PDA

View Full Version : سماجی حقوق



گلاب خان
12-17-2010, 12:42 PM
حقوق کے ذیل میں سماجی و معاشرتی حقوق کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اسے لازماً ملنے چاہئیں ۔ سماجی اور معاشرتی حقوق کا تصور یہ ہے کہ آدمی سماج اور معاشرے میں فعاّل کر دار (Active Part) ادا کرسکے۔ یہ اس کا حق ہے کہ اسے بے کار یا عضو معطل بنا کے نہ رکھ دیا جائے۔ اس پر ایسی پابندیاں نہ ہوں کہ وہ کچھ نہ کرسکے۔ اسلام میں اس کا تصور بالکل واضح ہے۔ اسلام فکر و عمل کی آزادی کا قائل ہے۔ جو لوگ غور و فکر نہیں کرتے ان کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ انھیں کیا ہو گیا ہے کہ جانوروں کی طرح بے سوچے سمجھے زندگی گزار رہے ہیں ۔ وہ دنیا کے آغاز و انجام پر غور کریں اور سمجھیں ۔ عمل کی بھی وہ پوری آزادی دیتا ہے البتہ ہر شخص کو اس بات کی پابندی ضرور کرنی ہو گی کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے، جس سے فساد پھیلے اور معاشرہ کو نقصان پہنچے۔ پیغمبروں کی دعوت کی اولین بنیاد توحید ہوتی تھی، یعنی یہ کہ اللہ واحد کی عبادت کی جائے۔ پھر وہ کہتے تھے:
لاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْ۔۔۔۔دَ اِصْلاَحِھَا(الاعراف:۸۵)
زمین میں اصلاح کے بعد بگاڑ نہ پیدا کرو۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے قانون کو اصلاح کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس کی موجودگی میں فساد برپا نہ کرو۔
اظہارِ خیال کی آزادی
اظہار خیال کی آزادی انسان کا ایک بنیادی حق ہے۔ اسلام نے اسے یہ حق عطا کیا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کے اس حق پر ناروا پابندی نہیں لگنی چاہیے، لیکن وہ اس بات کا اسے پابند بناتا ہے کہ اظہارِ خیال کے نام پر وہ بے حیائی نہ پھیلائے، کسی کی دل آزاری نہ کرے، کسی کا مذاق نہ اُڑائے، کسی کی عزت و آبرو سے نہ کھیلے اور ملک و ریاست کو خطرے میں نہ ڈالے اور اس کے خلاف سازش نہ کرے۔ ان شرائط کے ساتھ اسے اظہار رائے کی آزادی ہے۔ دنیا کا کوئی قانون ایسا نہیں ہے جو اس پر اس نوعیت کی پابندی نہ لگاتا ہو۔ یہ اور بات ہے کہ آج بہت ساری چیزوں کا شمار بے حیائی میں نہیں ہے۔اسے اس کی چھوٹ حاصل ہے۔
خاندانی زندگی گزارنے کا حق
یہ بھی انسان کا ایک حق سمجھا جاتا ہے کہ اسے خاندان بسانے کی اجازت ہو۔ اس لیے کہ خاندان انسان کی ایک فطری ضرورت ہے۔ اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات اتنی واضح ہیں کہ اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خاندان خدا کا عطیہ اور انعام ہے۔ آدمی کے بچوں اور پوتوں کا پھیلنا اس کے لیے زحمت نہیں ، بلکہ باعثِ رحمت ہے۔ خاندان کے سلسلے میں اس سے بڑی بات اور کیا کہی جاسکتی ہے؟ پھر یہ کہ اس نے خاندان کا پورا سسٹم دیا ہے اور اسے باقی رکھنے کی تاکید کی ہے۔
خلوت کا حق
تنہائی اور خلوت (Privacy) کو بھی انسان کا ایک حق تسلیم کیا گیا ہے۔ قرآن نے نہ صرف یہ کہ یہ حق دیا ہے ، بلکہ اس کی تاکید کی ہے کہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہ کی جائے، یہاں تک کہ حکومت کو بھی اس میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔
ملکی و ملّی خدمات کا حق
