PDA

View Full Version : علامہ اقبال مرحوم کے لطیفے



بےباک
12-10-2013, 09:01 AM
http://files.igirlsgames.com/uimg/ublog/238285/20121108/201211081432545f4debe4.jpeg
اخبار ’’وطن‘‘ کے ایڈیٹر مولوی انشاء اﷲ خان اکثر علامہ اقبال سے ملنے ان کے ہاں جایا کرتے تھے اس زمانے میں اقبال کی رہائش انار کلی میں تھی۔ اور وہیں پیشہ ور خواتین بھی آباد تھیں۔ میونسپل کمیٹی نے ان کے لیے دوسری جگہ تجویز کی۔ اور ان کو وہاں سے اٹھادیا گیا۔ اس زمانے میں مولوی انشاء اﷲ خان اقبال سے ملنے کئی مرتبہ ان کے گھر گئے۔ مگر وہ نہ ملے۔ اتفاق سے کئی پھیروں کے بعد مل گئے تو مولوی صاحب نے مزاحاً کہا ’’ڈاکٹر صاحب ! جب سے خواتین انارکلی سے اٹھوادی گئی ہیں‘ آپ کا دل ہی یہاں نہیں لگتا‘‘۔
اقبال نے فی البدیہہ کہا۔ مولوی صاحب! کیا کیا جائے‘ آخر وہ بھی تو وطن کی بہنیں ہیں‘‘۔
مولوی صاحب کٹ کے رہ گئے
…٭٭٭…
علامہ اقبال کو حکومت کی طرف سے ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ انہوں نے اسے قبول کرنے کی یہ شرط رکھی کہ ان کے استاد مولوی میر حسن کو ’’شمس العلماء‘‘ کے خطاب سے نوازا جائے۔ حکام نے یہ سوال اٹھایا کہ ان کی کوئی تصنیف نہیں انہیں کیسے خطاب دیا جاسکتا ہے؟
علامہ نے فرمایا ’’اُن (مولوی میر حسن) کی سب سے بڑی تصنیف میں خود ہوں‘‘ ۔چنانچہ حکومت کو ان کے استاد کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینا پڑا۔
…٭٭٭…
اکبر الٰہ آبادی نے علامہ اقبال کے لیے الٰہ آباد سے لنگڑے آموں کا پارسل بھیجا۔ علامہ اقبال نے پارسل کی رسید پر دستخط کرتے ہوئے یہ شعر بھی لکھ دیا:
اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبرؔ
الٰہ آباد سے لنگڑا چلا‘ لاہور تک آیا
…٭٭٭…
علی گڑھ میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس میں علامہ اقبال بھی تشریف فرما تھے۔ مشاعرے کے اختتام پر کالج کے چند شوخ طلبہ نے علامہ اقبال کو پریشان کرنے کے لیے ایک مصرع گھڑ کر علامہ سے گرہ لگانے کی درخواست کی۔ مصرع یہ تھا۔
مچھلیاں دشت میں پیدا ہوں‘ ہرن پانی میں
حضرت اقبال ایسے بکھیڑوں سے پرہیز فرمایا کرتے تھے لیکن جب طالب علموں نے بے حد اصرار کیا تو آپ ڈائس پر تشریف لائے۔ اور گرہ لگاکر شعر مکمل کردیا۔
اشک سے دشت بھریں‘ آہ سے سوکھیں دریا
مچھلیاں دشت میں پیدا ہوں‘ ہرن پانی میں
…٭٭٭…
ایک دفعہ علامہ قبال سے سوال کیا گیا کہ ’’ عقل کی انتہا کیا ہے؟‘‘
جواب دیا ’’حیرت‘‘
پھر سوال ہوا ’’عشق کی انتہا کیا ہے؟‘‘
فرمایا ’’عشق کی کوئی انتہا نہیں‘‘
سوال کرنے والے نے پوچھا ’’ تو آپ نے کیسے کہا‘ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں‘‘
علامہ قبال نے مسکراکر جواب دیا’’ دوسرا مصرعہ بھی تو پڑھیے جس میں اپنی حماقت کا اعتراف کیا ہے۔ ’’میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں!‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب : سیما سراج

تانیہ
12-10-2013, 10:28 PM
اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبرؔ
الٰہ آباد سے لنگڑا چلا‘ لاہور تک آیا
ہاہا
’’میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں!‘‘

زبردست
بہت زبردست شیئرنگ ہے ۔۔۔۔تھینکس

saba
07-05-2014, 11:13 PM
ہاہااہاہاہا مزا آگیا پڑھ کر۔زبردست شئیرنگ

نگار
07-06-2014, 03:00 AM
سواد آ گیا پڑھ کر :smiley-computer005: