PDA

View Full Version : ایبٹ آباد: کیا اسامہ زندہ تھا؟



سید انور محمود
07-13-2013, 03:22 PM
تاریخ: 13 جولائی 2013
از طرف: سید انور محمود

ایبٹ آباد: کیا اسامہ زندہ تھا؟


دو مئی 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آبادمیں ایک ڈرامہ ہوا جس کی ہدایت کاری امریکی صدر اوبامہ کررہاتھا۔ ڈرامہ کا نام تھا "اسامہ بن لادن کی موت" ڈرامہ کا آغاز آدھی رات کے بعد شروع ہوا جب چار امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان کےشہر جلال آباد سے روانہ ہوئے اور قریبا چالیس منٹ تک پاکستان کی حدود میں بغیر کسی رکاوٹ کے پروازکرتے ہوئے ایبٹ آباد میں جہاں پاکستان کی سب سے بڑی فوجی تربیت گاہ ہے اس کے بہت قریب ہی ایک مکان کے پاس اترے ۔ ان ہیلی کاپٹروں میں امریکی کمانڈوز موجود تھے جو بغیر کسی رکاوٹ کے اس مکان میں داخل ہوئے، پانچ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ، گھر کی تلاشی لی اور کچھ سامان اپنے قبضے میں لیا۔ ایک ہیلی کاپٹر کو خرابی کی بناہ پردھماکے سے اڑادیا، پھر پانچ لاشوں میں سے ایک لاش کو اپنے ساتھ لیا اور واپس اپنے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر بڑئے اطمینان کے ساتھ جہاں سے آئے تھے وہاں واپس پہنچ گے۔ ڈرامہ کا کل دورانیہ تھا تقریبا دو گھنٹے پینتالیس منٹ۔ڈرامہ کے ہدایت کار اوبامہ نے اس ڈرامہ کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد ہی اوٹ پٹانگ طریقے سے پوری دنیا کو مطلع کیا کہ امریکہ کا بنایا ہوا مجاہد اسامہ بن لادن جو بعد میں امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے دہشتگرد ہوگیا اسکو امریکی کمانڈوز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کردیا۔ امریکی صدر نے یہ خبر دیتے ہوئے کبھی کہا "مجھے اطلاع موصول ہوئی تھی"، کبھی کہا "میں نے بذات خودنگرانی کی" اور کبھی کہا کہ "میں نے حکم دیا"۔ یہ خبر پوری دنیا کےلیے اور خاصکر امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے بہت ہی خوشی کا باعث تھی۔ اگلے دن پاکستانی صدر آصف زرداری کا ایک مضمون ایک امریکی اخبار میں شائع ہوا جس میں اس غلط امریکی کارروائی کو جائز قرار دیا بلکہ امریکہ کو تعریف و تحسین کی سند بھی دی۔ اس وقت کےوزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے امریکہ کی عظیم کامیابی قرار دیا۔ لندن میں مقیم اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نےتو یہ انکشاف کرڈالا کہ آپریشن ہمارے تعاون سے ہوا ہے ۔ جبکہ ہماری مسلح افواج نےتین دن کے بعد چپ کا روزہ توڑا اور جو کہا وہ ناقابل اعتبار تھا۔

اس ڈرامے کی تیاری میں چھ ماہ کا عرصہ لگا، اس عرصہ میں اس گھر کے قریب جہاں نام نہاد اسامہ رہتا تھا امریکن ایڈپروگرام کا آفس کھولا گیا، ایک پاکستانی ڈاکڑشکیل آفریدی کو پولیو کی فرضی مہم چلانے اور علاقے کی جاسوسی کرنے کے لیے امریکی ڈالرز کے عوض خریدا گیا۔ ڈاکرا شکیل آفریدی کا امریکن ایڈپروگرام کے آفس میں آزادی سے آنا جانا تھا جہاں اُس نے امریکیوں سے تقریبا پچیس ملاقاتیں کیں۔یہ ڈرامہ اس وقت رچایا گیا جب اسامہ بن لادن کو مرئے ہوئے نوسال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا تھا۔ یہ بات ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اسامہ بن لادن شگر اور بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا تھا، 2001 میں ان بیماریوں کی وجہ سےاُس کے گردئے ناکارہ ہوچکے تھے اور اسکو ہر تیسرئے روز ڈالیسیز کرانا لازمی تھا، اسکے لیے ایک موبایئل ڈالیسیز مشین اسکے پاس تھی جس سے قندھار میں رہتے ہوئے اُسکا علاج ہوتا رہا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد اسامہ بن لادن کبھی ایک جگہ نہ رہ سکا، اس کو آخری بار تورا بورا کے پہاڑوں میں دیکھا گیا۔ اگریہ فرض بھی کرلیا جائے کہ اُسکے ساتھ ایک ڈالیسیز مشین تھی تب بھی ایک ڈالیسیز مشین کےلیے بجلی کا ہونا لازمی ہے جو تورابورا کے پہاڑوں میں میسر نہیں تھی، دوسرئے ڈالیسیز کا عمل کرنے کےلیے ایک مخصوص ماحول ہوتا ہے تاکہ مریض کو انفیکشن نہ ہو، اور جن حالات کا اسامہ کو سامنا تھا اس میں اس کا علاج ناممکن تھا۔

