PDA

View Full Version : زرداری پرایمانداری کا کوئی الزام نہیں



سید انور محمود
09-10-2013, 11:42 AM
تاریخ: 10ستمبر2013
از طرف: سید انور محمود


زرداری پرایمانداری کا کوئی الزام نہیں



ضیا الحق نے جب یہ دیکھا کہ پیپلز پارٹی کے بانی اور چیرمین ذوالفقار علی بھٹو کی مقبولیت اقتدار سے علیدہ ہونے کے بعد بھی کم نہیں ہورہی تو اُس نے غیر سیاسی ھتکنڈئے استمال کیے۔ سب سے پہلے اُس نے بھٹو پر مالی بدعنوانی کا الزام لگایا کہ عرب امارات سے ملنے والے پچیس لاکھ ڈالر بھٹو نے خردبرد کرلیےمگر اس وقت کے عرب امارات کے حکمراں نے خود اس کی تردید کردی۔ ذوالفقار علی بھٹو پر اُن کے مخالفین بہت سےالزامات لگاتے ہیں مگرانکے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعتِ اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد مرحوم سے کئی برس پہلے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا بھٹو صاحب مالی خردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی خرد برد اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔

آصف زرداری جو اب سابق صدر ہوگے ہیں اپنی صدارت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد ایوان صدر سے رخصت ہوچکے ہیں کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جو اپنے عہدے کی میعاد پوری کر کے "باعزت" طور پر ایوان سے رخصت ہوئے ہیں۔اس سے پہلے کوئی صدرعزت سے ایوان صدرسے رخصت نہیں ہوا۔ انکی رخصتی سے پہلے کافی تقریبات کی گیں ان میں انکی اپنی جماعت نے انہیں عشائیہ اور وزیراعظم نواز شریف نے انہیں الوادعی ظہرانہ دیا۔ نواز شریف نے اپنی تقریر میں اُن کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "صدر زرداری 1973ء کے آئین کو اُسکی اصل شکل میں بحال کرنے پر تادیر یاد رکھے جائیں گے"، وزیر اعظم نواز شریف نےایک نئی بات یہ بھی بتائی کہ "میرا اور آصف علی زرداری کا ایک جیسا ایجنڈا ہے"۔ پیپلز پارٹی کےجیالوں نے انکی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے پر بھنگڑئے ڈالے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت میں قومی اسمبلی میں چند آئینی ترامیم کی گیں جن میں اٹھارویں ترمیم اور صدر مملکت کےکسی حکومت کو بر طرف کرنے کے اختیارات قومی اسمبلی کو واپس مل گئے، جس سے عام آدمی کاکوئی لینا دینا نہیں۔

آصف زرداری کی پاکستانی سیاست میں آمد صرف اس وجہ سے ہوئی کہ اُن کی شادی بینظیربھٹو سے ہوئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ایک گمنام انسان ہوتےاور شاید اپنے قریبی حلقے میں ہی پہچانے جاتے۔ بینظیر بھٹو 1988 میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بنی اور تھوڑئے عرصےبعد ہی آصف زرداری "مسٹر ٹین پرسینٹ" کے طور پر سامنے آئے۔ بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں کو کرپشن کی بنیاد پر ختم کیا گیا، اُنکی دوسری حکومت کو ختم اُس وقت کے صدر فاروق لغاری نے کیا جن کو خود بینظیر بھٹو ہی لیکر آیں تھیں۔ لیکن اُس وقت تک شاہی جوڑئے کی کرپشن اسقدر بڑھ چکی تھیں کہ فاروق لغاری کو بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنی پڑی۔ شاہی جوڑئے کی کرپشن کا یہ حال تھا کہ بینظیر بھٹو نے وزیراعظم ہوتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ کک بیک اور کمیشن کو قانونی حیثیت دئے دینی چاہیے۔ بینظیر بھٹو تو 27 دسمبر 2007 کو قتل کردی گیں جو اکتوبر میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئیں تھیں۔ اپنی جلاوطنی ختم کرنے سے پہلےبے نظیر بھٹو نےجنرل پرویز مشرف کیساتھ کے ساتھ ایک معاہدہ جسکو این آر او کہا گیا کیا تھا۔ این آر او کے تحت جو ثمرات بے نظیر بھٹو نے حاصل کرنے تھے، وہ آصف زرداری کے حصے میں آئے۔ پیپلز پارٹی نے فروری 2008ءکے عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور اس عوامی ہمدردی کا فائدہ اٹھایا جو دہشت گردی کی سفاکانہ واردات میں بے نظیر بھٹو کی موت سے پیدا ہوئی تھی، ستمبر 2008 میں آصف زرداری پاکستان کے صدر بن گے۔ آصف زرداری کی قیادت میں جو پیپلزپارٹی کی شکل بنی اُس میں اب ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا کردار صرف اُنکے نام کے نعرئے تک تھا، اب پیپلز پارٹی دراصل آصف زردارری کی ذاتی کمپنی بن گی ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر آصف زرداری، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، اُنکی کابینہ کے اراکین ، پیپلز پارٹی کے لیڈران اس بات پر خوشی سے پھولے ہوئے تھے کہ ان کی حکومت نے پانچ سال تک ایک جمہوری حکومت کو چلایا۔ پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور حکومت کا یہ ریکارڈ ہے کہ اس سے زیادہ بدعنوان حکومت پاکستان میں اس سے پہلے کوئی نہ تھی۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران زرداری حکومت کے دور میں دہشت گردی ، ٹارگیٹ کلنگ، بدترین کرپشن، بری گورننس، طویل لوڈشیڈنگ، غربت کیساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ، مشرف دور کے 34 بلین ڈالر کے قرضے پانچ سال میں ڈبل ہوگے، 62 روپے کا ڈالر 100 روپے کا ہوگیا ، ملک کے تمام ادارئے تباہ ہوگے۔ آصف زرداری، دو وزیراعظم، وفاقی اور صوبائی وزرا نے ملکر کرپشن اور بری گورننس کے حوالے سے ماضی کے کرپشن کےتمام ریکارڈ توڑڈالے ۔ اربوں روپے کی کرپشن کر کے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے، کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اسکا وہ برا حال ہے کہ یہ شہر جو کبھی امن کا گہواراہ تھا آج لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن چکا ہے، زرداری حکومت کے پانچ سالہ دور میں کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگیٹ کلنگ سے پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان اس شہر میں عام بات ہے۔ سرکاری اور فوجی املاک پر حملے، فرقہ وارانہ نفرت، بے روز گاری اور مہنگائی اس حکومت کے تحفےتھے۔

آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے دور میں کرپٹ ترین اقوام میں پاکستان کا درجہ اوپر کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔ جن اداروں کو روک ٹوک کرنا چاہیے تھی اُنکو ساتھ ملالیا لہذاکرپشن پر کوئی روک ٹوک نہ رہی اسلیے قومی احتساب بیورو اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی جیسے انسداد بدعنوانی کے ادارے کرپشن بڑھانے میں شانہ بشانہ رہے۔ یہ ادارے بااثر ملزموں کے ثبوت ختم کرنےاور انہیں بچانے میں پیش پیش رہے۔ یہ ہی وجہ ہے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2012 کیلئے 18 ویں سالانہ کرپشن درجہ بندی جاری کی جس میں 176 ممالک میں پاکستان 139 ویں نمبر پر تھا۔ پاکستان کو کرپشن، ٹیکس چوری اور بری گورننس کے باعث 8500 ارب سے زائد کی کثیر رقم کانقصان اٹھانا پڑا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق گیلانی حکومت کے دوران 2008 سے 2011 تک پتہ چلنے والے کرپشن کیسوں کا مجموعہ 2 ہزار 765 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی وزیر خزانہ نے خود ایف بی آر میں سالانہ 500 ارب سے زائد کی کرپشن کی تصدیق کی جوپانچ سال میں ڈھائی ہزار ارب روپے بنتی ہے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2010 میں 315 ارب کی کرپشن کی نشاندہی کی۔ گردشی قرضے 19 کروڑ سے زائد تھے۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، ریلوے، سوئی سدرن، سوئی ناردرن گیس اور پی ایس او جیسے قومی ادارے آج تباہی کے دھانے پر ہیں ۔ سابق چیئرمین نیب فصیح بخاری نے اعتراف کیا تھا کہ کرپشن سے ملک کو یومیہ 12 ارب کا نقصان ہو رہا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 70 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود 2011کے سروے کے مطابق کم آمدن، معاشی بدحالی اور مہنگائی کی وجہ سے 58 فیصد پاکستانی کو خوراک کے حوالے سے عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ 2011 میں اسلامی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا کہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 10 کروڑ پاکستانی غذائی بحران سے دوچار ہیں۔

گذشتہ پانچ سالوں میں غربت عام ہوگی ہے، آج عوام کے پاس کھانے کے لئے روٹی ہے نہ ہی پینے کا صاف پانی اورنہ ہی روزگار، بجلی کے بحران کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے باعث عوام پریشان اور ملکی معیشت تباہ ہوگی ہے، پیپلز پارٹی کےکرپشن نے ملک کو تباہ برباد کردیا ہے۔آصف زرداری نے پانچ سالہ دور حکمرانی میں جولوٹ مار کی ہے اسکے بعد صرف یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ایوان صدر سے "باعزت" رخصت کے دعوےدار آصف زرداری کوپاکستانی عوام نے گیارہ مئی کو اس کا بھرپور جواب دئے دیا تھا۔ آصف زرداری کے بارئے میں پاکستانی عوام کا کہنا ہے کہ " ذوالفقار علی بھٹو پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا اور آصف زرداری پر ایمانداری کا کوئی الزام نہیں ہے"۔

تانیہ
09-18-2013, 11:06 AM
تاریخ: 10ستمبر2013
از طرف: سید انور محمود


زرداری پرایمانداری کا کوئی الزام نہیں



ایوان صدر سے "باعزت" رخصت کے دعوےدار آصف زرداری کوپاکستانی عوام نے گیارہ مئی کو اس کا بھرپور جواب دئے دیا تھا۔ آصف زرداری کے بارئے میں پاکستانی عوام کا کہنا ہے کہ " ذوالفقار علی بھٹو پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تھا اور آصف زرداری پر ایمانداری کا کوئی الزام نہیں ہے"۔









بہت خوب اور بہت سچ لکھا

انجم رشید
09-20-2013, 10:14 AM
ھاھاھاھاھاھاھا بہت خوب جناب زرداری پر ایمانداری کا کوئی الزام نہیں

saba
07-16-2014, 10:30 PM
بہت کڑوا سچ لکھا ہے آپ نے۔واقعی اتنا برا دور پاکستان میں کوئی نہیں گزرا جتنا زرداری دور تھا،االلہ ھم سب کو ایسے حکمرانوں سے بچائے،ہمارے پیارے وطن پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین۔