PDA

View Full Version : ویسے تو گناہان کبیرہ و صغیرہ کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ایک ایسا گناہ ہے جسے گناہ سمجھ



گلاب خان
02-07-2014, 12:59 PM
ویسے تو گناہان کبیرہ و صغیرہ کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ایک ایسا گناہ ہے جسے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا اور وہ اس فہرست سے خارج بھی ہے اور جس کی طرف مرکوز نہیں بلکہ قابل ذکر بھی نہیں وہ گناہ ہر چند اتنا مخفی بھی نہیں ہے لیکن اجاگر بھی نہیں حالانکہ یہ گناہ امت محمد ﷺ سے بحیثیت ملت سرزد ہو رہا ہے۔ اس وقت مسلمانان عالم دیگر اقوام عالم کے مقابل نہیں ہیں۔ جبکہ زندگی جب سے عالم وجود میں آئی ہے اسے مبارزہ کے سپرد کردیا گیا ہے۔ یہ وہ روح محمدﷺ ہے جو اس امت کے جسد سے نکال لی گئی ہے۔ یہ وہی مقابلے کے میدان سے دوری چشم پوشی اور مجرمانہ غفلت ہے جبکہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تمام حیات طیبہ اسی مقابلے اور مبارزہ کے میدان میں ہمہ وقت حضوری سے معمور ہے۔ ہمارے مذہب کو جو ہر وقت انسان کو میدان میں حاضر رہنے کی تلقین کرتا اور درس دیتا ہے اس کو خانقاہی بنا دیا گیا ہے۔ اس حجرہ نشینی سے کسی کو کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے ہماری نمازوں اور حج اور دیگر عبادات سے کوئی خوفزدہ نہیں ہے۔ اقوام یورپ بھی یہی چاہتی ہیں کہ مسلمانان عالم عہد رفتہ کے عروج کی داستانیں سن کر اور سنا کر تحسین و آفرین کے نعرے بلند کرتے رہیں اور اس عالم ہستی سے بیگانہ وارگزر جائیں یہ اس بات کو سمجھ ہی نہ پائیں کہ خداوند عالم نے اس کائنات کو اس لئے مسخر کیا تاکہ انسان اس میں پیش رفت کرسکے، نئی نئی ایجادات اور تخلیقات کرسکے اپنے آپ کو میدان کارزار میں حاضر رکھے۔ روشن فکرانسان تاریخ میںمعلول بن کر نہیں خالق بن کر ابھرتا ہے۔ کامیابی کے آفاقی اصول ہیں۔ یہ اصول ہر اس شخص کو فائدہ دیتے ہیں جو اس پر عمل کرتا ہے۔ یہ اصول رنگ و مذہب، قوم اور علاقے کی تبدیلی سے اثرانداز نہیں ہوتے۔ یہ گناہ کبیرہ اقوام یورپ سے سرزد نہیں ہوا۔ ان کا تمدن یقیناً قابل مذمت ہے لیکن کیا ان کی اسی عالم ہستی میں پیش رفت اور ترقی بھی لائق تقلید نہیں ہے؟ ایک دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ جو کائنات میں تسخیر کر رہا ہے وہ قرآن کو پڑھے بغیر قرآن ہی پر عمل کر رہا ہے۔ اہل یورپ اس دنیا اور کائنات میں دلچسپی رکھنے کی بناءپر ہر لمحہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں جبکہ اہل مشرق پر جمود طاری ہے۔آلات سماعت و بصر رکھنے کے باوجود اندھے اور بہرے ہیں۔ اس دور میں ایک مسلمان کے عنوان سے ہماری مشکلات کی جڑ استکباری قوتوں کا ہم پر تسلط ہے۔ عالم استکبار یکجا ہو کر کوشاں ہے کہ کہیں عالم اسلام اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑا ہو۔ اس مقصد کیلئے وہ ان کے درمیان فرقہ واریت، گروہی قومی اور لسانی اختلاف کو بھڑکا رہا۔ اگر ہم غورکریں تو ہمارے قدموں کے نیچے کی زمین لرز رہی ہے لیکن مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عبادات اور دین کی حفاظت دین سے ہوگی، ہرگز نہیں بلکہ دین صرف عبادات کا نام نہیں یہ ایک نظام ہے جس کی نگہداشت دنیا میں ترقی اور پیشرفت سے ممکن ہوسکے گی۔ ممکن ہے کچھ لوگ کہیںکہ ہمارے پاس کونسی قوت ہے کہ ہم قیام کرسکیں۔ یہ بات صحیح ہے لیکن عالم استکبار بھی کسی وقت کمزور ہی تھا اس نے اپنے آپ کو قوی بنایا، اس نے طاقت اور قوت کے ذرائع ایجاد کیے اور اپنے آپ کو قوی تر بنایا۔ یہ درست ہے کہ ہم آج ضعیف اور کمزور ہیں لیکن آخر کیوں اسباب قوت ایجاد نہ کریں۔ ویل ڈورنٹ (wel Dornat) نے کہا کسی مذہب نے اسلام کی طرح اپنے پیروکاروں کو قوت اور طاقت کی طرف نہیں پکارا۔ ہمیں سب کچھ اپنے بل بوتے پر کرنا ہوگا۔