PDA

View Full Version : قرآن اور جن-سائنسی تجزیہ



گلاب خان
12-14-2010, 09:00 PM
پروفیسر ادویات برائے لوئس ویل یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن
جن کی حقیقت اور جدید سائنس ۔یہ عنوان فکر کی دعوت دیتاہے اور ہماری فکر کو مزید تحقیق کے لئے تحریک دیتاہے۔موجودہ دور میں مسلم دانشوروں ،سائندانوںاور طلباءکے لئے یہ ایک ایسا عنوان ہے جس پر غور کیا جانا چاہئے۔
قرآن شریف میں جن کے تعلق سے کئی مقامات پر تذکرہ آتاہے اور بعض مقامات پر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ جلّ شانہ نے انسان کو مٹی اور پانی سے تخلیق کیا ہے۔سائنسی تحقیق سے اس حکم ربانی کی تائید ہوجاتی ہے اور سچ ثابت ہوتاہے۔لیکن جہاں تک جن کے تخلیق اور جن کی ماہیئت و تخلیقی عناصر کی بات ہے تو قرآنشریف میں اس مخلوق کے تخلیقی عناصر کی بات آگ سے کہی گئی ہے۔یعنی انہیںآگ کے شعلہ سے تخلیق کیا گیاہے۔قرآن شریف کے معروف انگریزی ترجمہ نگار اے یوسف علی نے اپنے ترجمہ کے 929آیت میں لکھا کہ جن صرف ”ایک روح“ہے یا ایک نظر نہیں آنے والی خفیہ طاقت ۔اس بات کا تذکرہ انگریزی ترجمہ شدہ کتا ب ”عربین نائٹس“میں بھی ملتاہے۔جس میں یہ انسانی شکل میں وارد ہوتا ہے یا تصوراتی شکل میںوارد ہوتاہے ۔لیکن ان معاملات کو اب ہم سائنسی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں ۔قرآن میں احکام ربانی ہے:
”اے معاشرہ جن!ہم نے تخلیق کی ایک دہکتے ہوئے آگ کے شعلوں سے“اپنے 1967کے حاشیہ میں یوسف علی کہتے ہیںکہ ”خفیہ اور نظر نہیںآنے والی طاقتیں آگ سے اٹھنے والے شعلوں کے ساتھ وابستہ ہیں“(آیت 27)لیکن اس بات کی سائنسی توضیح قرآن شریف میں اس طرح کی گئی ہے:
”اور اس نے پید اکیا جن کو آگ سے،آگ جو شعلہ کی شکل میںتھا“۔(آیت 15)قرآن شریف میں ایک پوری سورۂ جن موجود ہے۔
انگلینڈ کے دوسرے مترجم جنہوںنے قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ کیا محمد مرماڈوک پکھتال انہوں نے لفظ جن کی وضاحت دوسرے طریقہ سے کی ہے ۔انہوں نے لکھاکہ اس لفظ ’جن ‘ کا مفہوم باہری سے یعنی خارجی سے ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ایسی مخلوق جس کی تخلیق زمین یا اس کی مٹی سے نہیں کی گئی۔
ان حوالوں کو ذہن میں رکھنا ہوگا اسلئے کہ آئندہ مضمون کی بنیاد انہیں حوالوں کے پس منظر میں رکھی جائے گی۔اس سائنسی نکتہ نظر سے اس مضمون میں بحث کی گئی ہے۔
موجودہ نظریہ یہ ہے کہ صرف اسی زمینی سیارہ پر انتہائی ذہین مخلوق انسان موجود ہے ۔ورنہ اس کائنات کے دیگر کروڑوں کروڑ سیاروں اور ستاروں میں انسانی آبادی کسی میں بھی نہیں۔
1927میں سرفرانس ینگ ہسبینڈ نے اپنی کتاب ”لائف ان دی اسٹارس“(شائع جان مورے ،لندن)میں کچھ ستاروںمیں آباد مخلوق کا تذکرہ کیا ۔انہوںنے لکھا کہ ان ستاروں میں آباد مخلوق فرشتوں کی قسم سے ہیں۔جغرافیائی اصول کے مطابق سورج بھی ایک ستارہ ہے۔
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میںجن کا تصور نہیں ہے اور نہ ان کا تذکرہ موجود ہے۔اس زمین پر زندگی کا انحصا ر کاربن اور پانی پر ہے۔زمین پر رہنے والی ہر ایک جاندار مخلوق کے لئے توانائی کی ضرورت ہے اور اس کی زندگی کی بقا کے لئے ضروری و لازمی ہے تاکہ وہ حرکتوں میںرہ سکے۔ان حرکتوں میں سے کچھ حرکات کو کیمیکل رد عمل بھی کہا جاسکتاہے اور اس رد عمل کے لئے توانائی کی ضرورت ہے۔اس توانائی کا حصول غذا سے ہوتا ہے اور اس غذا میں خصوصیت سے شکر کی اہمیت زیادہ ہے۔اسطرح روغنیات بھی توانائی کے حصول کا ایک اہم جز ہے۔اس شکر کو جسمانی نظام میں گلوکوز کہتے ہیں۔جب شکر کاربن اور آکسیجن کے ساتھ ہم آمیز ہوتاہے تو یہ پانی میں تبدیل ہوجاتاہے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی تکسیدتوانائی میں ہوجاتی ہے۔اسی عمل کو سانس لینے اور چھوڑنے کا عمل یعنی نظام تنفس بھی کہا جاتاہے۔اسی طرح کسی بھی سیارہ یا ستارہ میں موجود کسی مخلوق کے لئے توانائی کی ضرورت ہے خواہ وہ سورج ہو یا کوئی اور ستارہ ،وہاں کی جاندار مخلوق کو زندہ رہنے کے لئے توانائی چاہئے۔خصوصی طورپر وہ مخلوق جو سورج کے اندر ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ سورج خود انہیں یہ توانائی مہیا کرتاہے۔
سورج کے اندر زندگی: سورج کے اندر زندگی کا ہونا،جاندار یا کسی مخلوق کا ہونا ایک اندازہ پر منحصر کرتاہے اور اس کے لئے ایک اصول کو تسلیم کر لیا گیا ہے جس کا تعلق کیمسٹری اور فزکس یعنی علم طبعیات سے ہے۔اسی مفروضہ کو ذہن میں رکھ کر سائنسدانوں نے سورج پرکسی جاندار یا کسی زندگی کے ہونے کی باتوں پر مدلل بحث کی ہے ۔لیکن یہ بحث سائنسی نکتہ نظر سے اور کیمسٹری اور علم طبعیات کے نکتہ نظر سے ہے ۔یہ تسلیم کرلیا گیا کہ سورج میں مخلوق ہے اورجاندار ہے اور اس میں حیات ہے۔اب سورج کی اپنی شکل و صور ت کیا ہے ،اس کی وضاحت ضروری ہے۔
