PDA

View Full Version : سات قدیم و سات جدید عجائبات عالم



تانیہ
09-17-2013, 10:50 PM
سات جدید عجائبات عالم ایک سوئس تنظیم نے 2001ء میں جدید دنیا کے 7 عجائبات کے لیے دنیا بھر سے رائے مانگی۔ اس مقابلے میں ابتدائی طور پر 200 عجائبات شامل کیے گئے۔ یکم جنوری 2006ء کو ان عجائبات کی تعداد کم کرکے 21 کردی گئی۔ 7جولائی 2007ء کو درج ذیل عجائبات عالم کا اعلان کیا گیا:
1 دیوار چین (6400 کلومیٹردیوار، جو پانچویں صدی قبل مسیح سے سولہویں صدی عیسوی تک تعمیر ہوئی)۔
2 مسیح علیہ السلام کا مجسمہ (12ا کتوبر 1931ء کو برازیل میں واقع مجسمہ سیاحوں کے لیے کھولا گیا)۔
3 ماچو پیچو (پیرو میں واقع ایک قدیم پہاڑی)۔
4 روم کا کلوزیم (یہ اٹلی کا سب سے بڑا قدیم تفریحی مرکز ہے)
5 تاج محل آگرہ ( مغل بادشاہ شاہجہان نے 1648ء میں تعمیر کروایا)۔
6 چیچن اتزا (میکسیکو میں واقع "پری کولمبین" عہد کے آثار قدیمہ)۔
7 پیٹرا (اُردن کے جنوب مغرب میں واقع قدیم آثار)
8 اہرام مصر (ان کی تاریخ تکمیل اندازاً2٫680 قبل مسیح بیان کی جاتی ہے)۔


دنیا کے سات قدیم عجائبات مصر میں قاہرہ سے باہر جیزہ (GIZA) کے مقام پر 3 اہراموں کا گروپ خوفو، خافرہ اور مینکاؤرا دُنیا کے عجائبات میں پہلے نمبر پر ہے۔ جیزہ میں سب سے بڑا ہرم خوفو (Khufu) یا چیوپس (Cheops) ان میں سب سے بڑ ہے جو 13 ایکڑ پر بھیلا ہوا ہے۔ اس کی ابتداء میں بلندی 482 فٹ تھی جو ایک منزل گرنے سے اب اندازاً 450 فٹ رہ گئی ہے۔ اس کی چوڑائی 755 مربع فٹ ہے اور اس کی تعمیر میں 2٫300٫000 پتھر کے بلاک استعمال کیے گئے جن میں ہر پتھر کا وزن 2.5 ٹن ہے۔ جبکہ جسامت 40 مکعب فٹ ہے۔ ان کی تاریخ تکمیل اندازاً 2٫680 قبل مسیح کی بیان کی جاتی ہے۔
اہرام مصر کی بنیاد چوکور ہے مگر ان کے پہلو تکونے ہیں۔ یہ تکونیں اُوپر جاکر ایک نکتے پر مل جاتی ہیں۔ ہر فرعون مصر نے اپنی ممی کو محفوظ رکھنے کے علیٰحدہ ہرم تعمیر کروایا تھا۔ اصل مدفن ہرم سے بہت نیچے اس چٹان میں کھود کر بنایا جاتا تھا جس پر ہرم کی تعمیرکی جاتی تھی۔

انجم رشید
09-24-2013, 06:43 AM
باقی چھ کہاں گئے

انجم رشید
09-24-2013, 07:31 AM
دنیا کے سات قدیم عجائبات



مصر میں قاہرہ سے باہر جیزہ (GIZA) کے مقام پر 3 اہراموں کا گروپ خوفو، خافرہ اور مینکاؤرا دُنیا کے عجائبات میں پہلے نمبر پر ہے۔ جیزہ میں سب سے بڑا ہرم خوفو (Khufu) یا چیوپس (Cheops) ان میں سب سے بڑ ہے جو 13 ایکڑ پر بھیلا ہوا ہے۔ اس کی ابتداء میں بلندی 482 فٹ تھی جو ایک منزل گرنے سے اب اندازاً 450 فٹ رہ گئی ہے۔ اس کی چوڑائی 755 مربع فٹ ہے اور اس کی تعمیر میں 2٫300٫000 پتھر کے بلاک استعمال کیے گئے جن میں ہر پتھر کا وزن 2.5 ٹن ہے۔ جبکہ جسامت 40 مکعب فٹ ہے۔ ان کی تاریخ تکمیل اندازاً 2٫680 قبل مسیح کی بیان کی جاتی ہے۔
اہرام مصر کی بنیاد چوکور ہے مگر ان کے پہلو تکونے ہیں۔ یہ تکونیں اُوپر جاکر ایک نکتے پر مل جاتی ہیں۔ ہر فرعون مصر نے اپنی ممی کو محفوظ رکھنے کے علیٰحدہ ہرم تعمیر کروایا تھا۔ اصل مدفن ہرم سے بہت نیچے اس چٹان میں کھود کر بنایا جاتا تھا جس پر ہرم کی تعمیرکی جاتی تھی۔

بابل کے معلق باغات عجائباتِ عالم میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ چھٹی صدی قبل مسیح میں بنو کدنضر(بخت نصر)(Nebuch Adnezzar) کے عہد میں بابل(عراق) میں کلدانی سلطنت کا احیاء ہوا تو اس نے یہ عظیم الشان باغات تعمیر کرائے جس کے سبب بابل قدیم بابل اور نینواد دونوں پر بازی لے گیا۔

