PDA

View Full Version : وزیر داخلہ چوہدری نثارکی بڑھکیں



سید انور محمود
11-03-2013, 10:35 AM
بتاریخ: 3 نومبر 2013

وزیر داخلہ چوہدری نثارکی بڑھکیں

تحریر: سید انور محمود


مرحوم سلطان راہی پاکستانی فلم انڈسٹری میں ایک بہت ہی مشہور اداکار کے طور پر جانے جاتے ہیں، سلطان راہی نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ولن کے طور پر کیا تھا مگر فلم بشیرا نے اُن کے کردار کو اچانک بدلا اور پھر وہ اس فلم کے زریعے ولن سے ہیرو بن گے اور کیوں نہ بنتے اس فلم کے ایک سین میں اُنکی بہن کی جان اور آبروُ دونوں خطرئے میں تھیں اور وہ اپنے گاوں سےآٹھ گاوں دور تھےتب ہی اُنکی ماں نے آواز دی "او بشیرا جلدی آ"۔ آٹھ گاوں دور بشیرا نے جواب دیا "آیا ماں" اور پھر بشیرا اپنے گھوڑئے پر بیٹھ کر اپنے گاوں پہنچا اور ایک بڑئے چاقو سے قصائی کی طرح اپنے دشمنوں کو کاٹ کر رکھ دیا اور یوں سلطان راہی ہیرو بن گے، اسکے بعد وہ بشیرا ٹائپ کی فلموں میں ہی کام کرتے رہے اور ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ اُن کی بڑھکوں اور مار دھاڑ سے نفرت کرنے لگے۔ افسوس فلموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ اسلام آباد سے امریکہ کاویزہ لیکر واپس آرہے تھے تو لاہور کے قریب جی ٹی روڈ پر چند لیٹروں نے اُن کو روک لیا ، انہوں نے اُنکو بتایا بھی کہ وہ سلطان راہی ہیں مگر صرف ایک گولی نے اُنکا کام تمام کردیا، اُنکی فلمی بڑھکیں اور مار دھاڑ اُنکے کام نہ آسکیں۔

پانچ ماہ قبل نواز شریف نے جب اپنی حکومت کا آغاز کیا تو پاکستانی عوام کو یہ امید تھی کہ اب انکے حالات بہتر ہونگے، حالات تو کیا بہتر ہوتے بلکہ ہر محاز پر حالات مزید خراب ہوتے چلے گے، معاشی طور پر عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگی اور امن و امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی چلی گی، غرضیکہ پاکستان مسلسل تباہی کہ طرف جارہا ہے۔ دہشت گردی میں اضافہ بڑھتا چلاگیا مگر نواز شریف کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہ ملی۔ نواز شریف کا حالیہ دورہ امریکہ ایک ناکام دورہ تھا اور امریکہ نے نہ صرف انکے تمام مطالبات رد کردیے بلکہ اُن کو واضع طور پر بتادیا گیا تھا کہ ڈرون حملے نہیں رکیں گے۔ اس دورئے میں پاکستان کے وزیراعظم عافیہ صدیقی کی بات کررہے تھے تو امریکی صدر شکیل آفریدی کو رو رہے تھے۔ کشمیرکے مسلئے پر اوبامہ من موھن سنگھ کی زبان بول رہے تھے۔ دونوں کی باڈی لینگویج دو مختلف زاویوں پر تھیں۔ نواز شریف ملک میں رہنے کو تیار نہیں اور انکی غیرحاضری میں پشاور مستقل دہشت گردی کا شکار رہا۔ اُنکے انگلینڈ کے ایک بےوجہ دورہ کے دوران امریکہ نے دہشت گردوں کے سردار اور ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل کالعدم تحریک پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کو ڈرون حملوں میں مار دیا۔ اب پاکستانی حکومت ہائے ہائے کار مچارہی ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار جدید سلطان راہی بنے ہوئےبڑھکے مار رہے ہیں۔ 9 ستمبر کوآل پارٹی کانفرنس ہوئی تھی جس میں پاکستان کی تمام جماعتوں نے حکومت کو دہشت گردوں سے مذکرات کا اختیار دے دیا تھا۔ مگر اس کے بعد حکومت تو سوگی اور دہشت گرد طالبان نے اپنی دہشت گردی بڑھا دی، اپر دیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے پاک فوج کے میجر جنرل لیفٹینینٹ کرنل اور لانس نائیک ہلاک کیے جاتے ہیں اور دہشتگرد طالبان اُسکی زمیداری بھی قبول کرتے ہیں۔ اُسی دن وزیرستان میں چار سیکورٹی اہلکار راکٹ حملے میں مارئے جاتے ہیں۔ پشاور میں 22 ستمبرکو اقلیتوں پر خود کش حملہ، 27 ستمبر کوسرکاری بس میں بم دھماکا اور 29 ستمبر کو قصہ خوانی بازار میں بم دھماکا، ان دھماکوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے گے۔ صرف رسمی تعزیت کے علاوہ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

