PDA

View Full Version : عاشوراء کا روزہ ، دس محرم کا روزہ



شاہ زاد
12-15-2010, 09:16 AM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
صومِ عاشورا،
دس محرم الحرام کا روزہ
ماہ ذوالحجہ ١٤٣١ھ؁ کی آخری شام کا سورج غروب ہوتے ہی ماہ محرم الحرام ١٤٣٢ھ؁ کا چاند طلوع ہوا، نیا سال ، نیا مہینہ آپہنچا، گزشتہ سال ، گزشتہ مہینہ ماضی کا حصّہ بن گیا۔ رات و دن کی آمد و رفت کا یہ سلسلہ ازل سے قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا۔رات و دن کی آمد و رفت کائنات کا کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ اس آنے جانے میں عقل والوں کے لیے علامات اور نشانیاں ہیں، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
''یقینا رات اور دن کے آنے جانے میں غور و فکر کے مواقع ہیں ان لوگوں کے لیے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔''(آل عمران:١٩٠)
قمری سال کی ابتداء ماہ محرم سے ہوتی ہے ، محرم''حرمت'' اور احترام سے ہے، یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآن کریم میں ''اشھر حرم'' یعنی احترام اور حرمت والے مہینے قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
'' یقینا اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اللہ کی کتاب میں ، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔''(التوبہ:٣٦)
ان چار مہینوں سے مراد ذوالقعدہ، ذوالحجۃ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔چناں چہ علامہ ابن جریر الطبری (٢٢٤ھ۔٣١٠ھ) نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک روایت نقل کی ہے ، فرماتے ہیں:
''حجۃ الوداع کے دن منیٰ میں خطبہ دیتے ہوئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''اے لوگو! زمانہ اپنا دور پورا رکرتا ہوا ایک مرتبہ پھر اسی حالت میں آپہنچا ہے جو زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق کے وقت تھی، اللہ تعالیٰ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے، ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں ، پہلا رجب جو جمادیٰ الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے، پھر ذوالقعدہ، پھر ذوالحجہ اور پھر محرم۔'' (تفسیر طبری، تفسیر سورہ توبہ آیت ٣٦)
ان مہینوں کا تقدس و احترام اسلا م سے قبل بھی رائج تھا اور اہل عرب جو جنگ و جدل کے خوگر تھے وہ بھی ان مہینوں میں جدال و قتال سے پرہیز کرتے تھے ۔ اسلام نے بھی ان مہینوں کی حرمت و عظمت کو برقرار رکھا۔
ماہ محرم تمام کا تمام حرمت و عظمت کا مہینہ ہے تاہم اس میں ایک دن ایسا بھی ہے جس میں روزہ رکھنے کی بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے ،یہ دن محرم کی دسویں تاریخ کا دن ہے ، جسے عام طور پر یوم عاشوراء کہا جاتا ہے ۔
چوں کہ ماہ محرّم الحرام میں دسویں تاریخ خصوصی اہمیت کی حامل ہے اس لیے اس لفظ کا استعمال عام ہوگیا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن کی خصوصیت نواسہئ رسول حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی وجہ سے ہے ، لیکن در حقیقت ایسا نہیں، گو اس میں شک نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ اسلام کا کوئی معمولی واقعہ نہیں ، بلکہ اس واقعہ نے انسانیت کی تاریخ پر بہت گہرے اور ان منٹ نقوش چھوڑے ہیں ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محرم کی دسویں تاریخ کو اس کربناک واقعہ کا ہونا محض اتفاق ہی ہے ، نہ اس تاریخ کے روزے کو اس واقعے سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ روزہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے عالی مرتبہ رفقاء کی بھوک و پیاس کی یاد گار کے طور پر رکھا جاتا ہے ۔ بلکہ یہ روزہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ و السلام کی سنت زندہ کرنے کے لیے رکھا، اور رمضان المبارک کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کو اختیار دے دیا کہ اگر کوئی شخص اس دن کا روزہ رکھنا چاہے تو رکھ لے ورنہ کوئی حرج نہیں، جیسا کہ آئندہ آنے والی احادیث سے معلوم ہوگا۔
اسی طرح اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو اس مبارک مہینے اور دن کے بارے میں عوام الناس میں مشہور ہوگئیں ہیں، مثلاً: عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ، حضرت آدم علیہ السلام کو اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ اپنی شان کے لائق عرش پر مستوی ہوئے ، عاشوراء کے دن غسل کرنے والا کبھی بیمار نہ ہوگا، عاشوراء کے دن سرمہ لگانے والے کی آنکھوں میں کبھی تکلیف نہ ہوگی،عاشوراء کے دن اگر کسی نے کسی کو شربت وغیرہ کا ایک گھونٹ بھی پلا دیا تو گویا اس نے کبھی گناہ نہ کیاعاشوراء کے دن روزہ رکھنے سے چالیس سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں، عاشوراء کی رات میں عبادت کرنے سے ساتویں آسمان کے فرشتوں کے ساتھ مشابہت ہونا ، وغیرہ وغیرہ جو باتیں عوام میں مشہور ہوگئیں ہیں ، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، ایسی باتیں بالکل بے اصل ہیں،بلکہ امام ابن جوزی رحمہ اللہ عنہ نے ایسی بہت سی روایات کو موضوع تک کہا ہے ۔
اس لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح دین و شریعت سے ثابت ہو اسی طریقے سے عمل کرنا چاہیے،اپنی عقل سے سوچ سوچ کر یا لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نادانی سے بدعت کا ارتکاب کربیٹھیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نہایت ناپسندیدہ چیز ہے ۔چناں چہ أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسا کام شروع کرے جو پہلے اس میں نہ تھا تو ایسا کام ناقابل قبول ہے ۔''(صحیح بخاری،باب اذا اصطلحوا علی صلح جور۔۔۔۔۔۔رقم:٢٤٩٩)
بلکہ ایک روایت میں تو صاف صاف فرمادیا :'' جس نے ہمارے طریقے سے ہٹ کر کوئی طریقہ اختیار کیا تو وہ طریقہ مردود ہے۔''(سنن ابی داود، لزوم السنۃ،رقم:٣٩٩٠)
اس لیے دین کے معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے اور علمائے کرام سے پوچھ پوچھ کر عمل کرنا چاہیے ۔
عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی بہت فضیلت آئی ہے اور احادیث کی کتابوں میں بہت سی احادیث بیان کی گئیں ہیں، سرِ دست ہم ان میں سے چند احادیث یہاں بیان کریں گے۔
ماہ ذوالحجہ تو گزر گیا ، اس میں حج جیسی عبادت فرض ہے جو جانی اور مالی دونوں طرح کی عبادات کو شامل ہے، جس کی یہ شان تھی کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جس نے اس گھر(بیت اللہ) کا حج اس طرح کیا کہ اس میں نہ کوئی گناہ کیا اور نہ کس قسم کا لڑائی جھگڑا کیا تو گناہوں سے ایسے پاک ہوجائے گا جیسے آج ہی ماں کی کوکھ سے پیدا ہوا ہو۔''(متفق علیہ)
ایک عظمت والا مہینہ رخصت ہوگیا اور ایک عظمت والا مہینہ یعنی محرم الحرام آپہنچا، جس کی شان یہ ہے کہ حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے سے اللہ تعالیٰ گزشتہ سال کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیںگے۔''(ترمذی، باب ما جاء فی الحث علی صوم یوم عاشورائ)۔
اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں فرمایا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی رمضان اور عاشوراء کے روزے سے بڑھ کر کسی دن کے روزے کو فضیلت والا سمجھ کر اس دن کا روزہ رکھا ہو۔(سنن نسائی، رقم:٢٣٣٠)
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے سنا حضرت معاویۃ رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے فرما رہے تھے: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں(یعنی کہیں اس دن کی اہمیت سے غافل تو نہیں ہورہے)، میں نے اس دن (یعنی یوم عاشورائ) کے بارے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:''یہ عاشوراء کا دن ہے ، گو اس دن کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، لیکن میں اس دن روزہ رکھتا ہوں، لہٰذا اگر کوئی اس دن کا روزہ رکھنا چاہے تو رکھے اور اگر کوئی نہ رکھنا چاہے تو چھوڑدے۔''(المؤطأ، باب صیام یوم عاشورائ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا اور فرمایا:کل یوم عاشوراء ہے، لہٰذااس دن آپ خود بھی روزہ رکھیے اور گھر والوں کو بھی رکھوائیے۔''(ایضاً)
أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہئ جاہلیت میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت ملنے سے پہلے عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، ہجرت کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنے تو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے تو عاشوراء کا روزہ منسوخ کردیا گیا، لہٰذا اب اگر کوئی عاشوراء کا روزہ رکھنا چاہے تو رکھے اور کوئی نہ رکھنا چاہے تو کوئی حرج نہیں۔(مؤطأ امام مالک، باب صیام یوم عاشورائ)
