PDA

View Full Version : اسلامی تعلیمات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جہاد اسلام کا ایک اہم ستون ہے،



گلاب خان
02-07-2014, 12:56 PM
اسلامی تعلیمات سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جہاد اسلام کا ایک اہم ستون ہے، یہ محض قتال، جنگ یا دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کا نام نہیں۔ بلکہ قتال تو جہاد کا ایک رکن ہے، اور یہ رکن اس وقت ہر مومن پر فرض ہو جاتا ہے جب کفار مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ پر اتر آئیں، اور ان پر ناحق ظلم و ستم کا بازار گرم کریں۔ اور خلیفۂ وقت اندرونی اور بیرونی معاملات کو دیکھتے ہوۓ، قتال یا مفاہمت جو بہتر ہو اس کا فیصلہ کرے۔۔ آج کل چونکہ خلافت کو پارہ پارہ کر دیا گیا ہے، اور خلافت کی جگہ بادشاہت ہے، اور سیاسی حکمرانی ہے، تو اس میں حکم تقسیم ہو جاتا ہے، کہ یا تو حکومت وقت خود سے معاملات دیکھ کر پوری قوم کو ساتھ لے کر ایسا کوئی فیصلہ کرے، جس سے ملت کو فائدہ ہو، نہ کے نقصان، یا پھر ملک کے اہل علم لوگ یعنی مفتیان کرام مسلمانوں کی بے بسی کو مدنظر رکھتے ہوۓ اپنے حکمرانوں کو اس کا مشورہ دیں۔ اور ان سے ان حالات پر جواب کا تقاضا کریں۔ یہاں پر ان مفتیان کرام کا کلمۂ حق بھی کسی جہاد سے کم نہ ہو گا۔
جہاد کے لغوی معنی: کسی کام کی کوشش کے ہے، ﷲ کے راستے میں ہر قسم کی سعی و کوشش اور حق کو سربلند کرنے کے لئے ہر طرح کی جدوجہد ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دی گئی ہے، یہ جدوجہد زبان سے ہو یا قلم سے یا مال سے یا زور بازو سے اس آخری صورت کو جہاد بالسیف (یعنی تلوار کا جہاد) اور قتال فی سبیل اﷲ کہا جاتا ہے ،قرآن کریم میں جہاد کا لفظ اپنے مذکورہ بالا عمومی معنی میں جابجا استعمال ہواہے ؛ چنانچہ فرمایا:” اﷲ کے راستہ میں کوشش کا حق ادا کرو” یہاں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ راہ حق میں تن ، من ، دھن کی بازی لگادیں اور حق کو سربلند کرنے کے لئے جو کچھ کرسکتے ہیں کر گزریں، کیونکہ حکم آ جانے کے بعد کسی کا عذر قبول نہیں کیا جا سکتا، اور چھپ کر پیچھے رہ جانے والا ہی ڈرپوک اور منافق کہلاتا ہے۔
پھر ضروری نہیں کہ یہ جہا د یا جدوجہد دوسروں ہی کے مقابلہ پر ہو، اپنے آپ کے خلاف بھی ہوسکتی ہے، یعنی اپنے اپنے نفس کو زیر کرنا جو سینہ پر چڑھا بیٹھا ہے؛ چونکہ سب سے زیادہ مشکل کام ہی اپنے نفس کو اپنے قابو میں کرنا ہے، اسی لئے اسے ” جہاد اکبر” سب سے بڑا جہاد قرار دیا گیا ہے ، ارشاد نبوی ہے : ” سب سے بہتر جہاد یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس اور اپنی خواہش کے خلاف جہاد کرے “ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰیo فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰیo ’’اور جس نے اپنے نفس کو ہر بری خواہش سے روکا تو یقیناً جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہو گا۔‘‘ النزعٰت، 79 : 40، 41 پھر ارشاد نبوی ہے: کہ ایک غزوہ سے واپسی پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا : ’’اب ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جہاد اکبر کیا ہے؟ فرمایا ’’وہ نفس سے مجاہدہ ہے۔‘‘ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، 13 :
جہاد ایک مسلسل عمل ہے اور اس کی درجِ ذیل اقسام ہیں : 1۔ جہاد بالعلم یہ وہ جہاد ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت پر مبنی احکامات کا علم پھیلایا جاتا ہے تاکہ کفر وجہالت کے اندھیرے ختم ہو اور دنیا رشد و ہدایت کے نور سے معمور ہو جائے۔ یہ سب سے پہلا جہاد ہے، جو اعلان نبوت کے ساتھ ہی مکہ میں شروع کر دیا گیا تھا، اور اسی طرز پر ہر بگڑے ہوۓ معاشرے کا پہلا جہاد یہی ہونا چاہئے۔ یہاں سے اپنے نفس کی تعلیمی ذہن سازی ہوتی ہے، جو اگر حق پر ہو تو ٹیپو سلطان صلاح الدین ایوبی، اور محمد بن قاسم جیسے لوگ وجود میں آتے ہیں، اور اگر یہ ذہن سازی باطل پر ہو تو میر جعفر و میر صادق یا دور حاضر کے بیت اللہ محسود یا غازی رشید یا اور بدنام زمانہ لشکری وجود مین آتا ہے۔ جن کا تعلق اپنے فرقے یا گروہ سے تو ہوتا ہے، لیکن دین اسلام کے ساتھ سواۓ نام کے اور کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔۔
2۔ جہاد بالعمل جہاد بالعمل کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ اس جہاد میں قول کے بعد عمل اور گفتار کی بجائے کردار کی قوت سے معاشرے میں انقلاب برپا کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جہاد بالعمل ایک مسلمان کیلئے اطاعت الہی اور اطاعت رسول کا نام ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اسوۃ حسنہ اور آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیھم اجمعین کے مطابق عمل پیرا ہونے اور اپنی زندگی کو ان احکام اور طریقے کے مطابق بسرکرنے کا نام ہے۔ جیسا کہ بنیاد پہلے بتا دی گئ ہے “جہاد بالعلم” کے ضمن میں، تو عمل بھی پھر اسی کے مطابق ہوتا ہے، یعنی کوئی محمد بن قاسم، تو کوئی دہشتگرد وغدّار ۔۔۔
3۔ جہاد بالمال اپنے مال کو دین کی سر بلندی کی خاطر اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے کو جہاد بالمال کہتے ہیں۔ دین اسلام کی تعلیم اور عمل کے بعد تیسرا نمبر ہے دین کیلئے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ یہاں جہاد بالمال سے اکثر یہ تصور قائم کیا جاتا ہے، کہ مجاہدین کیلئے چندہ جمع کرنا، یا قتال کرنے والوں کیلئے ہی جو رقم دی جاۓ، تو وہی بس جہاد بالمال ہو گی۔۔۔ حالانکہ یہ تصوّر انتہائی غلط ہے، بلکہ جہاد بالمال کا مطلب تو دین کے کسی بھی شعبہ میں مالی مدد فراہم کرنا ہے، یعنی مثلا کسی بھوکے مسلمان بچے کو کھانا کھلا دینا بھی مالی جہاد ہے، کسی محتاج و مسکین کا روزہ افطار کروا دینا بھی مالی جہاد ہے، کسی مدرسے یا مسجد کے اخراجات میں مالی مدد فراہم کر دینا بھی مالی جہاد کہلاتا ہے، اور کسی علمی نشست کو قائم کرنے میں مال فراہم کرنا بھی مالی جہاد کہلاتا ہے، مالی جہاد بس مجاہدین کی جھولیان بھنے کا ہی نام نہیں، کہ وہ جو چاہے آپ کے پیسے کے ساتھ جس کا مرضی قتل کرتے پھرے ۔۔۔ سو اس چیز کو انتہائی باریک بینی سے سوچنا اور سمجھنا ہو گا۔۔۔
4۔ جہاد بالقتال یہ جہاد میدانِ جنگ میں کافروں اور دین کے دشمنوں کے خلاف اس وقت صف آراء ہونے کا نام ہے جب دشمن سے آپ کی جان مال یا آپ کے ملک کی سرحدیں خطرے میں ہو۔ اور اس موضوع پر یاد رہے، کہ اسلامی نظام کے مطابق اے وقت تک کسی بھی قوم کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی جا سکتی جب تک سلطنت کا حاکم اس کیلئے کوئی فرمان جاری نہ کردے، کیونکہ مملکت کی طاقت اور اس کے اثر و رسوخ اور اس قوم کے حالات سے واقف حاکم وقت سے زیادہ کوئی نہیں ہو سکتا، ہاں اگر حکمران عیاش ہو، تو اس کی فرمانبرداری جائز نہیں کسی بھی برے حکم یا برے کام میں۔۔ اور پھر اگر کوئی کفر کے خلاف جنگ کرتا ہوا مارا جائے تو قرآن کے فرمان کے مطابق اسے مردہ نہ کہا جائے بلکہ حقیقت میں وہ زندہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَo ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مردہ ہیں، (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں۔‘‘ البقره، 2 : 154
5۔ جہاد بالنفس جہاد بالنفس بندۂ مومن کیلئے نفسانی خواہشات سے مسلسل اور صبر آزما جنگ کا نام ہے۔ یہ وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحے پر محیط ہے۔ شیطان براہ راست انسان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر نفس کو مطیع کر لیا جائے اور اس کا تزکیہ ہو جائے تو انسان شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اور اس کا صحیح معنوں امتحان ہی اس صورت میں ہوتا ہے، جب آپ “جہاد بالعلم ” سے گزرتے ہیں> نفس آپ کا آپ کو اکساتا ہے، کہ تم بہت بڑا عالم ہو گیا ہے، پھر اگر کوئی “جہاد بالعمل” کر لیا تو پھر نفس اکسانے آتا ہے، کہ تو نے تو بہت بڑا کام کر لیا ہے، اور پھر اگر کوئی “جہاد بالمال” کر لیا جاۓ، تو پھر یہ نفس اکسانے پر آ جاتا ہے، کہ تو نے تو بہت دولت خرج کر دی دین کیلئے، سو تو تو بہت ہی بڑا پرہیز گار بن گیا۔۔۔۔۔ اور اگر “جہاد بالقتال” کر لے تو پھر نفس اکسانے لگ جاتا ہے، او واہ واہ، تو تو بہت بڑا مجاہد ہے، تو تو اللہ کیلئے لڑتا ہے، تجھے تو اب کسی نیک عمل کی حاجت بھی نہیں رہی، تو بس پھر اگر اللہ کا وہ بندہ واقعہ ہی ہدایت یافتہ ہو، اور اللہ کی مدد اسے حاصل ہو، تو وہ فورا پکار اٹھتا ہے، کہ نہیں،،، یہ سب تو بس میرے اللہ کا ہی فضل ہے مجھ پر، ورنہ میں کس قابل تھا۔۔۔ اور اگر شوخی باز اور ہٹ دھرم ہو، تو وہ اپنا سینہ اور ابھار لے گا۔۔ اور اللہ کی زمین پر غرور اور تکبر کرتے ہوۓ، اپنے سارے اعمال کا خود ہی دشمن بن جائے گا۔۔
جہاد بالنفس دراصل اپنے اور اپنے نفس کے درمیان موجود رکاوٹوں کو عبور کرنے کا نام ہے، یہاں تک کہ وہ معرفت الہی، محبت الٰہی، عشق مصطفی اور روحانی مٹھاس کو پالے ۔ جبکہ دوسری قسم میں ایسی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوتا ہے، یہ ہی جہاد اصل میں انسان کو “بندۂ کامل” بناتا ہے، جو انسانیت اور ایمان باللہ کے درمیان حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو پیہم جد وجہد سے دور کرتا جاتا ہے، تاکہ انسان کو اللہ سے ملا دیا جائے. جس سے ایک امن اور محبت والا معاشرہ وجود میں آتا ہے، جہاد کی دونوں قسمیں ، یعنی جہاد بالقتال، اور جہاد بالنفس ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں‘دونوں ہی ایک قسم کی جنگ ہیں. کفار اور محاربین کے ساتھ جنگ فرض کفایہ ہے۔۔۔ اگر کچھ لوگ یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں پر یہ فرض ساقط ہو سکتا ہے، بحکم حاکم وقت، ورنہ جب حاکم وقت یا خلیفہ اعلان کر دے سب کو، تو پھر سب کو حاضر ہونا لازم ہوتا ہے،۔ ۔۔۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “اور یہ مناسب نہیں کہ سارے مسلمان نکل پڑیں، پس ایسا کیوں نہ کیا کہ ہر قوم میں سے چند آدمی نکلیں تا کہ دین کی سمجھ حاصل کر سکیں اور جب اپنی قوم میں آئیں تو ان کو ڈرائیں تا کہ وہ (برے کاموں سے) بچ سکیں۔” (سورۃ توبہ آیت نمبر 122)
اسلام ہر سطح پر اور ہر موقع پر احترام انسانیت کا درس دیتا ہے ۔معمولی قسم کی دہشتگردی بھی خلاف اسلام ہے ۔جہاد کا معنی انسان کی نجی و اجتماعی اور ظاہری و باطنی بھلائی کے لیے بھرپور کوشش ہے۔ جہاد کا لفظ 35مرتبہ قرآن میں آیا ہے اور صرف 4مقامات پر جارح دشمن سے اپنے دفاع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جبکہ بقیہ 31مقامات پر جہاد کہیں بھی قتال یا لڑائی کے معنی میں نہیں آیا۔ علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں اپنے مخالف علماء ومشائخ کے گلے کاٹیں جائیں، اور بے گناہ لوگوں حتی کہ عورتوں اور سکول کے بچوں کو بے دردی کیساتھ شہید کیا جائے ،لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر ان سے جبراً نکاح کیا جائے، یا ان کی عصمت و آبرو کو اپنے لئے حلال سمجھا جاۓ، جس میں اسلامی سٹیٹ کو تباہ اور بے گناہوں کو شہید کرنے کیلئے خود کش حملہ آوروں کو جنت کے ٹکٹ دیئے جائیں، جس میں جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہو، جس میں مساجد اور مزارات اولیاء پر بم دھماکے کر کے نمازیوں اور قرآن خوانی کرنے والوں کو بے دردی کیساتھ شہید کیاجائے۔
جو شخص زمین میں فتنہ و فساد برپا کرے، ڈکیتی و رہزنی اور قتل و غارت کا بازار گرم کرے اور اپنے ان مذموم افعال کے ذریعہ امن و امان کو ختم کر کے خوف و دہشت کی فضا پیدا کرے، تو اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے لہٰذا اسلام میں اس کی سزا بھی سنگین ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: {إِنَّمَا جَزَاء الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ } (33) سورة المائدة ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں، ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی چڑھا دئیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاﺅں کاٹ دئیے جائیں یا ملک سے نکال دئیے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب ہے۔“ سورة المائدة : آیت (33)