PDA

View Full Version : اقتباس



ملہار
11-30-2013, 11:02 AM
اندھے ہو تم ، نظر نہیں آتا تمھیں کہ کوئی گزر رہا ہے ۔ " وہ غصے کے عالم میں چلائی تھی ۔ " میں واقعی اندھا ہوں ۔ مجھے دنیا نظر نہیں آتی ۔ " وہ اسکی بات پر ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی ۔ اپنے حلیے کے برعکس اس فقیر کی آنکھوں اور آواز میں بہت سکون، بہت ٹھراؤ تھا ۔ اس کا لب و لہجہ بہت شائستہ تھا ۔ وہ ان پڑھ نہیں لگتا تھا ۔ " اگر اندھے نہیں ہو تو یہاں بیٹھ کر لوگوں کو گندہ کیوں کر رہے ہو ۔ جاؤ کہیں اور جا کر بیٹھو یا اپنے ہاتھوں پر قابو رکھو ۔ " اس کا غصہ پھر عود آیا ۔ اس نے ٹشو نکال کر چہرے سے کیچڑ صاف کرنا شروع کیا ۔ " بی بی ! تو گندگی سے کیوں ڈرتی ہے ۔ تجھے کیا لگتا ہے ، یہ کیچڑ تجھے کسی کی نظر سے اوجھل کر دے گا ۔ تجھے لگتا ہے اتنا سا کیچڑ اس شخص کی محبت کو ختم کر دے گا ۔ اس شخص کی پرواہ نا کر ، اللہ کی پرواہ کر ۔ اللہ کو کیچڑ اور گندگی سے غرض نہیں ہوتی ۔ اس کی نظر میں جو ایک بار آجا تا ہے ۔ ہمیشہ رہتا ہے اور اس نظر کو کیچڑ کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ " " یہ دیکھو , دیکھو ۔ " وہ ایک دم اٹھ کر کیچڑ کے گڑھے کے پاس آکر بیٹھ گیا اور پھر اس نے کیچڑ نکال نکال کر اپنے چہرے اور لباس پر ملنا شروع کر دیا ۔ "دیکھو ، میں تو کیچڑ سے نہیں ڈرتا ۔ میں تو گندگی سے خوف نہیں کھاتا ۔ جانتا ہوں ، اس کی نظر اس کیچڑ پر نہیں جائے گی ۔ وہ صرف میرے وجود کو دیکھے گا " ۔ ۔ ۔

عمیرہ احمد کے ناول شہرِ ذات سے اقتباس

نگار
11-30-2013, 05:22 PM
جزاک اللہ زبردست

تانیہ
11-30-2013, 09:45 PM
بہت پیاری اور نائس شیئرنگ ۔۔۔۔۔بہت شکریہ