PDA

View Full Version : کیا نابینا لوگ کار چلا سکیں گے؟؟؟؟



گلاب خان
12-14-2010, 09:41 PM
ایک زمانہ تھاکہ موبائل فون کو سمجھا جاتا تھا کہ اسے صرف آنکھوں والے ہی استعمال کرسکتے ہی جبکہ فون آنے پر آوازسے نمبر بتانے والی تکنیک منظر عام پر آگئی۔اس سے قبل ایسی گھڑی مارکیٹ میں دستیاب ہوچکی ہے جو وقت محض دکھاتی ہی نہیںبلکہ بتاتی بھی ہے۔حتیٰ کہ آنکھوں والے حضرات بھی آج اس تکنیک سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اندھیرے میں وقت جاننے کیلئے وہ ایسی بولتی ہوئی گھڑیوں کا استعمال خوب کرتے ہیں۔اسی طرح آج کے دور میںبحفاظت سفر کے لیے ضروری سمجھا جاتاہے کہ ڈرائیو چوکس ہواوراس کی نظریں سڑک پر جمی ہوں لیکن آپ کویہ جان کر حیرت ہوگی کہ موبائل فون‘گھڑی جیسی ضرورت کی اشیاءکے بعداب ایک ایسی کار تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جسے ڈرائیونگ کا شوق رکھنے والے نابینا افراد چلا سکیں گے۔
واشنگٹن پوسٹ اور سی نیٹ نیوز پر یقین کریں تو نیشنل فیڈریشن آف بلائنڈThe National Federation of the Blind اور ایک معروف امریکی یونیورسٹی ورجینیا ٹیکVirginia Tech نے کہا ہے وہ 2011میں ایک ایسی گاڑی سڑک پر لانے میں کامیاب ہوجائیں گے جسے نابینا افراد بھی چلاسکیں گے کیونکہ اس میں بینائی سے محروم افراد کی راہنمائی کرنے والے آلات نصب کیے گئے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی پر مبنی یہ آلات سڑک پر سفر کے دوران ڈرائیور کو اردگر موجودگاڑیوں، ان کی رفتار اور دیگر رکاوٹوں کے بارے میں باخبر کرنے کے ساتھ گاڑی چلانے میں اس کی رہنمائی کریں گے۔
امریکی نیشنل بلائنڈفیڈریشن کے صدر ڈاکٹر مارک میوریر کا کہنا ہے کہ ہم ان شعبوں میں کام کررہے ہے جن پر اس پہلے کبھی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ تصور ختم کرنا چاہتے ہیں کہ بینائی سے محرومی معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔انہوں نے تقریباً ایک عشرے قبل یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ نابینا افراد ڈرائیونگ کرسکتے ہیں اور اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا تھا۔اس خصوصی کار کی تیاری کے لیے ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں 2007میں تیار کیے جانے والی اس گاڑی کو ایک ماڈل کے طورپر استعمال کیا گیا ہے جو ڈرائیور کے بغیر ٹریفک میں چل سکتی ہے۔اس کامیابی کے بعد ورجینیا ٹیک کی ایک ٹیم نے نابینا افراد کے لیے گاڑی کی تیاری کے پراجیکٹ پر کام شروع کیا۔ اس گاڑی میں لیزر سینسر اور کیمرے لگے ہوئے ہیں جو آنکھوں کے طورپر کام کرتے ہیں۔ ڈرائیور کی نشست پر ایسے آلات نصب کیے گئے ہیں جو ڈرائیور کو یہ بتاتے ہیں کہ اسے گاڑی کی رفتار بڑھانے یا گھٹانے یا گاڑی کو دائیں یا بائیں موڑنے کی ضرورت ہے۔
خصوصی طورپر تیار کی جانے والی اس کار کو تجرباتی طورپر ڈے ٹونا انٹرنیشنل اسپیڈ وے رولیکس ریس ٹریک Daytona International Speedway Rolex raceپر چلایا جائے گا۔ تاہم اسے چلانے کے لیے کسی نابینا ڈرائیور کا انتخاب ابھی مختلف مراحل سے گذر رہا ہے۔ڈاکٹر ڈینس ہونگDr. Dennis Hong ورجینیا ٹیک میں مکینکل انجنیئر ہیں۔ وہ اس پراجیکٹ کی قیادت کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے نابینا افراد نہ صرف محفوظ انداز میں گاڑی چلانے کے قابل ہوجائیں گے بلکہ وہ کئی دیگر کام بھی سرانجام دے سکیں گے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تجرباتی عمل سے کامیابی کے ساتھ گذرنے کے بعد بھی ایسی گاڑیوں کو سڑکوں پر لانے میں ایک لمبا عرصہ لگ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاشرہ کب ایک نابینا شخص کو ایک ڈرائیور کے طورپر قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

تانیہ
12-21-2010, 09:45 PM
واہ....نائس شیئرنگ