PDA

View Full Version : مفید معلومات



سبطین جی
11-10-2013, 12:03 AM
ہلدی کے فوائد
۲؍ چٹکی ہلدی نیم گرم دُودھ میں ملا کر روزانہ پیجئے۔ ہلدی خون صاف کرتی، پھوڑے پھنسیاں دور اور چوٹ کے اثرات مٹاتی ہے۔ خدا نہ کرے کہیں گر جائیں، چوٹ لگ جائے تو فوراً آدھا چھوٹاچمچ ہلدی گرم گرم دودھ میں ملا کر پینے سے درد و چوٹ کو آرام آتا ہے۔ دو تین دن ہلدی والا دُودھ پی لیں تو درد ختم ہو جاتا ہے۔ منہ دھونے کے لیے ایک چمچ بیسن میں تھوڑی ہلدی ملا کر چہرے پر لگائیں۔ پھر صرف بیسن سے اچھی طرح منہ دھو کر عرقِ گلاب لگائیں، صابن استعمال نہ کیجیے گا۔:th_rose:

سبطین جی
11-10-2013, 12:13 AM
اسپغول!
سے تقریباً ہر شخص وا قف ہے۔ بڑی مشہور عام دوا ہے۔ اسپغول ایک بیج ہے جس کا پو دا ایک گز کے قریب اونچا ہوتا ہے ۔ اس کی ٹہنیا ں باریک ہو تی ہیں اور پتے لمبے یعنی جامن کے پتو ں سے تقریبا ً مشا بہ ہوتے ہیں ۔ اس کا رنگ سرخی ما ئل سفید اور سیا ہ ہوتاہے۔ یہ بے ذائقہ اورلعاب دار ہوتا ہے اس کامزاج سر د اور تر ہو تا ہے۔ اس کی مقدار خوراک تین ماشہ سے ایک تولہ ہوتی ہے ۔ اسپغول کے چھلکے کو سبوس اسپغول کہتے ہیں۔
اسپغول کے فوائد
گرمی اور پیا س کو تسکین دیتا ہے ۔گرمی کے بخار اور خون کے جو ش کو تسکین دے کر طبیعت کو نرم کر تاہے ۔
سینہ ، زبان ،حلق کے کھر کھراپن اور صفراوی و دمو ی بیماریو ںکے لیے مفید ہے ۔آنتو ں کے زخمو ں اور مروڑ ہونے کی حالت میں بے حد مفید ہے ۔اس کے لیے اسے شربت صندل میں ایک بڑا چمچہ ڈال کر پلا نا مفید ہوتا ہے۔قبض کشا ہے۔ آنتو ں میں پھسلن پیدا کر تا ہے۔ اس کے لیے رات سو تے وقت ایک گلا س دودھ میںایک تولہ اسپغول کا چھلکا ملا کر تین چار منٹ کے بعد استعمال کرنے سے کھل کر اجابت ہو تی ہے ۔یہ دائمی قبض میں بھی بے حد مفید ہے۔مر دانہ جوہر کو گاڑھا کر تا ہے اور قوت با ہ بڑھا تاہے ۔سر درد کی صورت میں اسپغول سر کہ میں رگڑ کر چنبیلی کا تیل ملا کر پیشانی پر لیپ کرنے سے فائدہ ہو تاہے ۔ اگر چنبیلی کے روغن کی بجائے بادام روغن ملا کر پیا جا ئے تو سر درد کا فائدہ ہو تا ہے ۔جریا ن میں اسپغول کا چھلکا ہمرا ہ شربت بزوری یا صندل کے، صبح نہا ر منہ پینا فائدہ مند ہے۔
دماغی طاقت بڑھا تا ہے ۔ دما غی کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ رات سو تے وقت پانچ دانے گری بادام چبا کر کھائیں اور بعد میں ایک تولہ اسپغول دود ھ میں ملا کرپئیں۔ یہ مقوی دما غ نسخہ ہے ۔
نسیا ن کے امرا ض میں اسپغول ایک بڑا چمچہ ہمرا ہ شربت صندل ،صبح نہا ر منہ پینا بے حد مفید ہے اور رات کو سوتے وقت پانچ دانہ گری بادام ، سونف ایک تولہ اور کوزہ مصری حسب ضرورت ہمرا ہ دودھ استعمال کریں ۔
منہ کے دانو ں کی تکلیف میں اسپغول کا استعمال بے حد مفید ہے ۔ ایسی صورت میں دہی میں ایک چمچہ بڑا ملا کر صبح نہار منہ کھایا جائے اور ہر کھانے کے بعد دہی کے ایک یا دو چمچ استعمال کریں ۔
ورمو ں کو تحلیل کرنے کے لیے اسپغول کو سرکہ میں رگڑ کر متاثرہ جگہ پر لیپ کر نا بے حد مفید ہے ۔پیچش میں اسپغول ایک تولہ پانی کے ساتھ کھانے سے فائدہ ہو تا ہے ۔سوز ا ک میں اسپغول کو پانی یا شربت کے ہمرا ہ چند یوم تک استعمال کرنے سے شفا ہوتی ہے۔معدے کی بیماریو ں ، خاص طور پر السر میں بے حد مفید ہے ۔
بالو ں کو نرم اور بڑھانے کے لیے عرق گلا ب میںرگڑ کر با لو ں پر لیپ کرنے اور دو گھنٹے بعد دھونے سے فائدہ ہو تاہے۔ یہ علا ج موسم گر ما کے لیے ہے ۔خشک کھانسی اور دمہ کے لیے روزانہ ایک تولہ اسپغول دودھ یا پانی کے ساتھ چالیس روز تک استعمال کریں ۔اسپغول کا جو شاندہ بطور مسکن و ملین مشروب سو زش معدہ اورفم معدہ اور سینے کی جلن میںمفید ہے ۔

