PDA

View Full Version : غزلیں



گلاب خان
12-17-2010, 12:29 PM
مٹے کچھ ایسے کہ موجود خاک و خس بھی نہیں
کہاں نشاں نشیمن کہیں قفس بھی نہیں
تلاش کرنا ہے خود ہم کو جادۂ منزل
کہ راہبر کوئی اب اپنے پیش رپس بھی نہیں
یہ روز روز کے طعنے، یہ صبح و شام کے طنز
سلوک دوست بجا، لیکن اس پہ بس بھی نہیں
ہر اک نفس پہ مسلط ہے تلخی ماحول
جئیں تو کیسے جئیں زندگی میں رس بھی نہیں
تباہ کر دے جو پاکیزگی کے دامن کو
بلند اتنا مگر شعلہ ہوس بھی نہیں
وہ اس مقام سے صادق پکارتے ہیں ہمیں
جہاں ہمارے تخیل کی دسترس بھی نہیں

گلاب خان
12-17-2010, 12:30 PM
وہ مجھ سے دور ہیں تکمیل آرزو کی طرح
رگوں میں دوڑتے پھرتے ہیںجو لہو کی طرح
ہزار قید و سلاسل کا اہتمام کریں
صداۓ حق کہیں چھپتی ہے مشکبو کی طرح
خلوص اور محبت کی کوئی بات چلے
وہ گفتگو تو کریں ہم سے گفتگو کی طرح
تری نگاہ نے جب سے گرا دیا ہے مجھے
پڑا ہوا ہوں میں ٹسٹے ہوۓ سبو کی طرح
بنا لیا ہے ترے غم کو میں نے خبر و حیات
بہت عزیزی ہے یہ مجھ کو آبرو کی طرح
نشان منزل مقصود کوئی دور نہیں
مگر تلاش کرے کوئی جستجو کی طرح
شعور فن نے کیا آفتاب صادق کو
پڑا تھا ورنہ یہ اک خاک بے نمو کی طرح

گلاب خان
12-17-2010, 12:30 PM
ترک وفا کا ان سے سوال آ رہا ہے آج
آئینہ خلوص میں بال آ رہا ہے آج
انسانیت عروج کی جانب ہے گام زن
حیوانیت کے سر پہ زوال آ رہا ہے آج
قدرت کی اک عنایت مختص ہے کیا حیات
ہر اک زبان پر یہ سوال آ رہا ہے آج
مدت ہوئی ہے ترک تعلق کیے ہوۓ
رہ رہ کے پھر بھی ان کا خیال آ رہا ہے آج
میرے جنوں کی منزل پرواز دیکھ کر
عقل و شعور دونوں کو حال آ رہا ہے آج
نزدیک آ گئی ستم نارسا کی موت
میری وفا کے رخ پہ جلال آ رہا ہے آج
صادقؔ بچھی ہوئی ہیں نگاہیں بصد خلوص
محفل میں کون اہل کمال آ رہا ہے آج

تانیہ
12-20-2010, 10:08 PM
واہ واہ...بہت خوب

تانیہ
12-20-2010, 10:12 PM
ان غزلوں کی جگہ میری شاعری میں نہیں ہے انکو پسندیدہ شاعری میں منتقل کریں اگر یہ آپکی اپنی شاعری نہیں ہے تو