PDA

View Full Version : روزہ صحت و تندرستی کا ذریعہ



تانیہ
07-15-2013, 11:13 PM
http://etemaaddaily.com/pagesurdu/health/8620fasting1.jpg


روزے میں جب سحری کے بعد سے لے کر افطاری تک کچھ بھی کھایا پیا نہیں جاتا تو اس دوران جب بھوک لگتی ہے اور معدے کو غذا نہیں ملتی تو جسم اپنے اندر موجودچربی کو استعمال کرنے لگتا ہے جس سے اس کو توانائی حاصل ہوتی ہے ۔ چربی کو استعمال کرنے کے نتیجہ میں روزہ دار کا جسمانی وزن قدرے کم ہونے لگتا ہے لیکن اگر کوئی شخص نارمل سے زیادہ عرصہ تک مسلسل روزے رکھتا ہے تو اس کا جسم چربی کے بعد عضلاتی پروٹین کو توانائی کے حصول کے لئے استعمال کرنے لگتا ہے ۔اس سے صحت پر منفی ا ثرات پڑتے ہی اس لئے کہ کھائی جانے والی خوراک اور صحت میں راست تعلق ہوتا ہے ۔
روزے کے سبب جسم میں جو تبدیلیاں آتی ہیں ان کا راست تعلق روزے کے وقت کی طوالت سے ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد عموماً8گھنٹوں تک اگر کچھ بھی کھایا نہیں جاتا توساری غذا ہضم ہوجاتی ہے اورجسم فاقے کی کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے۔ ان 8گھنٹوں میں معدہ کھائی گئی غذا میں موجود سارے تغذیاتی اجزاء کو جذب کرچکاہوتاہے۔ عام دنوں میں جب کہ روزہ نہیں رکھاجاتا جسم کو کام کرنے کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ وہ گلوکوس ہوتاہے جو جگراورعضلات میں جمع کیا ہواہوتاہے۔ روزے کے دوران پہلے اس گلوکوس کے ذخیرے سے توانائی حاصل کرلی جاتی ہے ۔ پھر جیسے جیسے روزے کا وقت آگے بڑھتا ہے جگر او رعضلاتی گلوکوس ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد جسم چربی کوگھلا کر اس سے توانائی کوحاصل کرنے لگتاہے۔اگر روزے طویل عرصوں تک رکھے جاتے ہیں (جیسے کئی کئی ہفتوں تک) تو جسم کو توانائی مہیا کرنے کے لیے جسمانی پروٹین استعمال کیاجانے لگتا ہے۔ اس کو طبی زبان میں فاقہ زدگی (Starvation) کہا جاتا ہے۔ اسی کے سبب فاقہ کرنے والے لوگ بہت دبلے نظرآتے ہیں اور جسمانی طورپر کمزور ہوجاتے ہیں۔ رمضان میں اس قسم کافاقہ نہیں ہوتا اس لیے کہ شام میں فوری روزہ کھولا جاتا ہے۔ اس طرح افطاری اورپھر سحری کے ذریعہ وافرمقدار میں توانائی جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ روزے میں جسم کے اندر گلوکوس کے اصل ذخیرے سے پوری توانائی کے استعمال کے بعد چربی میں موجود توانائی کے ذخیرے سے حصول توانائی کی ایک خوبصورت مشق رمضان کے سارے دنوں میں روزہ دار کے جسم کے اندر چلتی رہتی ہے۔
جسمانی چربی سے توانائی حاصل کرنے کے سبب جسم میں خراب کولیسٹرال کی مقدار میں کمی آنے لگتی ہے اورصحت کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسمانی وزن میں کمی ہوتی ہے‘ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے خون میں گلوکوس کم کرنے کاعمدہ موقعہ ملتا ہے اور ساتھی ہی بڑھاہوا بلڈپریشر نارمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ زہریلے مادے عموماً جسمانی چربی کے ساتھ جڑکر جسم میں ذخیرہ کئے ہوتے رہتے ہیں۔
چند دنوں کے روزے کے بعد روزہ دار کے خون میں اینڈارفن نامی کیمیائی مرکبات کی مقدار بڑھنے سے روزہ دار خود کو ہشاش بشاش محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کی عمومی ذہنی صحت بھی عمدہ ہوجاتی ہے۔
روزہ داروں کو چاہئے کہ وہ افطار اورسحری میں ایک متوازن غذا کھائیں اور مائع کا وافر مقدارمیں استعمال کریں۔ اس سے جسم کو ضروری تغذیاتی اجزاء کی مطلوبہ مقدار ملتی رہتی ہے اور جسم میں پانی اورنمکیات کا بے حد اہم توازن برقرار رہ سکتاہے۔ گردے موثرطریقے سے کام کرتے ہیں اور نظام ہاضمہ درست رہتا ہے۔
ذیابیطس ‘ آدھے سر کے درد(مائیگرین) کم بلڈ پریشر جیسے امراض سے متاثر افراد کو چاہئے کہ وہ روزہ رکھنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اگران کا مرض دواؤں کے ذریعہ نارمل حدود میں ہے تو روزہ رکھا جاسکتا ہے تاہم ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہوتاہے۔