سبطین جی
11-10-2013, 12:17 AM
ایک لڑکی کی شادی کا سبق آموز واقعہ
مشہور تابعی سعید بن مسیّب کی لڑکی کی شادی کا واقعہ نہایت سبق آموز اور اسلامی تاریخ میں ایثار ، ہمدردی ، غربت ، پسندی اور سادگی کی شاندار مثال ہے ، ان کی لڑکی انتہائی حسین و جمیل اور تعلیمی یافتہ تھی ، خلیفہ عبدالملک اس کو اپنی بہو بنانا چاہتا تھا ، اس نے اپنے ولی عہد کے ساتھ اس کی نسبت کا پیغام بھیجا ، ابن مسیّب نے انکار کردیا ، خلیفہ نے بہت دباؤ ڈالا اور مختلف قسم کی سختیاں کیں لیکن ابن مسیّب اپنے انکار پر برابر قائم ر ہے ، اور چند دنوں کے بعد قریش کے ایک نہایت معمولی آدمی ابو وداعہ کے ساتھ اس کی شادی کردی جو ان کے ایک ادنیٰ شاگرد تھے۔
اس واقعہ کے بارے میں خود ابو وداعہ کا بیان ہے کہ میں سعید بن مسّیب کے پاس پابندی سے جا کر بیٹھا کرتا تھا ایک مرتبہ چند دنوں کی غیر حاضری کے بعد جانے کا اتفاق ہوا ، ابن مسیّب نے پوچھا اتنے دنوں تک کہاں غائب رہے ، میں نے کہا میری بیوی کا انتقال ہوگیا تھا اس لئے حاضر نہ ہو سکا ، فرمایا مجھے خبر کیوں نہیں دی میں بھی تجہیز و تکفین میں شریک ہوتا ، تھوڑی دیر بعد میں جب اٹھ کر جانے لگا تو انہوں نے کہا کیا تم نے دوسری کا انتظام کیا؟ میں غریب نادر دو چار پیسے کا آدمی ہوں میرے ساتھ کون شادی کرے گی ، فرمایا میں انتظام کروں گا ، تم تیار ہو؟ میں نے کہا بہت خوب! سعید نے اسی وقت دو تین درہم پر میرے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح پڑھوا دیا جب میں وہاں سے اٹھا تو فرط مسرت سے میری یہ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں؟ گھر پہنچ کر رخصتی کے لئے فکر میں پڑ گیا ، شام کے وقت سعید ابن مسیّب نے اپنی لڑکی کو اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا ، پہلے دو رکعت نماز ادا کی اور دو رکعت اپنی لڑکی سے پڑھوائی اس کے بعد اس کو لئے ہوئے میرے گھر پہنچے ، میں مغرب کے بعد روزہ افطار کرنے جا رہا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے پوچھا کون ؟ جواب ملا سعید ، میں نے سوچا سعید ابن مسیّب تو اپنے گھر اور مسجد کے علاوہ کہیں آتے جاتے نہیں ، یہ سعید کون ہیں؟ اٹھ کر دروازہ کھولا تو دیکھا تو سعید ابن مسیّب تھے ، انھیں دیکھ کر میں نے کہا آپ نے کیوں زحمت گواری کی مجھ بلا بھیجا ہوتا ، فرمایا: نہیں مجھے تمہارے پاس آنا چاہئے تھا ، پھر فرمایا تم تنہا آدمی تھے اور تمہاری بیوی موجود تھی ، میں نے خیال کیا کہ تنہا رات کیوں بسر کرو ، اسی لئے تمہاری بیوی کو لیکر آیا ہوں ، وہ ان کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی ، انھوں نے اسے دروازے کے اندر کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا ، میری بیوی شرم سے گر پڑی ، میں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا ، اس کے بعد چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں میں اعلان کردیا کہ آج ابن مسیّب نے اپنی لڑکی کا عقد میرے ساتھ کردیا اور اسے میرے گھر پہنچا گئے ، میری ماں نے دستور کے مطابق تین دن تک اس کو بنایا سنوارا ، بننے سنورنے کے بعد میں نے اس کو دیکھا تو وہ نہایت حسین ، کتاب اللہ کی حافظ سنت رسول کی عالم اور حقوق شوہر کی واقف کار عورت تھی۔
حوالہ :("تابعین" از شاہ معین الدین ندوی //// ابن خلکان جلد اول ص 207 )

سبطین جی
11-10-2013, 12:20 AM
چکوترے کی ترشی پر نہ جائیے
چکوترہ (گریپ فروٹ )ترش ذائقہ‘ خوشبودار‘ مشتہی اور تازہ دم کر دینے والا پھل ہے جسیترشاوہ پھلوں میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کا گودا زرد اور ہلکا گلابی ہوتا ہے۔ غذائی اہمیت:دوسرے ترشاوہ پھلوں کی طرح یہ غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔بغیر بیج والی قسم بہتر ہے کیونکہ اس میں کیلشیم او ر فاسفورس زیادہ ہوتی ہے۔
طبعی خواص :چکوترہ اعلیٰ قسم کا مشتہی پھل ہے‘ یہ لعاب دہن اور نظام انہضام میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ صحت بخش بھی ہے۔ تیزابیت:ذائقے میں ترش اور تیزابی ہے۔ سیٹرک ایسڈ انسانی جسم میں عمل تکسید کے بعد اساسیت بڑھاتا ہے۔ اسی لیے اس کا استعمال تیزابیت کم کرنے اور اس سے وابستہ نقائص دور کرنے میں مفید ہے۔
نظام انہضام کی خرابیاں:قبض کشا ہے۔ زیادہ مقدار میں کھانے سے ہاضمہ بہتر بناتا‘ انتڑیاں تندرست و توانا رکھتااور پیچش‘ اسہال‘ ورم(آنتوں کی سوزش)ٹائیفائیڈاور نظام انہضام کی دوسری متعدی بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے۔ ذیابیطس:ذیابیطس میں مبتلا مریضوںکے لیے اعلیٰ غذا ہے۔
اگر اسے زیادہ استعمال کیا جائے‘ تومرض پیدا ہونے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ خدانخواستہ ذیابیطس کے مریض ہیں‘ تو روزانہ تین چکوترے استعمال کیجئے۔ بیماری چمٹنے کا خدشہ ہے‘ تب بھی تین گریپ فروٹ روزانہ استعمال کیجئے۔ یہ جسم میں نشاستہ اور چربی بھی کم کرتا ہے۔
انفلوئینزا:رس انفلوئنیزا کا موثر علاج ہے ۔اس کی کڑواہٹ جو ایک مادے ’مارینجن‘ (Maringin) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے‘ نظام انہضام کو تقویت دیتی ہے۔ بخار:رس بخار کی تمام اقسام میںمفیدہے۔ یہ پیاس بجھاتا اور بخار کی تپش کم کرتا ہے۔ رس کو پانی کے ساتھ ملا کر پینا زیادہ فائدے مند ہے۔
ملیریا:چکوترے میں قدرتی طور پر کونین پائی جاتی ہے‘ اسی لیے یہ ملیریا کے علاوہ سردی سے ہونے والے بخار میں بھی موثر ہے۔ تھکاوٹ: چکوترے اور لیموں کا ہم وزن رس ایک گلاس پینے سے تھکاوٹ اور نقاہت دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس نسخے کا ایک ہفتے لگاتار استعمال انسان کو چاق و چوبند کر تا ہے۔
پیشاب کا کم آنا: رس میں وٹامن سی اور پوٹاشیم بہت زیادہ مقدار میں ملتے ہیں۔ جگر‘ گردے اور دل کی خرابیوں کے باعث پیشاب کی مقدار بڑھ جائے تو چکوترے کا رس لیں۔ چکوترے کے ایک سوگرام گودے میں درج ذیل وٹامن‘ معدن وغیرہ ملتے ہیں:
٭…نمی : %۰۔۹۲
٭…پروٹین: % ۰۷۔
٭…چربی: %۰۱۔
٭… معدن: %۰۲۔
٭…کاربوہائیڈریٹ: %۰۔۷
٭…کیلشیم: ۲۰ ملی گرام
٭…فاسفورس: ۲۰ ملی گرام
٭… فولاد : ۲۔۰ملی گرام
٭…وٹامن سی: ۳۱ ملی گرام
٭…حرارے: ۳۲

