PDA

View Full Version : ہم رمضان المبارک کس طرح گزاریں



سرحدی
07-04-2013, 10:54 AM
ہم رمضان المبارک کس طرح گزاریں!


مفتی خالد محمود

رمضان المبارک کا مہینہ اپنی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے۔ انوارات وتجلیات اور رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہورہی ہے ، گناہ گاروں کے لئے اس ماہ مبارک میں سامان مغفرت ہے، اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ’’نارِ جہنم‘‘ کے مستحق ہونے والوں کے لئے آزادی کا پروانہ ہے۔ اس ماہ میں ایمان وعمل کی بہار آتی ہے، گناہوں کی سیاہی سے زنگ آلودہ دلوں کی صفائی اور صیقل کا سامان کیا جاتا ہے ،جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اے شر کے چاہنے والے پیچھے ہٹ جا کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔ سرکش شیاطین قید کردئیے جاتے ہیں ،اس ماہ مبارک میں دن کو روزہ فرض کیا گیا تاکہ نفس امارہ کو اس کی خواہشات اور مرغوبات سے دور رکھ کر زیور تقویٰ سے آراستہ کیا جائے اور رات کو قرآن سن کر دلوں کو جلابخشی جائے۔
اسلام چوں کہ دینِ فطرت ہے اس لئے وہ رہبانیت کے بھی خلاف ہے اور نری مادہ پرستی کے بھی۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس دنیا کے خزانوں اورد فینوں سے فائدہ اٹھائو اپنی خواہشات کو پورا کرو مگر ایک دائرے میں رہ کر اور ایک حد میں رہ کر۔ اور اپنے اخلاق وروحانیت کے جذبے کو کبھی افسردہ اور مردہ نہ ہونے دو ،تمام انبیاء نے ہر دور میں اسی کے لئے کوشش کی۔اور جب بھی انسانیت انتہا پسندانہ مادیت اور حیوانیت کی زد میں آکر ہلاک ہونے کے قریب ہوئی انہوں نے اخلاق وروحانیت پیدا کرنے کے اسباب مہیا کئے۔
روزہ بھی سال میں ایک مرتبہ اسی لئے فرض کیا گیا کہ معدہ اور مادہ کی شقاوت اور سختی دور ہو، کچھ دن مادیت پرستی میں تخفیف ہوتاکہ اس میں روحانیت اور ایمان کی اتنی مقدار داخل ہوجائے جس سے اس کی زندگی اعتدال پر آجائے، کچھ دیر کے لئے اخلاق الٰہی کا کسی قدر عکس اس میں اُتر سکے۔ اس میں فرشتوں کی نسبت حاصل ہوجائے۔ نفس کا مقابلہ کرسکے اور روح کی پرفضا وسعتوں میں وہ جولانیاں کرسکے ۔ اور رزق کی فراوانی کے باوجود بھوکا پیاسا رہ کر وہ لذت ونشاط حاصل کرسکے جو انواع واقسام کے لذیذ کھانوں سے حاصل نہیں ہوتی اسی کو قرآن کریم ’’تقویٰ ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ ارشادِ خدا وندی ہے:
ترجمہ: اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن جائو‘‘ (البقرۃ)
اس آیت میں روزہ کا مقصد بتایا گیا کہ روزہ سے بھوکا پیاسا رکھنا مراد نہیں بلکہ حیوانی اور نفسانی تقاضوں کو دباکر ملکوتی صفات پیدا کرنا ہے تاکہ اس دل میں خدا کا خوف پیدا ہو اور وہ تقویٰ کی صفت سے متصف ہو۔
امام غزالی ؒروزے کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’روزہ کا مقصد یہ ہے کہ اخلاق الٰہیہ میں سے ایک خلق کا پرتو اپنے اندر پیدا کرے جسے صمدیت کہتے ہیں اور وہ ایک حد تک فرشتوں کی تقلید کرتے ہوئے خواہشات نفسانی سے دست کش ہوجائے کیوں کہ فرشتے بھی خواہشات نفسانی سے پاک ہیں‘‘ (احیاء العلوم)
اور علامہ ابن قیم ؒ فرماتے ہیں:
’’ روزہ سے مقصود یہ ہے کہ انسانی خواہشات اور عادات کے شکنجہ سے نفس آزاد ہو اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پید اہو اور وہ اس کے ذریعہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرسکے۔ بھوک اور پیاس سے اس کی ہوس کی تیزی اور شہوت کی حدّت میں تخفیف پید اہو اور یہ بات یاد آئے کہ کتنے مسکین ہیں جو نان شبینہ کے محتاج ہیں وہ شیطان کے راستوں کو تنگ کردے اور اعضاء وجوارح کو ان چیزوں کی طرف مائل ہونے سے روک دے جن میں دنیا وآخرت دونوں کا نقصان ہو۔‘‘ (زاد المعاد)
