PDA

View Full Version : عمران خان طالبان کے ترجمان



سید انور محمود
10-21-2013, 11:37 AM
تاریخ: 21 اکتوبر2013
از طرف: سید انور محمود

عمران خان طالبان کے ترجمان


پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں کوہاٹی چرچ دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے بعد عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت جنگ بندی کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کے لئے دفتر کھولنے کی اجازت دے۔ لگتا ہے عمران خان اخبارات سے بہت دور رہتے ہیں ورنہ یہ جو تسلسل کے ساتھ وہ طالبان کے لیے دفتر کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور خاصکر ہر دہشت گردی کے بعد تو وہ اپنی جماعت کے کم طالبان کے ترجمان زیادہ نظر آتے ہیں، اگر وہ اخبارات پڑھ رہے ہوتے تو لازمی اُن کی نظر میں طالبان کے ترجمان کا بیان ضرور آتا جس نے اُن کے طالبان کا دفتر کھولنے کے مطالبے کے سوال پر کہا کہ "عمران خان تو خود سیکولر نظام کا حصہ ہیں اور ہم سیکولر نظام کے باغی ہیں اگر وہ مذاکرات کے شوقین ہیں تو وہ اس کفریہ نظام سے باہرآکر مذاکرات کی بات کریں"۔ خیبر پختونخوا میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کی حکومت کوابھی صرف چار ماہ ہوئے ہیں دوسرئے بڑئے دہشتگردی کے واقعات کے علاوہ اس عرصے میں اُن کے تین منتخب نمائندے بھی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں ۔ مگر افسوس وہ اب بھی طالبان کےدفتر کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ عمران خان تسلسل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں نو سال میں کچھ نہیں ہوا اور پچاس ہزار افراد مارئے گے اسلیے مذاکرات ہی وہ راستہ ہے جس سے امن آسکتا ہے۔ اے پی سی کے بعد پورئے پاکستان سے مذکرات کےخلاف ایک بھی آواز نہیں اٹھی تھی لیکن طالبان کی مسلسل دہشتگردی کے بعد اب مذکرات کےخلاف آواز آنے لگیں ہیں۔ جس دہشتگردی میں پچاس ہزار افراد مارئے گے ہیں عمران خان نےکبھی بھی اُسے اپنی جنگ نہیں کہا اور یہی آج اُن کی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے، اگر وہ اس خیال و خواب میں ہیں کہ امریکہ اُن کی جنگ لڑیگا تو وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ یا پھر اگر وہ طالبانی نظام کے حامی ہیں تو قوم کو کھل کربتادیں کیونکہ طالبان کہتے ہیں "حکومت مذاکرت کیلئے ہرگز سنجیدہ نہیں کبھی وزیراعظم نواز شریف کہتے ہیں کہ طالبان ہتھیار ڈال کر سامنے آئیں تو کبھی کہتے ہیں کہ طالبان پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں تو مذاکرت کو آگے بڑھائیں گے۔ طالبان مذاکرات کے خواہش مند ہیں لیکن پاکستان کے آئین کے تحت ہم کبھی بھی مذاکرت نہیں کریں گے کیونکہ پاکستانی آئین جمہوری آئین ہے اور سیکولر اقوام کا ایجنڈہ ہے"۔ اے پی سی کا یہ قطعی مطلب نہیں تھا کہ طالبان کو مادر پدر آزادی دے دی جائے۔ مگر شاید عمران خان پاکستان کے آئین کی بھی پرواہ نہیں کررہے ہیں۔

