PDA

View Full Version : چین کے بارے میں دلچسپ حقائق



سقراط
02-17-2014, 11:12 PM
عوامی جمہوریہ چین 1949 میں آزاد ہوا۔ اس وقت چین عالمی معیشت پر تیزی سے چھا رہا ہے۔ عالمی کساد بازاری میں ہر ملک بحران کا شکار ہے لیکن چین اور برازیل واحد ممالک ہیں جن کی ترقی پر عالمی کساد بازاری کا فرق نہیں پڑا۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں چین کی مصنوعات استعمال نہ ہورہی ہوں۔ چین نے کیسے ترقی کی اس کے بارے میں چند حقائق پیش ہیں۔

1۔ ماؤزے تنگ جدید چین کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ چین کو ترقی دینے میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ چین کے لوگوں کو افیون اور ہیروئین کے نشہ کی لت میں مبتلا تھے۔ لیکن ماؤزے تنگ نے اپنی قوم سے یہ لت چھڑوا کر اسے دنیا کی ایک محنتی قوم بنادیا
2۔ ماؤزے تنگ نے تاریخ کے سب سے بڑے لانگ مارچ کے دوران اپنی قوم کو ہدایت کی تھی کہ وہ لانگ مارچ کے دوران چنے اور گرم پانی ساتھ رکھیں۔ چنے تھوڑے سے کھانے سے آپ کی بھوک ختم ہوجائے گی اور گرم پانی آپ کو پیٹ کی بیماریوں سے بچائے گا۔ آج بھی چینی قوم گرم پانی استعمال کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ قوم صحت مند اور توانا ہے۔
3۔چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کررکھا ہے جہاں پارٹی کے اراکین کومتعلقہ شعبوں میں وزیر، مشیر بنانے اور چین کے لئے نئی قیادت تیار کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد ان کو سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اس انسٹی ٹیوٹ کا سرٹیفیکیٹ نہ ہو تواسے وزیر یا مشیر کے قابل نہیں سمجھاجاتا۔ یہاں تک کہ چین کے آنیوالے*صدر کو پانچ سال پہلے ہی صدر بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔
4۔ چین کے رہنما ماؤزے تنگ کو یہ اعزاز*حاصل ہے کہ وہ انگلش جاننے کے باؤجود اس نے پوری زندگی کبھی انگریزی نہیں بولی یہاں تک کہ اسے انگریزی میں لطیفہ بھی سنایا جاتا تو وہ اس وقت تک ہنستا نہیں تھا جب تک کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔
5۔چین کے تمام لوگ بشمول افسران، مزدور سب مل کر ایک ہی جیسا کھانا کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی بھی ملک جاتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ چینی مصنوعات بھی لے آتے ہیں تاکہ دنیا کو چین کی مصنوعات سے متعارف کرایا جاسکے۔
6۔ چین میں چوری کی سزا موت ہے، چور کو سر پر گولی ماری جاتی ہے اور گولی کا معاوضہ اس کے ورثاء جب تک نہ دیں*لاش نہیں لے جاسکتے۔
7۔ چینی لوگوں کا قول ہے کہ اگر آپ ایک سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو مکئی لگاؤ، اگر تم دس سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو درخت لگاؤ، اگر تم صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو لوگوں کی تربیت کرو اور تعلیم دو۔
