PDA

View Full Version : کاندیس سالو کیسے مسلمان ہوئی



بےباک
02-15-2014, 09:26 AM
محترمہ کاندیس سالو کیسے مسلمان ہوئِی


میرا نام کاندیس سالو ہے۔ میری قومیت امریکی ہے۔ میں شکاگو ( صوبہ الینا، امریکا) کی رہنے والی ہوں ۔ میں نے ایک عرب مسلمان سے شادی کر لی ہے ۔ عیسائی ماحول میں میری نشو ونما ہوئی۔ میں اپنے روحانی زندگی کے ابتدائی دور میں کیتھولک فرقے سے تعلق رکھتی تھی، لیکن الله تعالیٰ نے مجھے اسلام کی عظیم نعمت سے نوازا، چناں چہ کچھ دنوں پہلے میں مسلمان ہو گئی ۔ ریاض ( سعودی عرب) کے دعوت وتبلیغ کے ایک دفتر میں ، میں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔

میں نے اپنے میدانِ عمل کے حوالے سے کئی ڈگریاں حاصل کیں ۔ میرا کام انگریزی زبان کی تدریس وتعلیم ہے۔ میں اپنے اس کام سے بے حد خوش ہوں، کیوں کہ میں اپنے اس کام کے ذریعے کسی نہ کسی طرح دوسروں کی مدد کرتی ہوں۔

پچھلے کئی سالوں کے دوران ، میں نے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ اس کے چنداسباب تھے ۔ ان میں ایک اہم سبب میرے شوہر کا عربی مسلمان ہونا تھا، چناں چہ انہوں نے مجھے اسلام کی دعوت دینے اور اس کے اصول ومبادی سے واقف کرانے میں بڑی محنت کی ۔ انہوں نے اپنے اخلاقِ کریمانہ وکردارِ قاہرانہ کے ذریعے مجھے اسلام سے متعارف کرانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مجھے وہ احترام دیا ، جس کی میں بحیثیت بیوی مستحق تھی، اگرچہ میں ان کے مذہب پر نہ تھی۔ میں اس مسلمان شوہر سے شادی پر خوش ہوں ، جس نے اپنی رندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ میرے شوہر کے اخلاقِ کریمانہ کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب کی محبت واحترام کے مستحق قرار پائے اور اس لیے بھی انہیں یہ احترام ملا کہ وہ اپنے مذہب کی پابندی کرنے والے سلیم الطبع مسلمان ہیں۔

جن دنوں میں کویت میں تھی، میرے شوہر کے چچا نے جو ایک دعوتی مرکز میں کام کر رہے تھے ، ایک برطانوی نو مسلم خاتون سے مجھے متعارف کرا یا ، جو ادارہ دعوت وارشاد برائے غیر مسلم خواتین کی فعال ممبر تھیں۔ اس ادارے کے ذریعے میری ہم وطن نو مسلم امریکی خواتین سے شناسائی ہوئی۔ میں ان سے ایمانی ملاقاتیں کرکے لطف اندوز ہوئی تھی۔

میں مسلمانوں میں رہ رہی ہوں۔ یہاں جس چیز نے میری توجہ مبذول کی ، وہ مسلمانوں کا طرزِ زندگی ہے ۔ کویت اور ریاض دونوں جگہ مجھے ایک ہی صورت نظر آئی ۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ مسلمانوں کا روز مرہ کی زندگی پر ان کے دین کا غیر معمولی اثر ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ہونا چاہیے ۔ مجھے مسلم فیملی اور اس کے افراد کا باہمی ارتباط وتعلق پسند آیا۔ میں نے دیکھا کہ مسلمان اپنے پروردگار کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ یہاں کی سڑکیں سرمستوں اور مدہوش لوگوں سے خالی ہیں ۔ یہاں نشہ خوروں کی ٹولیاں ہیں نہ چوروں اور لٹیروں کی جماعتیں، نہ یہاں وہ سماجی بیماریاں نظر آتی ہیں جن کا مغربی معاشرے میں دوردورہ ہے ، چناں چہ لوگ یہاں پورے اطمینان وسکون سے زندگی گزارتے ہیں۔

