PDA

View Full Version : خرم سلطان۔۔۔۔۔۔ایک غیر معمولی عورت



محمدانوش
02-06-2014, 03:07 PM
خرم سلطان۔۔۔۔۔۔ایک غیر معمولی عورت
======================

ترک عثمانی سلطنت کی اولیّں دو صدیوں تک کاروبار ِمملکت پہ مرد چھائے رہے۔ سلطان سلیمان کے دور میں پہلی بار دو خواتین نمایاں ہوئیں،ایک اس کی والدہ ،دوسری بیگم…خرم سلطان جو ترک حکومت میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سبب بنی۔

یہ خرم سلطان کی بدقسمتی ہے کہ اپنی شہرت کے باعث وہ مغربی مصنفین و مورخین کا محبوب موضوع بن گئی۔انھوں نے پھر اس خاتون سے متعلق کئی جھوٹے سچے قصّے تخلیق کر ڈالے ،سو خرم سلطان کی اصل شخصیت کہانیوں میں گم ہو گئی۔تاہم اس زمانے کی کتب سے بعض بنیادی معلومات ضرور ملتی ہیں۔ ٭٭٭٭ سلطا ن سلیمان کی زندگی میں داخل ہونے والی سب سے اہم عورت ،خرم سلطان یوکرائنی تھی ۔1505ء کے لگ بھگ پیدا ہوئی۔ قیاس ہے ، روسی تاتاروں نے جب مغربی یوکرائن پر حملہ کیا ،تو اسے غلام بنا لیا گیا۔ یہ غالباً 1517ء کی بات ہے۔ وہ پھر بہ حیثیت غلام بکتی بکاتی آخر استنبول میں عثمانی بادشاہ کے حرم پہنچ گئی۔ 1513ء سے شہزادہ سلیمان صوبہ مانیسا کے والی تھے۔ وہیں 1515ء میں ان کے ہاں ایک کنیز ،ماہ دوراںسے بیٹے،مصطفی نے جنم لیا۔ شہزادے اپنی محبوبہ کو ’’گلبہار‘‘ کہہ کر پکارتے ۔ خیال ہے کہ ماہ دوراں کوہ قاف کے ایک سردار کی بیٹی تھی۔ گویا وہ بہ حیثیت غلام شہزادے کے حرم میں داخل نہیں ہوئی۔ 1520ء میں والد، سلیم اول کی وفات کے بعد شہزادہ سلیمان بادشاہ بن گئے۔یوں حسب روایت حَرم کی تمام کنیزیں بھی ان کی ملکیت میں آ گئیں جن میں خرم بھی شامل تھی۔ مغرب میں یہ عورت ’’روکسلانا‘‘ ( Roxelana ) کے نام سے مشہور ہے۔واضح رہے، اس زمانے میں عثمانی بادشاہ کا حرم ایک دوسرے ’’پرانے محل‘‘ میں رہتا تھا۔جبکہ وہ خوددوسرے محل میں مقیم ہوتا۔پرانے محل میں حرم کی سربراہ سلطان سلیمان کی والدہ ،عائشہ حفصہ سلطان تھیں۔ انہیں ہی عثمانی سلطنت میں پہلی ’’والدہ سلطان‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہے…یعنی اس زمانے کی سپرپاور میں سب سے طاقتور عورت۔ پھر بہ لحاظ قوت سلطان کی اس پہلی کنیز کا نمبر آتا جس سے لڑکا پیدا ہوتا۔ سو جب سلطان سلیمان تخت نشین ہوئے، تو سلطنت میں والدہ سلطان کے بعد دوسری طاقتور عورت ماہ دوراں تھی، اس کے بڑے بیٹے، شہزادہ مصطفی کی ماں!مگر خرم سلطان کی آمد نے سب کچھ بدل ڈالا۔مورخین لکھتے ہیں کہ خرم زیادہ خوبصورت نہیں تھی، بلکہ سلطان اس کی ذہانت ،حس مزاح اور ہنس مکھ طبیعت سے متاثر ہوا۔ہمہ وقت مسکرانے کے باعث ہی سلطان اسے ’’خُرم‘‘(خوش،شادماں)کہہ کر پکارنے لگا۔(یہ فارسی لفظ ترکی میں کمالی مت آنے کے بعد ’’حُرم‘‘کہلایا جو اصل نام کی بگڑی شکل ہے) خرم نے جلد اپنی میٹھی میٹھی باتوں اور دلفریب ادائوں سے سلطان سلیمان کے دل میں جگہ بنا لی۔ پھر 1521ء میں اس نے ایک بیٹے،محمد کو جنم دیا،تو یکایک سلطنت کی تیسری طاقتور عورت بن گئی۔