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’چوں کہ دل کی اصلاح اور استقامت اللہ کی طرف چلنے اور جمعیت خاطر پر منحصر ہے اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پر ا س کا دارومدار ہے اس لئے پراگندہ خاطری اس کے حق میں سخت مضر ہے کھانے پینے کی زیادہ مقدار، لوگوں سے میل جول، ضرورت سے زیادہ گفتگو یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن سے دل منتشر ہوتاہے اور جمعیت باطنی پر اثر پڑتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ سے علیحدہ اور جدا ہوکر مختلف راستوں میں بھٹکنے لگتا ہے ان باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا تھا کہ اپنے بندوں پر روزہ فرض کرے اور اس کے ذریعہ کھانوں کی زائد مقدار اور خواہشات کی زیادتی کا ازالہ ہوسکے جس کی وجہ سے وصول الی اللہ سے محرومی ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ فائدہ اٹھاسکے۔‘ــ‘ (زاد المعاد)
اس مبارک مہینے کو اللہ تعالیٰ نے اپنا مہینہ فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس انسان کو پیدا تو کیا تھا اپنی عبادت کے لئے ارشادِ خداوندی ہے:


وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ

’’ میں نے انسان اور جنات کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا‘‘
لیکن یہ انسان اپنی ضروریات اور اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے دنیا اور اس کے کاموں میں اتنا منہمک ہوگیا کہ اپنے مقصد تخلیق کو بھلا بیٹھا اور اپنے خالق ومالک کی طرف سے غافل ہوگیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تم گیارہ مہینے دنیاکے جھمیلوں میں، اس کی تجارت وزراعت میں، مزدوری ودیگر کاروبار میں مشغول رہتے ہو کیوں کہ تمہاری اپنی ضروریات بھی ہیں، بیوی بچے بھی ہیں اور دوسرے بہت سے افراد کے حقوق وابستہ ہیں، ان سب کے لئے کمانا بھی ہے، دنیاوی اُمور میںمصروف ہونا بھی ہے تو گیارہ مہینے تم دنیا کے کاموں میں جو مصروف رہتے ہو اور اس کی وجہ سے دل پر جو غفلت کے پردے پڑجاتے ہیں اورخالق سے تمہارا رشتہ کمزو رپڑ جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس ایک ماہ کے لئے تم اپنے آپ کو اس دنیا کے جھنجھٹ سے نکالو اور اپنے مقصد تخلیق کی طرف لوٹ آئو، اور عبادت الٰہی سے اپنے دل پر پڑے غفلت کے پردہ کو اتار ڈالو اور گناہوں کی وجہ سے زنگ آلودہ دلوں کو اللہ کے ذکر سے جلا بخشو اور اس کے زنگ کودور کرو، اپنے خالق ومالک کے صحیح بندے بن کر اس سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑلو، کیوںکہ یہ مہینہ خالص اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، یہ اللہ کو راضی کرنے کا مہینہ ہے، یہ رحمتوں اور مغفرتوںکو حاصل کرنے کا مہینہ ہے،یہ جہنم کی آگ سے آزادی کا مہینہ ہے، اس کا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے، اس ماہ مبارک میں رب کے حضور اٹھے ہوئے ہاتھ خالی نہیں جاتے، کسی امیدوارِ رحمت ومغفرت کو نااُمید اور کسی طالب کو ناکام نہیں رکھا جاتا۔
اس لئے ضروری ہے کہ ہر شخص اس کی فکر کرے کہ اس وقت کو غنیمت جانے ،نہ جانے آئندہ یہ ماہ مبارک ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو، اپنے اوقات کو اس طرح منظم کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت اس ماہ مبارک کے مبارک اعمال کے لئے مختص کردیں، جو کام غیر ضروری ہیں ان کو بالکل ترک کردیا جائے ، جن کو مؤخر کیا جاسکتا ہے ان کو ایک ماہ کے لئے مؤخر کردیں، اور جن اُمور کو انجام دینا ضروری ہے ان کی ترتیب بھی اس طرح بنائی جائے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکرواذکار ، تلاوت قرآن مجید اور دیگر عبادات میں صرف ہو۔