جو چیز میرے لیے اسلام قبول کرنے کا محرک بنی ، وہ ان سعودی طلبہ کی ( جنہیں میں انگریزی زبان سکھاتی تھی) بے پناہ خواہش تھی کہ میں اسلام قبول کر لوں۔ انہوں نے بار بار اور بااصرار مجھ سے اپنی یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسلام قبول کرکے ان کی بہن بن جاؤں۔ ان کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ ہم سب جنت میں بھی ایک ساتھ رہیں ۔ میں نے ان میں اسلام کی دعوت کے سلسلے میں اخلاص وامانت داری محسوس کی۔ ان کے ان جذبات سے میرا دل متاثر ہوا۔ میں ان کی محبت سے خوش ہوئی، چناں چہ میں نے اسلام کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ میں اسلام کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچی کہ اسلام کی نمایاں خصوصیت گہرائی وگیرائی ہے ۔ وہ اس لائق ہے کہ اس کے اصول ومبادیات سے آگاہ ہوا جائے ، چناں چہ رفتہ رفتہ حقیقت سے قریب ہو گئی۔

قبولِ اسلام سے پہلے چوں کہ میرا پس منظر عیسائی تھا، اس لیے عیسائیوں کے کیتھولک فرقے کی روایات کے مطابق میری نشو ونما ہوئی ، چناں چہ کلیسا کے سربراہ کے ہاتھوں میرا بپتسمہ ( عیسائی مذہب کی ایک رسم جس میں بچے کے سر پر مقدس پانی کے چھینٹے لگا کر اسے عیسائی بناتے ہیں) ہوا اور اس نے مجھے بہت سی نصیحتیں کیں، ساتھ ہی میں اپنی تعلیم کے ابتدائی دور میں مذہبی اسباق میں حاضر ہوئی، نیز میں راہباؤں کی سرگرمی سے بہت متاثر ہوئی۔ مجھے بھی شوق ہوا کہ میں بھی کلیسا کی ایک سر گرم رکن بنوں ، لیکن ایک اہم واقعے نے میری روحانی زندگی کے دھارے کو بدل دیا اور میری مذہبی تحریک پر غیر معمولی اثر چھوڑا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ مجھے شادی کے لیے ایک عرب نوجوان نے پیش کش کی، چوں کہ میں عیسائی مذہب پر تھی اور اس کی تعلیمات کی حد درجہ پابند تھی، اس لیے میں پورے ہمت وحوصلے سے اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتی تھی ، چناں چہ میں کلیسا کے پادری کے پاس اس شادی کے لیے برکت کی دعا کرانے گئی ، وہ بہت ناراض ہوا اور اس نے برکت کی دعا کرنے سے سختی سے انکار کر دیا ، البتہ اس نے کہا کہ میں ایک شرط پر برکت کی دعا کرسکتا ہوں کہ تم وعدہ کرو کہ اپنے بچوں کو عیسائی مذہب کے مطابق تعلیم وتربیت دو گی ۔ عیسائی روایات کے مطابق تعلیم و تربیت کے لیے انہیں کلیسا میں داخل کردینا۔ میں نے اس کی شرط کو مسترد کر دیا، کیوں کہ میں سمجھتی تھی کہ یہ میرے شوہر کا حق ہے ۔ وہ جس طرح مناسب سمجھیں اپنے بچوں کو تعلیم وتربیت دیں۔ نیز میں یہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ میرا شوہر اپنے بچوں کو کلیسا بھیجنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو گا۔ الله کا احسان ہے کہ اس نے مجھے اعلیٰ اخلاق کا مالک شوہر عطا کیا۔ ان کے اخلاق اسلام کے مطابق ہیں ۔ ان کے بار گاہ خدا وندی میں سجدہ ریز ہونے کا منظر میری داخلیت کو ہلا کر رکھ دیتاہے ۔ وہ ایک سچے پکے مسلمان ہیں ۔ میں نے ہمیشہ کے لیے کلیسا کو خیر باد کہہ دیا ۔ نیز کلیسا چھوڑنے کے دوسرے اسباب بھی تھے ۔ پادری ہمیں ایک چیز سکھاتے او رخود اس کے خلاف کرتے۔ وہ ہمیں ایک کام کرنے کا حکم دیتے اور معاً بعد اسے ترک کرنے کے لیے کہتے ۔ تلون مزاجی کی عادت بن چکی تھی ، اس لیے ہم لوگ کسی ایک چیز پر قائم نہیں رہ پاتے، اس کے نتیجے میں مجھے اپنے محرومی اور ضائع ہونے کا حساس دامن گیر رہتا تھا، لیکن ان سب کے باوجود میرا الله پر ایمان مضبوط تھا، چناں چہ میں الله سے مغفرت کی دعا مانگتی تھی۔اس کے بعد میں نے تمام مذہبی فرقوں کو چھوڑ دیا، تا آنکہ میں نے اسلام کے دامن میں پناہ لی ۔ میں اسلام کے ساحل پر پہنچے پر اپنے آپ کوخوش نصیب محسوس کرتی ہوں۔اسلام نے میری زندگی کے رخ کو یکسر تبدیل کر دیا۔ میں اسلام کے ذریعے حق سے آشنا ہوئی اور یقین کے ساحل تک پہنچی۔