سبطین جی
11-10-2013, 12:22 AM
چیری موسم گرما میں بہت مفید پھل ہے۔
چیری : آرتھرائٹس گٹھیا کے درد، کینسر اور ذیابیطس کے خلاف مفید
موسم گرما کو اگر پھلوں کا موسم بہار کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔:
آجکل ہر طرف تازہ تازہ اور رس دار پھل اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ چیری بھی ایک ایسا ہی پھل ہے، جو خوبصورتی اور فوائد میں اپنی مثال آپ ہے۔چیری پر کی جانے والی ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ سرخ اور رس دار چیری آرتھرائٹس اور گٹھیا کے درد میں آرام دیتی ہے۔ ساتھ ہی کینسر اور ذیا بیطس جیسے خطرناک امراض سے بچنے میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے۔ ویسے تو تما ہی قسم کی چیریز صحت کے لیئے فائدہ مند ہوتیں ہیں۔ لیکن ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھٹی چیری جو گہرے کی ہوتی ہے اس کے چھلکے میں بھرپور غذائیت موجود ہوتی ہے۔ چیری حافظے کی کمزوری کے خلاف مزاحمت پیدا کرتی ہے۔ کولیسٹرول کم کرتی ہے، اور بھر پور نیند لاتی ہے۔ کھٹی چیری میں کسی بھی پھل یا سبزی کے مقابلے میں سب سے زیادہ اینٹی آکسی ڈینٹ پایا جاتا ہے۔ چیری کے بارے میں اتنا کچھ جاننے کے باوجود میں اپنے متوسط اور غریب طبقے کے بھائی بہنوں کو چیری اپنی ڈائٹ میں شامل کرنے کا مہنگا مشورہ دیتے ہوئے ڈرتا ہوں۔

سبطین جی
11-10-2013, 12:25 AM
تربوز:
بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے خوش خبر ی ہے کہ چھ ہفتے مسلسل تربوز کا استعمال بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تحت کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چھ ہفتے تک تربوز کو مسلسل استعمال کرنے سے بلڈ پریشر کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تربوز میں وٹامین اے ، بی 6 اور وٹامین سی کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے جبکہ فائبر ،پوٹاشیم اور پاورفل اینٹی اوکسیڈنٹ کی موجودگی اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