روزہ:
اس ماہ کی خاص عبادت روزہ ہے اور اس روزہ سے مقصد کیا ہے وہ بھی بتایا جاچکا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرماتے ہیں:
’’ہر نیکی کا بدلہ دس گناسے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔‘‘ (بخاری ، مسلم)
تمام عبادتیں اللہ کے لئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ان کا بدلہ عطا فرمائیں تو روزہ میں ایسی کیا خاص بات ہے جس کے لئے کہا جارہا ہے کہ ’’ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ مرتضی زبیدی نے چند اقوال نقل کئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے:
۱: کھانے پینے سے بے نیازی حق تعالیٰ کی شان ہے بندہ جب روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے کچھ مشابہت حاصل کرتا ہے اس لئے فرمایا گیا کہ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
۲: نماز ، سجدہ، رکوع، ذکر، صدقہ سے غیر اللہ کی بندگی ، بت پرستوں یا گمراہ فرقوں نے بھی کی لیکن روزہ سے غیر اللہ کی بندگی نہیں کی گئی۔ کبھی نہ سنا گیا یا دیکھا گیا کہ کسی بت پرست یا گمراہ نے اپنے بت یا بزرگ کے نام پر روزہ رکھا ہو ، اس لئے فرمایا گیا کہ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
۳: اگر کوئی کسی کا حق غصب کرے یا تکلیف وایذاء دے اور دنیا میں اس کا حق ادا کرے یا معاف کرائے بغیر مر جائے تو اللہ تعالیٰ ظالم سے اس کی نماز ، عبادات اس کے ظلم کے بدلہ میں دلوائیں گے، البتہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو کسی کے حق کے بدلہ میں نہیں دیا جائے گا اس لئے اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔
۴: عام عبادات اور طاعات کا قانون یہ ہے کہ ہر نیکی کاثواب دس گنے سے سات سو گنے تک دیا جاتا ہے لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ اس میں یہ قانون نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنی جودو سخا کا اظہار فرماتا ہے اور روزہ دار کو بے حد وحساب اجر دیتا ہے وجہ ظاہر ہے کہ روزہ صبر ہے اور صبر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’صبر کرنے والوں کو بے حد وحساب اجر دیا جائے گا۔‘‘
۵: ترک طعام وشراب ملائکہ کی صفت ہے اس لئے جب بندہ روزہ رکھتا ہے تو ان کی صفت سے متصف ہوجاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ فرشتوں سے نہیں دلوائے گا بلکہ خود دے گا۔
۶: یہ نسبت شرف وتکریم کی بناء پر ہے جیسے کہا جاتا ہے بیت اللّٰہ، کعبۃ اللّٰہ، ناقۃ اللّٰہ وغیرہ۔
۷: نماز ، روزہ، حج وغیرہ ظاہری اشکال رکھتے ہیں ، مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی کوئی ظاہری شکل نہیں ہے اس لئے اس میں ریاکاری کا شائبہ نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی، چنانچہ بیہقی اور ابو نعیم کی روایت میں اس کی تصریح بھی ہے، روزہ میں دکھلاوا نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: روزہ میرا ہے میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، بندہ میری وجہ سے ہی اپنے کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔
۸: صوم (روزہ) کسی چیز سے رک جانے یا کسی چیز کے بلند ہوجانے کو کہتے ہیں ، دن جب چڑھ جاتا ہے تو اس وقت اہل عرب کہا کرتے تھے ’’ صام النہار ‘‘ روزہ بھی دوسری عبادات وطاعات سے ممتاز ہے اور بلندی و رفعت میں بے مثل ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔(شرح احیاء العلوم)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس نے ایمان کے جذبہ اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کا روزہ رکھا اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش ہوگئی۔‘‘ (بخاری ، مسلم)