یہ بھی انسان کا ایک بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے اور اسلام میں یہ حق پہلے سے موجود ہے کہ انسان کو ملک و ملت کی خدمت اور تنقید و اصلاح حال کا موقع ملنا چاہیے۔ اسلام نے انسان کو یہ حق فراہم کیا ہے اور بتایا ہے کہ جو انسان ملک کی خدمت کرتا ہے وہ سماج کا بہترین اور قابل قدر انسان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قوی مومن ضعیف مومن سے بہتر ہے۔‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب القدر ، باب الایمان بالقدر، مسند احمد، ۲/۳۶۶) اس لیے کہ طاقت ور مومن انسانوں کی، سماج اور معاشرے کی خدمت کرے گا۔ جو کم زور ہے اس سے اس کی توقع مشکل ہی سے کی جاتی ہے۔ ایک موقعے پر آپ نے فرمایا کہ ’’وہ مومن جو لوگوں سے ملتا جلتا اور ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ بہتر ہے اس مومن سے جو نہ کسی سے ملتا ہے اور نہ ان سے پہنچنے والی تکلیفیں برداشت کرتا ہے‘‘۔ (جامع ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی فضل المخالطۃ مع الصبر علی اذی الناس، مسند احمد، ۲/۴۳) قرآن کہتا ہے کہ یہ انسان کا حق ہے کہ وہ سوسائٹی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔ منافقوں سے کہا گیا کہ تمھاری سرگوشیاں تمھارے حق میں سود مند نہیں ہیں ، اس لیے کہ یہ ایک طرح کی سازشیں ہیں ۔ ہاں اگر تم لوگوں کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بات کرو تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہو گا اور اللہ اجر عظیم سے نوازے گا۔ (النساء:۱۱۴)
دفاع کا حق
ایک اور چیز جس کا آج بڑا چرچا ہے وہ ہے دفاع۔ اس بات کو تو دنیا تسلیم کرتی ہے کہ ہر ایک کو دفاع کا حق ہے۔ کوئی شخص کسی کی جان لینا چا ہے، کسی کی عزت و آبرو پر حملہ آور ہو یا کسی کا مال چھیننا چا ہے، اس کی جائیداد پر قبضہ کرنا چا ہے، اس کے گھر کو آگ لگانا اور اس کی بیوی بچوں پر حملہ کرنا چا ہے، تو ظاہر ہے کہ وہ خاموش نہیں بیٹھے گا، اس کا دفاع کرے گا، لیکن اس میں بے احتیاطی دو پہلوؤں سے ہوتی ہے۔ کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ دفاع کے نام پر آدمی ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا جن کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور کبھی یہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور تشدد کے نام پر آدمی کو دفاع کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اسلام میں دفاع کا بہت واضح تصور موجود ہے کہ دفاع کب ہونا چاہیے اور کیسے ہونا چاہیے، وہ کن حالات میں جائز ہے اور کس حد تک جائز ہے اور کہاں حدود سے تجاوز ہوتا ہے؟ یہ تمام چیزیں قرآن و حدیث میں موجود ہیں اور ہمارے علماء و فقہاء نے بھی بڑی تفصیل سے اس پر لکھا ہے۔ دفاع انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن اگر دفاع کے نام پر ظلم ہو تو یہ غلط ہے۔ یہاں انفرادی دفاع کی بات ہے۔ ریاست اور ریاست کے درمیان جو مقابلہ ہوتا ہے اس کی یہاں بحث نہیں ہے۔
کم زوروں کے حقوق
کسی جمہوری آئین کی ایک لازمی خصوصیت یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس میں اقلیتوں اور کم زور طبقات کے لیے تحفظ فراہم کیا جائے، انھیں دوسروں کے مساوی حقوق دیے جائیں ، ان کی حق تلفی نہ ہونے پائے اور انھیں ظلم و زیادتی سے بچانے کی تدبیر کی جائے۔