سبطین جی
11-10-2013, 12:30 AM
فالسہ:
ہمارے وطن کو اللہ رب العزت نے انواع و اقسام کے پھلوں سے نوازا ہے۔ گرمیوں کا ایک مشہور پھل فالسہ بھی ہے۔
اس کا پودا جھاڑی نما 'دو سے چھ فٹ اونچا ہوتا ہے۔اس کا پھل شروع میں کٹھا میٹھا اور پکنے پرچاشنی دار میٹھا ہو جاتا ہے اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
فالسہ شکری یا فارمی فالسہ
اس کا درخت توت کے درخت کی طرح لگ بھگ سات سے آٹھ فٹ اونچا ہوتا ہے۔اس کا پھل شروع میں ترش جبکہ پکنے پرمیٹھا ہو جاتا ہے۔اس میں پانی کی مقدار کم ہوتی ہے۔اس کے درخت کی چھال بھی استعمال میں لائی جاتی ہے۔
ماہیت:
دونوں طرح کے فالسے فوائد کے لحاظ سے کم و بیش ایک جیسے ہیں۔فالسہ کا پھل کم و بیش مٹر جتنا یا اس سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔ ابتدامیں سبز پھر سرخ اور آخر میں سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اس کے پھو ل زرد ہوتے ہیں اور پتے توت کی طرح لیکن اس سے کچھ بڑے اور ان کے کناروں پر خطوط ہوتے ہیں۔اس کا مزاج سرد'دوسرے درجے میں اور تر'درجہ اول میں جبکہ حکیم رام لبھایا کے مطابق تر بھی درجہ دوم میں ہوتا ہے۔
مقدار خوراک:
اس کی مقدار خوراک پچاس گرام سے سو گرام تک ہے۔ یہ چھوٹا ساپھل بے شمار فوائد کا حامل ہے۔
فالسہ کے فوائد:
فالسہ معدہ'جگراور دل کو طاقت دیتا ہے یہ پیاس بجھاتا ہے پیشاب کی سوزش کو ختم کرتا ہے ۔گرمی کے بخا ر کو فائدہ دیتا ہے فالسہ کا شربت بھی بنایا جاتا ہے اختلاج القلب اور خفقان میںبے حد مفید ہوتا ہے فالسے کا رب بھی تیار کیا جاتا ہے جسے معدہ کی طاقت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے فالسے کی جڑکا چھلکا سوزاک اور ذیابیطس میں استعمال کرانا مفید ہوتا ہے۔مقدار خوراک ایک گرام ہمراہ پانی صبح و شام۔فالسے کے پانی سے غرارے کرنے سے خناق کو فائدہ ہوتا ہے یہ صفراوی اسہال 'ہچکی اور قے کو بند کرتا ہے تپ دق(ٹی بی) میں فالسے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے معدے اور سینے کی گرمی اور جلن کو دور کرتا ہے دل کی دھڑکن اور خاص طور پر بے چینی کو دور کرتا ہے کھٹا اور نیم پختہ فالسہ استعمال نہیں کرنا چائیے عورتوں کی مخصوص بیماریوں مثلا ًلیکوریا اور سیلان الرحم میں مفید ہوتا ہے ذیابیطس کیلئے فالسے کے درخت کا چھلکا پانچ تولے رات پانی میں بھگو دیں اور صبح مل چھان کر مریض کوکم ازکم پانچ روز تک پلائیں ۔ اس سے ذیابیطس (شوگر)پر کنٹرول ہو جاتا ہے۔ جگر کی گرمی کو دور کرنے کیلئے فالسے کو جلا کر کھار بنائیں اور دوسو پچاس ملی گرام صبح و شام استعمال کریں فالسہ مصفی خون بھی ہے ۔
موسم گرما میں فالسے کا شربت ایک تحفہ سے کم نہیں اس کے بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔
اشیاء:فالسہ آدھا کلو،چینی ایک کلو
ترکیب تیاری:
ایک کھلے برتن میں فالسہ ڈال کر اسے خوب اچھی طرح سے مسل لیں(یا بلینڈر سے بلینڈلیں) اور پھر پانی ڈال کر باریک کپڑے میں چھان لیں۔ اس کے بعد اس میں چینی ڈال کر پکائیں اور جب ایک تار بن جائے تو اتار لیں۔ ٹھنڈا ہونے پر شیشے کی صاف بوتل میں محفوظ کر لیں اور بوقت ضرورت استعمال کر تے رہیں۔ فالسے کا یہ شربت جگر کے لئے بے حد مفید ہو تا ہے اور دل و دماغ کو تاز گی و فرحت عطا کر تا ہے۔ ذائقے سے بھر پور شر بت ہو تا ہے۔یہ شربت مقوی معدہ و دل ہوتا ہے، جگر کی حرارت کو تسکین دیتا ہے، قے ، دستوں اور پیاس کو فائدہ دیتا ہے جن کا معدہ بوجھل رہتا ہو طبیعت متلاتی ہو اور کھانے کی نالی میں جلن محسوس ہوتی ہوتویہی شربت تین بڑے چمچے ہر کھانے کے بعد چاٹنے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے۔ شربت فالسہ میںاگر عرق گلاب ڈال کر پیا جائے تو اس کے فوائد دگنے ہو جاتے ہیں۔
فالسے کے درخت کی چھال کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے پچاس گرام میں پچیس گرام بنولہ کوٹ کر دونوں کو ایک کلو پانی میں بھگو دیں دو دفعہ مل چھان کر پھیکا یا نمک ملا کر پلانے سے ذیابیطس شکری کنٹرول ہو جاتی ہے پھوڑے پھنسیوں پر فالسے کے پتے رگڑ کر لگانے سے فورا فائدہ ہوتا ہے فالسے کو دو روز سے زیادہ بغیر فرج کے نہیں رکھا جا سکتا ،خراب ہو جاتا ہے تیز بخاروں میں فالسہ کا جوس دینے سے مریض کی تسکین ہوتی ہے فالسے کے بیج قابض ہوتے ہیں اور سدہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کی جڑ کی چھال کا جوشاندہ بنا کر پینا جوڑوں کے درد میں بے حد مفید ہوتا ہے فالسے کا شربت فساد خون کو بے حد مفید ہوتا ہے فالسے کی جڑ کی چھال بیس گرام رات کو بھگو کر صبح اس کا پانی پینے سے سوزاک ، سینے کی جلن اورپیشاب کی سوزش دور ہوتی ہے فالسے کا متواتر استعمال خون اور صفراکی تیزی کو دفع کرتا ہے فالسے کے پتے، بیج اور رس، ان میں کسی ایک کو پانی میں رگڑ کر پینے سے مثانے کی گرمی دور ہوتی ہے جن میں خون کی کمی ہو وہ فالسہ استعما ل کریں کیونکہ فالسہ نیا خون کافی مقدار میں پیدا کرتا ہے۔ ایک پاؤ فالسہ میں ایک چپاتی کے برابر غذائیت موجود ہوتی ہے۔
احتیاط:
زیادہ ترش فالسہ گلے کی خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر کے مریض فالسہ کھاتے وقت نمک کا استعمال نہ کریں۔بعض افراد میں فالسہ خشکی اور قبض پیدا کر تا ہے ۔ اگر گلقند یا معجون فلا سفہ کا ایک چمچہ چائے والا فالسے کے بعد لے لیا جائے تو پھر قابض اورخشک نہیں رہتا ۔ فالسہ سرد مزاج والوںکے سینے او ر پھیپھڑوں کیلئے مضر ہے اس لئے انہیں احتیاط سے استعما ل کرنا چائیے اور ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا چائیے۔ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو پھر گلقند تھوڑی سی کھا لینے سے اس کے مضر اثرات نہیں ہوتے۔ فالسہ کا مقدار کے مطابق استعمال کرنا ہر صورت میں فائدہ مندثابت ہوتا ہے۔

تانیہ
11-12-2013, 09:15 PM
مفید و معلوماتی شیئرنگ کے لیے بہت شکریہ

سبطین جی
11-14-2013, 01:04 AM
خشک میوہ جاتخشک میوہ جات قدرت کی جانب سے سردیوں کا انمول تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بےشمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔ خشک میوہ جات مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈرائی فرو ٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچاو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔

مونگ پھلی

http://4.bp.blogspot.com/-DR7pLcfGTxc/UCO3dtIyW1I/AAAAAAAACJg/Wg4tt7c-o-0/s200/mong+phali.jpg (http://4.bp.blogspot.com/-DR7pLcfGTxc/UCO3dtIyW1I/AAAAAAAACJg/Wg4tt7c-o-0/s1600/mong+phali.jpg)





مونگ پھلی ہردلعزیز میوہ ہے۔سردیوں میں مونگ پھلی کھانے کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے تاہم اس کا باقاعدہ استعمال دبلے افراد اور باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے انتہائی غذائیت بخش بھی ثابت ہوتا ہے۔ مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب‘ گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لئے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس میں موجود قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کینیڈا میں کی جانے والے ایک تحقیق کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لئے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے ۔ماہرین کے مطابق دوسرے درجے کی ذیابطیس میں گرفتار افراد کے لئے روزانہ ایک چمچہ مونگ پھلی کا استعمال بہت مثبت نتا ئج مرتب کرسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا استعمال انسولین استعمال کرنے والے افراد کے خون میں انسولین کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مونگ پھلی میں تیل کافی مقدار میں ہوتا ہے لیکن آپ خواہ کتنی بھی مونگ پھلی کھا جائیں اس کے تیل سے آپ کا وزن نہیں بڑھے گا۔چلغوزے


http://2.bp.blogspot.com/-AVqSYBOqP5k/UCO3ZXrBqxI/AAAAAAAACJQ/DlWrFHkqT_M/s200/chilgoza.jpg (http://2.bp.blogspot.com/-AVqSYBOqP5k/UCO3ZXrBqxI/AAAAAAAACJQ/DlWrFHkqT_M/s1600/chilgoza.jpg)





چلغوزے گردہ‘مثانہ اور جگر کو طاقت دیتے ہیں اس کے کھانے سے جسم میں گرمی اور فوری توانائی محسوس ہوتی ہے۔ چلغوزہ کھانے سے میموری سیلز میں اضافہ ہو کر یادداشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔اگر کوئٹہ سے قلعہ عبداللہ کے راستے ژوپ(فورٹ سنڈیمن)کی طرف جائیں تو تقریبا پانچ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ژوب کا علاقہ آتا ہے۔جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے یہی مسافت چار گھنٹے میں طے ہوتی ہے۔یہ علاقہ 2500سے 3500میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37سینٹی گریڈ جبکہ سردیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ مزید بلندی پر یہ درجہ حرارت مزید کم ہو جاتا ہے-یہی وہ علاقہ ہے جہاں چلغوزے کے دنیا کے سب سے بڑے باغات واقع ہیں۔یہ باغات تقریبا 1200مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔اس علاقے میں پیدا ہونے والا چلغوزہ دنیا بھر میں نہایت معیاری اور پسند کیا جاتا ہے۔یہاں پیدا ہونے والا بیشتر چلغوزہ لاہور کی مارکیٹ میں سیل کیا جاتا ہے جہاں اسکی مناسب پیکنگ وغیرہ کر کے اسکو بیرون ملک ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے۔بلوچستان میں پیدا ہونے والے اس چلغوزے کی زیادہ تر مارکیٹ دبئی‘اینگلینڈ‘ فرانس‘مسقطاور دیگر ممالک ہیںجہاں کےخریدار اس علاقے کے پاکستانی چلغوزے کو منہ مانگی قیمت پر خریدنے کو تیار رہتے ہیں۔بیرون ملک مہنگے داموں خریدے جانے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی چلغوزے انتہائی مہنگے داموں کم و بیش 2500روپے کلوبیچے جا رہے ہیں۔
کاجو


http://4.bp.blogspot.com/-Yljso1vmXRo/UCO3WELz-kI/AAAAAAAACJI/sOnj8sOmcls/s200/cashew-zoom.jpg (http://4.bp.blogspot.com/-Yljso1vmXRo/UCO3WELz-kI/AAAAAAAACJI/sOnj8sOmcls/s1600/cashew-zoom.jpg)





کاجو انتہائی خوش ذائقہ میوہ ہے جسے فرائی کر کے کھایا جاتا ہے ۔اس میں زنک کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے استعمال سے اولاد پیداکرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔کینیڈا میں کی گئی ایک حالیہ طبی تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کاجو کا استعمال ذیابطیس کے علاج میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاجو کے بیج میں ایسے قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو خون میں موجود انسولین کو عضلات کے خلیوں میں جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کاجو میں ایسے ”ایکٹو کمپاونڈز“ پائے جاتے ہیں جو ذیابطیس کو بڑھنے سے روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں لہذا ذیابطیس کے مریضوں کے لئے کاجو کا باقاعدہ استعمال انتہائی مفید ہے۔
اخروٹ


http://3.bp.blogspot.com/-9lu43GpTPYI/UCPOm9Z2KZI/AAAAAAAACKM/YOqQ_m_bqms/s200/walnuts.jpg (http://3.bp.blogspot.com/-9lu43GpTPYI/UCPOm9Z2KZI/AAAAAAAACKM/YOqQ_m_bqms/s1600/walnuts.jpg)





اخروٹ نہایت غذائیت بخش میوہ شمار ہوتا ہے۔ اس کی بھنی ہوئی گری جاڑوں کی کھانسی میں خاص طور پر مفید ہے۔ اس کے استعمال سے دماغ طاقتور ہوجاتا ہے۔ اخروٹ کو اعتدال سے زیادہ کھانے سے منہ میں چھالے اور حلق میں خراش پیدا ہوجاتی ہے۔ایک حالیہ امریکی تحقیق کے مطا بق اخر وٹ کا استعمال ذہنی نشونما کے لئے نہایت مفید ہے، اوراس کے تیل کا استعما ل ذہنی دباﺅ اور تھکان کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے ۔امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں کی جا نےوالی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اخروٹ میں موجود اجزا خون کی گردش کو معمول پر لاکر ذہن پر موجود دباو کوکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ حضرات جو زیادہ کام کرتے ہیں ان کے ذہنی سکون کے لئے اخرو ٹ اور اس کے تیل کا استعما ل نہایت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اخرو ٹ کا استعما ل بلڈپریشر پر قابو پانے اور امراض ِقلب کی روک تھام کے لیے بھی نہایت مفید ہے
بادام


http://2.bp.blogspot.com/-_EFSDCoLHWs/UCO3TxQsWSI/AAAAAAAACJA/wLhev4i5cj4/s200/almonds.jpg (http://2.bp.blogspot.com/-_EFSDCoLHWs/UCO3TxQsWSI/AAAAAAAACJA/wLhev4i5cj4/s1600/almonds.jpg)





