PDA

View Full Version : ایک دفعہ قبیلہ بنوسُلَیم کا ایک بوڑھا ضعیف آدمی مسلمان ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ن



گلاب خان
02-07-2014, 12:53 PM
ایک دفعہ قبیلہ بنوسُلَیم کا ایک بوڑھا ضعیف آدمی مسلمان ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کے ضروری احکام ومسائل بتائے اور پھر اس سے پوچھا کہ تیرے پاس کچھ مال بھی ہے ؟ اس نے کہا: ”خدا کی قسم بنی سُلَیم کے تین ہزار آدمیوں میں سب سے زیادہ غریب اورفقیر میں ہی ہوں۔ “
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تم میں سے کون اس مسکین کی مدد کرے گا؟“۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو میں اس کو دیتا ہوں“۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو اب اس کا سر ڈھانک دے ؟۔“ سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اٹھے اور اپنا عمامہ اتارکر اس اعرابی کے سر پر رکھ دیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: ”کون ہے جو اس کی خوراک کا بندوبست کرے؟“ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اعرابی کو ساتھ لیا اور اس کی خوراک کا انتظام کرنے نکلے۔ چند گھروں سے دریافت کیا لیکن وہاں سے کچھ نہ ملا۔ پھر حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا کے مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پوچھا ، کون ہے۔ انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا اور التجا کی کہ ”اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اس مسکین کی خوراک کا بندوبست کیجئے “۔ سیدہ عَالَم رضی اللہ عنہا نے آبدیدہ ہوکر فرمایا:” اے سلمان رضی اللہ عنہ خدا کی قسم آج ہم سب کو تیسرا فاقہ ہے۔ دونوں بچے بھوکے سوئے ہیں لیکن سائل کوخالی ہاتھ جانے نہ دوں گی۔ جاﺅ یہ میری چادر شمعون یہودی کے پاس لے جاﺅ اور کہو فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی یہ چادر رکھ لو اوراس غریب انسان کو تھوڑی سی جنس دے دو۔“ سلمان رضی اللہ عنہ اعرابی کو ساتھ لے کر یہودی کے پاس پہنچے۔ اس سے تمام کیفیت بیان کی وہ حیران رہ گیا اور پھر پکار اٹھا ”اے سلمان !خد اکی قسم یہ وہی لوگ ہیں جن کی خبر توریت میں دی گئی ہے ۔گواہ رہنا کہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لایا“۔ اس کے بعد کچھ غلّہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو دیا اورچادر بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دی، وہ لے کر ان کے پاس پہنچے ۔سیدہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ہاتھ سے اناج پیسا اورجلدی سے اعرابی کے لیے روٹی پکا کر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو دی۔ انہوں نے کہا: ”اس میں سے کچھ بچوں کےلئے رکھ لیجئے ۔“جواب دیا: ”سلمان جو چیز خداکی راہ میں دے چکی وہ میرے بچوں کے لیے جائز نہیں۔“ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روٹی لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ روٹی اعرابی کو دی اورفاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ۔ان کے سر پر اپنا دستِ شفقت پھیرا‘ آسمان کی طرف دیکھا اور دعاکی: ”بارِ الٰہا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تیری کنیز ہے ،اس سے راضی رہنا