PDA

View Full Version : من بتلاش تو روم یا بتلاش خود روم



جاذبہ
01-18-2014, 07:34 PM
من بتلاش تو روم یا بتلاش خود روم
عقل و دل و نظرہمہ گمشدگان کوی تو

اردو ترجمہ

میں تیری تلاش میں میں نکلوں یا اپنی تلاش میں جاؤں ؟
میری عقل،دل اور نظر سب کی سب تیرے کوچے میں کھوگئے ہیں۔
-------------


وضاحت


اس شعر میں علامہ صاحب نے راہ روِ محبت کے انتہائی ذوق وشوق کی تصویر کھینچی ہے اورعاشق کا یہ پہلو نمایاں کیا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی دھن میں اپنے آپ کو کھو دے۔
ایک طرف انسان خدا کا متلاشی ہے ،دوسری طرف اسے اپنی تلاش ہے ۔ اس نے
اللہ کی تلاش میں اپنی زندگی اور خودی کی تکمیل بھی کرنی ہے
شاعراستفہامیہ انداز بیان سے پوچھتا ہے کہ اے خدا میں تجھے ڈھونڈوں یا کہ اپنے آپ کو؟
تیری محویت میں میرا دل ،عقل اور نظر سب کھوگئے ہیں۔ نہ تیری خبر ہے نہ اپنا ہوش ۔کہنا یہی ہے کہ راہ شوق کی محویت انتہا کو پہنچ چکی ہے اور پتہ نہیں چلتا کیا کروں۔ تاہم علامہ صاحب کا مقصد یہی ہے کہ یہ محویت ہی مقصد حیات ہے۔ جسے نصیب ہو وہ بڑا خوش نصیب ہے

1331

بےباک
01-19-2014, 09:02 PM
بہت ہی خؤب ، زبردست تشریح کی ،
جزاک اللہ