بادام قوت حافظہ‘ دماغ اور بینائی کیلئے بے حد مفید ہے اس میں حیاتین الف اور ب کے علاوہ روغن اور نشاستہ موجود ہوتا ہے۔ اعصاب کو طاقتور کرتا ہے اور قبض کو ختم کرتا ہے۔بادام خشک پھلوں میں بے پناہ مقبولیت کا حامل ہے۔ غذائی اعتبار سے بادام میں غذائیت کا خزانہ موجود ہے بادام کے بارے میں عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چکنائی سے بھرپور ہونے کے سبب انسانی صحت خصوصا عارضہ قلب کا شکار افراد کیلئے نقصان دہ ہے تاہم اس حوالے سے متعدد تحقیقات کے مطابق بادام خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے اور یوں اس کا استعمال دل کی تکالیف میں فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے نیز اس کی بدولت عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک تحقیق کے مطابق 3اونس بادام کا روزانہ استعمال انسانی جسم میں کولیسٹرول لیول کو 14فیصد تک کم کرتا ہے ۔بادام میں 90 فیصد چکنائی نان سیچوریٹڈ فیٹس پر مشتمل ہوتی ہے نیز اس میں پروٹین وافر مقدار میں پایا جاتا ہے دیگر معدنیات میں فائبر کیلشیم میگنیٹیم پوٹاشیم وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ اطباءکی رائے میں بادام کا استعمال آسٹوپورسس میں بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تاہم اس کیلئے گندم، خشخاش اور میتھرے کو مخصوص مقدار میں شامل کرکے استعمال کیا جاتا ہے۔
پستہ


http://1.bp.blogspot.com/-0htWc6_kvP8/UCO3e3GsuEI/AAAAAAAACJo/fYLwymXG_F4/s200/pista.jpg (http://1.bp.blogspot.com/-0htWc6_kvP8/UCO3e3GsuEI/AAAAAAAACJo/fYLwymXG_F4/s1600/pista.jpg)





پستہ کا استعمال مختلف سویٹس کے ہمرا ہ صدیوں سے مستعمل ہے۔حلوہ‘زردہ اور کھیر کا لازمی جز ہے۔نمکین بھنا ہوا پستہ انتہائی لذت دار ہوتا ہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیا جا تا ہے۔جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دور رکھ سکتی ہے ۔ پستہ خون میں شامل ہو کر خون کے اندر کولیسٹرول کی مقدار کو کم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضر عنصر لیوٹین کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔اس تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پھل اور پتے دار ہری سبزیاں کھانے سے شریانوں میں جمے کولیسٹرول کو پگھلایا جاسکتاہے ۔طبی ماہرین کا خیال ہے کہ پستہ عام خوراک کی طرح کھانا آسان بھی ہے اور ذائقے دار غذا بھی ‘ اگر ایک آدمی مکھن‘ تیل اور پینر سے بھرپور غذاوں کے بعد ہلکی غذاں کی طرف آنا چاہتا ہے تو اسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچاﺅ میں مددگار ثابتہ ہوتا ہے۔ ایک جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ منا سب مقدار میں پستے کھانے سے پھیپھڑوں اور دیگر کینسرز کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ کینسر پر کام کر نے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطا بق پستوں میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہو تی ہے جو کینسر کے خلاف انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پستوں میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دیگر کئی اقسام کے کینسرز سے لڑنے کے لیے مضبوط مدا فعتی نظام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تل
موسم سرما میں بوڑھوں اور بچوں کے مثانے کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بستر پر پیشاب کردیتے ہیں۔ اس شکایت سے نجات کیلئے تل کے لڈو بہترین غذا اور دوا ہیں۔ تل اور گڑ سے تیار شدہ ریوڑیاں بھی فائدہ مند ہیں۔
کشمش اور منقہ
کشمش دراصل خشک کیے ہوئے انگور ہیں۔ چھوٹے انگوروں کو خشک کرکے کشمش تیار کی جاتی ہے جبکہ بڑے انگوروں کو خشک کرکے منقی تیار کیا جاتا ہے۔ کشمش اور منقہ قبض کا بہترین علاج ہے۔ نیزہڈیوں کے بھربھرے پن کی مرض میں مفید ہے۔ بہت قوت بخش میوہ ہے۔(سبطین حیدر شاہ ٹیچر سکول نمبر 4 شاہ کوٹ)

سبطین جی
11-14-2013, 01:12 AM
شہد
شہد اللہ تعا لیٰ کی ایک چھو تی سی مخلو ق مکھی کا لعا ب ہے جس کے رنگ مختلف ہو تے ہیں۔ جو آ سا نی سے ہضم ہو جا تا ہے شہد میں بہت سے کیمیا ؤی اجزا ء بھی پا ئے جا تے ہیں۔ جن میں بعض معد نی نمکیا ت مثلاََ فو لا د ، سو ڈیم، پو ٹا شیم، کیلشیم ، فا سفو رس گند ھک ،تانبا اور دیگر شا مل ہے ۔ زما نہ قد یم سے شہد کا استعما ل اعضا ئے ر ئیسہ کے لیے دو اء اور غذا دو نوں اعتبا ر سے خا ص ہے یہ جسم میں قو ت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ حضو ر اکر م ﷺ نے اسے اسہا ل میں بطو ر دواء استعما ل کر نے
کا حکم فر ما یا ۔ یہ دل کے امر اض ، نزلہ ، زکا م ، بو ا سیر ، منہ کے چھا لے ، معد ہ کی کمزوری ، نمو نیہ، ضعف جگر ، کھا نسی، دمہ ، پھیپھڑوں کی کمزوری ، خو ن کی کمی آشو ب چشم ، فا لج ، لقو ہ میں ایک جز و اعلیٰ کی حیثیت رکھتاہے۔ شہد کی افا دیت سے آ گا ہی آ پ کو صحت مند بنا نے اور خو بصو رتی قا ئم رکھنے میں مد ر گا ر ثا بث ہو سکتی ہے۔
شہد ایک قد ر تی معجزاتی میٹھا ہے۔ یہ شہد کی مکھیاں پھو لوں کے رس چو سنے کے بعد بننے والا ایک صحت مند قد ر تی میٹھا تحفہ ہے جو کہ نہا یت مفیداور غذا ئیت و صحت بخش ہے پھو لو ں کا رس شہد کی مکھیوں کے لعا ب میں تبد یل ہو جا تا ہے اور بعد میں شہد کی مکھیاں اس کو چھتے میں محفوظ کر لیتی ہے۔ اس انسان ان کو چھتے میں سے نکال کر اپنے استعما ل میں لے آ تاہے۔ شہد عام کیمیکل چینی اور میٹھے کا ایک بھر پو ر صحت بخش انمول نعم البد ل ہے۔ اس کے بے شما ر قد ر تی فو ائد ہے۔
*-شہد کے مختلف نا م ۔
(عر بی )عسل ۔(فارسی) انگبین ۔( انگر یزی ) ہنیHoney
بہت سے پو دوں اور درختوں کے پھو ل اپنے غدد سے جن کو نکڑ یز کہتے ہیں ایک شیریں سیا ل ما دہ خا رج کر تے ہیں۔ شہد کی مکھیاں اس کو اپنے مخصوص تھیلے یا معدہ میں جمع کر لیتی ہیں۔ پھر ان کی غد د کی رطوبت اس شکر پر اثر کر تی ہے اور معمو لی شکر کو انگوری شکر بنا دیتی ہے۔ مکھیا ں اس چھتے میں جمع کرتی ہیں اس کی حفا ظت کے لیے چھتے میں دوسری مکھیاں ہو تی ہیں جو خا نہ داری کے امور انجا م دیتی ہیں بلحا ظ رنگت سر خ و سفید دو قسم کا ہو تاہے۔ اس میں پھولوں کی بو اور تا ثیر بھی آ جا تی ہے۔ لیکن کیمیا وی اجزا ء قر یباََ ہر قسم کے شہد کے یکسا ں ہو تے ہیں ۔ بنگال اور کشمیر میں پھول زیا دہ ہو تا ہے۔ وہا ں کا شہد جس کو لُو ٹس ہنی کہتے ہیں۔ امر ض چشم میں بہت مفید خیا ل کیا جا تاہے۔ شہد کے زیا دہ تر دو مختلف قسم کی شیر ینیاں ہو تی ہیں جن کوانگریزی میں لیو لو ز اور گلو کو ز کہتے ہیں ۔ جد ید تحقیقا ت سے معلو م ہو ا ہے کہ اس حیا تین ب ، ج ، بھی مختلف مقداروں میں پا ئی جا تی ہیں۔

https://encrypted-tbn1.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcQBdVf98gH-TdkvMIpNqlTyWJ_2JjHXfeXQlN5gzYzUzW5bgQjA (https://encrypted-tbn1.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcQBdVf98gH-TdkvMIpNqlTyWJ_2JjHXfeXQlN5gzYzUzW5bgQjA)

