PDA

View Full Version : وکی لیکس او رخدائی لیکس



گلاب خان
12-15-2010, 07:44 PM
آج کل وکی لیکس کے انکشافات کا زبردست چرچاہے جس کی وجہ سے امریکہ کی خفیہ سفارتی دستاویزات دنیا بھر کے سامنے آ گئی ہیں ۔ان دستاویزات میں زیادہ تر امریکی سفارتکاروں کی بیان کردہ وہ معلومات اور تجزیے موجود ہیں جو انھوں نے دیگر ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور حکمران طبقات سے گفتگو کے نتیجے میں حاصل کیے ہیں ۔

عام طور پر سفارتی حلقوں میں کی جانے والی گفتگو خفیہ رہتی ہے اس لیے مختلف ممالک کی حکومتی اور سیاسی شخصیات نے امریکی سفیروں کے سامنے اس اعتماد پر گفتگو کی تھی کہ یہ باتیں ان کے اور امریکی حکام کے درمیان رہیں گے ۔ مگر یہ خفیہ معلومات لیک ہوگئیں اور ان کے عام ہونے کی بنا پر امریکہ اوران شخصیات دونوں کو زبردست خفت کا سامنا ہے ۔ میڈیا کی زبردست ترقی نے ان انکشافات کو اب گھر گھر پہنچادیا ہے اور یہ لوگ نہ صفائی پیش کرسکتے ہیں اور نہ تردید کرنے کے قابل ہی رہے ہیں ۔

وکی لیکس کے ان انکشافات میں لوگ دنیا بھر کے حکمرانوں کی رسوائی کا تماشہ دیکھنے میں مگن ہیں ، مگر انھیں معلوم نہیں کہ ایسا ہی ایک واقعہ عنقریب ان میں سے ہر شخص کے ساتھ پیش آنے والا ہے ۔بہت جلد ہر شخص میدان حشر میں کھڑ ا ہو گا اور اس کا نامہ اعمال پوری انسانیت کے سامنے پڑ ھ کر سنایا جائے گا۔ چھوٹے سے چھوٹا خفیہ عمل، ہر سرگوشی یہاں تک کہ نیت اور ارادے تک کو کھول دیا جائے گا۔کوئی راز اس دن راز رہے گا نہ کوئی بات چھپی رہے گی۔

اس روزلوگوں کے چہروں سے شرافت اور تقویٰ کا نقاب کھینچ کر اتاردیا جائے گا۔ مجمع عام میں آنسوؤں کے ساتھ رونے والوں کی تنہائی کی کارستانیاں سامنے لائی جائیں گی۔دلوں کو گرمادینے والے خطیبوں اور مصنفوں کی خلوتوں کے جرائم اورغفلتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ مجلسوں میں پاکدامنی پر وعظ کہنے والوں کے ہر کمزور لمحے کی وڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ نشر کر دی جائے گی۔عوام کو نیکی اور قربانی کی تلقین کرنے والے رہنماؤں کی ذاتی زندگی میں مفادپرستی کی داستان آشکارا کر دی جائے گی۔میڈیا پر بیٹھ کر امن کی بات کرنے والوں کی ساری خفیہ روداد بیان کر دی جائے جس میں وہ فساد کا درس دیا کرتے تھے ۔خدا پرستی پر تقاریر کرنے والوں کے بارے میں واضح کر دیا جائے گا کہ یہ اکابر پرستی کا شکار تھے ۔عشق رسول میں جھومنے والوں کا پول کھول دیا جائے گا کہ یہ دراصل تعصبات کے اسیر تھے ۔ صالحین سے محبت کے دعویداروں کی حقیقت سامنے آجائے گی کہ یہ دراصل اپنی خواہشات کے پیرو تھے ۔دین کے نام پر جذبات بھڑ کانے والوں کی اصلیت ظاہر ہوجائے گی کہ وہ اصل میں قوم پرست تھے ۔

آج لوگوں کی ساری توجہ صرف دوسروں کی رسوائی کی طرف مرکوز ہے ۔میڈیا پر آنے والے صحافی ہوں یا گلی کوچوں اور دفاتر کے عوام و خواص ہوں ، ہر شخص سیاستدانوں کی رسوائی سے لطف اندوز ہورہا ہے ۔ وہ ان کی حرکتوں ، قول و فعل کے تضاد اور خفیہ و ظاہر کی دو رنگی پر دانتوں میں انگلیاں دیے ہوئے ہے ۔ مگر کوئی نہیں جو اس احساس تڑ پ اٹھے کہ کل قیامت کے دن یہی کچھ اس کے ساتھ ہونے والا ہے۔ وہ سراپا احتساب بن کر اپنے قول و فعل کا جائزہ لے ۔ وہ ایک ناقد بن کر اپنی خلوت و جلوت کے تضاد کو تلاش کرے ۔ وہ خدا کی نگاہ سے اپنے فکرو عمل، علم و عقیدے ، دعو وں اور باتوں کا جائزہ لے ۔ وہ دل سے توبہ کرے اور ہر اس چیز کو زندگی سے نکال پھینکے جو خدا کی مرضی کے خلاف ہو اور قیامت کے دن رسوائی کا سبب بن سکتی ہو۔

’ولی لیکس ‘نے ہم میں سے ہر شخص کو ایک موقع دیا ہے کہ ہم ’خدائی لیکس‘ سے پہلے سنبھل جائیں ۔ کیونکہ عنقریب وہ دن آ رہا ہے جب سارے بھید کھول دیے جائیں گے اور اس دن نہ کسی کے پاس کوئی طاقت ہو گی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا،