PDA

View Full Version : دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا ہاتھ کی لکیرو ں سے زائچہ نکل آیا



گلاب خان
12-14-2010, 01:40 AM
دل کے ٹوٹ جانے کا سانحہ نکل آیا
ہاتھ کی لکیرو ں سے زائچہ نکل آیا

وہ جہاں بسایا تھا شوق خود نما ئی نے
آئینے کے پیچھے بھی آئینہ نکل آیا

کس نے ذکر چھیڑا تھا اس کی سرد مہری کا
باد و برف زاروں کا سلسلہ نکل آیا

دائرے کے باہر بھی دائرے ہی لگتے ہیں
دائرے کے اندر بھی دائرہ نکل آیا

پھر مرے خیالوں میں پھوٹنے لگی سرسوں
پھر جنون و و حشت کا مسئلہ نکل آ یا

اس کی جھوٹی باتوں پر میں یقین کیوں کر لو ں؟
پھن ا ٹھائے بل سے پھر وسو سہ نکل آیا

میں ابھی سفر کی دھول گھر کو لے کے لوٹا تھا
پھر نئی مسافت کا راستہ نکل آیا

تانیہ
12-15-2010, 11:34 PM
واہ گلاب جی واہ...زبردست

نگار
07-14-2013, 03:25 AM
وہ جہاں بسایا تھا شوق خود نما ئی نے
آئینے کے پیچھے بھی آئینہ نکل آیا

بہت خوب