PDA

View Full Version : ذرا سوچیے !!!



ملہار
12-01-2013, 09:46 AM
ذرا سوچیے !!!

مسجد کے قریب چھوٹی نہر بہتی تھی ، اور اسی نہر پر بنے پُل نے گاؤں اور مسجد کو آپس میں ملا رکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اسی پل پر سرمد نے دو آدمیوں کو اپنی پستول سے گھائل کر کے نہر میں بہا دیا تھا ۔

تو فکر نہ کر ماں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان دونوں کا عقیدہ خراب تھا ۔ میں نے انہیں ٹھکانے لگا یا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

عبدالکریم چارپائی سے لڑکھڑا کر اٹھا ۔

اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ سرمد کو زناٹے کا تھپڑ مارے کہ اسے تسّلی دے۔
تو نے ان کے عقیدے کے متعلق تحقیق کی تھی سرمد؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پوچھ گچھ کر لی تھی ! ؟

تحقیق کی کیا ضرورت ہے ؟
لوگ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لوگ کچھ غلط تو نہیں کہتے اماں !

لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کی بات کبھی معتبر نہیں ہوتی بیٹا ! اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے غور و خوض کرنا پڑتا ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔اور پھر تجھے کسی کے عقیدے سے کیا ؟

یہ اللہ جانے اور اس کے بندے ۔ ۔ ۔ ۔ کون جانے اللہ اور سچے نبی کو روزِ قیامت کس کا عقیدہ پسند آئے ۔ ۔ ۔ ۔بتول گڑگڑائی ۔

بتول کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اور وہ دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئی ۔

اور جو پولیس کا علم ہو گیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو ؟ بتول بولی ۔

میں پولیس سے نہیں ڈرتا ماں ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے یہ کام اللہ کی راہ میں کیا ہے ۔ وہ مجھے اجر دے گا ۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کا عقیدہ درست نہ تھا ۔

کیا تو نے ان کا عقیدہ درست کرنے کی کوئی تدبیر کی انہیں سمجھایا مالی مدد کی ؟ ان سے میل جول بڑھا کر انہیں راہِ راست پر لانے کی کوشش کی ۔ عبدالکریم نے ڈانٹ کر پوچھا ۔

نہیں ابا میں نے ان کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔سرمد آہستہ سے بولا ۔

بس تو نے اللہ کے فیصلے کا انتظار نہیں کیا بیٹے ۔ ۔ ۔ ۔ روزِ قیامت وہ ایسے لوگوں سے خود نپٹ لیتا ۔

یا پھر نکل کر ان کی مدد کرتا پورے انہماک سے ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں راہ پر لانے کے لیے کچھ کرتا تو بیٹے ۔

کیا اس کا حکم نہیں کہ بد اعتقاد لوگوں کو ختم کر دو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

اور اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ بد اعتقاد کون ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔بھائی جس نے ایک انسان کو مارا تو سمجھو ساری انسانیت کو ختم کر دیا ۔

بانو قدسیہ دست بستہ صفحہ 42

تانیہ
12-01-2013, 10:00 PM
موجودہ وقت میں اس بات کو سمجھنے کی بہت سخت ضرورت ہے ۔۔۔جزاک اللہ