PDA

View Full Version : گرے ٹریفک



این اے ناصر
12-31-2013, 03:20 PM
السلام علیکم،
سب سے پہلے پی ٹی اے کایہ میسج ملاحظہ فرمائیں۔

اگرآپ کوبیرون ملک سے آنے والی کال لوکل موبائل ، وائرلیس یا لینڈلائن نمبرظاہرکرے تواس نمبرکو8866 پرمفت ایس ایم ایس یا080055055 مفت کال کرکے
Grey Traffic کے خلاف پی ٹی اے کاساتھ دیں۔

یہ میسج پڑھ کرمیرے ذہن میں چندسوالات اُٹھتے ہیں۔

سوالنمبر1۔ گرے ٹریفک کیاہے؟

سوالنمبر2۔اس سے ہمارے ملک کوکیسے نقصان پہنچتاہے؟

سوالنمبر3۔وہ لوگ جوگرے ٹریفک پیداکررہے ہیں وہ کہاں ہیں ؟ اورکیسے کرتے ہیں؟ اصل نمبرکوکیسے چھپاتے ہیں اورلوکل نمبرکوکیسے آٹیچ کردیتے ہیں؟

سوالنمبر4۔ کیایہ لوگ پاکستان میں ہیں یاغیرملک میں بیٹھ کریہ کام کرتے ہیں؟

سوالنمبر5۔ ان لوگوں کواس غیرقانونی چیزسے کیافائدہ ہوتاہے؟

بےباک
01-09-2014, 05:13 PM
پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گرے ٹریفک کی روک تھام کے لئے جاری مہم کے دوران گزشتہ ایک ماہ میں غیر قانونی ٹیلی کام ٹریفک میں ملوث 2 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریسز 1382 موبائل سمز اور 3160 فون اور دیگر آلات کی موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈنٹٹی (آئی ایم ای آئی) کو بلاک کیا۔ اکتوبر 2013 کے آغاز میں نئے گرے مانیٹرنگ سسٹم نے کام کا آغاز کیا تھا۔ جس کے ذریعے ایسے آئی پیز کو خود کار طریقے سے بلاک کیا جاسکتا ہے جو پی ٹی اے کی " وائٹ لسٹ " میں شامل نہیں قائم مقام چئیر مین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے اس حوالے سے ہفتے کو ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ واضح رہے کہ گرے ٹریفک مانیٹرنگ آلات کی تنصیب کے بعد گرے ٹریفک مانیٹرنگ کمیٹی کی ہدایت پر پی ٹی اے نے وائٹ لسٹ میں شامل آئی پیز کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس عمل کے دوران لسٹ کو 51000 سے 10360 آئی پیز پر لے آیاگیا۔ جبکہ اب آئی پیز کو وائٹ لسٹ میں شامل کرنے کیلئے انتہائی تفصیلی طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے۔ مزید براں پی ٹی اے نے اس سلسلے میں ایک ہفتے کے ساتو ں دن 24 گھنٹے دستیاب شکایات مرکز قائم کیا ہے جس میں شکایات کنندگان ای میل (complaint@pta.gov.pk )، ٹال فری نمبر (080055055)، فیکس (051 2878127) اور فری ایس ایم ایس (8866) کے ذریعے ایسے نمبروں کی شکایات درج کرواسکتے ہیں جو بیرون ملک سے آنے والی کال کے دوران لوکل نمبر کے طور پر ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔ پی ٹی اے کو اس سنٹر کے ذریعے اب تک 1944 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان نمبروں کو بلاک کرنے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا گیا ہے۔ دریں اثنا پی ٹی اے نے ایک حالیہ واقعہ میں ایک لانگ ڈسٹنس اینڈ انٹرنیشنل (ایل ڈی آئی) آپریٹر وائز کام کے راولپنڈی اور لاہور میں واقع دفاتر پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ساتھ مل کر چھاپہ مارا اور آلات کو قبضے میں لے کر ملوث افراد کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ کمپنی ایک کروڑ دس لاکھ منٹ ماہانہ ٹریفک غیر قانونی طور پر پاکستان لارہی تھی۔ اسی طرح کراچی میں بھی دو چھاپوں کے دوران 9 گیٹ وے ایکسچنجز کو قبضے میں لیا گیا

بےباک
01-09-2014, 05:18 PM
پشاور : پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تاج آباد میں واقع گھر سے 2افغان باشندے گرفتار کرلئے ،ملزمان افغانستان کی سموں کا سسٹم چلاتے تھے ۔ایس ایس پی نجیب الرحمان نے بتایا کہ ملزمان کا نام بلال اور عبداللہ ہے جن کے قبضے سے17ہزار سے زائد افغان سمیں ،لیپ ٹاپ ،کمپیوٹر اور سسٹم بر آمد کیا گیا ہے ،امکان ہے کہ ان سموں کے ذریعے بھتہ خوری کیلئے کالز کی جاتی تھیں ،ملزمان کا ایک گروپ افغانستان جبکہ پکڑا جانے والا پشاور میں کام کر رہا تھا جوکہ گرے ٹریفک میں ملوث تھے اور ڈیڑھ سال سے غیر قانونی کاروبار چلا رہے تھے ۔ایس ایس پی کے مطابق دونوں ملزمان کو مزید تفتیش کیلئے ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے گا ۔

محمد وقاص
02-23-2014, 12:41 AM
جو فرق قانونی طور پر منگوائے گئے سامان اور سمگل کیے گئے سامان میں ہوتا ہے وہی فرق سادہ فون کالز اور گرے ٹریفک کا ہے۔ اس میں فو کالز دوسرے ممالک سے پاکستان منتقل کی جاتی ہیں مگر اس سے پاکستان ٹیکس یا کنکشن چارچز کی مد میں کوئی پیسہ نہیں ملتا۔
اگر بیرون ملک سے پاکستان میں کال آتی ہے تو ہمارے گیٹ ویے، ایکسچینج وغیرہ استعمال ہوتے ہیں، اس کے سروس چارجز اور ٹیکس ہمیں ملنا چاہیے۔ گرے کال کی صورت میں ان ٹیکس اور فیس کو بچایا جاتا ہے