روزہ ترک کرنا:
روزہ ہر مسلمان عاقل، بالغ مردوعورت پر فرض ہے ، بلاعذر اس کا چھوڑنا گناہ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی چھوڑدیا تو خواہ ساری عمر روزے رکھتا رہے اس کی تلافی نہیں کرسکتا (یعنی دوسرے وقت میں روزہ رکھنے سے اگر چہ فرض ادا ہوجائے گا مگر رمضان المبارک کی برکت وفضیلت کا حاصل کرنا ممکن نہیں) (احمد، ترمذی، ابودائود، ابن ماجہ)
بہت سے حضرات معمولی، معمولی باتوں پر روزہ چھوڑدیتے ہیں شریعت میں عذر یا تو سفر ہے کہ سفر کی مشقت کی وجہ سے اجازت ہے چاہے تو روزہ رکھے یا چھوڑ دے لیکن جتنے روزے چھوڑے گئے ان روزوں کی قضا بعد میں لازمی ہے اسی طرح وہ بیماری جس میں روزہ کی وجہ سے بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو روزہ چھوڑا جاسکتا ہے، اگر ایک شخص اتنا بوڑھا ہو کہ وہ روزہ رکھ کر اسے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو اسے بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے لیکن وہ اپنے روزوں کا فدیہ دے گا۔ ہر روزہ کا فدیہ صدقۃ الفطر کے برابر ہے۔ اسی طرح اگر عورت حالت حمل میںہو یا وہ بچے کو دودھ پلاتی ہو اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اتنا ضعف ہوجائے کہ اس کی یا بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو تو اس عورت کو بھی روزہ ترک کرنے کی اجازت ہے لیکن بعد میں اس کے ذمہ بھی قضا لازم ہے۔ یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن میں رہے کہ عورت کے لئے عذر کے ایام میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں جس طرح کہ ان دنوں میں نماز پڑھنا جائز نہیں لیکن یہ یاد رہے کہ ان دنوں کی نمازوں کی قضا نہیں لیکن روزوں کی قضا ضروری ہے بہت سی عورتوں کے ذہن میں یہ ہے کہ نماز کی طرح روزوں کی قضا بھی نہیں یہ غلط ہے۔ اہتمام سے بعد میں ان روزوں کو قضا کی نیت سے رکھنا چاہئے۔
تراویح:
رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی دوسری اہم اور خاص عبادت تراویح ہے حدیث شریف میںروزہ کی طرح تراویح کی بھی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کے روزے کو فرض کیا اور اس میں رات کے قیام کو نفلی عبادت بنایا۔‘‘ (مشکوٰۃ)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جس نے ایمان کے جذبہ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے، جس نے رمضان کی راتوں میں قیام کیا ایمان کے جذبے اور ثواب کی نیت سے اس کے گناہ بخش دئیے گئے۔‘‘ (بخاری ، مسلم)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ روزہ اور قرآن بندے کی سفارش کرتے ہیں روزہ کہتا ہے اے رب میں نے اس کو دن میں کھانے پینے اور دیگر خواہشات سے روکے رکھا لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کریم کہتا ہے میں نے اس کو نیند سے محروم رکھا (یعنی رات کو تراویح میںقرآن کریم پڑھتا یا سنتا تھا) اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما ، چنانچہ ان دونوں کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ)
اس لئے تراویح سنت مؤکدہ ہے اور تراویح کی عبادت کو بھی خاص اہتمام کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ پورے مہینہ میں روزانہ تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے اور تراویح میں قرآن کریم سننا یا پڑھنا مستقل سنت ہے، بہت سے حضرات چند راتوں میں پورا قرآن کریم ختم کرلیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے سنت ادا کرلی اور باقی ایام میں تراویح کا کوئی اہتمام نہیں کرتے یہ بالکل غلط ہے، پورا ماہ اس عبادت کا اہتمام کرنا چاہئے۔

سرحدی
07-04-2013, 10:55 AM
سحری کھانا:
