PDA

View Full Version : جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر



گلاب خان
12-15-2010, 07:39 PM
بچے جہاں خدا کی بے حد عظیم و جلیل نعمت ہوتے ہیں ، وہیں ان کی اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا والدین کی بہت بڑ ی اور بنیادی ذمہ داری ہے ۔ بچوں کے بگاڑ و نکھار کا تعلق گھر سے ملنے والے ماحول اور تربیت سے بہت زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کو جو سوچ، ماحول اور تربیت فراہم کرتے ہیں وہ ان کی پوری زندگی کا رخ متعین کرتی اور ساری زندگی اپنے اچھے یا برے اثرات و نتائج مرتب کرتی رہتی ہے ۔ شروع ہی سے اپنے بچوں کو اچھی باتیں سکھانے ، ان میں صحیح اور غلط اور اچھے برے کا شعور پیدا کرنے ، نیکیوں اور بھلائیوں سے انس و رغبت اور بدی اور گناہ کے کاموں سے بعد و بیزاری پروان چڑ ھانے اور ان کے اندر اچھی عادات، عمدہ رویے اور شائستہ اخلاقیات راسخ کرنے کی شعوری کوشش کرنی چاہیے ۔ یہ بچوں کے معاملے میں والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ ذیل میں اس حوالے سے جوان ہوتے بچوں کی تربیت اور ان کی شخصیت کی اچھی تشکیل و تعمیر سے متعلق چند تجاویز پیشِ خدمت ہیں :

٭) والدین اور دیگر رشتہ داروں کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ہمیشہ شرمندگی سے بچائیں ۔ بعض والدین بچوں کی شرارتوں اور نافرمانیوں سے تنگ آ کر انہیں ہر مہمان کے سامنے رسوا اور شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ صرف اس صورت میں نکلتا ہے کہ بچوں اور والدین کے درمیان فاصلے بڑ ھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے باہمی تعلق میں محبت و احترام کا عنصر کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ بہتر اور مناسب طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو تنہائی میں سمجھائیے اور تنبیہہ کیجیے اور ان کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے لیکن انہیں ہر ایک کے سامنے برا بھلا کہنے اور نادم و شرمسار کرنے سے آخری حد تک پرہیز کیجیے ۔

٭) والدین اور دیگر رشتہ داروں کا تعلق بچے سے بھرپور اعتماد اور حوصلہ افزائی کا ہونا چاہیے ۔ اگر بچہ کبھی کوئی غلطی کربیٹھے تو وہ محض بڑ وں کی مار یا ڈانٹ ڈپٹ سے بچنے کے لیے اسے چھپانے کی کوشش نہ کرے ۔ بچہ اگر خود اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا ہو تو والدین کو چاہیے کہ وہ وسعتِ ظرف سے کام لیتے ہوئے اس کی غلطی کو معاف کر دیں ، اس سے باہمی اعتماد و محبت میں اضافہ ہو گا۔ اسی طرح بچے کے اچھے اور عمدہ کاموں پر اس کی دل کھول کر تعریف کیجیے اور داد دیجیے اور اس طرح اچھے کاموں سے اس کی دلچسپی بڑ ھانے کے لیے اس کی خوب حوصلہ افزائی کیجیے ۔

٭) والدین اور دیگر بزرگوں کو چاہیے کہ وہ جوان ہوتے بچوں سے مرد و عورت کے صنفی تعلق جیسے موضوعات پر بات کرتے ہوئے کبھی نہ ہچکچائیں بلکہ اس سلسلے میں ان کے ہر سوال و تجسس کا معقول اور تسلی بخش جواب دیں ۔ یہ نہایت نازک معاملات ہوتے ہیں اور ان کے حوالے سے فکر و عمل کی غلطیاں بہت مہلک اور تباہ کن نتائج کا باعث ہو سکتی ہیں ۔ اگر انہوں نے ان معاملات میں بچہ کی درست رہنمائی نہ کی تو بچہ ناسمجھ دوستوں اور انٹرنیٹ وغیرہ ذرائع سے غلط سلط معلومات لے کر بہک سکتا اور کسی سنگین گمراہی یا تباہ کن رویے کا شکار بن سکتا ہے ۔

٭) بہت سے والدین اور اساتذہ زیادہ سوالات کرنے والے بچوں کو پسند نہیں کرتے ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جواب دینے کی مشقت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ لیکن یاد رکھیے کہ زیادہ سوالات وہی بچہ کرتا ہے جو ذہین ہوتا ہے ۔ اور زیادہ سوالات پر ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی ان کی تخلیقی قوتوں اور ذہانت کو جلا بخشتی ہے ۔ لہٰذا ایسے بچوں کو خصوصی اہمیت اور توجہ دینی چاہیے اور ان کے سوالات پر برہم ہونے کے بجائے انہیں ان کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دینا چاہیے ۔ اس طرح یہ بچے آگے چل کر بڑ ا مقام پا سکتے اور اپنے والدین کے نام کو روشن کرنے اور معاشرے کی خدمت اور فلاح و بہبود کے سلسلے میں قیمتی کردار ادا کرنے کے قابل بن سکتے ہیں ۔