اس ڈرامے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس ڈرامے کے شروع ہونے سے پہلے ایک ویب سائٹ ایسی بھی تھی جس کووقتی طور پر ہیک کر لیا گیا اس سائٹ کا نام ہے "واٹ ریلی ہیپنڈ" یعنی اصل میں کیا ہوا۔ دو دن بعد یہ سائٹ بحال ہوگئی اور اس کے بعد سے یہ نارمل کام کررہی ہے۔ اس ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس ویب سائٹ پر ایسی خبریں موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت کو کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ ان خبروں میں امریکی فوجی افسران کے بیانات، نامور اخبارات گارجین، نیویارک ٹائم، ٹیلیگراف اور معروف ٹیلی ویژن چینل سی این این ، فوکس نیوز او ر بی بی سی پر نشر ہونے والی خبریں اور انٹرویو موجود ہیں۔ اسی ویب سائٹ پر مصر سے شایع ہونے والے ایک میگزین ال وفدکے 26 دسمبر 2001 کی ایک خبرکا عکس بھی موجود ہے جس میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کا انتقال دس روز قبل ہوچکا ہے۔ برطانیہ کا اخبار ٹگروتااف 28 دسمبر2001 میں لکھتا ہے کہ پینٹاگون کے مطابق 14 دسمبر تک خفیہ ادارئے تورابوراپر موجود اسامہ بن لادن کی آواز کو ریڈیو کے زریعے مستقل سنتے رہے مگر اُس کے بعد نہیں، اور صدر بش نے یہ اشارہ بھی دیا کہ شایدبن لادن کی خاموشی اس لیے ہو کہ وہ مرچکاہے۔ نیویارک ٹائم نے اپنی 11 جولائی 2002 کی اشاعت میں لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن جو ہمیشہ خبروں میں رہنا پسند کرتا ہے چاہے اُس نے کچھ بھی نہ کیا ہوگذشتہ نو ماہ سے خاموش ہے۔ 26 جولائی 2001 کو فوکس نیوز نے روزنامہ پاکستان آبزرور کے حوالے سے بتایا کہ اسامہ بن لادن مرچکا ہے۔ فوکس نیوز نے بتایا تھا کہ گردوں کے مرض میں مبتلا اسامہ بن لادن علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرچکا ہے ، یہ بات ایک طالبان لیڈر نے بتائی جو اسکی تدفین میں شریک تھا۔ بقول فوکس نیوز افغانستان میں موجود کولیشن ٹروپس جو اسامہ کو تلاش کررہے ہیں وہ اب کبھی بھی القائدہ کے رہنما کو زندہ یا مردہ تلاش نہیں کرپاینگے۔

الجزیرٹی وی نے 27 جولائی 2001 کواسامہ بن لادن کی ایک ویڈیو ٹیپ چلائی جس میں واضع نظر آرہا ہے کہ اسامہ بہت بیمار ہے،بعد میں جب یہ ٹیپ سی این این پر چلی تو ٹیلیگراف کے مطابق بش انتظامیہ نے اسکو جعلی قرار دیا کہ اس میں ماسک کا استمال کیا گیا ہے اور اسامہ مرچکا ہے، شاید یہ اسامہ کا حکم ہو کہ اُسکے مرنے کے بعد یہ ٹیپ چلائی جائے۔ سی این این نے اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے حوالے سے بتایا کہ شاید اسامہ تورابورا میں مرچکا ہے، افغانی صدر حامد کرزئی نے بھی کہا کہ ممکن ہے اسامہ مرچکا ہے، جبکہ ملا عمر زندہ ہے۔ ایف بی آئی کے ٹریرزم کاونٹر کے سربراہ ڈیلی واٹسن نے بھی بی بی سی سے یہ ہی کہا تھا کہ شاید اسامہ مرچکا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق 2001 میں سعودی عرب کے انگریزی اخبار عرب نیوز کے لندن آفس کے ایڈیٹر انچیف نے اخبار میں لکھا تھا کہ اسامہ مرگیا ہے یا مرنے والا ہے۔ افغانستان میں طالبان کو منظم کرنے والے افسانوی شہرت کے حامل سابق فوجی افسر امیر سلطان تارڑ نے افغانستان میں فرائض کی بجا آوری کے دوران کرنل امام کا فرضی نام اختیار کیا تھا۔ وہ آئی ایس آئی کے ان افسران میں شامل تھے جنہوں نے سوویت فوجوں کے خلاف نام نہاد جہاد کیلئے افغان مجاہدین کی براہ راست بھرتی کی تھی۔ان کے نام نہاد جہادی شاگردوں میں افغان طالبان کا سربراہ ملا عمر بھی شامل ہے۔ پاکستان کے ایک صحافی چودھری ذبیح اللہ بلگن کی اس بات کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کرنل امام نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اُنکو ایبٹ آباد واقعہ سے تین سال قبل بتلایا کہ وہ خود اسامہ بن لادن کے جنازے اور تدفین میں شریک ہو چکے ہیں ۔ اسامہ کو گردے کا عارضہ تھا وہ تمامتر علاج کے باوجود اس مرض سے صحت یاب نہ ہو سکا اور اس کا انتقال ہوگیا ۔ اُسکو افغانستان کے ایک گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ اگر اوپر بیان کی گی تفصیلات سچ ہیں تو دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ اوبامہ نے یہ ڈرامہ کیوں کیا ؟ اور ایبٹ آباد میں مارا جانے والا شخص کون تھا ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن ان دو سوالوں کا جواب تلاش کرتا مگر وہ دوسری طرف نکل گیا جس کی وجہ سے اس کمیشن کی رپورٹ بے مقصد ہے۔ اب کمیشن سے پاکستانی قوم کا ایک سوال ہے کہ "کیا ایبٹ آباد آپریشن کے وقت اسامہ بن لادن زندہ تھا؟"۔

دوستوں ایبٹ آباد آپریشن کی حقیقت جاننا کوئی مشکل کام نہیں بس تھوڑی سی تحقیق کی ضرروت ہے۔ ایک سوال کہ "اوبامہ نے یہ ڈرامہ کیوں کیا؟" اسکا جواب آپکو میرئے اگلے مضمون میں مل جائے گا۔