سحری کھانا بھی سنت ہے حدیث میںاس کی ترغیب دی گئی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’ سحری کھایا کرو کیوں کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔‘‘ (مسلم)
سحری میں تأخیر کرنا یعنی آخری وقت میں سحری کھانا افضل ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ میری اُمت خیر پر رہے گی جب تک سحری کھانے میں تأخیر اور روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘ (مسند احمد)
اس تأخیر کا مطلب یہ ہے کہ رات کے آخری حصہ میں صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے سحری کھالے ۔ بہت سے لوگ رات کو ہی کھانا کھاکر سوجاتے ہیں اور اسی وقت نیت کرلیتے ہیں، یہ درست نہیں، سحری کے وقت اٹھنا چاہئے اگر بھوک نہ ہو تو سحری کی نیت سے ایک دو لقمے یا پانی ، دودھ وغیرہ کے چند گھونٹ ہی لے لے تاکہ سحری کھانے کا ثواب مل جائے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑے سائرن بجنے یا اذان کا انتظار کرتے ہیں اگر اسے کوئی شریعت کا حکم یا ثواب سمجھا جاتا ہے تو یہ بے اصل بات ہے اگر صبح صادق سے قبل سحری کھاکر فارغ ہوگئے تو سحری کا حکم پورا ہوگیا اور یہ مسئلہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بہت سے حضرات اذان فجر تک کھاتے پیتے رہتے ہیں اور بہت سے افراد کو یہ کہتے سنا کہ اذان کے ختم ہونے تک کھانے پینے کی اجازت ہے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ صبح صادق ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے، شہروں میںعموماً اس وقت سائرن بجانے کا معمول ہے جبکہ اذان اس کے بعد ہوتی ہے اگر اذان سے قبل صبح صادق ہوگئی او راذان بعد میں دی جارہی ہے تو اذان تک کھانا پینا جائز نہیں اس سے روزہ نہیں ہوگا ہاں اگر کسی جگہ صبح صادق ہوتے ہی فوراً اذان ہوجاتی ہے تو اذان کا پہلا کلمہ سنتے ہی کھانا پینا چھوڑدینا چاہئے اذان کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔
افطار:
غروب ہوتے ہی افطار کرنا چاہئے افطار میں جلدی کرنے کا حکم ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ‘‘ (بخاری ومسلم)
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دین غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ،چونکہ یہود ونصاریٰ تأخیر کرتے ہیں ۔‘‘ (ابوداؤد ،ابن ماجہ)
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مجھے وہ بندے سب سے زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں‘‘ (ترمذی ، مشکوٰۃ)
لیکن افطار کرتے وقت غروب ہوجانے کا یقین ہونا چاہئے اتنی جلدی بھی نہ کی جائے کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا اور روزہ افطار کرلیا اگر ایک منٹ قبل بھی روزہ افطار کرلیا تو یہ روزہ نہیں ہوا اس کی قضا لازمی ہے۔
روزہ کھجور سے یا پانی سے افطار کرنا چاہئے ورنہ جو چیز بھی میسر آجائے اس سے افطار کر لیا جائے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
’’ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ وہ برکت ہے‘‘ اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرلے کیونکہ وہ پاک کرنے والا ہے‘‘ (ابو دائود، ترمذی)
افطار حلال غذا سے ہونا چاہئے اور افطار کے وقت دعا پڑھنا بھی مسنون ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افطار کی یہ دعا نقل کی ہے۔
ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَاءَ اللّٰہ
’’ پیاس جاتی رہی ، انتڑیاں تر ہو گئیں اور اجر انشاء اللہ ثابت ہوگیا‘‘
اور حضرت معاذ بن زہرہ نے یہ دعا نقل کی ہے۔
اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ
’’ اے اللہ میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا‘‘(ابو دائود، مشکوٰۃ)
ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جا سکتی ہے ۔ اس لئے کہ افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ دس لاکھ افراد کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں اس لئے افطار کے وقت خوب توجہ اور تضرع وزاری کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔
کسی روزہ دار کو افطار کرانے کا بھی بڑا ثواب ہے آقائے نامدار ، خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگااور روزہ دار کے ثواب کے برابر اس کو ثواب ملے گا مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کمی نہ ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ تعالیٰ اسے بھی عطا فرمائیں گے جو ایک کھجور سے افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے، یا ایک گھونٹ لسی پلا دے‘‘ ( بیہقی)
تو جہاں یہ شخص اپنے لئے افطار کا اہتمام کرتا ہے اور اس کا دسترخوان انواع واقسام کی اشیاء سے بھرا ہوتا ہے تو کسی روزہ دار کو افطار کراکے بھی ثواب کرنا چاہئے۔ لیکن دکھاوا اور ریاکاری سے بچنا بھی بہت ضروری ہے آج کل افطار پارٹیاں ہوتی ہیں اس میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور وہ خالص ریاکاری اور دکھاوے کی چیز ہو کر رہ گئی ہیں بلکہ اور بہت سی ایسی خرافات ہوتی ہیں کہ بجائے ثواب کے الٹا گناہ کی موجب ہیں۔

سرحدی
07-04-2013, 10:55 AM
چار عمل:
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو دو باتیں تو ایسی ہیں کہ تم ان کے ذریعہ اپنے رب کو راضی کرو گے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ تم ان سے بے نیاز نہیں ہو سکتے پہلی دو باتیں جن کے ذریعہ تم اللہ کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں لا الٰہ الا اللہ کی گواہی دینا اور استغفار کی کثرت اور دو چیزیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے یہ ہیں ، کہ اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو( بیہقی،مسند ابن خزیمہ) اس لئے اس ماہ میں لاالہ الااللہ اور استغفارکی کثرت اور جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنی چاہئے ۔
معاصی سے اجتناب:
اس ماہ میں روزہ کا بہت اہتمام کیا جاتا ہے ہر روزہ دار اس کی پوری کوشش کرتا ہے کہ تنہائی میں جہاں اللہ کے علاوہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیںکھانے پینے سے اجتناب کرے، حتیٰ کہ سخت بھوک پیاس کی حالت میں بھی ایک قطرہ حلق سے نیچے اترنے نہیں دیتا لیکن یہی روزہ دار گناہوں سے ، اللہ کی نافرمانی سے ، معصیت سے ، غیبت ، چغلخوری ، دوسروں کو ایذا دینے ، جھوٹ بولنے، کان، آنکھ اور دیگر اعضاء کو غلط جگہ استعمال کرنے سے نہیں بچتا اور اس طرح اپنے روزہ کو ضائع کر دیتا ہے او ر یہی وجہ ہے کہ پورے مہینے روزے رکھنے کے باوجود تقویٰ کی معمولی سی رمق بھی دل میں پیدا نہیں ہوتی، پورے مہینے عبادت میں گزارنے کے باوجود ہمارے دل کی کیفیت وہی ہوتی ہے ، گناہوں سے بے رغبتی اور طاعت عبادت کی طرف رغبت پیدا نہیںہوتی اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم اس ماہِ مبارک میں گناہوں سے بچنے کا اہتمام نہیںکرتے، حلال رزق کا اہتمام اور حرام سے اجتناب نہیں کرتے، تو ہماری عبادات ، طاعات، ذکرواذکار کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے، خود سوچئے کہ اللہ کے حکم پر حلال کھانے پینے اور حلال وجائز خواہشات سے تو رک گئے لیکن جن چیزوں کو اللہ نے حرام اور ناجائز قرار دیا ، جن کو اپنے غضب کا موجب بتایا ان سے ہم نہ بچتے ہیں نہ بچنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر روزہ کے فوائد ہمیں کیسے حاصل ہوں ، خدارا گناہوں اور معاصی سے آلودہ کرکے اپنی عبادات وطاعات خصوصاً روزے کے فوائد کو ضائع مت کیجئے۔یہی وجہ ہے کہ جس روزے سے یہ مقصد حاصل نہ ہو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی کوئی قدر قیمت نہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے‘‘ (بخاری)