ایک روایت میں ہے؛ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے دیکھا، دریافت فرمایا:'' یہ کیا ہے؟'' یہودیوں نے عرض کیا: یہ بہت اچھا دن ہے ، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون)سے نجات عطا فرمائی تھی، لہٰذاحضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بطور شکرانہ) روزہ رکھا تھا ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تم سے زیادہ میرا حق ہے۔'' چناں چہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(بخاری، صیام عاشورائ، رقم:١٨٦٥)
أم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے بھی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت مدینہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا۔ اس کی تشریح میں محدثین کرام فرماتے ہیں: کہ یہودی تو پہلے سے ہی اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے اور تجارت اور دیگر معاملات کی وجہ سے یہودیوں کا اثر و رسوخ مکہ مکرمہ تک بھی تھا، اس لیے زمانہئ جاہلیت میں یہودیوں کی دیکھا دیکھی قریش بھی یہ روزہ رکھتے ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیشہ نیکی اور بھلائی کے کاموں کی طرف زیادہ مائل رہنے کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے ہوں گے، لیکن جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی معمول دیکھا تو یہودیوں سے اس کی وجہ دریافت فرمائی اور وجہ معلوم ہونے پر اور زیادہ تاکید سے عاشوراء کا روزہ رکھنا شروع کردیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ چند روایات ہیں جو عاشوراء کے دن کے روزے کی فضیلت میں پیش کی گئیں، ان روایت کے علاوہ اور بہت سی احادیث و روایات ہیں جومتعدد کتب حدیث میں موجود ہیں، لیکن ان سب کا ذکر کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔
حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص عاشوراء کا روزہ رکھنا چاہے تو اس کے ساتھ محرم کی نویں تاریخ یا گیارہویں تاریخ کا روزہ بھی رکھ لے، یعنی یا تو ٩ اور ١٠ کا روزہ رکھے یا ١٠ اور ١١ کا روزہ رکھے، صرف ١٠محرم کا نہ رکھے، تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت لازم نہ آئے، کیوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے اس کو اس قوم کے افراد میں سے ہی ایک فرد سمجھا جاتا ہے ۔''
لہٰذا یہودیوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے کی وجہ سے کہیں ایسانہ ہو کہ قیامت کے دن ہمیں بھی ان ہی میں سے سمجھا جائے اور ہمارا حشر بھی ان ہی کے ساتھ کیا جائے۔ (نعوذ باللّٰہ من ذلک)
چناں چہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت نقل کی گئی ہے ، فرمایا: ٩ اور ١٠ کا روزہ رکھا کرو، یہودیوں کی مخالفت کرو۔(ترمذی، ما جاء فی عاشوراء أي یوم)
بلکہ مسند احمد کی ایک روایت میں تو اس سے بھی زیادہ وضاحت ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں؛ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' عاشوراء کا روزہ رکھا کرو، یہودیوں کی مخالفت کرو اور عاشوراء کے روزے سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھا کرو۔''(مسند أحمد، رقم:٢٠٤٧)
اس روایت سے نہایت وضاحت سے معلوم ہوگیا کہ ماہ محرم الحرام میں صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھنا صحیح نہیں، بلکہ اس کے نویں یا گیارہویں تاریخ کو بھی روزہ رکھنا چاہیے، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک پر صحیح صحیح عمل کیا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ شب و روز ہمیں اپنی اطاعت ، شریعت اسلامیہ کی اتباع اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں کی پیروی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں اور تمام منکرات و سیأات سے ہمارے حفاظت کرتے ہوئے عمل والی زندگی نصیب فرمائیں، آمین۔

تانیہ
12-15-2010, 09:30 PM
آمین ......نائس،،،جزاک اللہ

بےباک
12-20-2010, 01:00 AM
ماشاءاللہ ،بہت ہی اچھے ،