PDA

View Full Version : حکمرانوں بلوچستان کےلیے کچھ تو کروُ



سید انور محمود
12-04-2013, 04:18 AM
تاریخ: 4 دسمبر 2013

حکمرانوں بلوچستان کےلیے کچھ تو کرو
تحریر: سید انور محمود
یہ کوئی آٹھ سال پرانی بات ہوگی کہ جدہ میں رہتے ہوئے جب میں جون کے مہینے میں تین بجے دوپہر گھر پہنچا تو سخت گرمی تھی، پتہ لگا کہ گیس کا سلنڈر ختم ہوگیا ہے اور کھانے کے انتظام کےلیے گیس کا سلنڈر لازمی چاہیے، ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرئے گھر کے نیچے گیس کا سلنڈر بجنے کی آواز آئی، یہ طریقہ گیس کا سلنڈر بیچنے والے استعمال کرتے تھے کہ اُن کے پاس گیس کا سلنڈر کھولنے کا جو اوزار ہوتا تھا اُس سے سلنڈر بجایا کرتے تھے۔ میں نے جلدی سےاُسکو اوپر سے ہی آواز دی اور اُسکو اشارہ کیا کہ وہ گیس کاسلنڈرلیکر اوپر آئے۔ طریقہ یہ تھا کہ یہ لوگ گیس کا سلنڈر دکان سے 15 ریال کالیتے اور سائیکل پر رکھ کرپھرتے تھےاور ضرورت مندوں کو گھر پہنچاکر 20 ریال لیتے، عام طور پر یہ کا م وہ لوگ کرتے تھے جو یا تو وہاں غیرقانونی رہتے تھے یا پھر وہ جو ویزا خرید کر جاتے اور کوئی کام نہ ملتا تو اس کام میں لگ جاتے۔ اُس نوجوان نے اپنی سائیکل ایک لوہے کے پائپ سے باندھی اور گیس کا سلنڈر اپنے کندھے پر لادکر اوپر لےآیا ۔ کچن میں جاکر پرانے سلنڈر سے نئے سلنڈر کو بدل کر جب وہ جانے لگا تو میں نے اُس سے پوچھا اگرآپ کو پیاس لگی ہے توپانی دوں، اُس نے فورا کہا جی مجھے پیاس لگی ہے، میں اُسکے لیے نہ صرف پانی لے آیا بلکہ مشروب کی ایک ٹھنڈی بوتل بھی لےآیا اور اُسکو ایک کرسی دی کہ اس پر بیٹھ جائیں، پہلے اُس نے پانی پیا اور پھر مشروب پی کر کھڑا ہوا تو پیسے دیتے وقت میں نے اُس سے پوچھاآپ کہاں سے آئے ہیں، تو اس نے جواب دیا کہ میں بلوچ ہوں اور میرا تعلق بلوچستان سے ہےیہ کہہ کر وہ جانے لگا تو اُس نے مجھے انگریزی میں کہا "جناب آپکے پانی کےلیے پوچھنے کا شکریہ اورآپکا خاص شکریہ مشروب پیش کرنے کا" اُسکو انگریزی میں بات کرنے پر میں چونک پڑا اور پوچھا آپ کی تعلیم کتنی ہے، پہلےوہ مسکرایا اور پھر بولا "ڈبل ایم اے"۔ یہ سنتے ہی مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اُس سے کہا کہ تم کو شرم نہیں آتی ہےکہ تم ڈبل ایم اے ہو اور یہ کام کررہے ہو تو اُس نے جواب دیا مجھے کوئی نوکری نہیں ملی تو میں نے یہ کام شروع کردیا، میرا غصہ تب بھی کم نہیں ہوا اور میں نے اُس سے کہا کہ اسطرح تم پاکستان کو بدنام کررہے، تم واپس پاکستان چلے جاوُ وہاں تم کو لازمی نوکری مل جائے گی، اُس نے بجائے کوئی جواب دینے کے پرانا گیس کا سلنڈراپنے کندھے پر رکھا اور سلام کرکے چلاگیا، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میں اس بات کو بھول گیا۔

آج پاکستان کے تقریبا تمام اخبارات میں یہ خبر موجود ہے کہ "بلوچستان یونیورسٹی میں گذشتہ چھ ماہ سے اُسکے کسی بھی ملازم کو تنخواہ نہیں ملی ہے۔ وفاقی حکومت کی مسلسل عدم توجہی اور فنڈز کی عدم فراہمی کے نتیجے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے مرکزی حکومت سے مایوس ہو کر بالآخر فیصلہ کیا کہ تمام اساتذہ گورنر ہائوس، وزیراعلیٰ ہائوس اور دیگر اہم مقامات پر کشکول اٹھا کر بھیک مانگیں گے، بلوچستان یونیورسٹی اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حکیم اللہ نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد کےلیے آج سے بھیک مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 465اساتذہ اورتقریبا 1200ملازمین آج سے سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آئینگے"۔ حکومت کی غفلت اور ہایئرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے فنڈ کی 50 فیصد کٹوتی سے بلوچستان یونیورسٹی میں تدریسی عمل رک گیا، جب کہ یونیورسٹی کے پاس اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی رقم موجود نہیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبداللہ خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور ایچ ای سی کو یونیورسٹی کے مالی بحران سے آگاہ کر دیا تھا۔ ایچ ای سی کی 50 فیصد کٹوتی سے بیرون ملک اسکالر شپ کےلیے گئے سینکڑوں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے زیر اہتمام 27 اکتوبرکی شام بیس افراد کا ایک قافلہ کراچی کےلیے پیدل روانہ ہوا۔۔ اس قافلہ کی قیادت ستر سال کے بزرگ قدیر بلوچ عرف ماما قدیر کررہے تھے، قدیر بلوچ کے ساتھ اس لانگ مارچ میں 12عورتیں اور 8مرد شامل تھے۔ ان میں صاحب خان عمرانی کی بوڑھی والدہ اور محمد رمضان بلوچ کا دس سالہ بیٹا علی حیدر کے علاوہ اور دیگر لاپتہ افراد کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ یہ قافلہ کوئٹہ سے کراچی 730 کلو میٹر کے فاصلے کو 27 دن میں روزانہ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے پیدل سفر کرکے کراچی پریس کلب پہنچا۔ ان بیس افراد میں بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل واحد خاتون ہیں جنھوں نے کوئٹہ سے کراچی تک لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کے لیے پیدل مارچ کیا۔بی بی گل جاگرافی اور بلوچی زبان میں "ڈبل ایم ائے" ہیں اور گزشتہ ایک سال سے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن سے وابستہ ہیں۔ ہاتھوں میں مقتول بلوچ دانشور اور شاعر صبا دشتیاری کی تصویر اور پیروں میں ربڑ کی معمولی سی چپل، وہ کوئٹہ میں قتل کیے گئے لیاری کے رہائشی پروفیسر صبا کی رشتے دار نہیں۔ ان کے گھر سے نہ کوئی لاپتہ ہوا اور نہ کوئی ناخوشگوار واقعے پیش آیا لیکن وہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے مارچ میں شریک تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانیت اور ایک بلوچ کے ناتے انھوں نے لانگ مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا، یہ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ بلوچستان میں جو نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ان کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اس لانگ مارچ میں شریک ہوں اور دیکھوں کہ کون اس کی حمایت کرتا ہے؟

