PDA

View Full Version : الطاف حسین نوازشریف کے بھائی



سید انور محمود
07-30-2013, 12:54 AM
تاریخ: 30 جولائی 2013
از طرف: سید انور محمود

الطاف حسین نوازشریف کے بھائی

امریکی صدر کلنٹن چین کے دورئے پر گے تو ایک عام اجلاس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ چین سے بہترین تعلقات چاہتا ہے۔ اب چینی صدر ہمیں بتایں کہ وہ ہمیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں یا دوست۔ چینی صدر نے اپنی جوابی تقریر میں کہا کہ چین بھی امریکہ سے بہترین تعلقات چاہتا ہے مگر ہم امریکہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں بھائی نہیں، کیونکہ دوست تو بدلا جاسکتا مگر بھائی نہیں۔ یہ بات یوں یاد آئی کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین مسلم لیگ ن کے وفد کے سربراہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سےایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرہ آنے پر فون پر بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ نواز شریف اور شہباز شریف میرئے بھائی ہیں۔ 1992 کے کراچی میں فوج کے آپریشن کے بعد ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے تعلقات خراب ہوئے اور الطاف حسین یہ کہتے رہے کہ نواز شریف نےانکی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف نے اپنی سربراہی میں لندن میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرس میں یہ بات ہر پارٹی سے منوالی تھی کہ ایم کیو ایم سے کوئی بھی پارٹی آیندہ اتحاد نہیں کریگی۔ گذشتہ چھ سال سے تو مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے تعلقات خراب ترین تھے۔27جولائی کی رات مسلم لیگ ن کے وفدمیں چوہدری نثارشامل نہیں تھے اور نہ ہی وسیم اختر استقبال کرنے والوں میں موجود تھے۔ یہ ہی دونوں تھے جو سیاست کو ذاتیات پر لے گے، بعد میں اس پر پیٹرول نواز شریف اور الطاف حسین نے ڈالا اور سیاست سے اخلاقیات کو نکال باہر کیا۔ وفدکے سربراہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ایم کیوایم کی قیادت سے درخواست کی وہ صدارتی انتخابات میں ن لیگ کے امیدوارممنون حسین کی حمایت کریں اور تھوڑی دیر بعد ہی متحدہ قومی موومنٹ نے 30جولائی کو ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار ممنون حسین کی غیر مشروط طور پرحمایت کا اعلان کردیا۔وفد کے سربراہ اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے ن لیگ کے صدارتی امیدوار ممنون حسین کی غیر مشروط حمایت کی جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جو سوچ اور پالیسیاں میاں نواز شریف کی ہیں وہ سوچ اور پالیسیاں ایم کیوایم کی بھی ہیں۔ کہتے سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن اگر آپ پاکستانی سیاست کو دیکھیں تو پاکستان کی سیاست میں شرم، حیا اور لحاظ بھی نہیں ہے۔ ہمارئے ملک کے سیاست دان صرف اپنے مفاد کے حصول کا سوچتے ہیں۔

