہیں پیدہ نہیں ہوتا اللہ تبارک و تعالی نے کن کن نعمتوں سے نوازہ ہے ہمیں لیکن دوسری طرف سیاست دان اور بیروکریٹ کن کن طریقوں سے اس ملک کو لوٹ رہے ہیں میں یہاں چند رپوٹیں پیسٹ کر رہا ہوں ان کے اخراجات دیکھیں جو کرپشن سے مال بنایا جا رہا ہے وہ الگ ہے شکریہ
پاکستانی پیدہ وار
دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا ہے لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔ یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاث سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیدا وار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔ یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں (25)نمبر پر ہے۔ اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور براعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں(55) نمبر پر ہے۔ کوئلے کے ذحائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اوّل نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے ذخائر ایشیاء میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں اٹیمی طاقت ہے۔
سیاست دانوں کے اخراجات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانی حکمرانوں کے اخراجات کیلئے سالانہ ایک کھرب روپے درکار

اسلام آباد(آن لائن)ایوان صدر، وزیراعظم ، کابینہ سیکرٹریٹ سمیت سرکاری اداروں کے اخراجات ملا کر صرف سیاسی حکمرانی کے لیے ایک کھرب روپے سالانہ درکار ہیں،پاکستان کی معیشت پر حکومتی اخراجات کا بوجھ ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہورہا ہے،سیاسی تضادات کی بنیادی وجہ معاشی بنیادوں کی خستہ حالی اور زوال پذیری ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق25مارچ2008ءکو جس دن یوسف رضا گیلانی نے وزیر اعظم کا حلف لیا اس دن وزیر اعظم سیکرٹریٹ کا خرچہ 6لاکھ روپے یومیہ تھا۔اب یہ 137فیصد اضافے کے بعد 15لاکھ روپے روزانہ ہے۔ تین سال قبل کابینہ ڈویژن ایک دن میں 40لاکھ روپے ہضم کرتی تھی جو اب 80لاکھ روپے روزانہ ہے۔2009-10ءمیں کابینہ ڈویژن کے الاو¿نس 7کروڑ روپے تھے جو اب 170 فیصد اضافے کے بعد 20 کروڑ روپے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے معاف کیے گئے قرضے دو سال قبل دس لاکھ روپے کی مالیت کے تھے جو اب 2ہزار فیصد اضافے کے بعد2.5کروڑ روپے ہیں۔اس طرح ایوان صدر، وزیراعظم ، کابینہ سیکرٹریٹ سمیت سرکاری اداروں کے اخراجات ملا کر صرف سیاسی حکمرانی کے لیے ایک کھرب روپے سالانہ درکار ہیں۔ دوسری طرف معیشت بہترہونے کے بجائے مسلسل زوال کی جانب گامزن ہے۔ڈالر کی قدر تاریخ کی بلندترین سطح پر پہنچ چکی ہے ایک ڈالر کی تجارت 90روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔اس میں بھی مزید اضافے کا امکان ہے۔ سیاسی تضادات کی بنیادی وجہ معاشی بنیادوں کی خستہ حالی اور زوال پذیری ہے جس میں بہتری کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔برآمدات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ ملکی معیشت غیر ملکی قرضوں کے بعد اب اندرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔سٹیٹ بینک نے ملکی بینکوں کی جانب سے حکومت میں سرمایہ کاری کے رجحان کو معیشت کے لیے ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ اندرونی قرضوں کا حجم اکتوبر کے اختتام تک 6.23کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سیاسی تضادات اور معاشی انحطاط کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں عدم استحکام میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ 30 دسمبر 2011کی ہے ۔
یہ بیروکریٹ کے اخراجات ہیں ۔----------
تصویرکامشاہدہبڑےپیمانےکےس اتھہسیاستدانوںکےبعدبیوروک ریسی بھی پاکستانی خزانےپربوجھ نکلی لاہور:اسلام ٹائمز۔ اندرونی و بیرونی قرضوں میں گھرے ملک پاکستان میں حکومت ماہانہ ایک وفاقی سیکریٹری پر 5 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے جب کہ قرضے بڑھ جانے سے ملک کا ہر پیدا ہونے والا بچہ 61 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہے۔ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق حکومت ایک وفاقی سیکریٹری کو گھر کے کرائے کی مد میں ماہانہ 2 لاکھ روپے ادا کرتی ہے جب کہ ہر ماہ ایک لاکھ 86 ہزار روپے ٹرانسپورٹ کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 21 ویں اسکیل کا ایڈیشنل سیکریٹری 4 لاکھ 40 ہزار روپے تخواہ اور دیگر مراعات لیتا ہے جب کہ 20 اسکیل کا جوائنٹ سیکریٹری تنخواہ اور مراعات کی مد میں 3 لاکھ روپے لیتا ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی حکومت 20 سے 22 گریڈ کے وفاقی افسروں پر سالانہ 6 ارب روپے خرچ کرتی ہے جب کہ حکومت پر مجموعی طور پر 12 کھرب روپے کا قرضہ ہے، جس کے حساب سے ملک میں پیدا ہونے والہ ہر بچہ 61 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہے۔