اسلام کے آنے سے پہلے کم زوروں کے حقوق عرب ہی میں نہیں ، دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں تھے۔ ان کا بری طرح استحصال ہو رہا تھا اور ان پر ظلم و زیادتی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔ اسلام نے شروع ہی سے ان کے حق میں آواز اٹھائی اور ان پر جو ظلم و زیادتی ہو رہی تھی اس پر سخت وعید سنائی اور دنیا و آخرت میں اس کے برے انجام سے خبردار کیا۔ اس نے خواتین کے، زیر دستوں اور محکوموں کے، یتیموں ، لاوارث بچوں ، معذوروں ، بوڑھوں اور ضعیفوں کے حقوق صرف بیان ہی نہیں کیے، بلکہ عملاً فراہم کیے اور معاشرہ کو ان کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کی ترغیب دی اور ہم دردی اور تعاون کا جذبہ پیدا کیا۔
مذہبی آزادی کا حق
حقوق انسانی کے علم بردار مذہبی آزادی کو بھی انسان کا ایک حق قرار دیتے ہیں ۔ اسلام نے بہت واضح الفاظ میں اس کا اعلان کیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو اپنے دین کا پابند بنا دیتا کہ کوئی اس سے بغاوت نہ کرتا، لیکن اللہ نے مذہب کے معاملے میں اس کو آزادی دی ہے اور اس کی یہ آزادی باقی رہنی چاہیے۔ اسی میں اس کا امتحان ہے۔ حضور ﷺ کے قلب میں فطری طور پر یہ تمنا موج زن تھی کہ آپ کے مخاطبین میں سے ہر ایک کو راہ ہدایت مل جائے۔ آپ سے کہا گیا:
لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدَاھُمْ وَ لٰ۔کِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (البقرۃ: ۲۷۲)
آپ کی ذمے داری نہیں ہے کہ لازماً انھیں راہِ راست پر لے آئیں ، بلکہ یہ اللہ کا کام ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
یہ اصول بھی بیان ہوا ہے کہ:
لاَ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ (البقرۃ:۲۵۶)
دین کے سلسلے میں کوئی جبر نہیں ہے، ہدایت اور ضلالت واضح ہو چکی ہے۔
یعنی اب یہ آدمی کا اختیار ہے کہ وہ جس راہ کو چا ہے اختیار کرے۔
فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ(الکہف:۲۹)
جس کا جی چا ہے ایمان لائے اور جس کا جی چا ہے انکار کر دے۔
قرآن مجید نے کہا کہ مذہب پر گفتگو بھی ہوسکتی ہے، لیکن یہ گفتگو تہذیب کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ ہدایت ہے: وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ(النحل:۱۲۵) یعنی مذہب پر گفتگو ہو تو سلیقے اور تہذیب سے ہو، اس کے لیے غلط اور ناشائستہ انداز نہ اختیار کیا جائے۔ ہمارے علما نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم، اسلامی ریاست میں علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ میں قرآن کو اللہ کی کتاب نہیں مانتا، محمد ﷺ کو اللہ کا رسول نہیں تسلیم کرتا تو بھی اسلامی حکومت اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرے گی۔ ہاں اگر وہ بدزبانی پر اتر آئے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کی شان میں یا حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ یا کسی بھی پیغمبر کی شان میں گستاخی ایک قابل تعزیر جرم ہے، اس کے ارتکاب پر اسلامی ریاست قتل کی سزا تک دے سکتی ہے۔ اسی طرح کسی بھی مذہب کے بانی یا اس کی محترم شخصیات کی توہین و تحقیر اور اس کے متعلق بد کلامی، سزا کی مستحق ہو گی اور قانون کے مطابق اس پر سزا دی جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ جو حقوق کسی فرد یا طبقہ کو لازماً ملنے چاہئیں اسلام وہ تمام حقوق فراہم کرتا اور انسان کے فطری تقاضوں کی بہتر انداز میں تکمیل کرتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ دنیا ہی کی کامیابی کا نہیں ، آخرت کی فوز و فلاح کا بھی ضامن ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے دونوں جہاں کی کامیابی کے لیے کسی دستور اور کسی ضابطۂ حیات کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