PDA

View Full Version : حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ



گلاب خان
01-17-2014, 08:43 PM
[*=left]خلیفہ منصور کو ایک بزرگ کی نصیحت

عباسی خلیفہ منصور ایک رات طواف کررہا تھا کہ اچانک اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی:
اے اللہ! میں تیری بارگاہ اقدس میں ظلم وزیادتی کے تجاوز ‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص و طمع کے داخل ہوجانے کی شکایت کرتا ہوں“۔
یہ سن کر ”خلیفہ منصور“ وہاں سے نکلا اور مسجد کے ایک کونے میں جاکر بیٹھ گیا اور خادم کو حکم دیا کہ اس شخص کو میرے پاس بلا لاؤ‘ اس شخص کے پاس خلیفہ کا پیغام پہنچا تو اس نے پہلے دورکعت نماز پڑھی‘ حجر اسود کا استلام کیا اور سلام کہہ کرخلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا‘تو خلیفہ نے اس سے مخاطب ہوکر کہا:
”یہ ہم نے تمہیں کیا کہتے سنا؟ کہ: زمین میں زیادتی‘ ظلم وفساد کا بازار گرم ہے‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص ولالچ داخل ہوگئی ہے‘ خدا کی قسم! مجھے تمہاری باتوں کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچی ہے‘ گویا آپ کی باتوں نے مجھے ایک طرح کا بیمار کردیا ہے۔ اس شخص نے کہا:
”اے امیر المؤمنین ! اگر آپ مجھے میری جان کی امان دیں تو میں حقیقتِ حال واضح کردوں ورنہ․․․“۔ خلیفہ نے کہا: ہم نے تم کو امان دی‘ اس پر وہ شخص بولا۔ ”اے میر المؤمنین! خود آپ ہی کی ذات حرص اور دنیوی لالچ کی وبا کا شکار ہوگئی ہے‘ حرص ولالچ کے اس مکروہ وناپاک جذبے نے آپ کو ظلم وزیادتی اور فتنے وفساد کے سد باب سے روک رکھا ہے“ خلیفہ کہنے لگا: تیرا ستیا ناس ہو! میرے اندرحرص و لالچ کیوں کر داخل ہوسکتی ہے؟ میں تو سیاہ وسفید کا مالک ہوں سونا‘ چاندی میری مٹھی میں ہے اور میٹھا کھٹا سب میرے پاس ہے‘ اس شخص نے کہا : ”جس طرح دنیاوی اغراض ومفادات کے شکنجے میں آپ جکڑے ہوئے ہیں‘ اس طرح کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر سب مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کا بار رکھا ہے‘ مگر آپ اس میں غفلت برت رہے ہیں اور مال ودولت جمع کرنے میں مگن ہیں۔آپ نے چونے اور پکی اینٹوں کی دیواریں کھڑی کرکے اور مضبوط آہنی دروازے لگاکراور ان پر مسلح پہرے دار کھڑے کرکے ملازموں پر اپنی دربار تک رسائی کی تمام راہیں مسدود کردیں ہیں‘ لوگوں سے مختلف ٹیکسوں کی شکل میں مال ودولت سمیٹنے کے لئے اپنے عمال کو کیل کانٹے سے لیس کرکے روانہ کررکھا ہے‘ آپ کی رعایا میں صرف مخصوص طبقے کو ہی دربارِشاہی میں شرفِ حضوری حاصل ہے‘ کمزوروں ‘ غریبوں ‘ ستم زدہ اور مظلوم لوگوں کے لئے آپ کے دروازے بند ہیں‘ جب اس طبقہٴ اشرافیہ نے‘ جسے آپ کا تقرب اور دربار میں بلاروک ٹوک رسائی حاصل ہے‘ آپ کو مال ودولت تقسیم کرنے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے دیکھتا ہے تو اس نے اس کو وجہ جواز بناکر خود اس بندر بانٹ پر کمرکس لی ہے اور اس بات کا اہتمام کرلیاہے کہ اس کی مرضی کے بغیر لوگوں کے احوال کی صحیح خبر آپ تک نہ پہنچنے پائے‘ اگر اقتدار میں موجود کوئی نیک بندہ اس طبقے کی غلط روش کی مخالفت کرے تو اس پر الزام تراشیاں کرکے ذلیل ورسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی اور جب وہ نیک بندہ راہ سے ہٹ جاتاہے تو لوگ اس ظلم وتشدد پسند طبقے کی ہیبت اور اثر ورسوخ سے مزید مرعوب ہوجاتے ہیں اور اس سے نباہ رکھنے کے لئے مال ودولت اور ہدایا کا سہارا لیتے ہیں‘ اس طرح اس طبقہ کے لوگ عام رعایا پر ظلم کرنے میں پہلے سے زیادہ مستعد ہوجاتے ہیں‘ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو اثر ورسوخ اور جاہ ومرتبہ کے مالک ہیں‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ شہر ظلم وزیادتی کی آماجگاہ بن چکے ہیں‘ طبقہٴ اشرافیہ کے افراد عملاً آپ کی سلطنت میں شریک ہوگئے ہیں‘ جب کہ آپ ساری صورتحال سے بے پرواہ ہیں‘ جب کوئی مظلوم ظلم کی شکایت لے کر آپ کے دربار میں آنا چاہتاہے تو اس کی راہ روکی جاتی ہے اور اگر آپ کے باہر آنے پرکوئی اپنا مسئلہ پیش کرنا چاہے تو آپ کا اتنا کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ ” یہ فریاد سننے کاوقت نہیں“ اسی طرح اگر آپ ظالموں کے احتساب کے لئے کسی کو محتسب مقرر کریں اور مقربین ومعزز ین کو خبر ہوجائے تو وہ اسے مجبور کرتے ہیں کہ ان کی شکایت آپ تک نہ پہنچائے‘ وہ بے چارہ ان کے خوف سے اپنی زبان بند کرلیتاہے اور یوں مظلوم ‘ شکوہٴ ظلم لئے‘ لئے اس کے یہاں چکر پر چکر لگاتاہے‘ مگر کچھ شنوائی نہیں ہوتی‘ آخر کار جب ہرطرف سے تنگ آکر وہ آپ کے نکلنے پر بے اختیار تڑپ تڑپ کر فریاد کرتا ہے تو اسے اذیت ناک سزا دے کر دوسروں کے لئے نمونہ عبرت بنا دیا جاتاہے‘ یہ سب کچھ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہیں آتا‘ کیا یہی اصلاح ہے؟اے مسلمانوں کے امیر! میرا چین آنا جانا رہتا تھا‘ ایک مرتبہ جب میں وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ کی قوتِ سماعت جواب دے گئی ہے اور وہ کانوں سے بہرہ ہوچکا ہے‘ اس دن بادشاہ نے بھری مجلس میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا‘ اہلِ مجلس اسے صبر کی تلقین کرنے لگے‘ تواس نے سر اٹھایا اور کہا:
”میرا رونا اس لئے نہیں کہ مجھ پر مصیبت آن پڑی ہے‘ بلکہ میں تو اس مظلوم کے لئے رورہا ہوں جو ظلم کی فریاد لے کر داد رسی کے لئے میرا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور میں اس کی بات نہ سن سکوں گا“ پھر کچھ دیر سکوت کے بعدکہنے لگا: اگر سماعت ختم ہو گئی ہے تو کیا ہوا‘بصارت کی نعمت تو ہے۔ جاؤ! اور رعایا میں اعلان کر دو کہ آج کے بعد ملک میں مظلوم فریاد رس کے علاوہ کوئی بھی سرخ کپڑے (لباس) نہیں پہنے گا‘ تاکہ مظلوم کا یہ امتیازی لباس دیکھ کر میں اس کی مدد کرسکوں‘ پھر وہ ہاتھی پر سوار ہوکر نکل کھڑا ہوتا اور مظلوم کی مدد کرتا“ ۔
امیر المؤمنین! اس بادشاہ نے مشرک ہونے کے باوجود اپنی قوم کے ساتھ کس قدر ہمدردی کی اور ایک آپ ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے اور اہل بیت کے ایک فرد ہونے کے باوجود اپنی خواہش نفس کو مسلمان رعایا کی خیر خواہی پر قربان نہیں کرسکتے: اگر آپ ‘ اولاد کے لئے مال وجائیداد جمع کررہے ہیں تو سنیئے! دنیا میں جو بچہ بھی آتا ہے اس کا کوئی مال نہیں ہوتا‘ مگر اللہ تعالیٰ کا سایہ عاطفت مسلسل اس پر دراز ہوتا چلا جاتاہے‘ یہاں تک کہ لوگ اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں‘ آپ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے‘ اللہ تعالیٰ جسے چاہیں عطا فرماتے ہیں اور اگر مال ودولت جمع کرنے سے آپ کا مقصد سلطنت کی مضبوطی اور استحکام ہے تو بنوامیہ کی مثال اور تاریخ آپ کے سامنے ہے‘ ان کا جمع شدہ لاؤ لشکر اور مال ودولت ان کے کسی کام نہ آیا‘ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ جیسا معاملہ کرنا چاہے گا اسے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ہی مال ودولت کے انبار لگا کر آپ اپنے موجودہ رتبے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
اے امیر المؤمنین! کیا آپ اپنی نافرمانی کرنے والے کو قتل سے بڑھ کر کوئی سزا دے سکتے ہیں؟ خلیفہ نے کہا: نہیں۔ اس شخص نے کہا: تو پھر آپ کا اس بادشاہ کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے آپ کو دنیا کی بادشاہت عطا فرمائی‘ وہ تو اپنے نافرمان کو قتل ہی نہیں‘ بلکہ دائمی دردناک عذاب کی سزا دیتا ہے‘ وہ اس سے بخوبی واقف ہے کہ کس چیز کی محبت میں آپ کا دل جکڑا ہوا ہے؟ اور ا س کے حصول کے لئے آپ کے ہاتھ بڑھتے اور قدم اٹھتے ہیں‘ دنیا کی جس بادشاہت پر آپ فریفتہ ہیں‘ کیا وہ اس وقت آپ کے کام آسکے گی‘ جب قادر ِ مطلق آپ سے چھین لے گا اور آپ کو حساب کے لئے لاکھڑا کرے گا؟۔
اس شخص کی باتیں سن کر آخرت کے خوف سے خلیفہ منصور کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی‘ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا: ”کاش میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا“ پھر اس شخص سے کہنے لگا: اچھا اب تم ہی کوئی تدبیر بتاؤ‘ میں کیا کروں؟ وہ شخص کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی طرف لوگ اپنے دینی معاملات میں رجوع کرتے ہیں اور ان کی رہنمائی سے مستفید ہوتے ہیں‘ آپ بھی ایسے ہی لوگوں کو اپنا مقرب بنائیں وہ آپ کی درست رہنمائی کریں گے‘ اپنے معاملات میں ان سے مشورہ کیجئے! وہ آپ کو لغزش سے بچائیں گے۔ خلیفہ نے کہا: میں نے اس کی کوشش کی تھی لیکن وہ مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔ اس شخص نے کہا: انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں آپ انہیں اپنی راہ پر چلنے کے لئے مجبور نہ کریں‘ آپ اپنے دروازے کھول دیں‘رکاوٹیں ہٹادیں‘ مظلوم کے ساتھ انصاف اور ظلم کا خاتمہ کریں‘ غنیمت اور صدقات کا مال وصول کرکے ضرورت مند اور مستحقین میں عدل وانصاف کے ساتھ تقسیم کریں تو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ہستیاں آپ کی خدمت میں خود حاضر ہوں گی اور امت کی فلاح وبہبود میں آپ کا ہاتھ بٹائیں گی۔
گفتگو جاری تھی کہ اسی اثنا میں مؤذن نے آکر سلام عرض کیا اور اذان دی‘ خلیفہ منصور نماز پڑھ کر اپنی مجلس میں لوٹ آیا اور اس شخص کو بلانے کے لئے آدمی بھیجا‘ مگر تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