سب سے اہم چیز جس نے مجھے اسلام کا گرویدہ بنا دیا، وہ قرآن کریم ہے۔ جس زمانے میں ، میں عیسائی مذہب پر تھی ، اس وقت میں عقیدہٴ تثلیث کی حقیقت نہ سمجھ سکی۔ میں بڑی شدت سے عقیدہٴ تثلیث کے بارے میں اطمینان بخش جواب تلاش کر رہی تھی ، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پادری لوگ میرے سوالات کا بہت سخت اور خشک جواب دیتے ۔ وہ مجھ سے مطالبہ کرتے کہ میں خاموش رہوں اور اپنے ذہن کو اس قسم کے اوہام وخیالات میں لگائے بغیر ایمان لے آؤں، جس چیز کا مجھ سے مطالبہ تھا ، وہ صرف ایمان تھا نہ کہ ردّ وقدح۔

میں ہمیشہ اپنے دل ہی دل میں یہ سوال کرتی کہ ہم مریم علیہا السلام کے سامنے کیوں سجدہ ریز ہوتے ہیں؟ الله کے علاوہ ہم انہیں کیوں پکارتے ہیں ؟ بلکہ ہم پادریوں کے سامنے کیوں سر بہ سجود ہوتے ہیں ؟ ہم ان سے کیوں دعا مانگتے ہیں ؟ ہم عیسٰی مسیح کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ ہم ان سے کیوں لو لگاتے ہیں اور الله سے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ کیا گوشت وپوست سے بنا ہوا ایک انسان الله تعالیٰ کا بیٹا ہو سکتا ہے ؟

اس کے باوجود پادری ہم سے مطالبہ کرتے تھے کہ ہم آنکھیں بندکرکے ایمان لے آئیں، خاموش رہیں اور اس طرح کے موضوعات کو چھیڑنے سے احتراز کریں، جن کا کوئی جواب نہیں ہے۔

جب میں نے کلمہٴ شہادت پڑھا تو میرا دل جھوم گیا، میں نے پوری رضا مندی او رمکمل آزادی سے اسلام قبول کیا۔ میرا شوہر اس مسرت بخش خبر سے بہت خوش ہوا، ساتھ ہی انہوں نے میرے قبول ِ اسلام کے واقعے کو میرا ذاتی فیصلہ قرار دیا اور یہ کہ میرے پروردگار اور میری ذات کے درمیان ایک معاملہ ہے ۔ ایک دن ہمیں اپنے پروردگار سے ملنا ہے ، وہ ہمارے اعمال کا حساب لے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ میں بخوشی وبطیب خاطر اسلام لائی ۔ میں نے اپنے شوہر کو خوش کرنے یادکھانے کے لیے اسلام قبول نہیں کیا۔ میں اسی وقت اسلام لائی ، جب میرے اوپر یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ قرآن الله کا کلام ہے ، اس لیے میری زندگی کے حسین ترین لمحات وہ تھے، جن میں ، میں نے اپنی زبان سے کلمہٴ شہادت پڑھا، کیوں کہ میں نے یہ کلمہ پڑھ کر وہ سچائی پائی، جس کی مجھے تلاش تھی۔