8۔ ایوب خان کے دورمیں واہ کے آرڈیننس کمپلیکس کی تعمیر کی گئی تو چین کے ایک وفد نے دورہ کیا اور انہوں نے دورے کے دوران عمارت کو ٹپکتے ہوئے پایا۔میزبان نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ عمارت ابھی نئی نئی بنی ہے اس لئے ٹپک رہی ہے تو چین کے ایک رکن نے ہنستے ہوئے کہا کہ شروع شروع میں ہماری عمارتیں بھی ٹپکتی تھیں لیکن ہم نے ایک ٹھیکیدار کو گولی ماردی اس کے بعد چھت نئی ہو یا پرانی کبھی نہیں ٹپکتی۔
9۔رچرڈ نکسن ایک مرتبہ چینی صدر چواین لائی سے ملے اور انہیں ایک تصویر دی جس میں چواین لائی اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے اور اخبار کی سرخیاں بھی واضح نظر آرہی تھیں، چواین لائی نے پوچھا آپ نے یہ تصویر کیسے کھینچی، رچرڈ نکسن نے فخریہ انداز میں کہا کہ ہمارے پاس ہنڈرڈ بلین ڈالر کی سٹیلائٹ ٹیکنالوجی ہے جو صرف ہمارے پاس ہے یہ تصویر ہم نے اسی سے کھینچی ہے۔ چواین لائی مسکراکر اٹھے ، اپنی میز پر گئے اور ایک تصویر اٹھائی اور صدر نکسن کو پیش کردی۔ اس تصویر میں صدر نکسن وائٹ ہاؤس میں*بیٹح کر سی آئی اے کی کنفیڈنش فائل پڑھ رہے تھے۔ یہ تصویر دیکھ کر نکسن کا رنگ فق ہوگیا اور اس نے پوچھا کہ آپ نے یہ تصویر کیسے کھینچی تو چواین لائی نے جواب دیا کہ آپ جو کام ہنڈرڈ بلین ڈالر کی ٹیکنالوجی سے کررہے ہیں ہم نے ہنڈرڈ ڈالر کی ٹیکنالوجی سے کردی۔ صدر نکسن نے وضاحت مانگی تو چواین لائی نے کہا کہ ہم نے وائٹ ہاؤس کے ایک ملازم کو ہنڈرڈ ڈالر دے کر یہ تصویر حاصل کی ہے۔
10۔ چین کے 97 فی صد نوجوان چین میں ہی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے خیال میں چین کا تعلیمی نظام اور تعلیمی اخراجات دنیا میں سب سے کم ہیں۔
11۔ چین میں اس وقت 50 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کررہی ہیں۔صرف 35 ہزار شنگھائی میں ہیں۔
12۔ چین کے لوگ دیوارِ چین کو اہمیت نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں اگر ہم پر کوئی جنگ مسلط ہوئی تو ہم خود دیوارِ چین بن جائیں گے۔
13۔ چین کے لوگ سپر پاور بننا پسند نہیں کرتے۔ ان کی بس یہی خواہش ہے کہ ہم خوشحال اور پرامن قوم رہیں۔
14۔ چین کے سربراہان اور وزراء چینی زبان میں بات کرتے ہیں ان کے ساتھ صرف ایک ترجمان دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سربراہ کوئی قابل اعتراض بات کرے تو ترجمان اس کا ترجمہ نہیں کرتا۔
15۔ چین کے لوگوں کا احتجاج کا طریقہ بہت منفرد ہے۔ جس دن وہ احتجاج کرتے ہیں وہ ہماری طرح سارے کام چھوڑ کر نہیں بیٹھتے۔ وہ 24 گھنٹے کام کرتے رہتے ہیں یہی ان کا احتجاج ہے۔
16۔ چین میں انقلاب کا موجب سورۃ الفیل ہے۔ ماؤزے تنگ نے قرآن پاک کا مطالعہ کیا جب وہ سورۃ الفیل پر پہنچا تو اس کی آنکھوں میں*آنسو آگئے اس نے سوچا کہ اگر ابابیل ہاتھیوں کا لشکر تباہ کرسکتی ہیں تو ہم انسان ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ یہ پڑھ کر اسے لانگ مارچ کا خیال آیا اور لانگ مارچ ہی چین کی آمریت کے خاتمے اور انقلاب کا موجب بنا