حکومتی افسروں اور عوامی نمائندوں پر سالانہ کروڑوں اور لاکھوں روپے خرچہ کرنے والی پاکستانی حکومت بجٹ کی مد میں ملک کے سب سے بڑے آبادی والے صوبے پنجاب کے ایک عام فرد پر ماہانہ 6 ہزار روپے خرچہ کرتی ہے جب کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت ماہانہ 8 ہزار روپے تک خرچہ کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت این ایف سی ایوارڈ اور سالانہ مالی بجٹ کی مد میں آبادی کے لحاظ سے ملک کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے ایک عام فرد پر ماہانہ 9 ہزار اور ملک میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں ایک فرد پر ماہانہ 10 ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔ وزراء، سیکریٹریز اور افسروں پر اربوں روپے خرچ کرنے والے ملک پاکستان میں صرف 2 برسوں میں سال 2008ء سے لیکر سال 2009ء تک ملک کے بینکوں نے 256 ارب روپے کے قرضے معاف کئے۔
بینک کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سال 2008ء اور سال 2009ء میں 4 لاکھ 54 ہزار 737 نادہندگان نے 74 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے، اسی عرصہ میں ایک لاکھ روپے سے زائد قرضہ معاف کرانے والوں کی تعداد 8689 ہے اور اس مد میں 38 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے۔
پانچ لاکھ روپے سے کم قرضہ معاف کرائے جانے والوں کی تعداد 44 ہزار 649 ہے اور اس میں تقریبا 36 ارب روپے کے قرض معاف کرائے گئے، گزشتہ دور حکومت میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے 22 دوستوں کے 16 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے۔
سابق صدر مشرف کے دور حکومت میں ملک کے 136 بااثر سیاسی خاندانوں، مالیاتی اداروں اور ارباب اقتدار نے 42 ارب 70 کروڑ سے زائد کے قرضے معاف کرائے، حکومتی مشینری پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والے ملک پاکستان کی بیشتر آبادی بنیادی ضروری اشیاء سے بھی محروم ہے جبکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کے باعث ملک کو گزشتہ 10 برس میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
یہ جعلی کمپمنیوں کی کہانی ہے ۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ دن بدن بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان اخراجات کی وجہ سے عوام تک ملکی دولت کا زیادہ حصہ نہیں پہنچ رہا۔ حکومت پاکستان کے زیر اہتمام چلنے والے مختلف اداروں‘ کمپنیوں‘ کارپوریشنوں اور دیگر سرکاری خود مختارتنظیموں کا اگر جائزہ لیا جائے تو عجیب حقائق سامنے آتے ہیں۔ پاکستان کے معاشیات کے ایک ماہر نے ان سفید ہاتھیوں کا جائزہ لیا ہے۔ معیشت کا دار و مدار صنعت اور زراعت کی ترقی پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ دونوں شعبے تباہی کا شکار ہیں۔ ریاست کی آمدن کا زیادہ حصہ عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے غیر ملکی قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی‘ دفاعی اخراجات‘ ایک بہت بڑی نوکر شاہی کی مراعات اور تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ عجیب عجیب کارپوریشنوں‘ کمپنیوں اور اداروں کی بھر مار ہے۔ ان اداروں کے افسران‘ چیئرمینوں‘ منیجنگ ڈائریکٹروں اور CEOs کی مراعات اور تنخواہوں پر اربوں کے اخراجات ہو رہے ہیں۔ یہ ادارے کیا کام کر رہے ہیں۔ شاید کسی شہری کو معلوم ہو۔ میر ی نظر میں تو ان کا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔ پاکستان میں عجیب و غریب ادارے کام کر رہے ہیں۔۔ آئیے ان سفید ہاتھیوں کا جائزہ لیں۔
Tomato Paste Plant) پاکستان ہنٹنگ اینڈسپورٹنگ آرمز ڈیویلپمنٹ‘ (Roti Corporation of Pakistan)‘ پاکستان سٹون ڈیولپمنٹ کمپنی‘ پاکستان سٹون ڈیولپمنٹ کمپنی‘ پاکستان جیمز اینڈجیولری ڈیولپمنٹ کو‘ ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن آف پاکستان‘ نیشنل انڈسٹریل پارکس ڈیولپمنٹ اینڈمنیجمنٹ کمپنی‘ ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اینڈ سکل ڈیولپمنٹ کمپنی‘ نیشنل پراڈکٹویٹی آرگنائزیشن‘ ایمپلیمنٹیشن ٹربیونل فار نیوز پیپرز ایمپلائیز‘ لاہور مارکیٹ انفارمیشن سسٹم اینڈ انالسز یونٹ۔
ہماری حکومت ان اداروں پر کروڑوں روپیہ خرچ کر رہی ہے۔ کیا کسی پاکستانی کو ان لمبے لمبے ناموں والے اداروں کی کوئی کارکردگی معلوم ہے۔
