PDA

View Full Version : نواز شریف اور نئے صدرکا انتخاب



سید انور محمود
07-24-2013, 12:41 AM
تاریخ: 24 جولائی 2013
از طرف: سید انور محمود

نواز شریف اور نئے صدرکا انتخاب


نواز شریف جو تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے ہیں انکو چھ اگست کو اگلے پانچ سال کے لیے نئےصدر کا انتخاب کرنا ہے۔صدر زرداری سے تو وقتی واسطہ ہے مگر اس سے پہلے ان کا واسطہ غلام اسحق خان، سردار فاروق احمد خان لغاری اور اپنے لائے ہوئے محمد رفیق تارڑسے رہا ہے۔17اگست 1988 کو جنرل ضیا کی ایک فضائی حادثے میں موت ہوئی تو غلام اسحاق خان نے بحیثیت قائم مقام صدر اپنی صدارت کی ابتدا کی۔جنرل ضیا اپنی زندگی میں ہی جونیجو حکومت کو ختم کرچکے تھےاور پھر جنرل ضیا کی موت کے تین ماہ بعد جماعتی بنیاد پر عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری۔ پیپلز پارٹی کو روکنے کے لیےاُس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل اور غلام اسحق خان نے پیپلز پارٹی کے سامنے اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں ایک قوت بھی کھڑی کردی تھی جسکے سربراہ تو غلام مصطفی جتوئی تھے مگر بڑئے لیڈر نواز شریف تھے۔ پیپلزپارٹی 93 نشستیں مرکز میں جیت گی اور پیپلز پارٹی کو مشروط طور پر اقتدار منتقل کیا گیا، اور شرط کے تحت غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کی مشترکہ حمایت سے دسمبر1988ء میں نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔ غلام اسحق خان نے بینظیر کی پہلی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگاکراٹھاون ٹو بی کے تحت اگست 1990 میں فارغ کردیا اور 1990ء کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور قومی اسمبلی کی 105 نشستیں حاصل کر کے اقتدار حاصل کر لیا اور یوں میاں نواز شریف پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔مگر جلدہی غلام اسحاق خان اورنواز شریف کے درمیان بھی اختلاف ہوگئے اور غلام اسحق خان نے ایک مرتبہ پھراٹھاون ٹو بی کے تحت اپریل 1993ء میں نواز شریف حکومت بھی فارغ کردیا، نواز شریف سپریم کورٹ چلے گئے ۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف حکومت کی برطرفی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مئی1993میں اس کی بحالی کا حکم جاری کردیا۔ مگر اب غلام اسحق خان اور نواز شریف کا ساتھ چلنا مشکل ہوگیا تھا۔ چنانچہ بری فوج کے سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کے دباؤ پر نواز شریف اور غلام اسحاق خان کو اپنے عہدوں سے علیدہ ہونا پڑا۔

سردار فاروق احمد خان لغاری 1993ء میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ بنایا اور صدر پاکستان بننے تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔ فاروق لغاری صدارتی انتخابات میں اپنے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار سینیٹر وسیم سجاد کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے۔ 1996 میں بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے کرپشن میں ملوث ہونے کی خبریں عام تھیں اور اس وجہ سے فاروق لغاری اور بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ نومبر 1996ء میں آئین میں دیے گئے اختیارات اٹھاون ٹو بی کے تحت کے تحت فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم کردی اور اسمبلیاں تحلیل کردیں۔ 1997ء کے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ نواز شریف نے نے صدر کے اسمبلی توڑنے اور فوجی سربراہاں کی تقرری کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم کی اور اس ترمیم کی منظوری کے لیے اس وقت حزب اختلاف کی قائد بینظیر بھٹو نے بھی ترمیم کی منظوری کی مکمل اور بھرپور حمایت کی۔ 1997ء میں نواز شریف حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان تنازعے کی وجہ سے فاروق لغاری نے 2 دسمبر 1997ءکوصدر کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

محمد رفیق تارڑ یکم جنوری 1998ءسے 20 جون 2001ء تک پاکستان کے صدر رہے، نواز شریف نےتیرھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات تقریبا ختم کردیےتھے۔ رفیق تارڑجنوری 1991ء سےاکتوبر1994ء تک سپریم کورٹ کے جج رہے، وہ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی اُس گیارہ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے 1993 ء میں نواز شریف حکومت کو بحال کیا تھا۔ 1997ء میں رفیق تارڑ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر سینٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور پھر نواز شریف نے اُن کو اپنا صدارتی امیدوار بنایا جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ رفیق تارڑ ایوان صدرمیں ہی موجود تھے کہ بارہ اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کردی۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے خلاف طیارئے کو اغوا کرنے کا مقدمہ بنایا اور عدالت نے سماعت کے بعدنواز شریف کو قید کی سزا سنا دی ۔بارہ اکتوبر 1999ء کی شب جب نواز شریف مصیبتوں میں گھر چکے تھےایوان صدر میں کسی بھی قسم کی کوئی ہل چل نہ تھی اور نواز شریف کی مہربانیوں سے بناہوا صدر ایوان صدر میں آرام سے مقیم تھا۔ نواز شریف کے ہتھکڑیاں لگیں، جیل گئے‘ تذلیل ہوئی، سزا ہوئی اور شب و روز تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں گزرے۔ پھر سعودی عرب کے بیچ میں آجانے سے دسمبر 2000ء میں وہ سعودی عرب چلے گے۔اگر رفیق تارڑ میں ذرا بھی آیئن کی پاسداری یا احسان مندی کے جذبات ہوتے تو وہ بارہ اکتوبر کی رات ہی صدارت سے استعفی دیکرایوان صدرسے اپنے گھر چلے گے ہوتے۔ رفیق تارڑکی مدت صدارت یکم جنوری 1998ءتا 31 دسمبر 2002ءتھی اور شاید وہ یہ پوری مدت ایوان صدرمیں گذارنا چاہتے تھے مگر انتظامی ضرورت کے تحت جنرل مشرف نےایک آرڈینس جاری کرکے رفیق تارڑکو 20 جون 2001ءکو صدارت سے فارغ کردیا۔ نواز شریف حکومت ختم ہونے کے بعدایک سال پانچ ماہ تک رفیق تارڑ صدارت سے چپکےرہے مگر ایک مرتبہ بھی نہ اُنکو آیئن یاد آیا اور نہ ہی نواز شریف۔ نواز شریف اور بےنظیر کی دو دو مرتبہ حکومتیں توڑ دی گئیں۔ اُن کو آئینی مدت پوری نہ ہونے کا افسوس تھا۔ لیکن تارڑ صاحب کو اپنی مدت صدارت پوری نہ ہونے کا افسوس ہے۔ وہ کافی عرصہ تک خود کو آئینی صدر قرار دیتے رہے۔ انہوں نے 2011ء میں لاہور ہائیکورٹ میں جنرل مشرف کے خلاف ایک درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کو آصف زرداری کی صدارت کے آغاز تک آئینی صدر قرار دیتے ہوئے تمام بقایا جات واجبات ادا کئے جائیں اور مشرف کا نام سرکاری دستاویزات و مقامات سے حذف کیا جائے یعنی پرویز مشرف پاکستان کے کبھی صدر رہے ہی نہیں۔ رفیق تارڑ مراعات اور واجبات 8 ستمبر 2008ءتک کلیم کر رہے ہیں۔ اگر رفیق تارڑ کی درخواست پر عمل ہوا اور اگر جنرل مشرف کا نام حذف کردیا جائے تو باقی تین جنرلوں ایوب خان، یحیی خان اور ضیا الحق بھی صدر کی حیثیت سےحکومت کرتے رہے ہیں تو اُن کے نام بھی حذف کرنے ہونگے، اسکا مطلب ہوگا 33 سال اس ملک کا کوئی سربراہ ہی نہیں تھا، شاید تاریخ میں اس سے بھونڈا مذاق اور کوئی نہیں ہوگا۔

غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری تو نواز شریف کی مرضی سے صدر نہیں بنے تھے مگرآیئن اور قانون کے مطابق اپنی صدارتی مدت گذارکر چلے گے۔ نواز شریف نےرفیق تارڑ کا انتخاب اسلیے کیا تھا کہ وہ نہ صرف سپریم کورٹ کےسابق جج تھےبلکہ انکے قریبی ساتھی بھی تھے اس لیے اُن سے اُنکو وفا کی امید بھی تھی۔ نواز شریف آنے والےصدر کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ اُن کے ذہن میں شاید اب بھی اپنا کوئی وفادار ہو اوررفیق تارڑ جیسےصدر کی ضررورت ہےمگر رفیق تارڑ نہ اُن سے وفادار تھےاور نہ ہی ملک آیئن اور قانون سے۔ ملک کو اسوقت ایک ایسے پرخلوص انسان کی ضرورت ہے جو صدر بننے کے بعد ملک، آیئن اورقانون کا وفادار ہو۔