یکم نومبر کو ہونے والا ڈرون حملہ کوئی پہلا حملہ نہیں تھا اور نہ ہی حکیم اللہ محسود پہلا دہشت گردوں کا سردار تھا، اس سے پہلے بیت اللہ محسود جو دہشت گردوں کا سردار تھا ڈرون حملے میں ہی مارا گیا تھا تو پھر حکیم اللہ محسود پر اسقدر شور کیوں۔ جماعت اسلامی کے سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمان کا رونا تو سمجھ میں آتا ہے کیونکہ بقول مولانا فضل الرحمان کہ اُنکے دل طالبان دہشت گردوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ عمران خان کا واویلا بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جس صوبے میں اُن کی پارٹی اقتدار میں ہے سب سے زیادہ وہ صوبہ ہی متاثر ہے۔ مگر چوہدری نثار کی بڑھکیں سمجھ میں نہیں آتیں کیونکہ جو وزیرداخلہ ایک شخص کے پانچ گھنٹے اسلام آباد پر قابض ہونے والا کا کچھ نہیں بگاڑ سکے وہ امریکہ کے خلاف بڑھکیں ماررہے ہیں۔ حکیم اللہ محسود نے اپنے آخری انٹرویو میں جو اُس نے بی بی سی کو دیا تھا صاف صاف کہا تھا "حکومت کی جانب سےمذکرات کےلیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا اور آل پارٹیز کانفرنس کے بعد حکومت نے مذکرات میڈیا کے حوالے کردیے ہیں، ہم میڈیا کے زریعے مذکرات نہیں کرینگے"۔ بات سیدھی سیدھی یہ ہے کہ وزیراعظم کو غیرملکی دوروں سے فرصت نہیں ہے اور وزیر داخلہ کو اپنی ذمیداری کا احساس نہیں ہے۔ 9 ستمبر اور یکم نومبر کے درمیان پورئے اکیاون دن کا فاصلہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب نواز حکومت آنے کے بعدپورا ملک مسلسل دہشت گردی کا شکار بناہوا ہے اس مسلئہ پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت تھی۔ چلیں اب تو آپ کے پاس ڈرون حملے کا بہانہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ اکیاون دن آپ کیاکررہے تھے۔

نواز شریف کے دورہ امریکہ سے پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ ڈرون حملوں پر جاری کی تھی جس کے مطابق امریکی ڈرون حملے جنگی جرائم میں آتے ہیں مگر اوبامہ انتظامیہ نے اس کے باوجود نواز شریف کو ڈرون نہ گرانے کی کوئی یقین دھانی نہیں کرائی تھی، جبکہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کا حکومت پاکستان کو علم ہوتا ہے بلکہ کچھ ڈرون حملے حکومت پاکستان کے کہنے پر بھی ہوئے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ڈرون بھی پاکستان کی حکومت کے ایما پر ہی ہوا ہو، کیونکہ طالبان کے جو مطالبات سامنے آئے تھے اسکو پورا کرنا نواز حکومت کےلیے ناممکن تھا۔ دوسری طرف آل پارٹیز کانفرنس کے بعدمذاکرات کی ابتدا کرنے کےلیے پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتوں اور خاصکرتحریک انصاف کا دباوُ بڑھتا جارہا تھا۔ طالبان دہشت گردوں کی کسی بھی اگلی دہشت گردی سے پہلے حکومت اگر مذکرات کرنا چاہتی ہے تو طالبان کو مذکرات کی میز پر لایں ورنہ اگلی کسی بھی دہشت گردی کی حکومت اتنی ہی ذمیدارہوگی جتنے کے دہشت گرد۔ وزیر داخلہ امریکہ کے خلاف بڑھکیں مارنا چھوڑیں اور ملک کو دہشت گردی کی دلدل سے نکالنے کی کوشش کریں کیونکہ اُن سے پہلے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک پانچ سال صرف بڑھکیں ہی مارتے رہے تھے۔ اگر بڑھکیں مارنے سے مسائل حل ہوسکتے تو آج نہ دہشت گردی ہوتی اور نہ ہی ڈرون حملے۔ سلطان راہی نے صرف فلموں ہی بڑھکیں ماری تھیں مگر اصل زندگی میں اُن کی فلمی بڑھکیں اُن کے کام نہ آیں تو پھر وزیرداخلہ چوہدری نثار صاحب آپکی امریکہ کے خلاف بڑھکیں پاکستان کےکسی کام نہیں آینگیں۔