PDA

View Full Version : اداس هو



نجم الحسن
07-25-2013, 05:13 PM
-ماں جی اس وقت رات کے ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔ میں آپ کی ہدایت کے مطابق کھانا کھا کر اور تھوڑی چہل قدمی کر کے واپس اپنے کمرے میں آ گیا ہوں اور اب حسب معمول آپ کو دن بھر کی کار گزاری لکھ رہا ہوں لیکن نہیں آج میںآپ کو اپنی کار گزاری نہیں لکھوں گاکیونکہ آج میں بہتاُداس ہوں۔میں اُداس اس لیے نہیں ہوں ماںجی کہ میں آپ سے بہت دور اپنےگائوں اور اپنے دوستوں سے بہت دور اس اجنبی شہر میں پڑاہوں اور اپنے آپ کو بے یارومددگار محسوس کرتا ہوں۔ میں اس لیے بھی اُداس نہیں ہوں ماں جی کہ میری کسی غلطی پر آج کالج میں مجھے ڈانٹ پڑی ہے یا کوئی جرمانہ ہواہے۔ نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔میں پوری تندہی سے تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ میرے روزمرہ کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اسی طرح صبح تڑکے اٹھتا ہوں، کالج جاتا اور کالج سے سیدھا گھر آتا ہوں۔تو پھر میں کیوں اداس ہوں؟ آپپریشان ہو رہی ہوں گی۔ کہیں مجھے روپے پیسے کی تو ضرورت نہیں، کسی سے میرا جھگڑا تو نہیں ہو گیا، میں جس مکان میں رہتا ہوں، وہاں توکوئی تکلیف نہیں۔ نہیں ماں جی! مجھے اس طرح کی کوئی تکلیف نہیں ہے۔ جب تک آپ کا سایہ میرے سر پر موجود ہے مجھے اس طرح کی کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر میں کیوں اداس ہوں؟میں خود نہیں جانتا ماں جی… کہ میں کیوں اداس ہوں۔ اس طرح معمولی معمولی باتوں پر میں اگر اداس اور غمگین رہنے لگا تو آپ کی وہ امیدیں کیسے پوریہوں گی، جنھیں آپ نے مجھ سے وابستہ کر رکھا ہے۔ میں دن بھر اپنے آپ کو سمجھاتا رہا ہوں، اس واقعہ کو بھولنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ جو میریاس لایعنی سی اداسی کا سبب بنا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں میںنے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ انسان کسی بات کو بھلانےکی جتنی کوشش کرتا ہے وہ اتنی ہی شدت سے نئے اور پریشان کُن پہلوئوں کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔شاید میری اداسی کچھ کم ہو سکے، اس لیے میں وہ واقعہ من و عن بیان کرتا ہوں جو آج صبح میرے ساتھ پیش آیا اور جس کے متعلق میں دن بھر سوچتا رہا ہوں۔ ہوا یہ کہ آج صبح جب میں کالج جانے کی تیاری کر رہا تھا تو بلا اجازت دروازے پر دستک دیے بغیر ایک عورت میرے کمرے میں چلی آئی اور اس طرح بلا اجازت بغیر کچھ کہے سنے میرے پلنگ پر بیٹھ گئی۔کسی عورت کے اس طرح میرے کمرے میں گھس آنے کا ذکر پڑھ کر آپ پریشان نہ ہوں کیونکہ اس عورت کی عمر آپ کی عمر سے بھی زیادہ تھی۔جب میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اسی طرح جیسے پیار سے آپ مجھے’’بیٹا‘‘ کہہ کر پکارتی ہیں۔ اس نےبھی مجھے ’’بیٹا‘‘ کہا۔اس نے کہا ’’بیٹا…! میں تمھیںایک تکلیف دینے آئی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک مُڑا تڑا لفافہمیری طرف بڑھا دیا اور بڑے اشتیاق سے بولی ’’میرے بیٹے کا خط ہے۔‘‘ میں نے کسی حیل و حُجت کے بغیر فوراً خط پڑھا۔ کوئی خاص بات نہیں لکھی تھی۔ بالکل عام سا خط تھاجیسے میں ہر روز آپ کو لکھتا ہوں۔یہی کہ میں بہت اچھی طرح سے ہوں، آپ بہت یاد آتی ہیں، آپ سے ملنے کو بہت دل چاہتا ہے لیکن میں نے دیکھا کہ جوں جوں میں خط پڑھ رہا تھا، مارے خوشی کے اس کی حالت عجیب ہو رہی تھی، جیسے وہ مجھ سے خط نہ سن رہی ہو، اپنے پیارے بیٹے کے میٹھے میٹھے بول خود اس کی زبان سے سن رہی ہو۔ جیسے وہ خط نہ آیا ہو، خود اس کا بیٹا آ گیا ہو۔اس کی حالت دیکھ کر مجھے آپکی بہت یاد آئی۔ اس ماں کے روپ میں میں نے اپنی ماں کو دیکھ لیا۔اپنی پیاری ماں کو جو اس طرح میرے خطوں پر پھولے نہیں سماتی ہو گی۔ میرا دل آپ سے ملنے کو بے قرار ہو اُٹھا۔ بیچ بیچ میں ٹوک ٹوک کر اس نے ایک ایک جملہ کئی کئی بار سنااور ہر جملے پر اپنے بیٹے کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں۔ ساتھ ساتھ مجھے بھی دعائیں دیں کہ میں اسے اس کے بیٹے کا خط پڑھ کر سنا رہا ہوں۔ ’’ورنہ‘‘ اس نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر کہا ’’یہاں کے لوگ تو ایسے طوطا چشم ہیں بیٹا کہ کسی کا خط پڑھ کر نہیں دیتے۔ الٹا دھتکار دیتے ہیں۔‘‘دوسری باتوں کے علاوہ خط سننے کے دوران میں ہی اس نے بتایا کہ وہ میرے قریب پڑوس میں رہتی ہے اور بلاناغہ مجھے کالج جاتے اور کالج سے لوٹتے ہوئے دیکھا کرتی ہے۔ اس کے بیٹے کی عمر اور میری عمر میں مشکل سے ایک دو سال کا فرق ہو گا۔ وہ بھی میر ی طرح بڑا ہنس مکھ اور دوسروں کے کام آنے والا ہے۔’’کتنی خوش نصیب ہیں وہ مائیں‘‘یکایک اُچک کر اس نے میرا ماتھا چوم لیا، ’’جن کے بیٹے ایسے خوبیوں بھرے ہوں‘‘ اور جبمیں نے خط کے وہ جملے دہرائے جن میں اس کے بیٹے نے لکھا تھا کہ اس نے چھٹی کی درخواست دے رکھی ہے اور چھٹی ملتے ہی وہ اپنی پیاری ماں سے ملنے آئے گا تو مارے خوشی کے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔پھر بڑے فخر سے بولی’’دیکھا! کتنا اچھا ہے میرا بیٹا۔‘‘ اور پھر کافی دیر تک وہ اپنے بیٹے کی تعریفیں کرتی رہی۔ اس نے بتایا کہ کس طرح شوہر کی وفات کے بعد انگلیوں کی پوریں توڑ توڑ کر اس نے اسے پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا تھا اور اب… اب اس کے سارے دکھ درد دُور ہو گئے تھے۔ ایسانیک اور ایسا سعادت مند بیٹا خدا ساری دنیا کی مائوں کو دے اور پھر بڑے رازدارانہ لہجے میں اس نے کہا ’’میں نے اس کے لیے چاند سی بہو دیکھ رکھیہے۔ آتے ہی بیاہ کردوں گی۔‘‘ اور بالکل بچوں کی سی خوشی کے ساتھ وہ تالیاں بجانے لگی۔ماں جی! آپ سوچ رہی ہوں گی کہ یہ تو کوئی خاص بات نہ ہوئی۔ ہر ماں اپنے بیٹے سے اتنا ہی پیار کرتی ہے اور آپ تو مجھے اس سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں۔ پھر اس واقعہ سے میں اداس کیوں ہوا؟یہاں مجھے اداس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسی معمولی معمولیباتوں پر میں اداس رہنے لگا توآپ کی وہ اُمیدیں پوری نہ ہو سکیں گی، جنھیں آپ نے مجھ سے وابستہ کر رکھا ہے اور جنھیں پورا کرنے کی میں نے آپ کے سامنے قسم کھائی تھی۔ لیکن بات یہ ہے ماں جی!وہ خط آج سے 25 برس پہلے کا لکھا ہوا تھا اور کسی محاذِ جنگ سے آیا تھا۔