’’ جو روزہ دار فحش کام( گالی گلوچ اور بے شرمی کی باتیں) اور جھوٹ سے نہیں بچتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانے پینے ترک کرنے سے کوئی سروکار نہیں‘‘ (طحاوی)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ روزہ تو درحقیقت بے ہودہ اور بے حیائی کی باتوں اور کاموں سے رکنے اور بچنے کا نام ہے پس اگرکوئی تمہیں گالی دے یا تمہارے ساتھ بدتمیزی کرے تو کہدو میرا روزہ ہے‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ بہت سے روزے دار ہیں جن کو سوائے بھوک پیاس کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔
’’ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ اسے پھاڑا نہ جائے صحابہ نے دریافت فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کس چیز سے پھٹ جاتا ہے آپ نے فرمایا جھوٹ اور غیبت سے‘‘
ان تمام احادیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ روزہ کا مقصد مجاہدہ نفس ہے تاکہ نفس کی اصلاح ہو اور وہ رذائل سے پاک ہو کر فضائل سے آراستہ ہو اس لئے ہر وہ بات اور ہر وہ کام منع کر دیا گیا ہے جو اس مقصد میں حائل ہو اور رکاوٹ کا باعث بنے۔
اور یہ بات بھی ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ جس طرح خاص مقامات اور خاص اوقات میں عبادات کا ثوا ب اور درجہ بڑھا دیا جاتا ہے ، اسی طرح ان مقامات اور ان اوقات میں گناہ کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر اس ماہ مبارک میں ایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر اور نفل کا ثواب فرض کے برابر ہے تو گناہ کا وبال بھی اسی کے مطابق ہوگا اس لئے بھی اس ماہ میں گناہ سے بچنے کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔
اس ماہ کو خیرخواہی اور غم خواری کا مہینہ قرار دیا گیا ہے اس لئے اپنے ماتحتوں سے حسن سلوک اور اچھا برتائو کرنا چاہئے ۔ غصہ سے پرہیز کرنا چاہئے۔ لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں ایک مؤمن کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہئے۔
ماہ ِ مبارک اپنے جلو میں ہزارہا رحمتیں اور برکتیں لے کر ہمیشہ آتا رہا ہے، آئندہ بھی انشاء اللہ آئے گا مگرکون جانتا ہے کہ اگلا رمضان المبارک ہم میں سے کس کو نصیب ہوگا ، اس لئے ہم میں سے ہر شخص کو اس کی قدرکرنی چاہئے اور اس کی پذیرائی اس طرح کرنی چاہئے کہ گویا یہ ہماری زندگی کا آخری رمضان ہے۔
رمضان المبارک کے خصوصی اعمال( روزہ، تراویح ، تلاوت قرآن کریم، ذکرِ الٰہی، دعا واستغفار) کا خصوصی اہتمام کیا جائے، اس سراپا نور مہینے میں جس قدر نورانی اعمال کئے جائیں گے، اسی قدر روح میںلطافت، بالیدگی اور قلب میں نورانیت پیدا ہوگی۔ خصوصاً قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کیونکہ اس ماہ کو قرآن کریم سے خاص نسبت ہے، اسی ماہ میں قرآن کریم نازل ہوا۔
اس مہینے میںجھوٹ ،بہتان، غیبت ، حرام خوری اور دیگر تمام آلودگیوں سے پرہیز کا پورا اہتمام کیا جائے، حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنے اور غلط کام کرنے سے پرہیز نہ کرے ، اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیںجن کو بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ نعوذ باللہ۔ روزے کی حالت میںکان کی ، آنکھوں کی ، پیٹ کی ، شرم گاہ کی اور دیگر اعضاء کی حفاظت لازم ہے۔ الغرض اس مہینے میں گناہوں کا ترک کرنا لازم ہے، اور اگر ذرا سی ہمت سے کام لیا جائے تو ان چند دنوں میں گناہوں کا چھوڑنا بہت آسان ہے۔
