PDA

View Full Version : کشمیر کی دھرتی صوفیائے کرام کی آماجگاہ رہی ہے



گلاب خان
12-14-2010, 01:48 AM
اقبال عظیم شاعر اورمشرق کا ترجمان

ڈاکٹر محمد نسیم الدین ندوی

کشمیر کی دھرتی صوفیائے کرام کی آماجگاہ رہی ہے۔ بڑی تعداد میں صوفیائے کرام اس دھرتی پر تشریف لائے اور اسلام کا ابدی پیغام سنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دورِ حکومت میں کشمیر کا راجہ تو ہندو رہا لیکن بیشتر کشمیری پنڈتوں نے اسلام قبول کرلیا اور اس جنت نشاں دھرتی پر اسلام کے عقیدت مندوں کی تعداد بڑھ گئی اور آج بھی اکثریت میں ہیں۔


سر ڈاکٹر محمد اقبال کا آبائی وطن یہی وادی¿ رشک باغ جناں ہے۔ اقبال کے آباءواجداد کشمیر سے جاکر لاہور کے سیالکوٹ میں بس گئے تھے ، اقبال 9نومبر 1873 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔اقبال کے آباءواجداد سپرو گوت کے برہمن تھے، اقبال کے والد نور محمد نے ان کو اردو فارسی عربی اور انگریزی کی تعلیم دلائی، اقبال ابھی اسکول میں پڑھتے ہی تھے کہ ان کے اصلی جوہر چمکنے لگے اور انہوں نے شاعری کی طرف توجہ کی، اقبال کو مولانا روم ؒکے اشعار نہایت پسند تھے۔ انہوں نے مولانا روم ؒکو روحانی استاد مان لیا تھا اور داغ دہلوی کو اپنا کلام اصلاح کےلئے دکھاتے تھے، ان کے کلام کی اصلاح کرکے داغ دہلوی ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، جب لاہور سرکاری کالج میں داخل ہوئے تو وہاں ان کی ملاقات ایک انگریز پروفیسر سے ہوئی جس نے ان کے اندرونی جوہر کو پہچانا اور نکھارنے کا عزم کیا۔


لاہور میں بڑی تعداد میں مشاعرے ہوتے تھے جس میں اس زمانے کے مشہور شعراءاپنا کلام سناتے تھے، اقبال بھی ان محفلوں میں جاتے اور اپنا کلام سناتے۔ جب اقبال کی عمر بائیس سال کی تھی، تو لاہور کے ایک مشاعرے میں انہوں نے ایک غزل پڑھی اس مشاعرے میں اپنے زمانے کے مایہ ناز شاعر مرزا ارشد گڑ گانی بھی موجود تھے۔ جو چوٹی کے شعراءمیں شمار ہوتے تھے، جب اقبال نے یہ شعر پڑھا ع


موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے


تو مرزاارشد تڑپ اٹھے اور کہنے لگے اس عمر میں یہ شعر !!
اقبال نے یوروپ کی دانشگاہوں میں تعلیم حاصل کی تھی وہ زمانہ یوروپ کے عروج کا تھا اور مسلمان اور ان کی تہذیب زوال پذیر ہورہی تھی، خود ہندوستان میں شاندار مغلیہ حکومت کا سورج غروب ہوچکا تھا، انگریز پورے طور پرحاوی ہوچکے تھے، اہل اسلام کی تہذیب ختم ہورہی تھی، اور یورپ کی تہذیب ترقی کے منازل طے کرتی جارہی تھی۔ اقبال نے اپنے اظہارِ درد وغم کےلئے فارسی زبان کا انتخاب کیا اور فارسی زبان میں ان کا اعلیٰ درجے کا کلام منظر عام پر آیا، ان کا خیال تھا کہ پوری دنیا تک اپنی بات پہچانے کےلئے فارسی زبان زیادہ مو¿ثر ہے۔ اور زبان کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ”اسرارِ خودی“، ”رموزِ بے خودی“ 1914, 1915 میں اور پیام مشرق 1923 میں منظر عام پر آئیں، یہ تینوں کتابیں فارسی زبان میں ہیں، اور مشکل ترین ہیں۔ اقبال نے ان تینوں کتابوں میں جو فلسفہ پیش کیا ہے۔ وہ بہت کار گر اور مو¿ثر ہونے کے ساتھ ساتھ وےدانت ، فلسفہ یونان، فلسفہ اسلام کے آئینہ میں انسانی زندگی اور اس کائنات کے رازہائے سربستہ اور قوموں کے عروج وزوال کی گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش ہے۔ اقبال جو تاریخ سے ناواقف تھے اس لئے وہ مسلمانوں کے زوال پر سدا کف دست ملتے تھے، جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس دنیا کا اقتدار اور ضمام حکومت کسی قوم کو مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ عمل اور یقین محکم کی بنیاد پر ملا کرتی ہے، جب مسلمان کردار کے غازی تھے تو اس دنیا کے اقتدار ان کے قدموں میں تھا، اور جب وہ عمل سے عاری ہوتے گئے تو ان کی کامیابی وکامرانی کی دیوی روٹھ گئی اور یورپ کےلئے اپنی بانہیں وا کردی۔