1525ء تک خرم کے ہاں مذید چار بچے(مہر ماہ،عبداللہ ،سلیم اور بایزید) جنم لے چکے تھے۔یہ یقینی ہے، بیٹوں کی پیدائش کے بعد ماہ دوراں اور خرم میں چپقلش شروع ہو گئی کیونکہ عثمانی سلطنت میں اصول تھا،صرف بڑا بیٹا ہی باپ کی موت کے بعد نیا حکمران بنتا تھا…اور عموماً وہ اپنے سارے بھائی قتل کرا ڈالتا۔ جب سلطان سلیمان پوری توجہ خرم کو دینے لگے،تو ماہ دوراں میں حسد کا جذبہ جاگ اٹھا۔ممکن ہے، دونوں طاقتور خواتین نے اپنے غلاموں کے ذریعے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں ۔اگرچہ والدہ سلطان نے ان کی لڑائی کو حد سے باہر نہ ہونے دیا۔1533ء میں سلطان سلیمان نے شہزادہ مصطفی کو صوبہ مانیسا کا والی بنا کر وہاں بھجوا دیا۔ یوں شہزادہ ولی عہد قرار پایا کیونکہ روایتی طور پر وہی مانیسا کا والی بنتا تھا۔ماہ دوراں بھی حسب ِروایت اس کے سرپرست کی حیثیت سے ساتھ تھی۔ 1534میں والدہ سلطان چل بسی۔بعد ازاں خرم کا جادو ایسا سر چڑھ کے بولا کہ اسی سال سلطان سلیمان نے اس سے شادی کر لی۔یوں اس روایت کا خاتمہ ہوا کہ عثمانی سلطان اپنی کسی کنیز سے شادی نہیں کرتے تھے۔اس سے قبل سلطان نے خرم کو آزاد کر دیا اور یہ بھی ایک انہونی بات تھی۔ایک اور عجیب و غریب واقعہ یہ ہوا کہ سلطان نے بقیہ کنیزوں سے قطع تعلق کیا اور صرف خرم کے پاس جانے لگا۔یوں حرم میں خرم سب سے طاقتور عورت بن گئی۔ ممکن ہے،اب اس میں یہ تمنا کروٹ لینے لگی کہ وہ سلطان کی بلا شرکت غیر ے مالک بن جائے ۔یہ تمنا پوری ہونے میں پہلی رکاوٹ وزیر اعظم ابراہیم پاشا تھا۔ ابراہیم پاشا بچپن سے سلطان سلیمان کا ساتھی تھا۔سو وہ حکمران بنا،تو اس نے اپنے دوست کو خوب نوازا۔ پہلے 1523ء میں وزیر اعظم بنایا اور پھر اپنی بہن،خدیجہ کے ساتھ اس کی شادی کر دی۔ابراہیم پاشا عثمانی سلطنت کا پہلا وزیر اعظم(یا صدراعظم )تھا اور اس نے اپنی ذمے داریاں بڑے تدبر و مہارت سے انجام دیں۔ 1535 ء تک ابراہیم پاشا سلطنت میں دوسرا طاقتور فرد بن گیا۔ عام خیال ہے، خرم یہ کہہ کر سلطان کو اس کے خلاف بھڑکانے لگی کہ ابراہیم پاشا بادشاہ بننے کی تمنا پال رہا ہے۔ سو مارچ 1536ء میں سلطان کے خاص آدمیوں نے ابراہیم پاشا کو مار ڈالا۔قاتلوں کی زبانیں کاٹ دی گئی تھیںاور کان کے پردے پھاڑے گئے تھے تاکہ وہ کچھ بول یا سن نہ سکیں۔ یوں خرم نے اپنے ایک بڑے دشمن کو مروا ڈالا۔تاہم ترک مورخین کی رو سے یہ واضح نہیں کہ وزیر اعظم کیوں قتل ہواا؟ان کاخیال ہے کہ حد سے زیادہ طاقت و حشمت پا کر ابراہیم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگا۔تبھی سلطان کو محسوس ہوا،اس کا اقتدار و طاقت خطرے میں ہے،سو وزیراعظم مار دیا گیا۔یہ مغربی مصنفین ہیں جنھوں نے خرم پہ شک ظاہر کیا۔ 1541ء میں ’’پرانے محل‘‘ میں پُراسرار طور پر آگ لگ گئی۔مغربی مورخین پھر لکھتے ہیں کہ یہ آگ خرم ہی نے لگوائی تاکہ وہ توپ کپی محل میں سلطان سلیمان کے پاس جا سکے۔یوں سلطان کا قرب پا کر وہ اس پہ مزید حاوی ہو سکتی تھی۔