PDA

View Full Version : بھیڑیا اور شیرپاکستان کےمعاشی قاتل



سید انور محمود
01-01-2014, 05:07 PM
تاریخ: یکم جنوری 2014

بھیڑیا اور شیرپاکستان کےمعاشی قاتل
تحریر: سید انور محمود
معاشی قاتل کے اعترافات (Confessions of an Economic Hitman) ایک کتاب کا نام ہے جو ایک امریکی جان پرکنز نے لکھی ہے۔ یہ کتاب 2004 میں چھپی تھی۔ کتاب کے سرورق پر جو تصویر بنی ہے اس میں ایک گدھ دکھایا گیا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے اور پس منظر میں امریکی جھنڈا ہے۔ ہٹ مین (Hitman) کرائے کے قاتل کو کہتے ہیں۔ پرکنز اپنے آپ کو Economic Hitman کہتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ہم جیسے لوگوں کی تنخواہ بہت زیادہ ہوتی تھی اور ہم ساری دنیا کے ممالک کو دھوکہ دے کر کھربوں ڈالر کا کاروبار کرتے تھے۔ پرکنز کے مطابق اُسکا کام یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک کے سیاسی اور معاشی رہنماوں کو جھانسہ یا رشوت دے کر ترقیاتی کاموں کے لیے عالمی بینک اور یو ایس ایڈ سے بڑے بڑے قرضے لینے پر آمادہ کرے۔ اور جب یہ ممالک قرضے واپس کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے تو انہیں مختلف ملکی امور میں مجبورا امریکی سیاسی دباو قبول کرنا پڑتا ہے۔ پرکنز کے مطابق اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عالمی بینک بھی معاشی کرائے کے قاتلوں کا ایک آلہ ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ میرے کاموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ایسے ممالک کو تلاش کروں جہاں قدرتی وسائل موجود ہوں۔ اور پھر ان ممالک کے لیے عالمی بینک اور اسکی ساتھی کمپنیوں سے بڑے بڑے قرضوں کا بندوبست کروں۔ ساری رقم اور سود چند مٹھی بھر خاندانوں میں چلی جاتی جبکہ اس ملک کے عوام پر قرضوں کا ایسا انبار رہ جاتا تھا جو وہ کبھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہم پھر واپس آتے اور کہتے کہ چونکہ تم قرض ادا نہیں کر سکے ہو اس لیے تمہارا قرض "ری اسٹرکچر" کرنا پڑے گا۔ اب آئی ایم ایف کو گھسنے کا موقع ملتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اُن سے کہتا کہ ہم تمہارا قرض ری اسٹرکچر کرنے میں تمہاری مدد کریں گے، پھر وہ مطالبہ کرتےہیں کہ اپنے بجلی اور پانی کے ذرایع ہمارے کنٹرول میں دے دو یا ہمیں فوجی اڈہ بنانے کی اجازت دی جائے یا ایسی ہی کوئی اور شرط۔ حتیٰ کہ وہ اسکولوں اور جیلوں تک کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

