PDA

View Full Version : وہ جو ہم میں نہ رہا



تانیہ
08-16-2013, 11:15 PM
http://www.samaa.tv/urdu/NewsPictures/201381691746.jpg


دنیائے موسیقی کے بے تاج بادشاہ لیجنڈری نصرت فتح علی خان کو ہم سے بچھڑے سولہ برس بیت گئے۔ مشرقی اور مغربی دھنوں کے دلکش امتزاج میں گائے گئے اُن کے گیتوں کا سحر آج بھی برقرار ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ موسیقی کے بادشاہ اُستاد نصرت کے بنا میوزک لورز کا جیا بڑا اُداس ہے۔ استاد نصرت نے غزل، پاپ، کافی، پھجن، گیت، کلاسیکل، نیم کلاسیکل جو بھی گایا بےمثال گایا۔ پنجابی زبان اور ثقافت کے رنگ بھی نمایاں رہے۔

تیرہ اکتوبر 1948 کو فیصل آباد شہر کے ایک گھرانے میں طلوع ہونیوالے اس درخشاں کو قوالی میراث میں ملی۔ رآگ لگاتے ہوئے ہمیشہ ایسی بے خودی میں گایا کہ سُننے والے بس سر دھنتے ہی رہ جاتے۔ جاپان میں انہیں موسیقی کا دیوتا مانا جاتا تو تیونس نے گائیکی کا جوہر قرار دیا۔ امریکا نے جنت تو فرانس نے مشرق کی آواز کہا۔ کسی نے وائس آف اسلام کہا تو کوئی امن کا سفیر پکارتا رہا۔ استاد نصرت نے اپنی گائیکی میں ظلم کی نفی کی تو سوز و گداں اُن کے گلے میں اتر آیا۔

نصرت فتح علی خان نے اپنی موسیقی میں پیار کے دیے بھی کچھ یوں جلائے کہ محبت کے شیدائی اُس کی شیرینی میں گم ہوکر رہ گئے۔ استاد نصرت سولہ اگست انیس سو ستانوے کو اپنے چاہنے والوں کو تو چھوڑ گئے مگر اُن کی موسیقی آج بھی راج کررہی ہے۔ سماء

سماء ٹی وی (http://www.samaa.tv/urdu/urdu-news-8-16-2013-22399-4.html)

تانیہ
08-16-2013, 11:18 PM
http://dawnurdu.files.wordpress.com/2013/08/670-2.jpg?w=670&h=350 (http://dawnurdu.files.wordpress.com/2013/08/670-2.jpg)



فن قوالی کو پوری دنیا میں متعارف کرانے والے عظیم قوال استاد نصرت فتح علی خان کی سولہویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
موسیقی کی دنیا کے عظیم نام استاد نصرت فتح علی خان کی آواز سرحدوں کی قید سے آزاد تھی۔
تیرہ اکتوبر انیس سو اڑتالیس کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے اس فنکار نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ٹائم میگزین نے دو ہزار چھ میں ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا بطور قوال اپنے کریئر کے آغاز میں اس فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
آپ کے والد کا نام فتح خان تھا وہ خود بھی نامور گلوکار، سازندے اور قوال تھے۔
نصرت فتح علی خان کی قوالیوں کے پچیس البم ریلیز ہوئے جن کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، ابتداء میں حق علی علی اور دم مست قلندر وہ کلام تھے جنہوں نے انہیں شناخت عطا کی۔
ان کے مقبول نغموں میں انکھیاں اڈیک دیاں، یار نا وچھڑے، میرا پیا گھر آیا اور میری زندگی سمیت متعدد نغمے ہیں۔
نصرت فتح علی خان کی ایک حمد وہ ہی خدا ہے کو بھی بہت پذیرائی ملی جبکہ ایک ملی نغمے میری پہچان پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گایا گیا گیت جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں۔
نصرت فتح علی خان کو ہندوستان میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی جہاں انہوں نے جاوید اختر، لتا مینگیشکر، آشا بھوسلے اور اے آر رحمان جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔
سولہ اگست انیس سو ستانوے میں ان کی وفات دنیائے موسیقی کے لئے کسی سانحہ سے کم نہ تھی وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔
ان کی عمر اڑتالیس سال تھی اور اپنی وفات کے وقت وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھے، کئی بین الاقوامی فنکار اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں کہ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا۔اردو ڈان (http://urdu.dawn.com/2013/08/16/pakistani-legend-nusrat-fateh-ali-khan-death-anniversary-sa/)

تانیہ
08-16-2013, 11:23 PM
http://userserve-ak.last.fm/serve/252/46964407.jpg



نصرت فتح علی خان کا اصل نام پرویز خان تھا اور وہ 13 اکتوبر 1948ءکو فیصل آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں ایک بزرگ کے کہنے پر ان نام بدل کر نصرت رکھ دیا گیا تھا۔ موسیقی سے شغف ان کو ورثے میں ملا تھا۔ ان کے آباﺅ اجداد نے کلاسیکی موسیقی اور بالخصوص قوالی کے حوالے سے بڑا نام کمایا تھا اور انہیں مقبول بنانے میں ان کے والد استاد فتح علی خان نے بے پناہ کام کیا تھا۔ نصرت فتح علی نے موسیقی کی ابتدائی تربیت اپنے والد اور اپنے تایا استاد مبارک علی خان سے حاصل کی اور اپنی پہلی باقاعدہ پرفارمنس اپنے والد کے انتقال کے بعد استاد مبارک علی خان کے ساتھ گاکر دی۔ وہ خاصے عرصے تک روایتی قوالوں کی طرح گاتے رہے مگر پھر انہوں نے اپنی موسیقی اور گائیکی کو نئی جہت سے آشنا کیا اورپاپ اور کلاسیکی موسیقی کو یکجان کردیا۔ نصرت فتح علی خان کی عالمی شہرت کا آغاز 1980ءکی دہائی کے آخری حصے سے ہوا جب پیٹر جبریل نے ان سے مارٹن اسکورسس کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ کا ساﺅنڈ ٹریک تیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، یہ ان کے فنی سفر کا نیا رخ تھا۔ 90 کی دہائی میں انہوں نے پاکستان اور ہندوستان میں اپنی موسیقی کی دھوم مچادی۔ انہیں کئی بھارتی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور ان میں گائیکی کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ وہ برصغیر سے باہر بھی بے حد مقبول تھے۔

نصرت فتح علی کے مقبول نغمات میں دم مست قلندر، آفریں آفریں، اکھیاں اڈیک دیاں، سانوں اک پل چین نہ آئے اورغم ہے یاخوشی ہے تو کے علاوہ مظفر وارثی کی لکھی ہوئی مشہور حمد کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے سرفہرست ہیں۔ نصرت فتح علی خان کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں دنیا بھر کے متعدد اعزازات بھی حاصل ہوئے تھے۔ 16 اگست 1997ءکو نصرت فتح علی خان لندن کے ایک اسپتال میں وفات پاگئے وہ فیصل آباد میں آسودہ خاک ہیں۔