اورایسا ہی ہوا! ایک دن ایسا آیا کہ وہ عسکری و خارجہ امور پر سلطان کو مشورے دینے لگی۔توپ کپی محل میں خرم کی آمد سے عثمانی سلطنت میں عورتوں کا عمل دخل بڑھ گیا جو طویل عرصے جاری رہا۔اسی باعث یہ عرصہ تاریخ میں ’’سلطنتِ خواتین‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ یقینی ہے،خرم نے اپنی من موہنی باتوں اور ناز وادا سے سلطان سلیمان کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ ممکن ہے کہ وہ سلطان کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے اس پہ کالا جادو بھی کراتی ہو۔بعض ترک مورخین نے تذکرہ کیا ہے کہ وہ استنبول کے شہریوں میں ’’جادوگرنی‘‘ کے لقب سے معروف تھی۔مغربی مصنفین کی رو سے شہر میں مشہور تھا کہ وہ حکیموں سے جانوروں کی ہڈیاں وغیرہ خریدتی ہے تاکہ انھیں اپنے جادو ٹونے میں استعمال کر سکے۔ وقت گذرتا رہا ،یہاں تک کے خرم کے بیٹے نوجوان ہو گئے۔مغربی مورخین کا دعوی ہے،اب شہزادہ مصطفے ڈرائونا خواب بن کر اسے نیند سے جگانے لگا۔سو اب وہ اسے مارنے کے درپے ہوئی۔اس نے پہلے سلطان پہ دبائو ڈال کر اپنے داماد،رستم پاشا کو وزیراعظم بنوایا۔پھر دونوں مل کر باپ اور بیٹے کو لڑوانے کی خاطر سازشیں کرنے لگے۔رستم پاشا نے یہ افواہ پھیلادی کہ شہزادہ اپنی سپاہ(ینی چری)کی مدد سے بوڑھے باپ کو ہٹا کر تخت نشین ہونا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے سلطان کو شاہ ایران کے نام لکھا شہزادے کا ایک خط بھی بطور ثبوت دکھایا جس میں اس سے مدد مانگی گئی تھی۔ادھر رستم کے کارندے شہزادے کے حلقے میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے لگے کہ سلطان اپنے دوسرے بیٹے،سلیم کو بادشاہ بنانا چاہتا ہے۔چونکہ مصطفے کو علم تھا، اس کی سوتیلی ماں یہی چاہتی ہے،سو اسے افواہ پہ اعتبار آ گیا۔یوں ساس اور داماد کی سازش نے باپ بیٹے کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ 1553ء میںسلطان سلیمان ایران پہ حملہ آور ہوا۔اس دوران رستم پاشا نے آخری چال چلی۔مصطفے کو پیغام بھجوایا کہ وہ اپنی سپاہ لیے سلطان کی فوج سے آ ملے تاکہ صلح صفائی ہو جائے۔جبکہ سلطان کو یہ پٹی پڑھائی کہ شہزادہ ینی چریوں کو لیے آتا ہے تاکہ اسے قتل کر سکے۔سو 6اکتوبر 1553 ء کو جب غیر مسلح شہزادہ پدری محبت کی مہک محسوس کرتے ارغلی کے مقام پہ خیمہ زن باپ کے خیمے میں داخل ہوا،تو اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ موت اس کی منتظر ہے۔سازش کے باعث سلطان تو یہی سمجھ رہا تھا کہ بیٹا موقع پاتے ہی اسے مار ڈالے گا۔سو خیمے میں چھپے باپ کے قاتلوں نے پہلے ہی وار کر کے بیٹے کو مار ڈالا۔یوں ایک ایسے المیے نے جنم لیا جو ترک عثمانی سلطنت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔شہزادہ مصطفے قابل منتظم،دلیر سپاہی اور عوام دوست والی تھا۔ترک و مغربی،سبھی مورخین متفق ہیں کہ اس کی قیادت میں سلطنت کو مزید عروج ملتا اور وہ ترقی کی نئی منازل پا لیتی۔ اس طرح خرم سلطان کا ایک اور دشمن چل بسا۔مگرترک مورخین سکّے کا دوسرا رخ سامنے لاتے ہیں۔ان کی رو سے مصطفے اوائل میں ولی عہد ضرور رہا، مگر 1541ء میں اسے دور دراز واقع صوبے،اماسیا کی امارت سونپ دی گئی۔یوں وہ ولی عہد ہونے کے منصب سے محروم ہوا۔یہ ممکن ہے کہ خرم نے سلطان پہ دبائو ڈال کر یہ فیصلہ کرایا ہو۔شہزادہ پھر بارہ سال تک اسی معمولی صوبے کا والی رہا۔حتی کہ اسے جنگوں میں شریک نہ کیا گیا۔چونکہ اسے کوئی ترقی نہ ملی،سو وہ باپ سے ناراض ہو گیا۔یوںایسے گھمبیر اختلافات نے جنم لیا کہ باپ مجبور ہو گیا،بیٹے کو قتل کرا دے…آخر اس کا والد بھی اپنے باپ(بایزید دوم)کو زہر دے کر حکمران بنا تھا۔ دوسری طرف شاید یہ رب ِکائنات کی سزا ہے کہ خرم اپنی زندگی میں کسی بیٹے کو بادشاہ بنتا نہ دیکھ سکی…حالانکہ اس کی عمر بھر یہی سعی رہی کہ وہ اپنے کسی بیٹے کو تخت پہ بٹھا دے۔18اپریل 1958ء کو خرم سلطان اپنی نا تشنہ خواہشیں لیے دنیا سے رخصت ہو گئی۔ایک غیر معمولی عورت کے زیر اثر آنے والے سلطان سلیمان کا بڑھاپا بھی اچھا نہیں گذرا۔ان کے دو قابل بیٹے،محمد اور جہانگیر تو پہلے ہی قدرتی موت مر گئے۔اپنے سب سے ہونہار بیٹے کو خود قتل کرا دیا۔پھر 1559ء میں بچ جانے والے دونوں بڑے بیٹوں،سلیم اور بایزید کے مابین خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ سلطان بایزید کی آزادنہ و باغیانہ طبیعت کی وجہ سے سردار اسے ناپسند کرتے تھے،سو انھوں نے خانہ جنگی میں سلیم کا ساتھ دیا۔بایزید سرکاری افواج کا مقابلہ نہ کر سکا اور اہل خانہ کو لیے ایران فرار ہوگیا۔شروع میں ایرانی بادشاہ نے اس کا استقبال کیا۔تاہم شہزادہ سلیم ہر حال میں اپنے بھائی کا خاتمہ چاہتا تھا۔سو مورخین لکھتے ہیں،اس نے ایرانی حکمران کو منہ مانگا سونا دے کر بھائی کو مع خاندان خرید لیا۔چناں چہ 25 ستمبر 1561ء کو ترک جلادوں نے قزوین میں قید بایزید اور اس کے تین بیٹوں کو مار ڈالا۔یوں آٹھ سال بعد سلیم کے بادشاہ بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔ ٭٭٭٭ خرم سلطان کی داستان ِحیات عیاں کرتی ہے کہ وہ اوائل میں پُرآسائش اور جاہ و حشمت کی زندگی گذارنا چاہتی تھی۔جب بیٹے تولد ہوئے تو وہ ان کا مستقبل محفوظ کرنے کی خاطر ہر جائزو ناجائز حربہ اختیار کرنے لگی۔مگر اس کی چالیں عثمانی سلطنت کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں…کیونکہ سلطان سلیمان کے بعد طویل عرصہ عیش و عشرت کے دلداہ شہزادے ہی تخت نشین ہوئے۔ انھوں نے اپنی نااہلی اور عیاشیوں سے ایک بڑی مسلم سلطنت تباہ کر ڈالی۔اخیر عمر میں نو مسلم خرم سلطان خاصی مذہبی اور غریب دوست ہو گئی۔اس نے مساجد بنوائیں اور فلاحی منصوبے شروع کیے۔یوں شاید وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی۔

بےباک
02-06-2014, 03:30 PM
تاریخی معلومات دینے پر آپ کا بے حد شکریہ،
جزاک اللہ

تانیہ
02-06-2014, 09:39 PM
بہت خوب ۔۔۔۔جزاک اللہ

محمدانوش
02-07-2014, 03:49 PM
شکریہ انکل جانی اینڈ لاڈو