صدر مملکت ممنون حسین کا شکریہ کہ وہ ایک ایسا سچ بول گے جو نہ نواز شریف بول رہے ہیں اور نہ ہی وزیر خزانہ اسحاق ڈار۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ حکومت اعلان کے باوجود قرضوں کا کشکول توڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ ساڑھے چودہ ہزار ارب سے تجاوز کرگیا ہے۔ قرضے ہمارے لئے افیون کا نشہ بن چکے ہیں۔ اس افیون کی عادت ختم کرنے کے لئے مزید افیون کھانا پڑ رہی ہے۔ ساتھ ہی صدر صاحب نے نواز شریف کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حکومت درست سمت میں گامزن ہے اس لئے عوام کو مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی سے جلد نجات مل جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے 2008ء میں اقتدار میں آنے کے وقت پاکستان پر 34 ارب ڈالر کا قرض تھا جو 2013ء میں بڑھ کر 66 ارب ڈالر ہوگیا تھا۔ زرداری جو جنرل پرویز مشرف کو دودھ پینے والا بلا کہہ رہے ہیں مگر بقول ممتاز بھٹو" جس کو زرداری بلا کہہ رہا ہے اس سے ہی شہید بے نظیر نے معاہدہ کرکے این آر او پاس کروایا جس میں سینکڑوں پیپلوں سمیت دیگر سیاستدانوں پر کرپشن اور قتل وغیرہ کے مقدمات معاف ہو گئے۔ اسکے بعد انہوں نے ہی اسکو صدر منتخب کرکے کرسی پر بٹھائے رکھا۔ تب تو یہی بلا بہت پیارا تھا اور اچھا بھی لگتا تھا لیکن اب اسکے دودھ پینے پر بھی اعتراض ہے"۔ اُس پر آئین سے غداری کے علاوہ اور بہت سے الزامات ہیں مگر ایک بھی کرپشن کا الزام نہیں ہے، جبکہ اپنے پانچ سالہ جمہوری دور میں زرداری اور اُنکے ہمنوا اس غریب ملک کی دولت کو بھیڑیوں کی طرح کھاتے رہے۔ پاکستان ساٹھ یا اکسٹھ سال میں جتنا مقروض ہوا تھا پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے صرف پانچ سالہ دور اقتدار میں اُسکو دگنا کردیا، کوئی ادارہ پیپلز پارٹی کی لوٹ مار سے نہ بچا، یہاں تک کے حاجیوں کو بھی نہ بخشا۔ زرداری کے دونوں وزیراعظم کرپٹ ترین تھے، روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے دنیا کے بدترین لٹیرئے ثابت ہوئے۔ یا تو نواز شریف بہت بھولے ہیں کہ اُن کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ پیپلزپارٹی نے ملک کو معاشی طور پر تباہ کردیا ہے یا پھر اب پانچ سال نواز شریف کماینگے۔ زرداری نواز شریف گٹھ جوڑ کے تحت اب باری نواز شریف کی تھی لہذا نواز شریف اپنے جلسوں میں معاشی بد حالی،کرپشن، لوڈ شیڈنگ، طرزِ حکمرانی اور بے روز گاری پر پیپلز پارٹی کی قیادت پر شدید تنقید کیا کرتے تھے اور وعدہ کرتے تھے کہ اگر ہماری حکومت آ گئی تو لوڈ شیڈنگ ختم کر دینگے، کشکول توڑ دینگے ، بین الا قوامی قرضے لینا بند کر دینگے۔لوگوں کو لگا شاید یہ کچھ کریں گے لہذا نواز شریف کو کامیاب کرواکر وزیراعظم بنوادیا، مگر نواز شریف کا خیال ہے کہ چونکہ اب اُنکی باری تھی اسلیے وہ وزیراعظم بنے ہیں۔ زرداری کو وہ حاجی کہتے ہیں اور زرداری اُنکو حاجی کہتے ہیں لہذا سات ماہ میں نواز شریف کی حکومت نے نہ تو کشکول توڑا اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی سہولت دی بلکہ عوام کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ اتفاق سے نہ پیپلز پارٹی کے پاس اور نہ ہی مسلم لیگ نون کے پاس ایک بھی معاشی ماہر موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ جماعتیں اسکی ضرورت محسوس کرتی ہیں، انکا اقتدار میں آنے کا مقصد صرف اور صرف اپنے اثاثے بڑھانا ہوتا ہے، یہ علی بابا چالیس چور ہیں، انکو ملک سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ نواز حکومت میں اقتدار یا تو اُنکےخاندان میں بٹا ہوا ہے یا صرف چند قریبی دوستوں میں، کوئی وزیر خارجہ نہیں، وزیر خزانہ ایک چیف اکاونٹنٹ ہے جو پہلے بھی ایک ناکام وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، لیکن کشکول کا سائز بڑا کرنے میں ماہر ہیں۔

صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا ابھی یہ حکومت تین سال اور قرضے کےلیے بھیک کا پیالہ پھیلاتی رہے گی۔ پاکستان میں سیاست کے نام پر چند خاندان حکومت کررہے ہیں جو اپنے مالی وسائل میں اضافے اور قومی وسائل کی لوٹ مار میں غرق رہتے ہیں۔ یہ ہی حکمراں اس بھیک کے پیالے میں پڑی ہوئی بھیک کو اپنا حق سمجھ کر لوٹ لیتے ہیں اور عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے ان علی بابا چالیس چوروں نے پچاس ارب ڈالر سے زائد کی قومی دولت غیر ملکی بینکوں میں جمع کروا رکھی ہے۔ پاکستان کی ستر فیصد کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے، جن کی روزانہ کی آمدنی دو سو روپے یا اُس سے کم ہے۔ملک کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے بستر ان مریضوں سے بھرے رہتے ہیں جو یہ پانی استمال کرتے ہیں۔ بچوں کی ایک بڑی اکثریت تعلیم سے محروم ہے۔ غیرملکی قرضے یا بھیک ابھی تک پاکستانی عوام کی مشکلات بڑھاتے رہے ہیں ، یہ عام آدمی کے کسی کام کے نہیں اور اس کے نتیجے میں آنے والی نسلیں بھی مشکلات کا شکار ہونگی ۔ پاکستان بنیادی طور پر جن عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض ہے انکا ہمیشہ سے مطالبہ غریب کش اور امرا نواز پالیسیوں کا نفاز رہا ہے۔ اگر حکمراں چاہیں تو اپنے اثاثے بڑھانے کی جگہ پاکستان اور پاکستانی عوام کےلیے سوچیں تو یہ بھیک کا پیالہ ٹوٹ سکتا ہے۔ اسکے لیے ملک کے تمام وسائل کو استمال کیا جائے، صرف ٹیکس کا نظام ٹھیک کرلیا جائے تو شاید آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرروت نہ پڑئے مگر جہاں اسمبلی کے ممبران اور حکمران ہی ٹیکس ادا نہ کرتے ہوں وہاں یہ سب دیوانے کی بڑ ہے۔ 2008ء میں ہر پاکستانی شہری 37000 روپے کا مقروض تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس رقم میں 63000 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوچکا ہے اور 31 دسمبر 2013ءتک ہر پاکستانی ایک لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے پانچ سالہ دور میں 34 ارب ڈالر سے قرض کو بڑھاکر 66 ارب ڈالر پر لے آئی تھی، لیکن مسلم لیگ نون کی حکومت جس حساب سے کشکول کا سائز بڑا کرتی جارہی ہے لگتا ہے یہ قرض کے ہندسے کو 100 ارب ڈالرتک پہنچاکر زرداری کو باری دیگی۔ کیا نصیب پایا ہے اس بدنصیب پاکستانی قوم نے کہ اُسکا صدر قوم کو بتارہا ہے کہ "قرضے ہمارے لئے افیون کا نشہ بن چکے ہیں۔ اس افیون کی عادت ختم کرنے کے لئے مزید افیون کھانا پڑ رہی ہے"۔ لیکن افیون کھانے والے کےلیے کہا جاتا ہے کہ وہ کبھی بھی افیون کھانا نہیں چھوڑتا ہے۔ آصف زرداری جن کی پیپلز پارٹی اسوقت بھی صوبہ سندھ میں حکومت کررہی ہے ، انہوں نے گڑھی خدا بخش میں ایک مرتبہ پھر نواز شریف کو یقین دلایا کہ وہ اُنکے ساتھ ہیں، ساتھ ہی انہوں نے مشرف کوبلا بنادیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ بلا دودھ پی گیا۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ بلا تو دودھ پی گیا لیکن بھیڑیا اور شیر پاکستان کے معاشی قاتل ہیں۔

