PDA

View Full Version : خیبر پختوخواہ وزیراعلی ہاوس یا طالبان ہاوس



سید انور محمود
09-30-2013, 09:14 AM
تاریخ: 30ستمبر2013
از طرف: سید انور محمود

خیبر پختوخواہ وزیراعلی ہاوس یا طالبان ہاوس

ہمارئے ملک میں سو سے زیادہ سیاسی پارٹیاں ہیں اور ہر سیاسی پارٹی کا ایک رہنما ہےجو دراصل اُس سیاسی پارٹی کا مالک بھی ہوتا ہے۔ الطاف حسین ایم کیو ایم کےرہنما ہیں جو دل میں آتا ہے کہہ جاتے ہیں اور پھر بیچارئے اُن کی پارٹی کے لوگ اُس کی وضاحت کرتے رہتے ہیں لیکن اپنے رہنما کے وفادار ہیں، مثال کے طور پر آپ الطاف حسین کی وہ تقریر اٹھاکر دیکھ لیں جس میں انہوں نے قائداعظم کو دوہری شہریت کا حامل قرار دیا تھا اور جس پر کافی لےدئے مچی تھی مگر مجال ہے ایم کیوایم کی پڑھی لکھی لیڈر شپ میں سے کسی نے قائداعظم کی دوہری شہریت کی تردید کی ہو۔ جاویدہاشمی جو نواز شریف کے چکر میں جیل گئے مگر جب تھوڑی سی نواز شریف کی مخالفت کی تو مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف نے اُنکو مسلم لیگ ن چھوڑنے پرمجبور کردیا اور وہ اُڑکر تحریک انصاف میں پہنچ گے یہاں انکو عہدہ بھی ملا اور الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں پہنچ گے مگر جب نواز شریف کو قومی اسمبلی نے وزیراعظم چن لیا تو جاوید ہاشمی شاید یہ بھول گے کہ اب ان کے رہنما عمران خان ہیں اور نہ صرف انہوں نے نواز شریف کو مبارکباد دی بلکہ کہہ دیا کہ وہ کل بھی میرئے لیڈر تھے اور آج بھی ہیں، بس پھر کیا تھا عمران خان کا غصہ تھا اور بیچارہ جاوید ہاشمی ، آخرکار جاوید ہاشمی نے میڈیا کے سامنے آکر نہ صرف اپنے الفاظ واپس لیے بلکہ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان سے معافی بھی مانگی، سزا کے طور پر جاوید ہاشمی کو پارلیمانی لیڈرشپ سے محروم ہونا پڑا۔ اب دیکھیں اسد عمر کا کیا ہوتا ہے کیونکہ اُنہوں نے اپنے رہنما کے اس فلسفے کو ماننے سے انکار کردیا کہ "دہشت گرد طالبان کا آفس قائم کیا جائے" اس بات کو انہوں نے عمران خان کا ذاتی خیال قرار دیا اور کہا کہ"عمران خان کا پاکستانی طالبان کے دفتر قائم کرنے کا بیان اُن کی ذاتی رائے ہے اور یہ پارٹی کا پالیسی بیان نہیں"۔ اب دیکھیں اسد عمر کب معافی مانگتے ہیں یا پھر تحریک انصاف سے باہرہوتے ہیں۔ اسد عمر کے اس بیان کے بعد تحریک انصاف نے پارٹی رہنماوں پر ٹی وی مباحثوں میں براہ راست شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ٹی وی کی انتظامیہ کو ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ حالات حاضرہ کے پروگراموں اور ٹی وی مباحثوں میں پارٹی کی نمائندگی کے لئے تحریک انصاف کے سینٹرل میڈیا سیل سے رابطہ کیا جائے جو کسی بھی پروگرام میں تحریک انصاف کی نمائندگی کے لئے پارٹی رہنما کا نام تجویز کرنے کا مجاز ہے۔

نو ستمبر کی ائے پی سی سے پہلے بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر ائے پی سی کے بعد جس میں طالبان کے ساتھ مذکرات کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا، دہشت گرد طالبان نے اپنی دہشت گردی بڑھا دی، اپر دیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے پاک فوج کے میجر جنرل لیفٹینینٹ کرنل اور لانس نائیک ہلاک کیے جاتے ہیں اور دہشتگرد طالبان اُسکی زمیداری بھی قبول کرتے ہیں۔ اُسی دن وزیرستان میں چار سیکورٹی اہلکار راکٹ حملے میں مارئے جاتے ہیں۔ پشاور میں 22 ستمبرکو اقلیتوں پر خود کش حملہ، 27 ستمبر کوسرکاری بس میں بم دھماکا اور 29 ستمبر کو قصہ خوانی بازار میں بم دھماکا، ان دھماکوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے گے جن میں تراسی عیسائی برادری کے لوگ شامل ہیں۔ بایئس ستمبرکو کوہاٹی چرچ دھماکوں کے کئی گھنٹے کے بعد وزیر اعلی پرویز خٹک عمران خان کے ساتھ پہنچے، جب میڈیا نے پرویز خٹک سے بات کی اور زخمیوں کی بات کی تو بہت ہی شان سے انہوں نے فرمایا کہ ہم زخمیوں کو وی آئی پی علاج کی سہولتیں دئے رہے ہیں، اگلے لمحے ہی عمران خان نے میڈیا کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ورنہ شاید پرویز خٹک میڈیا والوں کو بتارہے ہوتے کہ ہم مرنے والوں کو وی وی آئی پی قبریں دے رہے ہیں۔ عمران خان کا کہناتھاالمناک واقعے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، ملک کے حالات بگاڑے جا رہے ہیں،مسیحی برادری کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،واقع کوسیاسی رنگ دینے والوں کو شرم آنی چاہیے۔اُن کاکہناتھاکہ یہ انسانیت پر حملہ ہے۔ لیکن اسکے بعد ہی پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں کوہاٹی چرچ دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے بعد عمران خان خود سیاسی ہوگے اورمیڈیا سے بات چیت میں عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت جنگ بندی کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کے لئے دفتر کھولنے کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں مذاکرات کا فیصلہ ہوا تھا اس لئے جنگ کی بجائے مذاکرات کو موقع دیا جائے۔عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کو امن کے نعرے پر مینڈیٹ ملاہے۔ ہم عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔

عمران خان کے اس بیان کے بعد کہ "حکومت جنگ بندی کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کے لئے دفتر کھولنے کی اجازت دے" سیاست میں ایک بھونچال آگیا کیونکہ ابھی تک طالبان کی اتنی ہمدردی میں نہ جماعت اسلامی گی تھی اور نہ جمیت علمائے اسلام، اور نہ ہی عمران خان کو اس مطالبے کا عوام نے مینڈیٹ دیا تھا۔ عمران خان نے الیکشن میں نہ ہی دہشت گردی پر کوئی بات کی تھی۔ وہ تو ایک نئے پاکستان کی بات کررہے تھے، وہ سونامی کی بات کررہے تھے جس سے پاکستانی قوم کی تقدیر بدلنا چاہ رہے تھے، مگر شاید عمران خان کا مطلب نئے پاکستان سے مراد دہشتگرد طالبانی پاکستان اور سونامی سے مطلب موت کی سونامی تھا۔ پرانے زمانے کی کہاوت ہے کہ "تخم تاثیر صحبت کا اثر" اسکا مطلب یہ ہے کہ جس کے ساتھ رہوگے اسکا اثر آپ پر آئے گا، بدنصیبی سےاس وقت نواز شریف مولانہ فضل الرحمان کے اور عمران خان سید منور حسن کے ساتھی ہیں اور یہ دونوں پاکستان میں طالبان کے نہ صرف ہمدرد بلکہ ترجمان ہیں۔ جو کام مرحوم قاضی حسین احمد اپنی پوری زندگی میں نہ کرپائے وہ موجودہ جماعت اسلامی کے امیرسید منور حسن عمران خان کے زریعے کروارہے ہیں، آخرامریکہ ان کا پرانا آقا ہے جو ایک عرصے سے پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے، جماعت اسلامی اور جمیت علمائے پاکستان ضیاالحق کے دور سے امریکی ڈالروں کے عوض نام نہاد جہاد کے نام پر یہ کام کررہے ہیں۔ عمران خان اگر اپنی سیاسی بقا چاہتے ہیں تو طالبان کی ترجمان جماعت اسلامی سے اپنی جان چھٹرایں اور طالبان کا دفتر کھولنے کے بارے میں جو دلائل دئے رہے ہیں وہ پہلے آئرلینڈ میں آئرش ری پبلک آرمی کو مذاکرات سے پہلی دی جانے والی مراعات اور سری لنکا کے تامل ناڈو کے واقعات کا ضرور مطالعہ کریں۔ ا یک بات عمران خان اور یاد رکھیں کہ امریکا اپنی ذلت آمیزپسپائی کی وجہ سے افغان طالبان سے قطر میں مذاکرات کر رہا ہے مگر ہمارئے ساتھ ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے۔

اے پی سی کے بعد پورئے پاکستان سے مذکرات کےخلاف ایک بھی آواز نہیں اٹھی تھی بلکہ ہر پاکستانی جس کا سکون غارت ہوچکا ہے وہ مذاکرات کا حامی تھا، لیکن دہشتگرد طالبانوں کی مسلسل دہشتگردی کے بعد اب مذکرات کےخلاف آواز آنے لگیں ہیں۔ بقول عمران خان کے نو سال میں کچھ نہیں ہوا اور پچاس ہزار افراد مارئے گے تو عمران خان اگلے نو سال اُن سے مذکرات کرلیں مگر یہ درندئے نہیں ماینگے، ہاں شاید اگلے نو سال میں یہ پچاس ہزار افراد کی جگہ پانچ لاکھ کو مار دیں۔ اگر ان تمام باتوں کے باوجود عمران خان بضد ہیں کہ طالبان کا دفتر کھولا جائے تو پھر انکے لیے جگہ کا کوئی مسلہ نہیں ہے بس پرویز خٹک کو پشاورکےچیف منسٹر ہاوس سے کہیں اور جانا پڑئے گا، بقول طالبان کے زبردست حامی سابق جنرل حمید گل طالبان کے پچیس گروپ ہیں تو پچیس دفاتر کی تو لازمی ضرورت پڑئے گی، بس عمران خان کو ایک کام کرنا ہوگا کہ صوبہ خیبر پختوخواہ کے وزیراعلی ہاوس کا نیا نام طالبان ہاوس رکھنا ہوگا۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کے اتحادی ہونے کے ناطے وزیراعلی ہاوس یا طالبان ہاوس کہنا ایک ہی بات ہے۔آخر میں اسد عمر کےلیے نیک خواہشات کہ وہ سچ بولنے کی ہمت تو رکھتے ہیں اور وہ بھی اپنی سیاسی پارٹی کے رہنما کے خلاف۔