17۔ چین کے صدر ماؤزے تنگ نے اپنی قوم کو وصیت کی تھی کہ میری برسی کے سوگ میں اپنی فیکٹریاں اور کاروباری ادارے بند نہ کرنا بلکہ میری برسی پر دوگھنٹے زیادہ کام کرکے سوگ منانا۔ آج بھی چین کے لوگ ماؤزے تنگ کی برسی کے موقع پر دو گھنٹے مفت اوور ٹائم کرتے ہیں
18۔ چین کے سب سے بڑے دریا پرایک پل بنا جو پہلےسیلاب میں ٹوٹ کر بہہ گیا۔ کئی لوگ مرگئے ملکی قیادت نے دورہ کیا اور کہا کہ اگلے اتوار والے دن اس پل کو بنانے میں کام کرنے والے تمام انجینئر ، منیجر اور کاریگر اکٹھے ہوں اور میٹنگ ہوگی، چنانچہ انجینئر اور منیجر اکٹھے ہوئے۔ تقاریر ہوئیں اور پل ٹوٹنے کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کا سلسلہ چند گھنٹے جاری رہا۔ ملک کی قیادت سر جھکا کر سنتی رہی اس دوران وہ معصوم جانیں جو ضائع ہوئی تھیں ان کے لواحقین بھی بلائے گئے تھے
تقاریر کے بعد قیادت نے کہا کہ سارے ذمہ دار لوگ ایک لائن میں کھڑے ہوجائیں، وہ سمجھے کہ شاید کوئی انعام یا سرٹیفکیٹ ملنے والے ہیں تقریباً 100 لوگ لائن میں کھڑے ہوئے۔ قیادت نے 100 بندوقوں والوں کو بلایا اور حکم دیا کہ ان کو مار دیا جائے۔ ایک دو تین کی گنتی کے بعد ٹھا کی آواز آئی اس کے بعد چین میں کوئی پل ٹوٹا نہ کوئی بلڈنگ اور نہ کوئی معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔
19۔ ہمارے محترم بزرگ دوست اشفاق احمد کو آج سے کوئی تیس برس پہلے ایک سرکاری وفد کے ساتھ عوامی جمہوریہ چین جانے کا موقع ملا۔ اس وقت ماؤزے تنگ اور چو این لائی دونوں زندہ تھے۔ اشفاق صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے مختلف دنوں پر پھیلی ہوئی تین تقریبات میں وزیراعظم چو این لائی کو ایک ہی کوٹ پہنے ہوئے دیکھا اور اس شناخت اور پہچان کی وجہ دائیں بازو کی کہنی کے قریب لگا ہوا ایک پیوند تھا۔
چیئرمین ماؤزے تنگ پاکستانی وفد کے ارکان کے ساتھ گروپ فوٹو بنوانے کے لیے آئے تو اشفاق صاحب نے موقع غنیمت جان کر ترجمان کے ذریعے ان سے نصیحت کی درخواست کی۔
ماؤ نے کہا: "اپنے لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے سیکھو۔"
اشفاق صاحب نے ترجمان کے ذریعے ماؤ کو بتایا کہ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں عوام کی بیشتر تعداد ان پڑھ اور جاہل ہے اور محض چند فیصد پڑھے لکھے لوگ ہیں، انہیں ان جاہلوں سے بات کرنے میں بہت دقت پیش آتی ہے۔ وہ اپنے طور پر انہیں سمجھانے اور سکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر یہ نالائق سمجھتے نہیں۔
ماؤ مسکرائے اور ترجمان سے کہا: "اس سے کہو اپنے لوگوں کے پاس جائے اور ان سے سیکھے، انہیں سکھائے نہیں۔"
(چشم تماشا ۔۔۔۔۔ امجد اسلام امجد)
منقول از پاک نیٹ (http://pak.net/?p=1488)

بےباک
02-18-2014, 10:00 AM
http://i60.tinypic.com/vgj6h1.gif

تانیہ
02-18-2014, 05:16 PM
بہت دلچسپ بہت معلوماتی پڑھتے ہوئے آخر تک دلچسپی برقرار رہی
بہت شکریہ