بےباک
01-10-2014, 11:51 AM
محترم جناب سید انور محمود صاحب ،میں نے یہ کتاب پڑھی ہے بالکل ایسا ہی لکھا ہے ، اس کا اردو ترجمہ بھی آ چکا ہے اور میں نے اردو زبان میں اسی کتاب کو تفصیلا پڑھا ہے
آئی ایم ایف اور ورلڈبینک یہ قاتل معاشی پالیسیاں اور ان کو کنٹرول کرنے کے ہتھکنڈے ہیں ،
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہماری معاشی ناکہ بندی کیے ہوئے ہیں، ان کی مداخلت اس حد تک ہے کہ پاکستان کا بجٹ بھی وہی ادارے بناتے ہیں، ہمیں انگریزوں سے آزادی تو مل گئی لیکن پھر بھی آزاد نہ ہوسکے، اگر عالمی اداروں کے فیصلے نہ مانے تو یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں ملک کا حال عراق، فلسطین، لیبیا اور افغانستان کی طرح نہ کردیا جائے
نوائے وقت کی خبر دیکھئے ،
وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے باعث توانائی کا بحران پیدا ہوا۔ بھارت نے آئی ایم ایف سے اپنی جان چھڑا لی ہے اللہ کرے کہ ہماری جان بھی قرض سے چھوٹ جائے۔ بار بار آئی ایم ایف کے نرغے میں جانا غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، معاملات لٹکانے کے بجائے سخت فیصلے کرنا ہونگے، بجلی بحران کا خاتمہ اور معیشت کی بحالی ہماری پہلی ترجیح ہے، توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں‘ متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں، جرمنی نے کراچی میں سرکلر ریلوے منصوبے میں شمولیت پر حامی بھر لی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے‘ توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں‘ کوئلے‘ ہوا‘ پانی اور سورج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کررہے ہیں حکومت لائن لاسز اور بجلی کے تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ کراچی میں سرکلر ریلوے بنے گی‘ سرکلر ریلوے منصوبہ کے لئے میں نے نیویارک میں جرمنی کے وزیراعظم سے ملاقات میں خود بات کی ہے پھر ان کا پیغام آیا اب جرمنی کا سفیر مجھے ملنے آ رہا ہے‘ سرکلر ریلوے منصوبہ بڑا اہم منصوبہ ہے جو دہائیوں سے بنتا چلا آ رہا ہے لیکن عمل میں نہیں آیا‘ پہلی دفعہ یہ امید پیدا ہونے لگی ہے کہ کراچی میں سرکلر ریلوے بنے گی۔ جاپان سے ہم نے بات کی ہے، جاپان نے کہا ہم دیکھیں گے کہ آپ کے انٹرنیشنل اداروں سے کیا معاہدے ہوتے ہیں اور کس حد تک آپ ٹارگٹس کو پورا کرتے ہیں۔ امریکہ‘ انگلینڈ‘ فرانس اور جرمنی کی طرف سے بھی یہی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں اس کے برعکس بات ہوتی ہے اور ہمارے ملک میں آئی ایم ایف کو برا بھلا سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتنی طاقت دے کہ ہمیں ان پروگراموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ ہم بھی 90 کی دہائی میں باہر نکل رہے تھے۔ بار بار ہم ان کے نرغے میں آ جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ ہمیں ان معاملات میں میڈیا کی سپورٹ چاہئے۔ ایک چینل پر بات ہورہی تھی کہ قرضے بڑھ گئے ہیں اور روپے کی قدر میں کمی آئی ہے اس کے ساتھ کئی تعریفی اور تنقیدی جملے بھی تھے۔ تنقید ہونی چاہئے مگر مفروضوں پر مبنی نہیں مثبت تنقید کا خیرمقدم کریں گے۔ حکومت مثبت تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے صحیح تنقید پر ’’بسم اللہ‘‘ لیکن مفروضوں پر مبنی تنقید کے بارے میں کلیئر ہونا چاہئے، اگر ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کو میڈیا اجاگر کرتا ہے تو اس کی قیمت میں کمی کا ذکر بھی آنا چاہئے۔ 90 کے عشرے میں ہم آئی ایم ایف سے نکل آئے تھے لیکن ماضی حکومتوں ہمیں پھر سے آئی ایم ایف کے پاس لے آئی ہیں۔ دعا کریں ہم اس سے نکل آئیں، معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ روپے کی قدر میں کمی آنے سے قرضوں میں اضافہ ہوا، کوئلے، ہوا، پانی اور سورج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ لائن لاسز کم کرنے اور بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت معیشت کو بہتر بنانے کیلئے حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کام کر رہی ہے جس نے معیشت اور لوگوں کی سماجی زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔ حکومت نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے طویل اور مختصر مدتی جامع پالیسی مرتب کی ہے۔ معیشت کو بہتر بنانے کے لئے حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کام کر رہی ہے جس نے معیشت اور لوگوں کی سماجی زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔ حکومت لائن لاسز اور بجلی کے تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی وی اینکرز بھی موجود تھے، وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجلی بحران کا سامنا ہے۔ حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے طویل اور مختصر مدتی جامع پالیسی مرتب کی ہے۔ کابینہ میں ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ سیاسی صورتحال اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


https://d3hgnfpzeohxco.cloudfront.net/images/bau/97800919/9780091909109/222/0/plain/confessions-of-an-economic-hit-man-the-shocking-story-of-how-america-really-took-over-the-world.jpg