PDA

View Full Version : مھجے جوڑیابازار، کھارادراورچاکیواڑہ لیجاکردکھائیں۔ چیف جسٹس



سید انور محمود
08-30-2013, 03:18 AM
تاریخ: 30 اگست 2013
از طرف: سید انور محمود


مھجے جوڑیابازار، کھارادراورچاکیواڑہ لیجاکردکھائیں۔ چیف جسٹس


کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور قبضہ گیری کے واقعات اگرچہ ایک طویل عرصے سے جاری ہیں تاہم کچھ عرصے سے اُن میں خاصی تیزی آئی ہے۔ روزانہ دس بارہ افراد ناگہانی موت کا شکار ہورہے ہیں۔ تاجر برادری بھتہ مافیا کے بڑھتے ہوئے مطالبات سے پہلے ہی تنگ تھی مگر تشدد ، قتل اور بم دھماکوں کے بعض واقعات نے کاروباری حلقوں کے خوف میں اضافہ کردیا ہے۔ لیاری کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کی گینگ وار کو وہاں پرامن طور پر رہنے والی دو برادریوں کی محاذ آرائی میں تبدیل کردیا گیا جس کے باعث کچھی برادری کے متعدد خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر صوبے کے اندرونی علاقوں کا رخ کرنا پڑا تھا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس سال جون 2013کے اختتام تک کراچی میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار سات سو چھبیس لوگ ہلاک ہوئے جبکہ اسی عرصے کے دوران پچھلے سال یعنی 2012 میں ایک ہزار دو سو پندرہ لوگ مارے گئے تھے۔ان اعداد و شمار کو اگر دیکھا جائے تو دونوں سالوں کے پہلے 6 ماہ کا فرق پانچ سو گیارہ افراد کا ہے۔ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ تو ایم کیو ایم نے اب کیا ہے، اس سے بہت پہلے کراچی کی تاجر برادری اور عام لوگ کافی مرتبہ یہ مطالبہ کرچکے ہیں۔ اٹھارہ اگست کی ایک خبر کے مطابق "کراچی میں قتل و غارت گری اور بھتہ خوری کے خلاف اولڈ سٹی ایریا کے تجارتی مراکز بند رہے، تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر میں جاری بدامنی پر قابو پانے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں اور شہر کو فوج کے حوالے کر دیا جائے"۔ ایم کیو ایم تو ایک عرصے تک کراچی کو فوج کے حوالے کرنے اور کراچی میں مجرموں کے خلاف آپریشن کرنے کے خلاف تھی۔ برحال اب یا تو ایم کیو ایم کی کوئی سیاسی ضرورت ہےیا پھر کراچی کے عوام کا موڈ دیکھ کر ایم کیو ایم نےکراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ نہ صرف سندھ حکومت بلکہ ایم کیو ایم کی بھی ناکامی ہے۔ ایم کیو ایم جو اس شہر کی نمائدہ سیاسی جماعت ہےاور پچھلے کئی سالوں سے شریک اقتداربھی رہی ہے اور آج بھی صوبہ سندھ کے گورنر کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے، کراچی کےبدترین حالات کی وہ بھی اتنی ہی ذمیدار ہے جتنی کل یا آج کی برسراقتدار پیپلز پارٹی۔

کیوں نہیں آسکتی فوج کراچی میں، کیا کراچی اور کراچی کےشہری لاوارث ہیں؟ سندھ کے حکمرانوں کچھ تو شرم کروُ، آج جب کراچی برباد ہوچکا ہے اور باقی بچاکچاتم برباد کررہے ہوتو تمارئے ہی ایک سابق اتحادی نے شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تم کویہ مطالبہ جمہوریت کے منہ پر طمانچہ لگ رہا ہے، اور چوبیس گھنٹے جو لاشیں گررہی ہیں وہ کس کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اِس سے بڑااور کیا تمارئے منہ پر طمانچہ لگے گا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ڈی جی رینجرز سے مکالمہ کرتے ہو ئے کہا ''میں تیار ہوں اگر صورتحال آپ کے قابو میں ہے تومجھے جوڑیابازار، کھارادر اور چاکیواڑہ لیجاکر دیکھائیں''۔ لیکن ڈی جی رینجرزمیں اتنی ہمت نہیں تھی کہ کہہ سکتے کہ چلیں میں آپکو لیکر چلتا ہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب تک ادارے غیر جانبدار نہیں ہوں گے امن قائم نہیں ہوسکتا۔ کراچی بے امنی عملدرآمد کیس میں آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری نے عدالت میں شہر کے حالات سے متعلق جو رپوٹ پیش کی، اُس پر عدالت نے عدم اطمینان ظاہر کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چیف سیکریٹری کی رپورٹ کو اگر تسلیم کرلیں تو اس کا مطلب ہے کہ آج سے ایک بھی قتل نہیں ہونا چاہئے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر رینجرز اور پولیس نو گوایریاز ماننے کو تیار نہیں تھی ،آج کی رپورٹ میں یہ خود مان رہے ہیں کہ نو گوایریاز موجود ہیں۔ بڑا ہی بدنصیب ہے صوبہ سندھ اور اسکے باسی کہ مسلسل دوسری بار نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کے شکنجے میں جکڑاہوا ہے۔جب روم جل رہا تھا تو نیرو چین کی بانسری بجا رہا تھا اور صوبہ سندھ کے وزیراعلی جب بھی میڈیا سے بات کرتے ہیں توکہتے ہیں کہ کراچی اتنا برباد نہیں ہورہا جتنا بتایا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کی اِس ناکارہ حکومت کے بارئے میں بس یہ کہا جاسکتا ہے۔