بلوچستان میں مسلم لیگ ن ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی مخلوط حکومت میں شامل ہے اور بڑی دیر کے بعدڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اپنی کابینہ مکمل کرپائے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بلوچستان احساس محرومی کا شکار ہےجسکی وجہ بلوچستان کی پسماندگی ہے، لیکن اب حالات اس سے بہت آگے جاچکے ہیں۔ ۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بدامنی اور لاقانونیت ہے، غیر مطمئن بلوچوں کی بغاوت اور ملک سے علیحدگی کی تحریک کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور بم دھماکے روزمرہ کا معمول ہیں۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خونی واقعات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزارہ برادری کے گھر گھر میں ماتم برپا ہے اور قبیلے کے ساٹھ فیصد پڑھے لکھے لوگ بلوچستان سے چلے گئے ہیں۔ مستونگ، قلات، خضدار اور دوسرے اندرونی علاقوں میں روز مرہ کے کام کرنے والے اپنی جانیں بچانے کے لئے بھاگ چکے ہیں، کئی پروفیسر، اسکول ٹیچرز، ڈاکٹر، صحافی، وکلا اور دوسرے ہنر مند لوگ قتل ہوچکے ہیں۔ دو سو سے زائد پروفیسر، ان گنت ٹیچر اور سرکاری ملازم نوکریاں چھوڑ کر یا تبادلے کراکے دوسرے صوبوں میں چلے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حفاظتی اقدامات اور مدافعانہ کاروائیوں کے باجود دہشت گردی جاری ہے۔ خوف و ہراس کی اس فضا میں ایک جائزے کے مطابق دوسروں کے علاوہ 60فیصد بلوچ نوجوان بھی نفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔ اپنی جان و مال کو لاحق خطرات کی وجہ سے لوگ خصوصاً تجارت، تعلیم صحت اور قانون کے پیشوں سے وابستہ اہل علم و ہنر صوبے سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

آج مجھے گیس کا سلنڈرلانے والا وہ بلوچ نوجوان یاد آرہا ہے جو میرئے یہ کہنے پر " کہ اسطرح تم پاکستان کو بدنام کررہے ہو، تم واپس پاکستان چلے جاوُ وہاں تم کو لازمی نوکری مل جائے گی" کوئی جواب دیئے بغیر چلا گیا تھا، لیکن اگر آج میں اسکو ایسا کہتا تووہ جواب میں کہتا کہ یہاں گیس کا سلنڈربیچنا اس لیے بہتر ہے کہ کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے مگرہمارئے ملک میں یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو تو چھ ماہ تک تنخواہ نہیں ملتی، میرے ماں باپ مجھے کہیں نہیں ڈھونڈتے ہیں کیونکہ میں ان سے دور ضرور ہوں مگر لاپتہ نہیں ہوں، انہیں یہ بھی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی مجھے قتل کردیگا یا کسی بم بلاسٹ کا شکار ہوجاونگا، لہذا میں جو ڈبل ایم اے ہوں گیس کا سلنڈربیچ کرکچھ کما لیتا ہوں اور زندہ ہوں۔ گمشدہ افراد کے مسلئے میں نواز شریف الیکشن سے پہلے بہت تڑپا کرتے تھے، تڑپتے تو اور بہت سے مسائل پر بھی تھے مگر یہ کمبخت اقتدارسارے وعدے اور ساری تڑپ بھلادیتا ہے۔ مگر میں پھر بھی کہتا ہوں "حکمرانوں بلوچستان کےلیے کچھ تو کرو"۔

بےباک
12-04-2013, 08:54 AM
بہت ہی تلخ سچ لکھا ،
واقعی ہم نے ہی درد دئیے ہیں اور ہمیں ہی اس کا مداوا کرنا ہے، ہماری حکومت کی نالائقیاں اور قانون کو علمداری سے دوری ہے ،
جناب سید انور صاحب ، تحریر میں چھپا ہوا درد محسوس ہی نہیں ہوتا بلکہ اس نے ہمیں تڑپا دیا ہے ،
آپ کی تحریر ایک نشتر کی صورت ہے ۔