تحصیل کلاچی میں صوبائی وزیرقانون اسرارگنڈاپور پر حملے اور اُنکی شہادت کے بعد پشاورمیں ہونے والی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس برہمی کا اظہار کیا گیا کہ مرکزی حکومت ائے پی سی میں ملک کی سیاسی جماعتوں اورعسکری قیادت سے پورا اختیارلینے کے بعد بھی مذاکرات میں دیر کیوں کررہی ہے؟ جبکہ ان میں سے بعض اس بات پر پریشان ہیں کہ تحریک انصاف اور اُسکی قیادت تو طالبان کے خلاف ڈرون حملوں اورفوجی آپریشن کی مخالفت کررہی ہے تو اُسے کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انتخابات سے کچھ عرصہ قبل جب طالبان پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور ائے این پی کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنارہے تھےتو بہت سے مفاد پرست یہ سوچکر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے تھےکہ جماعت اسلامی اور جمیت علمائے اسلام کے علاوہ یہ دونوں جماعتیں دہشت گردوں کا نشانہ نہیں ہیں۔عمران خان تو ویسے بھی مردم ناشناس ہیں جسکا اعتراف وہ خود الیکشن میں دیے جانے والے پارٹی ٹکٹ پر کرچکے ہیں، اسلیے جو بھی انکی پارٹی میں آیا اُسکو تحریک انصاف میں شمولیت مل گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ 22 اگست کے ضمنی انتخابات میں پشاور اور میانوالی کی سیٹ سے محروم ہوگے۔ بات تو اس بھی آگے جاتی ہے کہ وہ اب خود دہشت گردوں کے سب سے بڑئے ترجمان اور حمایتی جماعت اسلامی کے اتحادی بننے ہوئے ہیں، سید منور حسن جو انکے پارٹنر ہیں انکے بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہے۔ شاید عمران خان بھول گے کہ لاہور یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کے غنڈوں نے اُنکے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ جماعت اسلامی اورسید منور حسن کی منافقت سے تو پورا پاکستان واقف ہے مگر شاید عمران خان کو یہ احساس ہی نہیں کہ وہ استمال ہورہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی منافقت کا یہ حال ہے کہ ابھی تھوڑئے دن پہلے جب عمران خان نے کہا کہ "ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام نہ ملنے پرانہیں مایوسی ہوئی ہے" تو جماعت اسلامی کے ترجمان روزنامہ جسارت میں عمران خان کے خلاف ایک مضمون لکھا گیاجس میں عمران خان کے اس بیان کی مذمت کی گی تھی۔

عمران خان کا یہ کہنا کہ نواز شریف کو جب یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ مذاکرات کریں تو وہ دیر کیوں کررہے ہیں بلکل صحیح ہے مگر یہ اسقدر آسان بھی نہیں ، نواز شریف پہلے اپنے سیاسی مفادات دیکھیں گے اُسکے بعد وہ طالبان سے بات کرینگے دوسری طرف طالبان بھی اپنے آقاوں کی مرضی کے خلاف نہیں جاینگے، آخر ان طالبان پر امریکہ، ہندوستان اور دوسرئے ایسے ہی تو مہربان نہیں ہیں اُن کے بھی کچھ مفادات ہیں۔ مسلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف اس خطے میں ان تمام حالات کا اور خاصکر بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا تصور نہیں کررہی تھی، یہ بھی دہشت گردوں اور اُن کے آقاوں کی چال تھی ۔ تحریک انصاف عوامی سطح کے فلاحی پروگراموں کے ذریعے عدالتی انصاف ،تعلیم اورصحت جیسے اداروں میں لوگوں کو آسانیاں مہیا کرکے یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ تبدیلی لاسکتی ہے۔ بدنصیبی سے تحریک انصاف کو حکومت چلانے کے لیے وہ حالات ہی نہیں مل سکے جس کی وہ تیاری کرکے آئی تھی ، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اتحادی جماعتوں خصوصا جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے فرنٹ لائن جماعتوں کے کردار ادا نہ کرنے کی وجہ بھی تحریک انصاف کی ناکامی کا سبب ہیں ۔ دہشت گردی کے سلسلے میں اسکی اتحادی جماعت اسلامی نے بڑی چالاکی سےعمران خان اور انکی جماعت کو فرنٹ لائن پر پہنچا دیا ہے۔ دوسری طرف خود عمران خان کی ٹیم میں ناکارہ لوگ ہیں، چلیں مان لیتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات جلد از جلد کرنے کی ذمیداری مرکزی حکومت کی ہے مگر صوبے میں امن و امان کی ذمیداری تو صوبائی حکومت کی ہے اور جس میں صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہے۔ تحریک انصاف تو شاید ابتک یہ ہی طے نہیں کرپائی ہے کہ صوبہ کے بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی سے کیسے محفوظ رکھا جائے اور اُن کے پاس جو وسائل ہیں اُس سے عوام کو کیسے فاہدہ پہنچایا جائے۔ اسکے برعکس عمران خان مسلسل طالبان کے لیے دفتر کھولنے کا راگ الاپ رہے ہیں، کیا اس سے یہ سمجھا جائےکہ "عمران خان طالبان کے ترجمان ہیں" یا پھر جماعت اسلامی اُنکو طالبان کے مفاد میں بھرپور استمال کررہی ہے۔ آخر میں عمران خان کو ایک پرخلوص مشورہ ہے کہ زمینی حقایق کو تسلیم کریں اور سوشل میڈیا کی دنیا سے باہر آیں ورنہ بہت جلد وہ صرف سوشل میڈیا پر ہی رہ جاینگے۔