PDA

View Full Version : ایک اور بارہ اکتوبر



سید انور محمود
10-14-2013, 12:05 AM
تاریخ: 13 اکتوبر2013
از طرف: سید انور محمود

ایک اور بارہ اکتوبر


ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ ن کےسیکرٹریٹ کے ملازمین دو ماہ سے تنخواہ سے محروم ہیں،جس پارٹی کا صدر ملک کا وزیر اعظم ہو ، اس کے مرکزی سیکریٹریٹ کے ملازمین کو دو ماہ سے تنخواہ نہ ملے اور وہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں تو عوام کو کڑوی گولیاں نگلنے کے لیے تیار ہی رہنا ہی چاہیے۔ ن لیگ کے مرکزی سیکریٹریٹ کے ملازمین کا کیا دکھ ہے ،70 سالہ چاچا مجید جو نواز شریف کی محبت میں مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ایسی مزدوری کر رہا ہے جس کا معاوضہ اسے پسینہ تو کجا خون خشک ہونے پر بھی نہیں مل پا رہا۔چاچا مجید اور اس کے باقی ساتھی سوچ رہے ہیں کہ وہ عید الاضحی پر کوئی جانور قربان کریں گے یا انہیں نواز شریف کی محبت میں اپنی خواہشات کی قربانی دینا پڑے گی۔مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں مجموعی طور پر 13 ملازمین ہیں جن کی ماہانہ تنخواہ 8 ہزار سے 28 ہزار روپے تک ہے۔انہیں عید الفطر پر بھی آخری تنخواہ صرف 10 گھنٹے پہلے ملی تھی ، اب تو گھر جانے کا کرایہ بھی نہیں۔ اٹھارہ کروڑ عوام کوخوشحالی دینے کے دعوے دار حکمرانوں سے پارٹی سیکریٹریٹ کے 13ملازمین سراپا سوال ہیں کہ وہ انہیں عیدی نہیں دے سکتے تو کم از کم تنخواہ ہی دے دیں۔

نیپرا نے اعدادوشمار کے ہیرپھیر کے بعد بجلی کی وہی قیمتیں مقرر کی ہیں جس کا اطلاق حکومت نے یکم اکتوبرسے کیا تھا۔غربت، مہنگائی اور بیروزگاری سے پریشان عوام کی کھال نیپرا والوں نے اتار کر حکومت کو پیش کردی۔ سپریم کورٹ کو جو کرنا ہے کرلے، بھوکا شیر آدم خور بنکر عوام پر قہر ڈھارہا ہے۔ چار ماہ کےقلیل عرصہ میں غربت، دہشتگردی اور مہنگائی کی ستائی عوام پر جو بوجھ اس حکومت نےلادا ہے اُس نے عوام کے چودہ طبق روشن کردئیے ہیں اور وہ یہ سوچ کرخوف زدہ ہیں کہ اگر صرف چار ماہ میں اس حکومت نے عوام کو اس حال پر پہنچا دیا ہے تو پانچ سال کے بعد وہ کس مقام پر پہنچ جاینگے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار فرماتے ہیں "گزشتہ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرکے آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی کی، اسی وجہ سے موجودہ حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں ایک دم اضافہ کرنا پڑاجوناگزیرتھا، نہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ وعدہ خلافی کرسکتے ہیں اور نہ ہی نادہندگی کے متحمل ہوسکتے ہیں"۔ یہ بیان دیتے وقت انکو اس بات کا کوئی خیال نہیں تھا کہ اُنکے وزیراعظم نے عوام سے کیا وعدئے کیے تھے۔ چار ماہ میں یہ پہلا موقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے نواز شریف حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی جو بجٹ پیش کیا تھا اُس میں تیل، گیس، بجلی اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور جی ایس ٹی کے نفاذ کا اعلان کرکے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس ڈالا تھا۔

وفاقی بجٹ میں آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کے مزید پہاڑ توڑے گئے اور کشکول توڑنے کا جھوٹا نعرہ لگانے والےپہلے سے بڑا کشکول لیکر آئی ایم ایف کے پاس جاپہنچے۔ زرداری ہوں یا نواز شریف ہر حکمران ٹولا عوام سے بڑی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتا ہے اور اس جھوٹ کو سچ دکھانے کے لیے مزید کتنے جھوٹے اعداد و شمار اور دلائل دیے جاتے ہیں۔ اس ملک میں لوٹ مار کی انتہا کرنے کے باوجود سرمایہ دار اور جاگیر دار آج بھی کوئی ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں اور اسکی بدترین مثال خود نواز شریف، زرداری اور اُنکے ساتھی ہیں۔ ظلم یہ ہےکہ معیشت کی ناکامی کا تمام بوجھ پہلے سے تباہ حال عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ جمہوریت کے نام پر پانچ سال پیپلز پارٹی زرداری کی سربراہی میں عوام کا خون چوستی رہی اوراب مسلم لیگ ن نواز شریف کی سربراہی میں اقتدار پر قابض ہے اور پہلے سے جاری عوام دشمن معاشی پالیسیاں مزید شدت سے نافذ کرکے عوام کا باقی خون نچوڑ رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کی غلامی کی وجہ سےنواز حکومت کو اپنے عوام سے زیادہ اپنا اقتدار عزیز ہے، جس کو بچانے کے خاطر یہ مسلسل عوام دشمن اقتدامات کررہی ہے ، جس کی وجہ سےعوام کی پریشانیوں اور مشکلات میں اضافہ ہوگیاہے۔ ان حکمرانوں کو معلوم ہے کہ جو معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اشاروں پر وہ اس ملک کے عوام پر مسلط کر رہے ہیں اس سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آیگی اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ اپنا ذاتی سرمایہ اس ملک میں نہیں لاتے۔ پاکستان کےاربوں ڈالر بیرونی ممالک میں لٹیروں کے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع ہیں یا پھر وہاں مختلف کاروباروں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، ان ذاتی اکاؤنٹس اورسرمایہ کاری کرنے والوں میں نواز شریف اور آصف زرداری دونوں شامل ہیں۔