گیارہ مئی کے الیکشن میں دونوں جماتوں کے موقف علیدہ علیدہ تھے، ایک دوسرئے کے خلاف بیان بازی بھی کی۔ ایم کیو ایم کو نشستیں تو اُتنی ہی ملیں جتنی اُسے ملتی رہی ہیں لیکن الیکشن کے بعد سے ایم کیو ایم سیاسی طور پر دباوُ میں آتی چلی گئی اور کراچی کے پس منظر میں اُس پر کافی دباوُ تھا، الیکشن کے بعد الطاف حسین کی دو تین تقریریں قابل اعتراض تھیں۔ لندن پولیس ان تقاریر کا جائزہ لے رہی تھی اورڈاکٹرعمران فاروق مرڈر کیس میں بھی الطاف حسین کے کردار کو دیکھا جارہا تھا، اس سلسے میں لندن میں الطاف حسین کےدو گھروں پرچھاپا بھی مارا یا اور وہاں سے ایک کثیر تعداد میں نقد رقم برآمد ہوئی جس کی وجہ سے اب الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی ہورہی ہے۔ الیکشن میں ایم کیو ایم کے اتحادی بھی شکست سے دوچار ہوئے ، اسلیے ایم کیو ایم اس وقت بےانتہا سیاسی تنہائی اوردباوُ کا شکار تھی، سندھ میں وہ پیپلز پارٹی سے اگر اتحاد بھی کرتی تب بھی سیاسی بحران سے وہ نہیں نکل سکتی تھی۔ دوسری طرف نواز شریف سندھ میں پیر پگارا، ممتاز بھٹو، سید جلال محمود شاہ اور دوسرئےبہت ساروُں سے اتحاد کرکےالیکشن کی مہم چلاتے رہے۔ الیکشن کے دوران وہ ایم کیو ایم پر کراچی کی صورتحال کی وجہ سے گرجتے بھی رہے۔ سندھ میں نہ مسلم لیگ ن اور نہ ہی انکے اتحادی الیکشن میں کوئی خاص کامیابی حاصل کرسکے۔ صدارتی الیکشن میں مسلم لیگ ن نے سابق صدر رفیق تارڑ سے ملتی جلتی ایک شخصیت ممنون حسین کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جن کا تعلق تو کراچی سے ہے لیکن وہ کبھی بھی کراچی کی سیاست میں فعال نظر نہیں آئے۔ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو آنے والے وفد میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کا کوئی اہم رہنما شامل نہیں تھا۔ اندرون خانہ دونوں جماعتوں کے درمیان کیا معاہدہ ہوا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائےگا مگر مسلم لیگ ن کا اپنے سندھ کے اتحادیوں سے کوئی مشورہ کیے بغیرایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو جانے کا پہلا ردعمل تو فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارا کی طرف سے آیا جنہوں نےاس وفد کے اعزاز میں دیا جانے والا ایک استقبالیہ منسوخ کردیا اوراس وفد سے ملنے سے انکار کردیا۔ فنکشنل لیگ کے ایک رہنما نے کہا کہ جس طرح ن لیگ کے وفد نے فنکشنل لیگ یا دوسرے سندھی قوم پرست اتحادیوں کو مکمل نظر انداز کرکے نائن زیرو پر حاضری دی۔ فنکشنل لیگ کو اس طرح نظر انداز کرنے پر وہ خود بہت شرمندہ ہیں۔ دریں اثناء اکثر قوم پرست سیاسی رہنماؤں نے قوم پرست رہنماؤں کو نظر انداز کرکے نائن زیرو کی حاضری کے بارے میں شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جن میں خاص طور پر کامریڈ جام ساقی‘ ایس ٹی پی کے ترجمان حیدر ملاح‘ عوامی جمہوری پارٹی کے سربراہ ابرار قاضی اور کمیونسٹ پارٹی کے امداد قاضی خاص طور پر شامل ہیں۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ن لیگ وفد کی طرف سے نائن زیرو کی حاضری کے نتیجے میں شاید مسلم لیگی قیادت لندن میں اے پی ڈی ایم بنتے وقت کئے گئے وعدوں سے پھرگئی ہے۔ آصف زرداری نے نواز شریف سےمشرف کے معزول کیے ہوے ججوں کے بارے میں بھوربن اور اسلام آباد معاہدے کیے، مگر تھوڑے عرصے بعد آصف زرداری ان معاہدوں سے پھر گے اور کہا کہ سیاسی معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے جن میں ردوبدل نہیں ہوسکتا اور اب شاید نواز شریف اپنے سندھ کے اتحادیوں کو یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔

ممنون حسین جو 30 جولائی کو اگلے پانچ سال کےلیے صدر منتخب ہوجایں گےاس کے لیے اگر ایم کیو ایم کی حمایت نہ بھی ملتی تب بھی وہ منتخب ہوجاتے۔ حزب اختلاف تو آدھی آدھی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں بٹی ہوئی ہےاور اب جبکہ پیپلزپارٹی کے صدارتی امیدوار رضا ربانی جو تین اداروں کے یکمشت ہونے کے وجہ سے دستبردار ہوچکے ہیں ممنون حسین کی کامیابی تو لازمی ہے۔یہاں یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے سندھ میں موجودسیاسی اتحادی جن میں خاصکر پیرپگارا، ممتاز بھٹو اور سید جلال محمود شاہ کےلیے ایک کھلا سبق موجود ہے کہ مسلم لیگ ن کے نزدیک بھی سیاسی معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ صدر تو ممنون حسین ہی ہونگے مگرالطاف حسین نے اپنے بھائی نواز شریف کی حمایت کرکے جو سیاسی فاہدہ اس وقت حاصل کیا ہے یہ ایم کی ایم کی سیاسی طور وقت کی اہم ضرورت تھی۔ اب الطاف حسین نواز شریف کے بھائی بن چکے ہیںاور بقول چینی صدر دوست بدلے جاسکتے ہیں بھائی نہیں۔ مگر کیا پتہ پاکستانی سیاست کا کہ اس میں بھائی بھی بدل جاتے ہیں۔