اقبال کی غزلیہ شاعری :
اقبال جب اپنی غزلیہ شاعری میں حقیقت کومجاز سے ملا دیتے ہیں، اور کبھی حقیقی بول کرمجاز مراد لیتے ہیں تو کبھی مجاز بول کر حقیقت مراد لیتے ہیں تو ایسی حسین غزل عالم وجود میںآتی کہ پھر اس کا جواب ممکن نہیں ہوتا۔

طور پر تو نے جو اے دیدہ¿ موسیٰ دیکھا
وہی کچھ قیس سے دیکھا پس محمل ہوکر
مری ہستی جو تھی میری نظر کا پردہ ہے
اٹھ گیا بزم سے میں پردہ محفل ہوکر
عین ہستی ہوا ہستی کا فنا ہوجانا
حق دکھایا مجھے اس نقطہ نے باطل ہوکر
خلق معقول ہے محسوس ہے خالق اے دل
دیکھ ناداں ذرا آپ سے غافل ہوکر

اقبال کی نظموں میں حب الوطنی کا جذبہ اپنے تمام احساسات وجذبات کے ساتھ موجزن ہے۔ ہمالہ، صدائے درد، تصویر درد، آفتاب ، ترانہ ہندی، نیا شوالہ، اقبال کی وطن پرستی کی بہترین نظمیں ہیں۔

کب زباں کھولیں ہماری لذت گفتار نے
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پیکار نے

لیکن اقبال کی شاعری کی بد قسمتی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب اقبال نے ہندی وطنیت کوخیر آباد کہہ کر اس کے بجائے اسلامی تعلیم کی تبلیغ شروع کردی، یعنی مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد وطن نہیں بلکہ مذہب ہے،

نرالہ سارے جہاں سے اس کو عرب کو معمار نے بنایا
بنا ہمارا ہی سارے ملت کی اتحاد وطن نہیں ہے

