PDA

View Full Version : آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!



گلاب خان
12-14-2010, 09:19 PM
ناؤ:انسان نہیں لیکن انسان جیسا روبوٹ
چلئے انسان سمجھیں یا نہ سمجھیں آج وہ دن تو آیا کہ اپنے مالک یا افسر یا اپنے ساتھیوں کے جذبات و احساسات کو سمجھنے والا ‘گھروں میں عمر رسیدہ اشخاص کی بہتر خدمت کرنے والا‘تنہائی کا ساتھ اور دکھ سکھ میں شامل ہوکر ایک دوست کی طرح ساتھ نبھانے والا روبوٹ تیار ہوا۔دراصل میڈیا میں شائع رپورٹوں پر یقین کریں توسائنس دانوں نے حال ہی میں ایک ایسا روبوٹ نمائش کے لیے پیش کیاہے جونہ صرف ایک ذی روح اور جیتے جاگتے انسان کی طرح نہ صرف جذبات اور احساسات رکھتا ہے بلکہ ان کا اظہار بھی کرسکتا ہے۔گویا کہ انسانوں میں تو روبوٹ ہوتے ہی تھے لیکن اب روبوٹوں میں بھی انسان ہوا کریں گے۔چند عشرے پہلے جب روبوٹ متعارف ہونا شروع ہوئے تھے تویہ نیا نام ان افراد کے لیے بھی استعمال ہونے لگاتھا جن کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ ان میں احساسات اور جذبات کی کمی ہے۔کسی عام انسان کی طرح جذبات اور احساسات رکھنے والے اس نئے روبوٹ کا نام ہے ’ناؤ‘۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ مثلاً جب کوئی بات اسے اچھی نہیں لگتی تووہ اس کا اظہار مغربی انداز میں اپنے کندھے جھٹک کرکرتا ہے اور جب وہ خوش ہوتا ہے تو اپنا ہاتھ لہراتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فی الحال اس روبوٹ میں جذبات اور محسوسات کی وہی سطح ہے جوایک سال کی عمر کے بچے میں عموماً پائی جاتی ہے یعنی جس طرح ایک سال کا بچہ پیار اور نفرت کو محسوس کرکے اپنے ردعمل کا اظہار کرسکتا ہے بعینہ روبوٹ ناؤ بھی ویسا ہی کرسکتا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’ناؤ‘ اپنے سامنے موجود کسی بھی شخص کو دیکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا رویہ دوستانہ ہے یا نہیں۔ وہ جسمانی اندازکے ذریعے محبت اور نفرت کے اظہار کوسمجھتا ہے۔ یعنی اسے چہرے کے تاثرات کی پہچان ہے اورجس کسی شخص کے ساتھ وہ نسبتاً زیادہ وقت گذار لیتا ہے تو پھر وہ اس کے موڈ اور مزاج کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔
یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائر کی سائنس دان لولا کنامیرو ، جو روبوٹ تیار کرنے والی ٹیم میں شامل تھیں، کہتی ہیں کہ انسانی جذبات اور احسات کو سمجھنے اور اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق ردعمل ظاہر کرنے والے اس روبوٹ میں الیکٹرانک آلات پر مبنی انتہائی پیچیدہ نظام موجودہے۔ اس کی آنکھوں میں ویڈیو کیمرے نصب ہیںجو اپنے قریب آنے والے ہر شخص کی نقل و حرکت اور حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے ہیں۔ جہاں سے یہ معلومات فوراً روبوٹ کے دماغ کو منتقل ہوجاتی ہیں۔ناؤ کے دماغ کا الیکٹرانک نظام انسانی دماغ کے خلیوں سے مشابہت رکھتا ہے اور وہ اپنے مشاہدے میں آنے والے ہرشخص کی نہ صرف تصویر اپنی یاداشت میں محفوظ کرلیتا ہے بلکہ یہ بھی یاد رکھتا ہے کہ اس شخص نے اس کے ساتھ ماضی میں کیسا برتاؤ اور سلوک کیاتھا۔کنامیرو کا کہنا ہے کہ ربوٹ ’ناؤ ‘اپنی یادداشت میں محفوظ ہونے والی تمام معلومات کو دوبنیادوں پر پرکھتا ہے:یعنی اچھا اور برا۔ کسی کے بارے میںاس کی اچھائی اوربرائی کا فیصلہ کرنے کے بعد وہ اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔کنامیروجو ہرٹ فورڈ شائر یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں مصنوعی عقل و فہم کی ایک ماہر ہیں، کہتی ہیں کہ روبوٹ ناؤ کے ہر ردعمل کی پہلے سے پروگرامنگ کی گئی ہے مگر وہ یہ فیصلہ کرنے میں آزاد ہے کہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اس نے کب اورکیا ردعمل ظاہر کرنا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ نئے روبوٹ میں بطور خاص یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنے سامنے موجود شخص کے چہرے کے تاثرات، مسکراہٹ ، چہرے کی تیوریوں اور اس کی باڈی لینگویج کو محسوس کرکے اسے سمجھ سکے اور اپنا ردعمل دے سکے۔وہ کہتی ہیں کہ یہ ابتدا ہے، آنے والے دنوں میں روبوٹ نسبتاً زیادہ ذہین ہوں گے اور اپنے فیصلے اور کام آزادانہ انجام دے سکیں گے۔
اس وقت دنیا بھر میں بہت سی تجربہ گاہوں، صنعتی اداروں ، اسپتالوں اور گھروں میں روبوٹ کام کررہے ہیںمگر ان کی نوعیت محض ایک الیکٹرانک مشین کی سی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹوں کی اس نئی نسل کے بعد وہ انسانوں ہی طرح اپنے فرائض سرانجام دیں گے اور اپنے مالک یا افسر یا اپنے ساتھیوں کے جذبات و احساسات کو بھی سمجھ سکیں گے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ ناؤ نسل کے روبوٹ گھروں میں ان معمرافراد کے بہتر خدمت گذار ثابت ہوسکتے ہیں جنہیں تنہائی اور دیکھ بھال کے مسئلے کا سامنا ہے۔ ناؤ نہ صرف ان کی دیکھ بھال کریں گے بلکہ ان کے دکھ سکھ میں شامل ہوکر ایک دوست کی طرح ان کے ساتھ رہیں گے۔

تانیہ
12-21-2010, 10:04 PM
تھینکس فار شیئرنگ