ایک حکومتی ادارے کا نام (Centre for Applied & Molecular Biology) ہے۔ اس سنٹر کی ایک ویب سائٹ بھی ہے۔ اس ویب سائٹ پر صرف ادارے کا ایک بے معنی نشان (emblems) نظر آتا ہے اور بس۔ ایک اور ادارہ ہے اس کا نام کونسل فار ورک اینڈ ہاؤسنگ ریسرچ ہے۔ اس ادارے کے فرائض اور کام کے بارے میں شاید حکومت کچھ جانتی ہو لیکن عوام بے خبر ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس‘ پاکستان کونسل فار سائنس اینڈٹکنالوجی‘ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ٹیکنالوجی‘ پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ‘ پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی‘ سنٹر انسپکٹوریٹ آف مائنز‘ ڈائریکٹریٹ آف dock ورکرز سیفٹی‘ ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز ایجوکیشن‘ نیشنل سیفٹی‘ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن ٹریننگ‘ نیشنل ٹیلنٹ پول‘ نیشنل ٹریننگ بیورو‘ پاکستان مین پاور انسٹی ٹیوٹ یہ ادارے کن مقاصد کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ کیا ان اداروں نے کبھی کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہے؟
کیا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس نامی ادارے نے کبھی کوئی ایسی چیز بنائی ہے جس کا تعلق الیکٹرانک سے ہو۔ (Pakistan Council for Renewable Energy Technologies.) نامی ادارہ کیا کام کرتا ہے۔ کسی صاحب کو معلوم ہے؟ کیا (Centre for Applied & Molecular Biology)کے نام سے قائم ادارے نے کبھی ایسی کوئی چیز بنائی ہے جس کا ’’مالیکیول‘‘ یا’’ بیالوجی‘‘ سے دور کا کوئی تعلق بھی ہو۔(Pakistan National Accreditation Council) کیا مذاق ہے؟ کیاپاکستان آٹو موبائل کارپوریشن نے کبھی کوئی گاڑی یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز بنائی ہے؟ ایک اور ادارہ ہے جس کا نام ٹریڈڈیویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ہے۔ کیا اس ادارے نے پاکستان کی تجارتی ترقی کے لئے کوئی کام کیا ہے؟ پاکستان کی وزارت تجارت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے سفارت خانوں میں تجارتی اتاشی تعینات کرتی ہے۔ ان کمرشل کونسلروں کی تعداد کم از کم 60 ہوگی۔ ہر کونسلر پر اخراجات کا تخمینہ ایک کروڑ روپیہ سالانہ ہے۔ اس حساب سے تجارتی کونسلروں پر پاکستان کا سالانہ 60کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ کیا یہ تمام کونسلرز پاکستان کے فائدے کے لئے اتنا کام کرتے ہیں۔
سوال کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان سافٹ ویر ایکسپورٹ بورڈ نے آج تک کتنے سافٹ ویئر باہر بھیجے ہیں اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈکے آج تک کے کیا کارنامے ہیں؟ سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے مولانا عطاء الرحمان کو’’ وزارت اور پراڈو‘‘ گاڑی دینے کے سوا قوم کی اور کیا خدمت کی ہے اور کتنے لوگوں کو سیاحت کے لئے پاکستان آنے پر آمادہ کیا ہے؟
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ترقی کے نام پر بنائے گئے مختلف محکمے اور ادارے آکٹوپس اور ہزار پا کی طرح پاکستان کے وجود سے چمٹے ہوئے ہیں‘ ان جونکوں کی تعداد بے شمار ہے جو پاکستان کے وجود سے نہ جانے کب سے خون چوس رہے ہیں۔ پی آئی اے‘ اسی ایم ای بینک‘ فرسٹ وومن بینک‘ نیشنل انشورنس کارپوریشن‘ ہزارہ فاسفیٹ فرٹیلائزر‘ پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان‘ مشین ٹول فیکٹری‘ (Morafco Industries) سندھ انجینئرنگ‘ Lakhra Coal mine‘ کھیوڑہ سالٹ مائن‘ سروسز انٹرنیشنل‘ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن‘ سٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن‘ پاکستان سٹیل فیبری کیٹنگ کمپنی‘ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن‘ گھی کارپوریشن آف پاکستان‘ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن‘ پاکستان ریلوے‘ سٹیٹ سیمنٹ کارپوریشن آف پاکستان‘ سٹیٹ پٹرولیم ریفائننگ اینڈ پٹروکیمکلز کارپوریشن‘ پاکستان انڈسٹریز ڈویلپمنٹ کارپوریشن‘ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان‘ کارٹن ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان‘ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف پاکستان‘ پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹیکنکل ٹریننگ سنٹر‘ پاکستان انجینئرنگ کمپنی۔
اگر ان تمام اداروں کو ختم کیا جائے اور ان کی جگہ چھوٹے اور بہتر ادارے قائم کئے جائیں تو یقین کریں پاکستان کی صورت حال اچھی ہو جائے گی۔
یہ ہیں وسائل اور اخراجات اس کے علاوہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبر حضرات کی تازندگی مرعات علاوہ ہیں ۔رشوت فراڈ کرپشن سے کمایا ہوا مال اس کے علاوہ ہے ۔
شکریہ ۔
وسلام