میرے قبولِ اسلام کے تئیں، میرے خاندان کا کیا موقف رہا؟ اس سوال کا جواب کچھ دشوار ہے۔ میرے اپنے خاندان کی حالت بتائے بغیر اس سوال کا جواب مشکل ہو گا۔ واضح رہے کہ یتیمی کے عالم میں میری نشوونما ہوئی۔ میں ماں باپ کی محبت اور اپنے تئیں اہل خانہ کے جذبات سے محروم رہی ۔ میں نے عسرت کی زندگی گزاری۔ کم سنی کے عالم میں میرا گھر چھوٹ گیا تھا، اس کے بعد جلد ہی میں نے شادی کر لی تھی ۔ یہ بات صحیح ہے کہ اکثر رویے الفاظ کی شکل میں نہیں ہوتے ، بلکہ کردار کبھی کبھی الفاظ کے مقابلے میں زیادہ بلیغ ہوتے ہیں ۔ مجھے اس کی خاطر دونوں باتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے میں نے یہ ذہن سے نکال ہی دیا کہ میرے اسلام لانے کے بعد میرے خاندان واعزہ واقارب کا میرے تئیں کیا موقف ہو گا؟ میں نے اس کے رد عمل کی چنداں پرواہ نہیں کی ، کیوں کہ میں جانتی تھی کہ یہ میرا حق ہے ، اس میں کسی کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں۔ میں اپنے شوہر، اس کے خاندان اور دینی بھائیوں کو اپنا حقیقی کنبہ وخاندان سمجھتی ہوں۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ وہ اس سے خوش ہیں کہ میں اسلام قبول کرکے ان کی دینی بہن بن گئی ہوں۔

قبولِ اسلام کے فیصلے سے مجھے نفسیاتی سکون اور روحانی اطمینان ملا اور میں الله تعالیٰ سے بہت قریب ہو گئی۔

مسلمان بھائیوں سے میری درخواست ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے میں صبر ، بردباری اور سنجیدگی سے کام لیں ۔آج کی دنیا میں بہت سے بھلے لوگ ہیں ، لیکن عیسائی کلیسا نے ان کی غفلت سے فائدہ اٹھایا او رانہیں فریب دیا۔ لہٰذا مسلمان بھائیوں سے اپیل ہے کہ وہ ان سرگرداں لوگوں کے لیے دست تعاون بڑھائیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں، ان کے لیے قرآنِ کریم کے نسخے فراہم کریں اور اس بات کا یقین رکھیں کہ حق کی آواز خود بخود بلند ہو گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر مسلمان کے لیے اسلام کی نشر واشاعت کرنا ضروری ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر مسلمان اپنے آپ کو اسلامی اخلاق سے آراستہ کرے۔ روزمرہ کی زندگی میں ان کو مؤثر بنانے کی کوشش کرے، کیوں کہ مغرب کے ذہن میں عرب اور مسلمانوں کی بہت خراب تصویر ہے ۔ اس کے ساتھ انصاف کی ضرورت ہے ۔ کاش وہ لوگ خواہ تھوڑے ہی وقت کے لیے یہاں سعودی عرب اور مسلمانوں میں رہ کر دیکھتے، یہاں وہ ایک ایسا معاشرہ پائیں گے ، جس پر امن وسکون کی بالادستی ہے ، وہ امن جوہمیں مغربی معاشروں میں نہیں ملتا۔ یہاں اعلیٰ اقدار، بالخصوص عائلی اقدار پائیں گے ، جو آج مغرب کے معاشروں سے ناپید ہو چکی ہیں ۔ میں اپنے آپ کو سعادت مند سمجھتی ہوں کہ مشیت ایزدی مجھے کام او ررہائش کے لیے یہاں لائی۔ صحیح بات یہ ہے کہ میری داخلی روحانیت بہتر ہوئی ۔ اسلامی عقائد ومذہبیات کے مطالعے سے میری علمی معلومات سوا ہو گئیں، ساتھ ہی یہاں مجھے بہت سے دینی بھائی اور بہن مل گئے ۔ ہمآپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ، یہ سب بہت اچھے لوگ ہیں ۔

میں نے عزمِ مصمم کر رکھا ہے کہ قرآن کا انگریزی ترجمہ اپنے شناساؤں اور رشتے داروں کو دوں گی ، تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ یہ قرآن برحق ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ الله تعالیٰ لوگوں سے یہی چاہتا ہے ، یعنی دوسروں تک اسلام کی دعوت پہنچانا۔ اسلام تمام دنیائے انسانیت کے لیے ہے ، یہی راہِ حق ہے اور راہِ نجات بھی۔