PDA

View Full Version : سچّا دھرم



محمدانوش
02-04-2014, 02:07 PM
سچّا دھرم


محمّد علی پارک الہ آباد چوک میں سلے سلاۓ زنانے کپڑوں کا اچّھا شاپنگ سینٹر ہے. کہتے ہیں کہ پارٹیشن کے بعد جب لٹے ہوۓ سکھ اور پنجابی یہاں آۓتو انھوں نے ہی یہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں قائم کرلی تھیں.میری ذاتی راۓ ہے کہ سکھ اور پنجابی شاید بھیک نہیں مانگتا.اب یہاں یوپی اور دوسرے اسٹیٹ والوں نےبھی اپنا کاروبار پھیلا رکّھا ہے.یہاں واجبی قیمت پر سامان کی ورایٹی بھی مل جاتی ہےاس لئےعموما"لیڈیز جب دوسری جگہ سامان تلاش کرکے تھک جاتی ہیں تو ادھر کا ہی رخ کرتی ہیں.
میں اور میری بہن ہم دونوں کو بھی جب اپنی مطلوبہ پوشاک کہیں اوردستیاب نہ ہوئ تو جھک مارکر ادھرہی آۓ. مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں قدم رکھتےہی چاروں طرف دوکانوں سے آوازیں آنی شروع ہوگئیں. "ماتاجی ادھر آئۓ.بہن جی ذرا دیکھ تو لیجیۓ . یہاں مل جاۓ گا. ذرا بیٹھ تو جايۓ. کیاچاہیۓ آپ کو؟"
"کدّو. گوبھی"۰ میرےاس غیر متوقّع جواب سےان کے جوش وخروش میں کمی آئ تو ذرا ہم آگے بڑھے. ابھی کچھ قدم دور ہی چلے تھے کہ سامنےسے آتےہوۓایک نحیف و زارسائل سے ٹکراتے ہوۓ بچے.
" اللّہ کے نام پر. صرف دس روپۓ کا سوال ہے . علاج کے لیۓ. اللّہ کے نام پر مدد کرو وہ تمہاری کرے گا."وہ مسلسل آوازیں لگارہا تھا.
یہ شور شاید اب ہمارا پیچھا نہیں چھو ڑےگا"میں نےجھلا کر کہا.
"ابھی چھوڑے گا" میری بہن نےایک دس کا نوٹ اس کے ہا تھوں میں میں پکڑاتے ہوۓ مجھ سے دھیرے سے انگریزی میں کہا.
میں نے اپنے پرس میں ٹٹولنا شروع کیاتو ہر بار ہاتھ میں سو کا نوٹ آرہا تھا.دس کا نوٹ شاید وہاں تھا ہی نہیں کیونکہ مہنگائ کے سبب اب کی قیمت دس پیسے کی رہ گئ تھی.
ابھی میں یہ سوچ ہی رہی تھی کہ کیوں نہ با با سے یہ کہدوں ہم دونوں ساتھ ساتھ اور ایک ہی گھر کے ہیں.اسی دوران کیا دیکھتےہیں ماتھےپرصندل کاٹیکہ لگاۓ ہوۓاوراپنےمنڈے ہوۓسرکےبالوں کی چوٹی کو سہلاتا ہواسامنے کی دکان سےایک شخص اٹھا.اپنی پرانی بنڈی کی جیب سے ایک نوٹ نکالا روشنی میں تہہ کھول کےدیکھا اور بابا کےہاتھوں میں پکڑا دیا.
حیرانی کے عالم میں بابا اسے دیکھتارہا.
نوٹ پر سو کا ہندسہ صاف چمک رہا تھا.
ہم دونوں نےایک دوسرےکو دیکھا اور دونوں کی زبان سے بے ساختہ ادا ہوا:
"سچّادھرم"