PDA

View Full Version : خودی ۔علامہ محمد اقبال



سبطین جی
11-10-2013, 02:17 AM
حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف بال جبرئیل کی غزل
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل
فریب خوردہ منزل ہے کارواں ورنہ زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل
نظر نہیں تو مرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ اصیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں کہاں حضور کی لذت ، کہاں حجاب دلیل!
اندھیری شب ہے ، جدا اپنے قافلے سے ہے تو ترے لیے ہے مرا شعلہ نوا ، قندیل
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم نہایت اس کی حسین ، ابتدا ہے اسمعیل

بےباک
11-11-2013, 06:22 AM
1209
1210
1211
1212
1213

بےباک
11-11-2013, 06:40 AM
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