خدا کسی فرد یا قوم کو بغیر زحمت کے نعمت دیتا ہے نہ بغیر جرم کے ذلت ۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ہم سے کون سا گناہ سرزد ہوا اور ہو رہا ہے کہ ہم اقوام عالم میں رسوائی اورذلت میں مبتلا ہیں۔ ہم نے عالم طبیعت سے چشم پوشی کی۔ کسی بھی قوم کی عالم ہستی میں پیش رفت اور ترقی نہ کرنے کا گناہ کی تجسیم پست روئی اور ذلالت کی شکل میں ہوئی ہے اس لئے کہ لوگوں کے اعمال اور نظام عالم میں گہراربط ہے۔ لذات دنیا اور ضروریات دنیا کے فرق کوملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔لذات کوترک کیاجانا چاہیے مگر وسائل حیات و ضروریات دنیا کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ورنہ اس بات کی سزا قانون قدرت اور مشیت الٰیہہ کے تحت ضرور ملے گی۔ جس طرح عالم شریعت کی اہمیت مسلم ہے اسی طرح عالم طبیعت کی اہمیت بھی کم نہیں ہے۔ انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اخلاقیات اور طبیعات دونوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے، طاقت کا حصول اس کی ضرورت رہی ہے۔ دین اسلام نے طاقت اورقوت کے دو منابع روشناس کرائے ہیں۔ ایک ایمان اور دوسرا علم۔ ایمان کا اظہار انسان کے طبعی اور مادی جسم سے ہی ہوتا ہے۔ نماز، روزہ، حج،زکوٰة، جہاد وغیرہ کا ظہور انسان کے مادی جسم کی حرکت سے ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جس طرح ایمان کو قوی رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ایمان کے اظہار کیلئے ایک صحت مند اور توانا جسم کی ضرورت ہے۔ قوت اور طاقت حاصل کرنے کیلئے نئی نئی ایجادات و تحقیقات لازمی امر ہےں۔ بصورت دیگر ایمان مومن عبادات کا مجموعہ بن کر گوشہ نشین ہو جائے گا۔ علم تفکر کا حسن ہے اور ایمان روح کا۔ علم بھی انسان کو اطمینان عطا کرتا ہے اور ایمان بھی۔ علم اطمینان خارجی اور ایمان سکون باطنی ہے۔ علم بیماری سیلاب، زلزلہ اور طوفان کے مقابل پناہ گاہ ہے۔ جبکہ ایمان اضطراب، پریشانی اور تنہائی کے مقابل پناہ گاہ ہے۔ علم دنیاکو انسان کیلئے سازگار بناتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ نے علم کے شعبوں میں مثالی فکری ادارے قائم کئے۔ ایک نبی اور مرسل بھی خلق خدا کی رہبری کیلئے انسانی قوتوں کو حرکت میں لاتا اورمنظم کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرہ ترقی اور پیش رفت اور کمال اور ارتقاءکے حصول کیلئے مقابلے اور رقابت کا میدان ہے۔اگر ہم خدا اور رسول ﷺ کی نگاہوں میںمحترم اور اقوام عالم کی نگاہ میں عزت کے خواہشمند ہیں تو اقوام غیر کے مقابل ہونے کا تہیہ کرنا ہوگا۔کیا خداوند عالم نے قرآن مجید میں یہ نہیں فرمایا کہ دشمن کے مقابلے کیلئے قوت فراہم کرو! کیا ہم عالم تکوین میں ترقی کیے بغیر اسلام کو ایک عالمگیر مذہب کے طور پر پیش کرسکتے ہیں؟ اگر ہم نے ایسا نہ کیاتو ہم کلیم بے عصا ہیں ۔ حقیقت ہے کہ ہم نے اس خدا کو چھوڑ دیا جو قادر اور توانا ہے، جو خالق ہے ،جس نے کائنات میں عمل تسخیر و خالقیت انجام دینے کا حکم دیا ہے اور ہم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا جس نے دشمن کے خلاف ہر وقت تیار اور بیدار رہنے کا سبق سکھایاہے۔ ہم دنیاکی اہمیت سے غافل ہوگئے۔ یہی دنیا جسے قرآن میں آخرت کی کھیتی کہا گیاہے۔ یعنی جواس دنیا میں کاشت کرو گے وہی تمہاری آخرت ہے۔ خداوند عالم ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم دنیا کو آخرت کی بنیادپر تعمیرکریں۔ہمیں چاہیے کہ ہم عقل احساسات اور جستجو کی قوت کے ذریعے جنہیں خداوند عالم نے ہمیںعطا کیا ہے کام لیں تاکہ ہماری آخرت ہماری دنیا میں ہی ثبت ہو جائے اور ہماری دنیا ہماری آخرت سے مربوط ہو جائے۔ خداوند عالم چاہتا ہے کہ اس کے بندے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی خوشیاں حاصل کریں ۔اس دنیا اور آخرت کی خوشیوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ٭٭٭