سورج کا سب سے بالائی حصہ کروموسفیر اور کورونا(Chromosphere and Corona)کہا جاتا ہے۔اس سطح پر 4ہزار ڈگری سنٹی گریڈ حرارت موجود ہے ۔اسی کورونا (Corona)کے نیچے فوٹوزفیئر (Photosphere)کی سطح ہے ۔جہاں کی حدت پانچ ہزار سات سو ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔یہ حدت سورج کے بالائی سطح پر ہے۔فوٹوز فیئر(Photosphere)کے اندرونی سطح کو پلازما اندرونی (Plasma Interior)کہا جاتاہے۔اس مقام پر حدت 30ہزار ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔اس حدت میں ایٹم اپنے الیکٹرونس کو خارج کردیتا ہے۔جو آزادانہ طورپر گردش کرتے ہیں اور متحرک ہوتے ہیں۔اس گرم گیس کی کثافت زمین پر موجود سطح پر ہوا کی کثافت کے برابر ہے۔سورج کو اگر مرکز تسلیم کرلیں تو اس کے نصف فاصلہ پر حدت کئی ملین ڈگری سنٹی گریڈ ہوجاتی ہے۔اس مقام پر الیکٹرون ایٹم سے مکمل طور پر جدا ہوجاتے ہیں اور آزادانہ طورپر متحرک ہوجاتے ہیں۔یہ ایٹمک نیوکلیئر کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور ا ن کی حیثیت مثبت طورپر توانائی حاصل کئے ہوئے آئی اونس کی ہوتی ہے۔یہ جدا ہوئے مثبت اور منفی آئی اونس ایک دوسرے سے جدا ہوکر آزادانہ متحرک ہوتے ہیں۔اسی کیفیت کو پلازما (Plasma)کہا جاتاہے۔اس پلازما(Plasma)کی وضاحت بغیر دھواں والی آگ یعنی دہکتے ہوئے شعلہ کے طور پر کی جاسکتی ہے۔غالبًا قرآن مجید میں اسی آگ کا تذکرہ کیا گیاہے۔
سورج کے درمیان کا حصہ کور (Core)کہا جاتا ہے ۔ اس مقام پر سورج کی حدت دس ملین ڈگری سینٹی گریڈ پہنچ جاتی ہے اور اس کا حجم سونا سے جو ٹھوس حالت میں ہواس سے پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔یہی حجم کور (Core)کا ہے۔جو زمین پر پائے جانے والے کسی بھی معدنیات یا مادہ سے بہت زیادہ ہے ۔اس کو ر (Core)میں نیوکلیئر فیوژن کا ردعمل ہوتاہے جس سے ہائڈروجن کی آمیزش یا پگھلاﺅ ہوتاہے اور یہ ہائڈروجن نیوکلی (Nuclie)ہیلٹم میں تبدیل ہوجاتاہے اور اس سے توانائی آزادانہ طورپر کنارہ کش ہوجاتی ہے (NFR+FH2+Helium=Libration of Energy)اور یہی وہ توانائی ہے جو سطح زمین پر دھوپ کی شکل میں وارد ہوتی ہے یعنی سورج کی روشنی ہی وہ آزادتوانائی ہے ۔ہائڈروجن بم نیوکلیئر ہم آمیزی کے اصول پر ہی کام کرتاہے۔جب کہ ایٹم بم کی کارکردگی ایٹمک نیوکلس کے پھیلاﺅ پر یعنی انتشار کی بنیا د پر ہوتی ہے۔
جی فین برگ اور آر ۔شیپیرو(G.Feinberg and R.Shapiro)جیسے سائنسدانوں نے اپنی کتاب ”لائف بی یانڈ ارتھ“(Life Beyond Earth)(شائع :نیویارک 1980)میں اس خیال کا اظہار کیا کہ اس بات کاقوی امکان ہے کہ پلازما (Plasma)میں زندگی کے آثار موجو د ہوں۔سورج میں یا دیگر ستاروں میں زندگی کے قوی امکانات ہیں۔ان جاندارمخلوق کو سائندانوں نے پلازما بیسٹ (Plasma Beast)کا نام دیاہے۔اسی پلازما بیسٹ (Plasma Beast)کو اس مخلوق سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جسے جن کہتے ہیں۔اس زمینی زندگی کو کیمیکل لائف کہا جاتاہے۔جب کہ سورج کے پلازما میں امکانی زندگی کا دارو مدار فزیکل لائف (Physical Life)پر ہے۔پلازما کے اندر مثبت طورپر توانائی کی تحصیل کئے ہوئے آئی اونس اور آزادانہ حرکت کرتے ہوئے الیکٹرونس (منفی آئی اونس)دونوں ہی سورج میں موجود زبردست مقناطیسی طاقت کے تحت متحرک ہوتے ہیں ۔جن کی تخلیق کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ یہ مقناطیسی طاقت کے اصولوں پر تخلیق کئے گئے ہیں۔جو یکجا ہیں ۔متحرک توانائی کے تحصیل کردہ کے طورپر اور ان کی شکل یا ہیئت ایک سمبوسس (Symbiosis)کی ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ پلازما لینڈ کے باشندے یہی ہیں۔(جو قابل رہائش ایک مقام ہے)جب کہ جن کے متعلق ایک الجھن اور ہے کہ ان کی زندگی مقناطیسی توانائی سے وابستہ ہے یا نہیں۔اس لئے کہ منفی اور مثبت آئی اونس ایک دوسرے کے ساتھ ہم آمیز ہوتے ہیں۔اور مقناطیسی کشش کی موجودگی پر عمل پیش کرتے ہیں۔جن کی ٹھہر ی ہوئی حالت اور اس کی حرکت اسی مقناطیسی طاقت سے متاثر ہوتی ہے۔علم طبعیات میں ہم جانتے ہیں کہ حرکت کرتے ہوئے رفتار کو جو برقی چارجیز سے پیدا ہوتی ہے اسے متاثر کرتے ہیں یا آئی اونس سے ،یہ کیفیت پروٹین اور نیوکلی ایسڈ کے اثر جیسی ہے جو زمین پر زندگی یا حیات کے لئے موجود ہے۔کلی طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آزاد توانائی کی سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے جسے سورج کے برقی لہروں کے پھیلاﺅ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس لئے اس بات کا امکان ہے کہ جن اسی برقی توانائی کانام ہو جو اپنی طاقت کے اعتبار سے کافی قوی ہے۔ (یو این این)