بےباک
01-19-2014, 08:53 PM
اے مسلمانوں کے امیر! میرا چین آنا جانا رہتا تھا‘ ایک مرتبہ جب میں وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ کی قوتِ سماعت جواب دے گئی ہے اور وہ کانوں سے بہرہ ہوچکا ہے‘ اس دن بادشاہ نے بھری مجلس میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا‘ اہلِ مجلس اسے صبر کی تلقین کرنے لگے‘ تواس نے سر اٹھایا اور کہا:
”میرا رونا اس لئے نہیں کہ مجھ پر مصیبت آن پڑی ہے‘ بلکہ میں تو اس مظلوم کے لئے رورہا ہوں جو ظلم کی فریاد لے کر داد رسی کے لئے میرا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور میں اس کی بات نہ سن سکوں گا“ پھر کچھ دیر سکوت کے بعدکہنے لگا: اگر سماعت ختم ہو گئی ہے تو کیا ہوا‘بصارت کی نعمت تو ہے۔ جاؤ! اور رعایا میں اعلان کر دو کہ آج کے بعد ملک میں مظلوم فریاد رس کے علاوہ کوئی بھی سرخ کپڑے (لباس) نہیں پہنے گا‘ تاکہ مظلوم کا یہ امتیازی لباس دیکھ کر میں اس کی مدد کرسکوں‘ پھر وہ ہاتھی پر سوار ہوکر نکل کھڑا ہوتا اور مظلوم کی مدد کرتا“ ۔

زبردست ، خؤب ، سبق آموز ، انوکھا طریقہ