محل سرا میں رنگ جما ہے چور اُچکوں نیچوں کا
ہر منصب پر فائز ہیں بے قدرے گھسیارے لوگ


ایم کیو ایم جوقومی و صوبائی اسمبلی میں کراچی کی نشستوں کی تعداد کے اعتبار سے شہر کی بڑی نمائندگی کی حامل سمجھی جانے والی پارٹی ہے اُسکی طرف سے فوج کی تعیناتی کے مطالبے پر مختلف اور متضاد نوعیت کے ردعمل سامنے آئے ہیں، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے اس کی حمایت کی ہے، اسکے علاوہ کراچی کی تاجر برادری ، مقامی تنظیموں نے اسکی حمایت کی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ دونوں ہی کراچی میں کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کے ذمیدار ہونگے، لیکن تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخالفت شاید اس وجہ سے ہے کہ یہ دونوں جماتیں ایم کیو ایم کی بدترین مخالف ہیں۔ کراچی میں امن وامان کی جو کیفیت نظر آرہی ہے اُس پر سپریم کورٹ سمیت سب ہی تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس حقیقت کو بھی یکسر نظرانداز کرنا ممکن نہیں کہ کراچی کی حیثیت ملکی معیشت کی شہہ رگ ہے، جہاں بڑی ہول سیل مارکیٹوں کا کئی کئی روز مسلسل بند رہنا اور تاجروں کا خوف کی کیفیت سے دوچار رہنا معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کررہا ہے۔ ان حالات میں صوبائی حکومت سے کسی قسم کی امید رکھنا بیکار ہے، کیونکہ نہ ہی پیپلزپارٹی کی صوبہ میں یہ پہلی حکومت ہے اور نہ ہی وزیراعلی نئے ہیں۔ بدنصیبی سے نہ ہی وزیراعلی کو اور نہ ہی اُنکی کابینہ کے کسی ممبر کو اس شہر سے دلچسپی ہے۔ اب رہ گئی مرکزی حکومت تووہ صوبہ کے وزیراعلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی کوشش کررہی ہے جیسا کہ وزیر داخلہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اگر واقعی کراچی کے حالات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو اُن کو کچھ سخت فیصلے کرنے ہونگے جس میں کراچی کو فوج کے حوالے بھی کرنا ہوگا اور بغیر کسی امتیاز کے بڑی بے رحمی کے ساتھ مجرموں کے خلاف آپریشن کرنا ہوگا، اگر فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لانا پڑئے تو وہ بھی کریں، جب کسی کو تیز بخار ہوتا ہے تو اُس کو کڑوی گولی کھانی پڑتی ہے۔

کراچی کے عام لوگوں سے جس کی مرضی چاہے پوچھ لے ہر ایک ان حالات سے پریشان ہےاور چاہتا ہے کہ شہر میں امن قائم ہو، عام شہریوں سے جب پوچھا گیا تو سب نے ایک ہی بات کی کہ کراچی کے حالات اسقدر خراب ہیں کہ صرف فوج ہی اسکو کنٹرول کرسکتی ہے۔ کراچی سے باہر پورئے پاکستان میں رہنے والے پاکستانی بھی ایک بات سمجھ لیں کہ اگر کراچی کے حالات ٹھیک نہ ہوئے تو کم یا زیادہ وہ بھی لازمی متاثر ہونگے، اسلیے وہ بھی مرکزی حکومت سے کراچی کے حالات ٹھیک کرنے کا مطالبہ ضرور کریں۔ اگر ملک کے اس سب سے بڑئے شہر کے حالات نہیں ٹھیک ہوتے تو پھر اس ملک کے حالات کا اللہ ہی مالک ہے۔ کراچی کےحالات اب ایسے ہوگئے ہیں کہ اِن کو سدھارنا لازمی ہے، سول انتظامیہ، پولیس اور رینجرز سب ناکام ہوچکے ہیں۔ لہذا صرف اب ایک ہی حل ہےکہ اس شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے، اس کےلیے دستور کی کونسی شق استمال ہوگی یہ حکمراں جانیں ۔پاکستان کے دستور کے مطابق تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، ہر شہری کی جان ومال کی حفاظت مملکت کی ذمیداری ہے۔ ہر شہری کو انصاف مہیا کرنا اور قانون پر عمل کروانا بھی مملکت کی ہی ذمیداری ہے۔ اگر جرائم پیشہ عناصر اس طرح ہی من مانی کرتے رہے اور حکمران انکی سرپرستی کرتے رہے اور ہر روز تاجر اور عام لوگ لوٹتے رہے اور اپنی جان گنواتے رہے تو پھر حکمراں ایک کام ضرور کریں کہ پاکستان کے اس دستور کو پھاڑ کر پھینک دیں جو اپنے ملک کے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت نہیں کرسکتا۔