یہ باغات حقیقتاً معلق نہ تھے بلکہ ایسی جگہ لگائے گئے تھے جو درجہ بدرجہ بلند ہوتی ہوئی ساڑھے تین سو فٹ تک پہنچ گئی تھی۔ عین چوٹی پر ایک بڑا حوض تھا جو پانی سے بھرا رہتا تھا۔ اسی حوض سے مختلف درجوں کے باغات کو پانی مہیا کیا جاتا تھا۔ ان درجوں کی تعمیر میں اس امر کا خیال رکھا گیا تھا کہ زمین ایسی ہو کہ نہ تو درختوں کی نشوونما میں کمی آئے نہ ہی پانی کی زائد مقدار نچلے درجوں میں جاکر دیگر باغات کو خراب کرے۔ بابل کے صفحئہ ہستی سے مٹنے کے بعد یہ باغات بھی ختم ہوگئے جو دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتے تھے۔

ڈائنا کا مندر ایشیائے کوچک کی ایک قدیم سلطبت “لیڈیا” کے شہر افسEphesus(یا ایفی سس) میں واقع تھا۔ یہ علاقہ موجودہ “ترکی”(Turkey) میں شامل ہے۔ اس مندر کے اب صرف آثار کھنڈرات کی شکل میں موجود ہیں۔
ڈائنا کا یہ مندر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ تاریخ میں کئی مرتبہ تعمیرہوا، کئی مرتبہ تباہ کیا گیا۔ یونانی شہنشاہ سکندراعظم نے بھی اس کی ایک مرتبہ تعمیر کرائی تھی۔ اس کے طول کے ہر ضلع میں سنگ مرمر کے بنے 127 ستون نصب تھے۔ مندر کی عمارت 60 فٹ بلند تھی۔ 262ء میں گوتھ(Goths) نے ایک حملے میں یہ مندر تباہ و برباد کردیا۔
اس مندر میں ڈائنا دیوی(DAINA) کی مُورتی بھی تھی جو ممتا کے جذبات کے اظہار کا شاہکار تصور کی جاتی تھی۔ اس دیوی کا نام ARTEMIS تھا۔

لگ بھگ 500 سال قبل مسیح میں مشہور سنگ تراش فیڈیاس (Phidias) نے یونان کے ایک مقام اولمپیا (Olympia) میں یہ مجسمہ تعمیر کیا تھا۔ سنگِ مرمر کا بنا یہ مجسمہ 40 فٹ بلند تھا اور اس پر سونے اور ہاتھی دانت سے انتہائی خوبصورت نقش ونگار بنائے گئے تھے۔ حالات کی گردش نے یہ مجسمہ اب ختم کردیا ہے۔ ماسوائے سکوں(Coins) کے اور کسی قسم کے آثار باقی نہیں رہے۔

Zeus زیوس(یا زوس) یونانی دیو مالا میں سب سے بڑا دیوتا ہے۔ کرونس Cronus اور ریا(Rhea) کا بیٹا اور اپنی بہن Hera کا خاوند۔ Titanomacly کی عظیم جنگ میں زوس نے کرونس کے خلاف کامیاب بغاوت کی اور پھر بھائیوں میں کائنات تقسیم ہوئی۔ روس کو آسمان اور زمین ملی۔ پوسائیڈن(Posedion) کو سمندر ملا جبکہ ہیڈیزHedas کو عالم سفلی۔ زوس کا مطلب ہے آسمان۔ وہ دیوتاؤں کا باپ تھا اور طاقت اور قانون کی علامت۔ چنانچہ وہ اخلاقی قوانین کا نفاذ کرتا تھا۔

ملکہ Artemisia نے اپنے شوہر شاہ Mausolus کی یاد میں ایشیائے کوچک کے ایک شہر Halicamassus میں تعمیر کروایا جو 353 قبل مسیح میں فوت ہوگیا تھا۔ اس مقبرہ کے کچھ حصے “برٹش میوزیم” میں محفوظ ہیں۔

بندرگاہ روڈز میں سورج دیوتا Helios (اپالو) کا یہ مجسمہ 105 فٹ بلند تھا۔ یہ ایک خلیج پر نصب کیا گیا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ خلیج کے ایک طرف اور دوسری، دوسری طرف ہوتی تھی۔ اس کے نیچے سے بحری جہاز گزرتے تھے۔ قدیم دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ اس بت کو ایک یونانی سنگ تراش Chares نے 280 قبل مسیح میں 12 سال کی محنت کے بعد تعمیر کیا۔ 224 قبل مسیح میں ایک زلزلہ سے تباہ ہوگیا۔ آٹھویں صدی مسیح میں اس بت کے ٹکڑے مسلمان تاجروں کے ہاتھ فروخت کردئیے گئے تھے۔

4 سو فٹ اونچا یہ مینار تیسری صدی قبل مسیح میں Sostratus of Cnidus نے تعمیر کرایا تھا۔ 13 ویں صدی میں ایک زلزے سے تباہ ہوگیا۔

انجم رشید
09-24-2013, 07:36 AM
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سات میں سے پانچ یونانیوں کے تعمیر کردہ ہیں

تانیہ
09-25-2013, 05:32 PM
بہت شکریہ انجم بھائی