مزاج۔ تازہ گرم درجہ اول خشک درجہ دوم پرانا گرم درجہ سوم خسک درجہ دوم
مقدار خوراک۔ 2 تو لہ سے 6 تولہ
*-افعا ل و استعما ل:
شہد قدرے ملین ، محلل ریا ح ، دافع تعفن اور جا لی ہے۔ بد ن کو طا قت بخشتا ہے ۔ پھیپھڑوں میں منفث بلغم تا ثیر کر تاہے۔ دواؤں کو تعفن سے بچا نے اور ذائقہ خو شگوار کر نے اور ان کی قو ت کو عر صہ تک بر قرار ر کھنے کے لیے اس کے قوا م میں معجو نا ت، جوارشات اور مربے تیا ر کئے جا تے ہیں۔ قو ت بد ن اور باہ کے لیے گر م دودھ میں ملا کر پیتے ہیں۔ منفث بلغم ہو نے کی وجہ سے کھا نسی اور دمہ میں تنہا یا منا سب ادویہ کے ساتھ چٹا تے ہیں۔ سر د بیما ر یوں میں اکسیر ہے ۔ لقو ہ ، فا لج ، میں ما ء العسل بنا کر پلا تے ہیں۔ جلا بصر کے لیے آنکھو ں میں لگاتے ہیں۔ روئی کی بتی شہد میں تر کر کے اس پر سہا گہ یا انز روت چھڑک کر کا میں رکھنا پیپ آنے کے لیے نا فع ہے۔ شہد تصفیہ خو ن اور امرا ض قلب کے لیے بھی نا فع ہے۔ حا ر مزا ج والے کو ۳ حصے مکھن( ۱) حصہ شہد ، بلغمی مزا ج کو (۱)حصہ مکھن یا گھی ۳ حصہ شہد ملا کر استعما ل کر نا چاہیے ۔ حدیث شر یف میں آیا ہے کہ جو شخص سفا کا ارادہ رکھتاہے وہ صبح کو بارش کے پا نی میں شہد ملا کر پئے۔
شہد ایک بہترین انٹی بائیوٹک ہے۔جرمنی میں ایک دوائیNORDISKE PROPOLIS کے نام سے ملتی ہے ۔جو کیپسول دانے دار شربت اور مر ہم کی صورت میں برلن کی SANHELIOS کمپنی نے تحقیقات کے بعد مارکیٹ میں پیش کی ہے۔اس کے اثرات کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ڈنمارک کے پروفیسرلُنڈ کے انکشافات اور دنیا کے دوسرے ملکوں محققیننے یہ پتہ چلایاہے کہ شہد میں ایک جرثیم کش عنصر PROPILS کے نام سے موجود ہے۔
مختلف لیبارٹریوں میں مشاہدات کے مطابق اسے ناک،کان،گلے آلاتِ ہضم، نظام تنفس اور اعصاب کی ہر قسم کی سوزشوں میں دنیا کی دوسری دواوں کے مقابلے میں زیادہ مفید پایا گیا ہے ۔لندن کے مضافات میں کینٹ سے برطانوی اخبارات نے بتایا ہے کہ جوڑوں کی بیماریوں کے سینکڑوں پرانے مریض پروپانس کے استعمال سے شفا یاب ہو گے ۔
قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا۔تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی بھیجی کہ وہ پہاڑوں درختوں اور دوسری بلندیوں پر اپنا ٹھکانہ بنائے ۔پھر ہر قسم کے پھولوں سے خوراک حاصل کر کے اپنے رب کے متعین کردہ اسلوب پر گامزن رہے ۔ان کے پیٹوں سے مختلف قسم کی رطوبتیں نکلتی ہیں جن میں لوگوں کے لیے شفا ہے یہ اللہ کی طرف سے ایسی نشانیاں ہیں جن پر لوگوں کو غور کرنا چاہیے(النحل)
قرآن پاک اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شید کی مکھی کے پیٹ سے مختلف قسم کی رطوبتیں خارج ہوتیں ہیں جن کو علم طب میں ENZYMES کہتے ہیں ۔یہ جوہر مختلف امراض میں مفید ترین ہیں قرآن پاک کا مفہوم تب سامنے آیا جب جرمن کے کیمیا دانوں نے شہد سے ایک جز علٰہحدہ کر لیا جس کو ROYAL JELLY کہتے ہیں ۔اس انکشاف نے قرآن پاک کی صداقت کو واضع کر دیا
موجودہ دور میں اس اس جوہر کو تیار کرنے کا سب سے بڑا مرکز چین ہے چین میں دوا سازی کی صنعت کے اشتراکی ادارہ:پیکنگ کیمیکل اینڈ فارما سویٹکل ورکس ،،نے پیکنگ رائل جیلی ،،کے نام سے خالص مشروب اور ٹیکے تیار کیے ہیں اور انہوں نے اس کے یہ اہم فوائد بیان کیے ہیں ۔۱۔جب وزن کم ہونے لگے جب بھوک ختم ہو جائے بیماری کی وجہ سے یا زچگی کے بعد کی کمزوری کے لیے مہت مفید ہے ۔۲۔عام جسمانی کمزوری جسمانی تھکن دماغی تھکن و کمزوری۔۳۔پیچیدہ اور پرانی بیماریوں میں جیسے جگر کے امراض ۔خون کی کمی۔وریدوں کی سوزش اور ان میں خون کا جم جانا جوڑوں کی بیماریاں گنٹھیا ۔عضلات کی انحطاطی بیماریاں ۔مودہ کا السر ۔ ایک عرصہ سے لاہور کے چند دوافروش اس چینی دوائی کو جس میں فی ٹیکہ۲۵۰ملی گرام کے علاوہ دو نباتات بھی شامل ہیں درآمد کررہے ہیں ۔ضعف اعصاب کے مریض بتاتے ہیں کہ سینکڑوں وٹامن اور ٹانک کھائے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اس کا صرف ایک ٹیکہ پینے سے ایسا محسوس ہوا جیسے جسم میں کمزوری کبھی ہوئی ہی نہ تھی ۔
بچو ں کی کھا نشی۔شہد کا استعما ل بچوں کا بلغم کی و جہ سے سینا جم جا نے کی صور ت میں نیم گر م پانی ڈال کر دیا جا تاہے۔ اس سے ان کی کھا نسی اور بلغم کو بے حد آ رام آجا تاہے۔ بچوں اور بڑوں کو عمو ماَ َ رات سو تے وقت کھانسی کی شکا یت ہو جا تی ہے۔ جو نظام تنفس میں خرابی کی وجہ سے ہو تی ہے۔ اس سلسلے میں کھا نسی کو رفع دفع کر نے کے لیے شہد کا استعما ل کسی بھی دواء کے مقا بلے میں کہیں بہتر ہے۔ شہد میں انیٹی بیکٹریاانٹی وائر س اور انٹی فنگلس کی مو جو د گی کو کئی بیما ر یو ں کا مقا بلہ کر نے میں مو ثر ثا بت ہو تاہے۔
بچو ں کو چھو ٹی عمر میں ہی شہد کا استعما ل بہت ضروری ہو تاہے۔ تا کہ ان کی نشو و نما اور پر و ش تیز ی کے ساتھ ہو تی ہے۔ چو نکہ شہد ہڈیو ں کے بڑھنے میں مو ثر ہے۔
*-امر ا ض نز لہ ۔ چا ئے کی پتی کا قہوہ بنا کر چو تھا ئی حصہ لیمو ں کو رس اور شہد حسبِ ضر ورت ملا لیں صبح وِ شام استعما ل کر نے سے امر ا ض نز لہ ختم ہو جا تاہے۔
زخم اور جلے ہو ئے کے لیے ۔ اکثر و بیشتر کسی زخم پر یا جلی ہو ئی جگہ پر کسی علا ج سے بہتر شہد کا استعما ل رہتا ہے ۔ یہ صر ف زخمو ں وغیر ہ کو ٹھیک کر تاہے۔ بلکہ انیٹی بیکیڑیا اور انٹی وا ئر س کی مو جو دگی زخمو ں کو خراب ہو نے اور گلے سڑے سے بھی محفو ظ رکھتاہے۔
*-انیٹی آکسیڈنٹس۔روزانہ شہد کا ایک چمچ آ پ کے جسم میں (Antioxidants) کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ اور اس طرح آ پ دیگر بے شما ر لا حق ہو نے والی بیما ریوں سے محفو ظ رہتے ہیں۔

سبطین جی
11-14-2013, 02:19 AM
http://websites.dawateislami.net/download/manqabat/ur/mp4/2013/6020.mp4?t=d