PDA

View Full Version : شیر کی گردن کا بال اور خاوند کا پیار



محمدانوش
02-01-2014, 03:41 PM
>_>٭شیر کی گردن کا بال اور خاوند کا پیار٭<_<


ایک عورت اپنے گاؤں کے عالم کے پاس گئی اور بولی "مجھے ایسا عمل بتا دیجئے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نہ پائی ہو۔"
وہ عالم کوئی روایتی تعویز گنڈے کرنے والا ھوتا تو جھٹ سے تعویذ لکھتا اور اپنے پیسے کھرے کرتا۔ وہ جانتا تھا کہ خاتون اسے کچھ اور ہی سمجھ کر اپنی مراد پانے کیلئے آئی ہے۔ یہی سوچ کر عالم صاحب نے کہا، "محترمہ تیری خواہش بہت بڑی ہے لہٰذہ اس کے عمل کی قیمت بھی بڑی ہو گی، تو کیا تم یہ قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہو؟"
عورت نے کہا، "میں بخوشی ہر قیمت دینے کیلئے تیار ہوں۔"
عالم نے کہا، "ٹھیک ہے، تو پھر تم مجھے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر لا دو، تاکہ میں اپنا عمل شروع کر سکوں۔"

"کیا شیر کی گردن کا بال۔۔۔!، اور وہ بھی میں۔۔۔!، اپنے ہاتھ سے توڑ کر لا دوں۔۔۔!؟، جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگتے تو میں ہر قیمت دینے کو تیار تھی۔ مگر یہ تو آپ عمل نہ کرنے والی بات کر رہے ہیں۔۔!" عورت نے حیرانگی اور پریشانی کے ملے جلے جذبات میں سب کچھ کہہ ڈالا۔

اورپھر ایک سانس لے کر بولی، "آپ تو جانتے ہی ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے۔ اِس سے پہلے کی میں اُس کی گردن تک پہنچ کر اسکا بال حاصل کر پاؤں وہ مجھے پہلے ہی پھاڑ کھائے گا۔"

عالم نے کہا، "بی بی! میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ اس عمل کے لئے شیر کی گردن کا بال ہی لانا ہوگا اور وہ بھی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاؤ گی۔" عالم نے نپے تلے الفاظ میں بات کو واضح کیا۔

عورت ویسے تو مایوس ہو کر ہی وہاں سے چلی مگر پھر بھی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں اور مخلص احباب سے مشورہ کیا تو اکثر کی زبان سے یہی سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن تو نہیں ہے۔ کیونکہ شیر تو بس اسی وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب بھوکا ہو، اگر شیر کو کھلا پلا کر رکھو تو اس کے شر اور نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندھیں اور جنگل میں جا کر آخری حد تک جانے کی ٹھان لی۔

آخر ایک دن جنگل میں اِس عورت نے ایک شیر کو اپنی طرف آتا دیکھا تو جلدی سے گوشت پھینک کر دور بھاگ گئی، شیر آیا اور گوشت کھا گیا۔ پھر یہ سلسلہ کافی عرصہ چلتا رھا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں الفت بڑھتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے۔ اور آخر وہ دن بھی آن پہنچا جب شیر کو اس عورت کی محبت میں کوئی شک و شبہ نہ رہا تھا۔ عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاتھ شیر کے سر پر پھیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ اپنی آنکھیں موند لیں۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جب عورت نے آہستگی سے شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بھاگتے ہوئے سیدھا عالم کے پاس پہنچی۔
بال اس کے ہاتھ پر رکھتے ہی پورے جوش و خروش کے ساتھ بولی، "یہ لیجئیے شیر کی گردن کا بال، میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے، اب عمل کرنے میں دیر نہ لگائیے، تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کیلئے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نہ ملی ہو۔"

عورت کی پُرجوش تقریر ختم ہوئی تو عالم نے عورت سے پوچھا، "یہ بال حاصل کرنے کیلئے تم نے کیا کچھ کیا تھا؟"

عورت نے جوش و خروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی، اس نے جان لیا تھا کہ بال حاصل کرنے کیلئے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی۔ اور یہ رضا حاصل کرنے کیلئے شیر کا دل جیتنا پڑے گا جب کہ شیر کے دل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر جاتا ہے۔ چنانچہ شیر کا دل جیتنے کیلئے اس نے شیر کے معدے کو باقاعدگی سے بھرنا شروع کیا۔ اس کام کے لئے ایک بہت صبر آزماء انتظار کی صعوبت سے اُسے گزرنا پڑا۔ اور آخر وہ دن آن پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تھی اور اپنا مقصد پانا اس کیلئے بہت آسان ہو چکا تھا۔

عالم نے عورت سے کہا، "اے اللہ کی بندی! میں نہیں سمجھتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی، خونخوار اور خطرناک ہے۔ تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی، جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا؟
جان لے کہ مرد کے دل کا راستہ بھی اس کے معدے سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ خاوند کے پیٹ کو بھر کے رکھ، مگر صبر کے ساتھ، ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو اپنا گرویدہ بنانے کے دوران تو نے کیا تھا۔"

بےباک
02-01-2014, 04:31 PM
عالم نے عورت سے کہا، "اے اللہ کی بندی! میں نہیں سمجھتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی، خونخوار اور خطرناک ہے۔ تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی، جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا؟
جان لے کہ مرد کے دل کا راستہ بھی اس کے معدے سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ خاوند کے پیٹ کو بھر کے رکھ، مگر صبر کے ساتھ، ویسا صبر جیسا شیر جیسے جانور کو اپنا گرویدہ بنانے کے دوران تو نے کیا تھا۔"

سبق آموز قصہ ،
جزاک اللہ جناب

تانیہ
02-23-2014, 09:16 PM
واہ زبردست
سبق آموز