ظلم کی انتہا یہ ہے بجلی اور پیٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ ، جی ایس ٹی کا نفاذ کرکے جہاں عوام پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے وہیں امیر افراد، اپنے عزیز و اقارب اور ان کی صنعتوں پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے اورکہا جا رہا ہے کہ یہ سب ’’عوام کے وسیع تر مفاد‘‘ میں کیا گیا۔ اس جھوٹ کی حمایت میں دلائل گھڑنے کے لیے بہت سے موقع پرست اور لالچی، دانشور اور معاشی تجزیہ نگار کا بھیس بدل کر حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ بجٹ کے مطابق کارپوریٹ ٹیکس میں ایک فیصد کمی فوری طور پرلاگوکی گی جبکہ اس کمی کو بتدریج پانچ فیصد تک لایا جائے گا تا کہ منافع نچوڑنے والوں کی دولت میں مزید اضافہ ہو سکے۔ سپیشل اکنامک زون میں ٹیکس چھوٹ کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال تک کر دی گئی ہے مگر وہاں کام کرنے والے محنت کشوں کے حقوق کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ سرمایہ داروں کے لیے ٹیکسوں میں 3 ارب روپے کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی 11 مئی کے الیکشن میں سرمایہ کاری کرنے والے صنعتکاروں کو قطعا فراموش نہیں کیا گیااور مخصوص شعبوں کے لیے کسٹم ڈیوٹی میں 150 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی ہے، گزشتہ بجٹ میں یہ چھوٹ 119.71 ارب روپے تھی لہذا سرمایہ داروں نے اس غریب دشمن بجٹ کو خوش آمدید کہا تھا۔ نواز لیگ حکومت آنے کے بعد سے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں 800 ارب روپے یا 8 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اگر یہ آٹھ ارب ڈالر کے مساوی اضافہ حقیقی ہوتا تو ہمیں آئی ایم ایف سے 5 ارب ڈالر قرض لینے کے لئے ہاتھ نہ پھیلانا پڑتا مگر چونکہ یہ اضافہ حقیقی نہیں تھا لہذا کراچی اسٹاک ایکسچینج پہلے سے بھی نیچے چلاگیا۔ جبکہ الیکشن مہم کے دوران ’’جوش خطابت‘‘ میں کئے گئے دوسرے وعدوں کی طرح کم ازکم تنخواہ پندرہ ہزار روپے کرنے کا وعدہ بھی ہوا ہو گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کےسیکرٹریٹ کے ملازمین چاچا مجید اور اس کے باقی ساتھی اکیلے پریشان نہیں بلکہ ہر پاکستانی شیر کی آدم خوری پر پریشان ہے ۔ملک میں ایسے بہت سے سرکاری ادارئے ہیں جہاں ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں ملتیں اور اس عید پر بھی ایسا ہی ہوا ہوگا۔ نوازشریف نے اپنی سابقہ روش کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کی بجائے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی خاطر ٹیکسزمیں اضافے اوربجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکےمہنگائی کاتحفہ دیاہے۔انہوں نے حکومتی ایوانوں کوروشن رکھنے اورحکومتی عیاشیوں کابوجھ اٹھانے کیلئے مہنگائی اورٹیکسز نافذ کردئیے ہیں جو غربت میں پسی ہوئی عوام پرسراسرظلم ہے اورصرف چار ماہ کے عرصے میں عوام سے کیے ہوئے وعدوں کی اجتماعی قربانی دے دی ہے۔چارماہ میں قوم کو مہنگائی اورٹیکسز کے علاوہ کچھ نہیں ملا لہذا اگر نوازشریف نے اپنی موجودہ روش نہ بدلی تو جلد ہی ایک اور بارہ اکتوبر دیکھنے کےلیے تیار رہیں مگراس مرتبہ کا بارہ اکتوبرکسی فوجی جنرل کے زریعے نہیں بلکہ غربت کی ماری عوام اور چاچا مجید جیسے کسی عوامی جنرل کے ہاتھوں سڑکوں پرعوامی انقلاب سے آئے گا۔