جہاں گناہوں سے پرہیز لازم ہے ، وہاں بے فائدہ اور لا یعنی مشاغل سے بھی احتراز کرنا چاہئے، کیونکہ یہ بے مقصد کے مشغلے انسان کو مقصد سے ہٹا دیتے ہیں۔
اس ماہِ مبارک میں قلوب کا تصفیہ بھی بہت ضروری ہے، جس دل میں کینہ ، حسد ، بغض ، عداوت کا کھوٹ او ر میل جمع ہو، اس پر اس ماہ مبارک کے انوار کی تجلی کماحقہ نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث کے مطابق رمضان المبارک کی راتوں میں سب لوگوں کی بخشش ہو جاتی ہے مگر ایسے دو شخص جو ایک دوسرے سے کینہ وعداوت رکھتے ہوں، ان کی بخشش نہیں ہوتی۔
اس لئے تقاضائے بشریت کی بنا پر جو آپس میں رنجش ہو جاتی ہے ، ان سے سب کو دِل صاف کر لینا چاہئے اور اس ماہِ مبارک میں کسی دوسرے مسلمان سے کینہ وعداوت نہیں رہنی چاہئے۔
ماہِ مبارک کا دِل وزبان اور عمل سے احترام کرنا بھی لازم ہے، اپنی معصیت اور نافرمانی کے مظاہرہ سے اس کو ملوث ( آلودہ ) نہ کریں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان کو ہمدردی وغم خواری کا مہینہ فرمایا ہے، اس لئے اس مہینے میں جو دوسخا اور عطاء وبخشش عام ہونی چاہئے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت عطا فرمائی ہے، وہ اس مہینے میں تنگ دستوں اور محتاجوں کی بطور خاص نگہداشت کریں۔
اس ماہِ مبارک کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہئے ، رمضان مبارک کو گزرنے نہ دیجئے جب تک ملأاعلیٰ میں ہماری بخشش ومغفرت کا اعلان نہ ہو جائے ، توبہ واستغفار ، بارگاہ خداوندی میں عجز ونیاز اور آہ وزاری میںکس نہ چھوڑیئے بلکہ ساری عمر کی حسرتیں نکال لیجئے، ذکر وتسبیح ، صلوٰۃ وسلام، تکبیر وتہلیل خصوصاً تلاوت قرآن پاک سے اپنے اوقات کو معمور رکھئے۔
تہجد کے وقت اُٹھنا اور سحری کھانا تو معمولات میں داخل ہی ہے کوشش کیجئے کہ اس ماہِ مبارک میں آپ کی نماز ِتہجد فوت نہ ہو، خواہ دو ہی رکعتیںپڑھنے کا موقع ملے مگر’’ آہ سحر گاہی‘‘ کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام ضرور درج کرا لیجئے۔
تراویح تو رمضان المبارک کی خاص نماز ہے لیکن آپ کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کم ازکم رمضان مبارک میں آپ کی کسی نماز کی تکبیر تحریمہ فوت نہ ہو۔
ٹی وی، وی سی آر اور دیگر تمام لغوتفریحات کو خیر باد کہہ دیجئے اور عزم کر لیجئے کہ اس ماہِ مقدس کو اپنے گناہوں کی نجاست اور گندگی سے آلودہ نہیں کریں گے۔
ماہِ مبارک قبولیت دعا کا خاص موسم ہے، مانگنے والوں کو ملتا ہے اور خوب ملتا ہے ۔ مانگنے والوں کی حیثیت کے مطابق نہیں بلکہ دینے والا اپنی شان کے مطابق دیتا ہے، مگر کوئی چاہئے مانگنے والا۔ اس ماہِ مبارک میں ’’ کائنات کے داتا‘‘ کے دروازے پر جتنا مانگا جا سکے مانگئے، خوب رو رو کر مانگئے ، مچل مچل کر مانگئے، اپنے لئے بھی اپنے اہل وعیال اور دوست واحباب کے لئے بھی، اُمت مرحومہ کے بلند پایہ اکابر کے لئے بھی اور اُ مت کے گناہ گاروں کے لئے بھی۔
آج کل ملک بلکہ پوری دنیا کے خصوصاً عالم اسلام کے جو حالات چل رہے ہیں، ان حالات میں اور زیادہ ضروری ہے کہ ہم اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں کی معافی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کریں۔ اپنے گناہوں پر معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ پوری اُمت مسلمہ کے مردوں اور عورتوں ، جوانوں اور بوڑھوں سب کے لئے مغفرت طلب کریں اور اللہ کے حضور رو رو کر معافی مانگیں، بس اس رمضان کو تو امُت کے لئے استغفار کرنے کے لئے خاص کر لیں۔ تلاوت قرآن کریم، نماز، صدقہ وخیرات اور ہر نیکی کے بعد اللہ رب العزت کے حضور آنسو بہا بہا کر مغفرت طلب کریں۔ اپنے گناہوں پر معافی مانگنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