تانیہ
12-21-2010, 10:06 PM
نائس شیئرنگ،،،،تھینکس

شاہ زاد
01-03-2011, 12:59 PM
اچھا مضمون ہے ... لیکن گلاب بھائی کسی جن نے پڑھ لیا تو ؟؟؟؟؟؟؟ )مذاق(

سقراط
01-03-2011, 07:51 PM
http://www.meraforum.com/images/smilies/star.gifhttp://www.meraforum.com/images/smilies/star.gifhttp://www.meraforum.com/images/smilies/star.gifhttp://www.meraforum.com/images/smilies/star.gifhttp://www.meraforum.com/images/smilies/star.gif
http://www.kathleensgraphics.com/Animated%20Gifs/fire/flaming_wow.gif

بےباک
01-06-2011, 06:38 PM
http://www.arabsking.org/gif/uploads/abeebaf89c.gif

ھارون رشید
01-07-2011, 08:38 AM
مزید معلومات کیلئے اس لنک کو بھی دیکھیں

http://www.youtube.com/user/apnatk?feature=mhum

بےباک
01-07-2011, 09:39 AM
شکریہ ہارون رشید صاحب ، بہت ہی اچھا لنک دیا ،

وی جے
03-09-2011, 01:19 PM
نائسسسسسسسسسس ون

این اے ناصر
03-13-2011, 02:54 PM
تعریف کے لیے الفاظ نہیں.بہت نائس.