PDA

View Full Version : لیلۃ القدر خیر من الف شھر



تانیہ
08-05-2013, 10:54 PM
اللہ کریم نے اس امت کی فضیلت کیلئے امت کو اطاعت وبندگی اور اعمال ِصالحہ کے لیے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، تاکہ بندے اللہ کی رحمت ومغفرت اور جہنم سے خلاصی جیسے انعامات سے مستفید ہوں، ان بابرکت اوقات میں سے ایک رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔
ماہِ رمضان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں شبِ قدر ہے، جس میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائی اور اس رات کو دیگر تمام راتوں پر فضیلت وبرتری دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔ [سورة القدر]
’’ہم نے اس قرآن کو شبِ قدر میں نازل کرنا شروع کیا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔اس میں فرشتے اور روح القدس ہر کام کے انتظام کے لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں۔یہ رات طلوع فجر تک امن وسلامتی ہے۔‘‘

شیخ ابن عثیمین ؒ فرماتے ہیں:
اس سورت میں شب قدر کے متعدد فضائل مذکور ہیں۔
پہلی فضیلت:
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شب میں قرآن کریم نازل فرمایا، جو نوع انسانی کے لیے ہدایت ہے اور دنیاوی واخری سعادت ہے۔
دوسری فضیلت:
سورت میں اس رات کی تعظیم اور بندوں پر اللہ کے احسان کوبتانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار کیا گیا۔ارشاد ربانی ہے: وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ [سورة القدر2] ’’ اورتمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟‘‘
تیسری فضیلت:
یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
چوتھی فضیلت:
اس رات میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، فرشتے خیر وبرکت اور رحمت کے ساتھہ نزول کرتے ہیں۔
پانچویں فضیلت:
یہ رات سلامتی والی رات ہے، چونکہ اس رات میں بندوں کی عذاب وعقاب سے خلاصی ہوتی ہے۔
چھٹی فضیلت:
اللہ تعالیٰ نے اس شب سے متعلق پوری ایک سورت نازل فرمائی جو روز قیامت تک پڑھی جائے گی۔
احادیث نبویہ میں بھی شبِ قدر کے بے شمار فضائل وارد ہیں:
صحیحین کی روایت ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
من قام ليلة القدر إيماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه]متفق عليه]،
’’جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔‘‘ آپ ﷺ کے ارشاد’’ ایماناً‘‘ سے اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت اور اس رات میں عبادت پر اللہ نے جو جو اجر لکھا ہے اس پر ایمان لانا ہے، اور ’’احتسابا ً‘‘ کا مطلب ہے، اجر وثواب کی نیت رکھنا ۔
اور شب قدر رمضان کے اخیرعشرے میں ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
تحروا ليلة القدر في العشر الأواخر من رمضان۔[متفق عليه]
’’شب ِقدر کو عشرۂ اخیرہ میں تلاش کرو‘‘۔
اور ایک حدیث میں وارد ہے:
تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان۔[رواه البخاري]
’’شب قدر کو رمضان کے عشرۂ اخیرہ کی وتر راتوں میں تلاش کرو‘‘
شب قدر پورے سال میں کسی خاص رات کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ رات منتقل ہوتی ہے،کبھی یہ رات اللہ کی مشیت اور حکمت سے مثال کے طور پر 27 ویں شب میں آتی ہے اور کبھی 25 ویں شب میں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا قول دلیل ہے:
التمسوها في تاسعة تبقى، وفي سابعة تبقى، وفي خامسة تبقى۔ [رواه البخاري[۔
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا سات راتیں باقی رہ جائیں، یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے اس رات کا علم اپنے بندوں سے مخفی رکھا ہے، تاکہ ان راتوں میں بندے عبادت واذکار کے ذریعے خوب عمل کرے اور اجر وثواب کے ذریعے اللہ کی قربت حاصل کرے۔اسی طرح اس رات کو بندوں سے مخفی رکھنے میں بندوں کی آزمائش بھی مقصود ہے تاکہ اس رات کے طلبگار کو محنت ومشقت پر اس رات کے فضائل حاصل ہوں ۔



بشکریہ عالمی اخبار