PDA

View Full Version : اردو محض ایک زبان ہی نہیں بلکہ مکمل تہذیب کانام ہے



گلاب خان
12-14-2010, 01:52 AM
اردو محض ایک زبان ہی نہیں بلکہ مکمل تہذیب کانام ہے
یوپی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ایس ایم اے کاظمی کا اظہار خیال
آزادی کے بعد سے حکومتیں بدلتی رہی لیکن اردوزبان کی بقا او رفلا ح کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے یے زبان مسلسل تعصب کی شکارہوتی چلی گئی۔ ان خیالات کا اظہار صوبہ اترپردیش کے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین مسٹر ایس ایم اے کاظمی نے اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد سیمینار و عید ملن کی تقریب، آزاد ہندوستان میںاردو زبان کا مستقبل اور اساتذہ کی تقرری کا سرکاری مقصد، کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اردوزبان سے ہمارا تعلق اس لیے ہے کہ اس کے اندر ہماری تہذیب چھپی ہوئی ہے۔ اردو محض ایک زبان کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب کا نام ہے۔اردو نے ہماری تہذیب پر ، سماج اور سماجی قدروں کو وقار بخشا ہے۔ انہوں نے اردو زبان کی خستہ حالتی کے لیے تمام مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دی ہوتی تو آج اردو کی یہ حالت نہ ہوئی ہوتی۔ اس موقع پر مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کرنے والے بوائز پالی ٹینک کے پرنسپل پروفیسر سید اقبال علی نے کہا کہ آزادی کے بعد جو سب سے بڑا ظلم ہوا وہ اردو زبان پر ہوا ہے اور جس کے لیے غیر مسلموں سے زیادہ ہم خود ذمہ دار ہیں۔آزادی کے بعد1952میں اترپردیش میں اردو میڈیم اسکولوں پر پابندی عائد کردی گئی جو کہ اردو زبان کے ساتھ کھلے طورپر ظلم تھا۔انہوں نے حکومت ہند سے سینٹرل اردو بور؛ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اردو زبان ہندی کی بیٹی ہے۔ اردو زبان ہندی زبان سے پہلے ہی وجود میں آچکی تھی ۔پرگروام کے کنوینر ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ اردو کی فلاح و بہبود کے لیے این جی او تنظیمیں بنا کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو وقار بخشنے کے لیے ہر مسلمان اور اردو اساتذہ کو اپنے گھراردو کااخبار ایک منگواکر پڑھنا ہوگا۔ اس پروگرام میں اردو اساتذہ کے مسائل کے متعلق اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر نے ایک عرض داشت اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کودی۔ جس پر چیئرمین نے 24گھنٹے کے اندر کاروائی کرنے کی بات کہی۔ اس سے پہلے علی گڑھ کے ایم ایل سی جگو یرکشور جین نے کہا کہ علی گڑھ ضلع کا بی ایس اے ایک تاناشاہ افسر ہے جو کھلے عام اردو اساتذہ اور مسلمانوں پر ظلم برپا کررہا ہے۔ گلزار احمد نے کہا کہ علیگڑھ ضلع کے بی ایس اے نے اردو اساتذہ کی تقرری ان اسکولوں میں کردی جہاں ایک بھی اردو پڑھنے والا نہیںہے نیز جن علاقوں میںاردو پڑھنے والے ہیں وہا ںایک بھی اردو کا استاد مقرر نہیں کیا ہے۔مجبوراً اردو اساتذہ کو دیگر مضمون پڑھانے پڑرہے ہیں۔ اس پروگرام کی صدارت کررہے دینیات فیکلٹی کے ڈین پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہا کہ حالت کا سامنا کرنے کے لیے آپ لوگوں کو زندہ انسان کی طرح رہنا ہوگا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایس یو خان، نسیم شاہد، اے سمیع خان، سیدہ خاتون کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں اردو اساتذہ نے شرکت کی۔:heart:

تانیہ
12-15-2010, 09:58 PM
نائس شیئرنگ...تھینکس

این اے ناصر
05-05-2012, 12:58 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