مایہ ناز اسلامی اسکالر حضرت مولانا حسین احمدمدنی سے اقبال کی اس سلسلے میں ایک لمبی بحث چلی چونکہ مولانا حسین احمد مدنی تقسیم ہند کے مخالف تھے اس لئے ہر اس چیز کی مخالفت کرتے تھے جو تقسیم ہند کی راہ ہموار کرے۔ چونکہ علامہ اقبال نے تقسیم کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا شروع کردیا تھا، اس لئے مولانا حسین احمد مدنی نے اقبال کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم وطن کے بھیانک نتائج برآمد ہوتے۔ آج دنیا نے دیکھ لیا کہ مولانا حسین احمد مدنی حق پر تھے ، اقبال باطل پر تھے، اس وقت مولانا حسین احمد مدنی نے اقبال کویہ بات سمجھائی تھی، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قومیت کی بنیاد مذہب پر نہیں ہے بلکہ وطنیت پر ہے۔ انہوں نے مثال پیش کی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ کے دوران طائف کے لوگوں نے لہو لہان کردیا تھا تو حضرت جبرئیل امین آئے تھے اور عرض کیا تھا کہ اگر حکم ہو تو دونوں پہاڑوں کو ملادوں اور یہ قوم سدا کےلئے ختم ہوجائے، آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ میری قوم لے لوگ ہیں مجھے پہنچانتے نہیں، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ وطن کی بنیاد پرکہا ہے، ورنہ اس وقت تک اہل طائف نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، (یاد رہے کہ تاریخ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ فاتح سندھ محمد بن قاسم ثقفی طائف کے ہی رہنے والے تھے) لیکن اقبال بضد رہے اور مسلم لیگ کے 1930 کے الہ آباد اجلاس میں جس کی اقبال نے صدارت کی تھی نظریہ پاکستان پیش کیا اور مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کی حمایت کردی۔ اگر چہ ان کی زندگی میںپاکستان نہیں بن سکا اور ان کا انتقال غیر منقسم ہندوستان میں ہوا تھا، بعد میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ قومیت مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی، اور پاکستان کا ایک حصہ بنگلہ دیش جو مشرقی پاکستان کہلاتا تھا مذہب کی بنیاد پر متحد نہیں رہ سکا۔
جب اقبال نے مذہب کی تبلیغ کو اپنا شعار بنا لیا تو ان کی شاعری فنی وجذباتی اعتبار سے کمزور پڑ گئی، یقینا اقبال بڑے نہیں بہت بڑے شاعر ہوتے اگر پیغمبر بننے کی کوشش نہ کرتے تھے، عالمی شاعری میں ان کا بہت بلند مقام ہوتا، پھر بھی اقبال انیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر قرار پاتے ہیں۔
اقبال نعت رسول کے بڑے عظیم اور مفکر شاعر ہیں، ان کی نعت گوئی میں حسان بن ثابت کی والہانہ اندازِ شاعری کی جھلک نظر آتی ہے ایک طویل نعت کے دو شعر پیش ہیں،اس نعت کا انداز غزلیہ ہے۔

سراپہ حسن بن جاتا ہے جس پر حسن کا عاشق
بھلا اے دل ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں
پھڑک اٹھا تھا کوئی تیری آدائے ما عرفناپر
ترا رتبہ رہابڑھ چڑھ سب ناز آفرینوں میں

اقبال کو آنحضرت ﷺ سے والہانہ وجذباتی لگاﺅ تھا، صحابہ کرام کی عظمت ورفعت سے بے حد متاثر تھے، بد حال مسلمانوں کی حالت زار سے پریشان ہوکر دربارِ خدا وندی میں شکایت کردی کہ ہم نے تیرے پیغام کو عام کرنے میں جو خدمت انجام دی ہے وہ بے لوث تھی، نہ حکومت نہ دولت نہ ثروت، یہ ہمارے چاہت کے مطمح نظر نہیں تھے۔

اقبال نے بچوں کےلئے بہت کچھ لکھا ہے انہوں نے بچوں کے لئے جو نظمیں رقم کی ہیں ان کا اندازِ بیان نہایت سادہ الفاظ آسان وعام فہم ہیں، اس کے باوجود لفظیات کے آسان ہونے کے باوجود کہیںبھی بات گرنے نہیں پاتی۔ اقبال اپنی صدی کے سب سے بڑی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم مفکر ہیں، انہوں نے مشرق ومغرب کے میخانوں سے جام نوش کیا تھا، تہذیب ومذاہب کا مطالعہ کیا تھا، اسلام کے عظیم اسکالر تھے، لیکن یہاں مورخ کا قلم تھرا جاتا ہے کہ ایسا دانش ور اور عظیم اسلام کی اسکالر نے ہندوستان کی دھرتی پردو قومی نظرےے کو کیسے پیش کردیا جس کی بنیاد پر آگے چل کر 1947 وہ المیہ پیش آیا جس کی وجہ سے ہندوستان کا جو نقصان ہوا وہ یقینا نا قابل تلافی ہے، لیکن مسلمانوں کا جو نقصان ہوا وہ تاریخ میں کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

تانیہ
12-14-2010, 11:58 AM
نائس شیئرنگ

این اے ناصر
04-02-2012, 12:44 PM
نائس شئیرنگ ۔ شکریہ۔

pervaz khan
06-23-2012, 04:12 PM
بہت عمدہ

قرطاس
09-28-2012, 02:11 AM
بہترین